Rafaqat Chaudhry official
خوبصورت و دلچسپ باتیں ۔۔۔۔
ہم تو آپ کے حسن پہ کتاب لکھیں گے۔
کتنے حسیں ھیں آپ جناب لکھیں گے۔
لکھیں گے چمن کا سب سے پیارا پھول۔
اور اپنے دل کی نگری کا نواب لکھیں گے۔
رفاقت چوہدری
06/09/2025
(ایبٹ آباد اور بچوں کی موت)
یہ شہر خوبصورتی کے لہذ سے شاہد پاکستان کے خوبصورت شہروں میں سے ایک ھے۔ ہمارے زمانہ طالبعلمی میں ایبٹ آباد اپنے قدرتی حسن سے مالا مال تھا بے ہنگم ٹریفک کا اس قدر زور نہیں ھوا کرتا تھا۔ منڈیاں جانے کے لیئے کچھ وقت گاڑی کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اور پھر کہیں جا کر گاڑی میسر ھوتی تھی نسبتاَ صاف بھی تھا۔ فوارہ چوک سے ایوب میڈیکل کمپلیکس تک پہنچنے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس چناروں کے شہر اور سکولوں کے مرکز میں تبدیلیاں رونما ھونے لگیں ۔ سیاحت عام ھونے لگی اور ناردرن ایریاز ہر ایک کی پہنچ میں آ گئے۔ ابھی موٹروے نہیں بنی تھی اور سیاح چاہئے وہ پاکستان سے آ رھے ھوں یا دنیا کہ کسی بھی ملک سے ایبٹ آباد انکے لیئے گیٹ وے تھا۔ اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ سلہڈ تا قلندر آباد ٹریفک 3 سے 5 گھنٹہ بند رھتی گاڑی کے ساتھ گاڑی جڑی ھوئی ھوتی پھر خدا خدا کرکے موٹروے نے اس مسلہ کو کسی حد تک حل کر دیا۔ بے ہنگم ٹریفک کا زور ٹوٹا اور ٹریفک کا وزن ایبٹ آباد کی کمر سے کچھ ہلکا ھوا۔ 5 ستمبر صبح کوئی 9 بجے کہ وقت سوشل میڈیا پہ ایک خبر آنکھوں کے سامنے سے گزری کچھ وقت کے لیئے تو اوسان خطا ھو گئے دماغ سن سا ھو گیا کہ یہ کیسے ھو سکتا ھے کہ صبح سکول کہ وقت ایک ڈمپر ایبٹ آباد شہر کے اندر کیسے چلا گیا اور پھر اوپر سے اتنی اوور سپیڈ کہ 8 معصوم بچوں کو روند دیا ۔ پچھلے دنوں میں ایبٹ ڈرائیو کر رہا تھا تو ہر 20 میٹر کے بعد ایبٹ آباد کی سڑکوں پہ ٹریفک کے نظم ونسق کو برقرار رکھنے والے ٹولیوں میں کھڑے نظر آ رھے تھے جو کہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پہ اپنے فرائض کو احسن طریقہ سے ادا کرنے کے لیے ایک بڑی تعداد میں موجود ھوتے ھیں جو زیادہ تر ان سوزوکی والوں کو ٹیکے لگاتے ھیں جن کی سوزوکی کا تعلق کسی بھی طرح سے کسی پولیس کی نوکری کرنے والے صاحب کے ساتھ نہیں ھوتا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ سب کیسے ممکن ھو سکا کہ ایک ٹرک اس وقت جب ٹرک کا داخلہ کسی بھی طرح سے شہر میں بند ھوتا ھے وہ شہر میں داخل ھو گیا۔ اور 3 بچوں کو موقع پہ نگل گیا اور جو بچ گئے انکو جسمانی طور اور روحانی طور پہ متاثر کر گیا۔ اگر اس سارے کیس کو مکمل طور پہ سٹڈی کیا جائے تو یہاں بہت سے لوگوں کی غلطیاں ھیں بنیادی غلطی ہم ایبٹ آباد کے لوگوں کی ھے کہ آج تک ضلع ایبٹ آباد کو کوئی ذہین اور عوام کے ساتھ مخلص عوامی نمائندہ نہیں ملا اور اگر کہیں کوئی ھوا بھی ھے تو مال و دولت کی کمی اور تھیٹر لگانے کی صلاحیت کم ھونے کی بنا پہ ہم عوام نے اسکو ٹھکرا دیا ھے۔ اگر آج کوئی صیح معنوں میں قائدانہ صلاحیت کا مالک ھوتا تو یہ شاہراہِ ریشم اس ٹائم اتنی کھلی ھوتی کہ اس پہ سے گاڑیاں بغیر رکے گزر جاتیں۔ وہ عوامی مفادات کے لیے کام کرتا اور لوگوں کو دکھاتا کہ گلی 'نالی' نلکا' ٹوٹی کہ علاؤہ بھی اس شہر کے مسائل ھیں۔ دوسرا اس واقع کی اہم زمہ داری ایبٹ آباد انتظامیہ کی ھے جو کہ اس قدر نااہل ھے کہ بس پیٹ بھرو سکیم پہ چل رھی ھے۔ روڈ کہ درمیان لگائی گئی دیوار جو کہ یقیناً حفاظتی انتظامات کے تحت لگائی گئی ھے وہ کافی وقت سے ٹوٹی ھوئی ھے اور عوام اسکو بطور شارٹ کٹ راستہ استعمال کر رھے تھے۔ لیکن کسی کہ کان پہ جوں تک نہیں رینگی اور آج یہ 3 معصوم جانیں اللہ کو پیاری ھو گئی ھیں۔ تیسرا کردار ان اموات میں ان قانون کے رکھوالوں کا ھے جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اپنے بچوں اور گھر والوں کا پیٹ پالتے ھیں اور اپنے فرائض کو ادا کرنے کی بجائے ایک عام آدمی پہ رعب ڈالنا اور دبے ہوئے کو مزید دبانا اپنا فرض سمجھ بیٹھے ھیں انکی موجودگی میں ایک ٹرک کا داخلہ ممنوع ھے کہ وقت شہر میں داخل ھو جانا اس سوال کو جنم دیتا ھیکہ کچھ تو ھے جس کی پردہ داری ھے۔ اس کے بعد ٹرک ڈرائیور آتا ھے جس کا مکمل ٹیسٹ ھونا چاھیئے کہ کہیں اس نے کسی قسم کا نشہ تو نہیں کر رکھا تھا سلہڈ سے لے کر حادثہ والی جگہ تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی جائیں اور بجائے اسکی ٹانگوں میں گولیاں مارنے کے مکمل ثبوتوں کہ ساتھ کورٹ میں کیس دائر کیا جائے۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آج کہ بعد کوئی بھی ماں جب صبح اپنے معصوم دل کے ٹکڑوں کو تیار کر کے سکول بھیجے گی تو اس کے دل میں یہ خوف نہیں ھو گا کہ واپس جب وہ آئیں گے تو سکول یونیفارم میں ہی آئیںنگے نا کہ کفن میں۔ اور ایک اہم نام جو اس سارے معاملے میں قصوروار ھے وہ سوزوکی کا وہ ڈرائیور ھے جس نے بچوں کو گھر سے پک کرنا ھوتا ھے اور سکول کے گیٹ کے آگے اتارنا ھوتا ھے جب بچوں کو گیٹ کے آگے اتارنا تھا تو پیدل روڈ کیوں کراس کروایا گیا؟
تحریر
رفاقت چوہدری
نگکی روڈ اور تجاوزات
