Qazi hammad ahmed

Qazi hammad ahmed

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qazi hammad ahmed, Health/Beauty, abbottabad, Abbottabad.

21/05/2026

‏اللّٰہ الصّمَد کا معنی عطاءﷲ شاہ بخاری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کروں جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے لکھا ہے۔ میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا جب میں ﷲ الصمد پر پہنچا تو ﷲ الصمد کا جو معنی شاہ عبد القادر ؒ نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا۔ حضرت نے ﷲ الصمد کا معنی ”نراسترک“لکھا ہوا تھا جو مجھے سمجھ نہ آیا میں بڑا بےچین ہوگیا پھر مجھے خیال آیا جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں حضرت عطاء ﷲ شاہ بخاری رحمه اللّٰہ لکھتے ہیں میں اس پنڈت کے پاس گیا اس سے ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں۔ میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آ کر جھومنے لگا۔ میں کافی پریشان ہوگیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہوگیا۔ کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا ﷲ کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجد میں آگیا ایسا کیا ہے؟ پنڈت نے جواب دیا: سن سکے گا؟ میں نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں! پنڈت بولا تو پھر سن ”نراسترک“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں۔ وہ جس کا کام کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ ”نہ چاہے تو کسی کا کام ہو نہیں سکتا“ ﷲ الصمد“ شاہ صاحب فرماتے ہیں بس اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ تھا پتہ نہیں کب تک میری یہ کیفیت رہی۔ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ (۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُ (۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ (۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴) ( سوانح و افکار عطا اللّٰہ شاہ بخاری ) 

21/05/2026

صحابہ کرامؓ معیارِ حق ہیں
اللہ نے قرآن میں صحابہ کے ایمان کو کسوٹی بنایا ہے
اور اولیاء اللہ کی طرف سے جواب اللہ خود دیتا ہے
| ایمان افروز بیان

29/04/2026

کئی ایمان والے جب یہ جملہ پڑھتے ہیں:

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ
اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں، وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ (سورت بقرہ: 165)

تو سمجھتے ہیں کہ شاید یہاں خانقاہ میں بیٹھے کسی بزرگ ، منبر پر جلوہ افروز کسی خطیب، دینی مسند پر بیٹھے کسی شیخ الحدیث، بچوں کو حفظ کرانے والے کسی قاری ، جہاد کے میدان میں تلوار چلانے والے کسی مجاہد، دعوت و تبلیغ کی محنت میں مصروف کسی شخص یا دینی تحریکات سے وابستہ افراد کی بات ہو رہی ہے کیونکہ یہ سب نیک اور اللہ سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم گناہ گار تو اپنے دلوں میں اللہ کی اتنی محبت نہیں پاتے جتنی اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ ایمان والے اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ ہم سے تو عمل میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔ اس لیے شاید ہم قافلہِ محبت میں شامل نہیں ہیں۔

ارے ! محبت کا آخری درجہ سپردگی ہے کہ بندہ محبوب پر ایمان ہی لے آئے۔ محبوب کی ہر بات کو من و عن تسلیم کر لے، ہر بات پر سر جھکا دے، اس کے سامنے گردن رکھ دے اور اسے قبلہ و کعبہ بنا لے۔

جب ہم کہتے ہیں :

آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۔۔۔۔۔۔۔الخ

تو ہم محبت کی ابتدا نہیں کر رہے ہوتے بلکہ انتہا کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایمان محبت کا آخری درجہ ہے۔ جب محبت کمال کو پہنچتی ہے تو انسان محبوب کی ہر بات پر ایمان لے آتا ہے۔

امام بخاری نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عبد اللہ نام کا ایک آدمی تھا جسے لوگ "حمار" کا لقب دیتے تھے اور وہ مزاحیہ باتوں سے رسول اللہ کو ہنسایا کرتا تھا۔ آپ نے اس کو شراب پینے پر درے لگوائے تھے۔ ایک دن اس کو پھر پکڑ کر لایا گیا اور آپ کے حکم پر اسے درے لگائے گئے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا، یا اللہ اس پر لعنت کر۔ یہ کیسے بار بار پکڑ کر لایا جاتا ہے اور شراب پینے سے باز نہیں آتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو۔ بخدا میں یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ (حدیث نمبر: 6780)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ عمل میں کوتاہی ممکن ہے لیکن نفسِ ایمان بھی محبت کی دلیل ہے۔