حدیث مبارکہ ھے کہ جب اپنی آنکھوں کے سامنے کسی برائی کو ھوتا دیکھو تو اسے طاقت (تلوار ) سے روکو یہ نہیں کر سکتے تو برائی کو زبان سے برا کہو اور اگر اس قابل بھی نہیں ھو تو کم از کم دل میں برا جانو۔ حال میں ھونے والی بارشوں اور سیلاب نے جو تبائی مچائی ھے اس سے تقریباً آدھے سے زیادہ ملک ڈوب گیا ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ھوا۔ پانی پوری رفتار سے لوگوں کے گھروں میں داخل ھوا اور گھر کی بنیادوں تک کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ صورتحال اس ملک میں پہلی بار نہیں ھوئی بلکہ اب تقریباً ہر سال ایسا ھوتا ھے اور اور حکومت وقت ہر سال نقصان بھگتنے والوں کو چار پیسے دیکر ان کے غم میں برابر کا شریک ھونے کا ناٹک کر دیتی ھے۔ لیکن مسائل کا معقول حل نکالنے کی طرف جانا ہمارے ملک کی کسی بھی پارٹی کی حکومت چاہے وہ صوبہ میں ھو یا وفاق میں گوارہ نہیں کرتی ۔ ہر ھونے والے نقصان کے بعد بلند و بانگ دعوے تو ھوتے ھیں لیکن چونکہ بحثیت قوم ہم بہرے گونگے اندھے تو ھے ھی ھیں لیکن اللہ کا شکر ھے کہ ہمارے اوپر بیٹھے حکمران ہمیں ننگا بھی کر چکے ھیں اور ہماری نفسیات سے بھی خوب واقف ھیں ۔ انہیں پتا ھیکہ ہمارے دعووں کے بعد ہماری آنکھوں کے سامنے بیٹھا ھوا بےوقوفوں کا ہجوم میرا لیڈر زندہ باد اور تیرا لیڈر مردہ باد کا نعرہ اس جوش سے مارے گا کہ مخالفین کے کانوں کے پردے یقیناً پھٹ جائیں گے۔اس لیئے ہم بلند و بانگ دعووں سے مطمئن ھو جاتے ھیں اور اس کے بعد سرکاری دفتروں کے چکر کاٹنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ھیں۔ ہم لاتیں کھا لیں گے بے عزت ھو جائیں گے لیکن ہم کبھی مافیا کے خلاف نہیں ڈٹیں گے۔ ہم ناجائز تجاوزات پہ کبھی منہ نہیں کھولیں گے ہم کبھی اس حق کے لئیے میدان میں نہیں آئیں گے جو حق ملنے سے ہماری قیمتی جانوں کا ضائع ھونا بند ھو جائے ۔ ہم کبھی اس حق کے لیئے بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا لاکھوں کا مالی نقصان ھونا بند ھو جائے ۔ ہم بس سرکاری افسر کے دفتر اور متعلقہ ممبر صوبائی و قومی اسمبلی کو مل کر خوش ھونگے اور وہ اللہ کے بندے بھی ایسے مطمئن کر کے جائینگے جیسے جادو کی چھڑی سے مسلہ حل ھو جانا ھے۔ خیر سیاست اور سیاست دان اور سرکاری مافیا پہ پھر کبھی بات ھو گی۔ کیونکہ اصل مجرم تو ہم خود ہیں ۔ لہذا میں اصل موضوع کی طرف جانا چاہوں گا جس کی کڑی کہیں نا کہیں جا کر اس ملک اور علاقے اور ایک عام اور غریب آدمی کے ساتھ جا کر ملتی ھے۔ نگکی ایبٹ آباد کا پرانا گاؤں ھے کوہ سربن کے نام سے مشہور ھے راجہ رسالو نامی مہاراجہ کی رہائش گاہ یا پناہ لینے کی جگہ جسے راجہ رسالو کی غار بھی کہا جاتا ھے اسی گاؤں کے محلہ گویرا میں واقع ھے۔ مشہور و معروف اور قدیمی جامع مسجد جو کہ اپنی خوبصورت بناوٹ کی وجہ سے مشہور ھے وہ بھی نگکی گاؤں میں ھے۔ کوہ سربن آج ایبٹ آباد کا پکنک سپاٹ بھی بن چکا ھے آئے روز سینکڑوں گاڑیاں اور فیمیلیز سربن پہ جاتی ھیں اور ٹھندی ھوا میں سکون کا سانس لیتے ھیں۔ نگکی کو جانے والی روڈ آج سے تقریباً 40 سال سے بھی پہلے نگکی کے