اس لیے اس جملے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ

میں سب ایمان والے شامل ہیں۔

اور اگر ایمان والوں کو یہ بات سمجھ آ جائے کہ ایمان کا حقیقی مطلب شدید محبت ہے تو ان کے اعضاء و جوارح عمل میں ایسے مصروف ہوں کہ کبھی کوتاہی نہ کریں۔

محمد اکبر
29 اپریل 2026ء

27/04/2026

*مدینے کا یتیم بچہ*😢
*مولانا ظفر احمد عثمانی ایسے دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے تھے، جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے*
*واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے*
*فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں (ایسا) لاجواب نہیں ہوا، سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے کے دوران مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ ❤️ میں آ جاتے، چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا۔ جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا، جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی، اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔*
*جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے والد فوت ہو چکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے۔ گھر میں غربت اور فاقے ہیں، میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔ لہٰذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔ بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔ بچہ انکاری تھا، مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔ مدینے ❤️ کا یہ بچہ روز آ جاتا، ہمارے ساتھ کھانا کھاتا۔ آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی۔ بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ ۔ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا، تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ بچے کو ساتھ لیا، بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔*
*سوال کر رہا تھا کہ عمی (چاچاجی) وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں۔ وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا۔ اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے؟ جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ عمی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا؟ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ بچے کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟*😭
*بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا:*
*"چاچا جی مفلسی، بےبسی اور یتیمی قبول ہے۔ مگر سرکارِ مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا*😢
*علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ علامہ صاحب باقی مانندہ زندگی، یہ واقعہ لوگوں کو سنا سنا کر روتے رہے*

22/04/2026

مولانا رومی نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ کسی صاحب کے گھررات کو چورگھس گیا . صاحب خانہ کی آنکھ کھلی ، رات کی تاریکی میں اٹھ کرادھر ادھر دیکھا کچھ نظرنا آیا، پھربستر پرجا کر لیٹ گیا۔ چور نے دیکھا کہ صاحب خانہ سو گیا ہے تو وہ تھوڑا سا آگے بڑھا مگر کسی چیز سے ٹکرا گیا ۔آواز ہوئی تو صاحب خانہ پھر اٹھ بیٹھا اور اندھیرے میں ادھر ادھر نظریں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنےلگا۔ اب صاحب خانہ کو یقین ہو چلا تھا کہ گھر میں کوئی چور گھس آیا ہے ۔ صاحب خانہ نے سوچا کیوں نا چراغ روشن کر کے گھر کو دیکھا جاۓ تاکہ تسلی ہو. اب صاحب خانہ نے قریب رکھے چراغ کو جلانے کے لیے پتھروں کو رگڑا }پہلےزمانے میں دو پتھروں کو تھوڑی سی روئی پر رگڑتے ، پتھر رگڑنے سے چنگاری روئی پرگرتی۔ اسطرح باربار پتھروں کو رگڑا جاتا، جب آٹھ دس چنگاریاں روئی پرگرتیں تو روئی دہکنے لگتی، اب پھر اس روئی کو پھونکیں مارتے تو روئی آگ پکڑ لیتی ،اسطرح آگ جلائی جاتی تھی{ ۔ اب جب صاحب خانہ نے آگ جلانےکے لیے پتھروں کو رگڑنا شروع کیا تو چور سمجھ گیا کہ صاحب خانہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ لہذا چور دبے پاؤں آکر صاحب خانہ کے سامنے بیٹھ گیا ۔ صاحب خانہ پتھر رگڑتے ،ننھی سی چنگاری روئی پر گرتی، سامنے بیٹھا چور اس چنگاری کو اگلی چنگاری گرنے سے پہلے بجھا دیتا ۔ کافی دیر صاحب خانہ آگ جلانے کی کوشش کرتے رہے مگر سامنے بیٹھا چور چنگاری بجھاتا رھا ۔ آخر تنگ آ کر صاحب خانہ اپنا وہم سمجھ کرسو گیا۔ صبح اٹھا تو پتا چلا سارا گھر لٹ چکا ہے ۔ میرے عزیزو! بالکل اس چور کی طرح شاطر شیطان ہمارے مقابلے میں بیٹھا ہوا ہے ۔ ھم جب بھی کوئی نیکی کی، خیر کی چنگاری جلاتے ہیں یہ اسے بجھا دیتا ہے ۔کبھی نفس کے ذریعے، کبھی اپنی عیاری اور مکاری سے تو کبھی لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے۔ کبھی خود ہمارا نفس کہتا ہے چل چھوڑ یار یہ توکس کام میں لگ گیا ،لوگ کیا کہیں گے، رشتہ دار کیا سوچیں گے ، تو کبھی شیطان کسی کام کو الٹ پلٹ کرکے کہے گا ،دیکھ تو نے وہ نیکی کی تھی بدلےمیں یہ ہو گیا ہے ،فلاں کے ساتھ خیرخواہی کی تھی یہ صلۂ ملا ہے تمہیں، تو کبھی انسانوں کےدلوں میں وسوسےڈالے گا ۔ اورلوگ آپکو کہیں گے ، جناب آپکو کیا ہو گیا ہے ؟ آپ تو اچھے بھلے تھے ، آپ کن باتوں میں پڑ گے جی ؟ چھوڑيے، ان چیزوں کو زندگی انجوائمینٹ کا نام ہے ، انجواۓ کر۔ میرے عزیزو ! اگرایمان کی شمع روشن کرنی ہے تو پھر نیکی در نیکی کرتے رہنا۔ ہرنیکی ایک روشن چنگاری کی مثل ہے ۔ بس نیکیوں کو بچابچا کر کرنا کہ ظالم شیطان سامنے بیٹھا آپکی نیکی کو بجھانے کو تیار بیٹھا ہوا ھے