لوگوں نے تعمیر کیا تھا یہ روڈ ایبٹ آباد کی بڑی سبزی منڈی ایبٹ آباد شہر جاتے ھوئے دائیں سائیڈ پہ سربن کے پہاڑ کی طرف نکلتی ھے جو کہ اپر نگکی اور لوہر نگکی کو جاتی ھے۔ جب یہ روڈ بنائی گئی تو اس کے آس پاس آبادی نام کی کوئی چیز نہیں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ ھوتا گیا لوگ آہستہ آہستہ آ کر آباد ھونا شروع ہوتے گئے اور وہ روڈ جو نگکی کے لوگوں نے بھوکے پیٹ اور ننگے پاؤں بنائی تھی سبز منڈی سے اوپر بہت سی جگہوں سے گلی کا روپ اختیار کرتی گئی اور اب کافی جگہوں سے روڈ سکڑتی جا رھی ھے ۔ دن بدن تجاوزات کی بھر مار ھے اور لوگ پوری تگ و دو سے روڈ کے ارد گرد مکانات بنائے جا رھے ھیں اور ایبٹ کی انتظامیہ ستو کے گھونٹ مار کر سوئی ھے۔ اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ھے کے نگکی گاؤں میں بھی روڈ کو بہت تنگ کر دیا گیا ھے چند مکانات تو اس طرح بنے ھوئے ھیں کہ روڈ کا صرف نام ھے بس 6 سے 8 فٹ کی گلی رہ گئی ھے۔ یہ جو ہمیں نظر آ رہا ھے شاہد میں جو لکھ رہا ھو یہ کم لگ رہا ھو لیکن یہ ہمارے مستقبل یا ہمارے آنے والی نسلوں کے لیئے ایک پانی بم ثابت ھو سکتا ھے ہمارا یا نگکی گاؤں یا کوہ سربن کی طرف جانے والے کسی بھی فرد کی مشکلات میں اضافہ ھو گا۔ آج بھی جس جس جگہ مکانات کی تعمیر ھوئی ھے وہاں سے ڈبل گاڑیاں کر اس نہیں کر سکتی ھیں اور آنے والے وقت میں بڑی گاڑیوں کا گزرنا بھی دشوار ھو گا۔ میری صوبائی حکومت ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد تحصیل مئیر ایبٹ آباد تحصیل میونسپل آفیسر ایبٹ آباد اور متعلقہ محکموں کی ایک ایک آفیسر سے گزارش ھیکہ اگر آپ لوگ واقعی عوام کی خدمت کرنے والے لوگ ھیں تو نیکی کریں ایک نظر کوہ سربن جیسے بے بس اور یتیم گاؤں نگکی کی طرف بھی لے کر جائیں۔ جس محکمہ نے پہلے سڑک تعمیر کی ھے اس محکمہ سے روڈ کی چوڑائی کی جائے اور اس کے مطابق اس روڈ کو محلہ گویرا اور نگکی گاؤں تک سرکاری طور پہ چوڑا رکھنے کا نوٹس کیا جائے تاکہ مستقبل میں روڈ کی 25 فٹ چوڑائی کو ملحوظ خاطر رکھ کر مزید تعمیرات کی جائیں ۔ میری متعلقہ حکام سے مزید گزارش ھیکہ اگر اللہ نا کرے کل کو سربن پہ بادل پھٹ گیا اور اس کے بعد نقصان ھوا تو آپ لوگ ساری مشینری لے کر لوگوں کے گھر گرانے آ جائیں گے تو بہتر ھیکہ ابھی سے اس معاملے پہ محکمانہ کاروائی کریں اور غیر قانونی تعمیرات کو روکیں بھی اور جو ھو گئی ھیں انکو ختم بھی کروائیں ۔ اور آخر میں میری اپنے نگکی کے بھائیوں سے گزاش ھیکہ جو روڈ ہمارے آبا و اجداد نے محنت سے بنائی تاکہ ہمارا وقت آسانی سے گزر سکے انکے دماغ میں یقیناً یہ بات ھو گی کہ ہماری اگلی نسل باآسانی زندگی گزارے۔ آج ہم یعنی کہ آج کے نگکی والے اپنی آنے والی نسل کو روڈ کی بجائے واپس گلیاں دے رھے ھیں۔ میری سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے لوگوں سے بھی گزارش ھے کہ خدارا آپ بھی اپنا حق ادا کریں اور اپنے کیمرہ لے جا کر ایک بار نگکی روڈ کا وزٹ کریں اور ھونے والی تعمیرات کی روک تھام میں ہماری مدد کریں۔
مجھے امید ھیکہ میری یہ تحریر ہمارے مسائل کے حل کے لیے پہلا قدم ثابت ھو گی اور مزید قدم اسی وقت اٹھیں گے جب پہلے قدم کے ساتھ قدم ملایا جائے گا
تحریر
رفاقت چوہدری
نگکی ایبٹ آباد
14/07/2023
زندگی میں کامیاب ھونا ھے تو اس بات کا تعویز بنا کر گلے میں ڈال لو ♥️♥️🥀🥀⚡⚡
13/07/2023
بدنسلے گھوڑے اور کم ظرف دشمن کی لگام کو ہمیشہ قابو میں رکھنا سیکھیں۔ کیونکہ بد نسلہ گھوڑا ہمیشہ میدانِ جنگ میں گِرا دے گا آپکو اور کم ظرف دشمن بزدلوں کی طرح چُھپ کے وار کرے گا۔
ہمارے چہروں سے ہماری پہچان نا کر
ہم بولیں تو سب ھی آنا شروع کر دیں
سن لیں اگر ہمارے قصے تو۔۔۔۔
یہ کل کے لونڈے ہمارے پاٶں دبانا شروع کر دیں۔
02/07/2023
ہم نے گزاری ہے فقیری میں زندگی
مگر کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا
دل کو جلا کر زمانے کو دی ہے روشنی
جگنو پکڑ کر ہم نے اُجالا نہیں کیا
Fruitful meeting with Ex Mpa Sardar Aurangzeb Nalotha in the presence of Ex naib nazim U/c dhamtour ch sajid mehmood. Haji ismail shb labour councillor ch saif ur Rehman Ch mehboob & ch Arif.
30/06/2023
دُنیا کے بازار میں
زندگی کا سب سے قیمتی سکہ حوصلہ ہے
اس لئــــــــے حوصلے ہمیشہ بُلند رکھیں
تاکہ اس بازار میں آپ کی قدر و قیمت کبھی کم نہ ہو
بلکہ برقرار رہے...💯
First day of Eid with Respected uncle & dearest friend political personality of V/c nagaki Ex naib Nazim U/C dhamtour Chaudhry sajid Mehmood.
29/06/2023
عید مبارک۔
27/06/2023
جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے🥀
جب چھوٹے چھوٹے بچوں کے دلوں میں علم اور اہل علم کی محبت ڈال دی جائے تو جان لیجیئے
یہ دنیا و آخرت کا عظیم ترین نفع ھے۔
یہ ایسی دولت ھے جسکو زوال نہیں
ایسی فائدہ ھے جس میں خسران نہیں۔
الہی ھمارے اور ھماری نسلوں کے دلوں کو علم اور اہل علم کی محبت سے بھر دے۔ آمین
بقول عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
عالم بن جاو، یا متعلم بن جاو، یا ان سے محبت کرنے والوں میں سے ھو جاو
چوتھی چیز نہ بننا ورنہ ذلت مقدر ھوگی۔ یعنی ان سے بغض و عدوات نہ رکھنا اللہ ذلیل و رسوا کر دے گا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Abbottabad
22020