21/04/2026

🌿 **غفلت کا دروازہ**
انسان اکثر بڑے گناہوں سے ڈرتا ہے… مگر چھوٹی چھوٹی عادتیں اسے آہستہ آہستہ غفلت میں لے جاتی ہیں۔
زیادہ کھانا…
اور ضرورت سے زیادہ سونا…
بظاہر یہ معمولی چیزیں لگتی ہیں، لیکن یہی دل کو بھاری کر دیتی ہیں، عبادت سے دور کر دیتی ہیں، اور انسان کو سستی اور بے حسی میں ڈال دیتی ہیں۔

🌿 **اہلِ علم کا قول**
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“اولادِ آدم میں سے شیطان کو اپنے شکار کے لیے اس شخص سے زیادہ کوئی محبوب نہیں جو بہت زیادہ کھانے والا اور بہت زیادہ سونے والا ہو۔”
*(حوالہ: الزہد للإمام احمد)*

19/04/2026

ان شخصیات کے حقیقی نام جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا مگر نام نہیں لیا!
کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی مختلف قصوں اور عبرتوں میں جن شخصیات کا اشارہ کیا گیا ہے، ان کے حقیقی نام کیا ہیں؟ یہاں آپ کے لیے یہ قیمتی معلومات پیش ہیں:
1... (حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویاں): جن کو کفر کی مثال بنا کر پیش کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جہنم کی بشارت دی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا نام "واہلہ" تھا، اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا نام "واعلہ" تھا۔
2.... (حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا): جس نے اپنے والد کی نافرمانی کی اور طوفان میں غرق ہو کر مر گیا، اس کا نام "کنعان بن نوح" تھا۔
3... (فرعون کی بیوی): جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی مثال بنا کر پیش کیا، وہ سیدہ "آسیہ بنت مزاحم" تھیں۔
4... (حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ): جن کا قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے، ان کا نام سیدہ "یوخابذ" تھا۔
5.... (حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن): جن کا بھی قرآن میں ذکر آیا ہے کہ وہ ان کے پیچھے چل رہی تھیں، ان کا نام "کلثوم" تھا (اور بعض نے مريم بھی کہا ہے)۔
6... (آل فرعون کا مومن): سورۃ القصص میں "اور ایک شخص آیا جو شہر کے دور دراز کنارے سے دوڑتا ہوا آیا..." یہ صالح شخص "حزقیل" کہلاتا تھا۔
7... (سورۃ یٰسین کا مومن): "اور شہر کے دور دراز کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا..." یہ شخص "حبیب النجار" کے نام سے مشہور ہے۔
8... (حضرت یوسف علیہ السلام کا حقیقی بھائی): سورۃ یوسف میں جو ان کی کہانی بیان ہوئی ہے، ان کا واحد حقیقی بھائی "بنیامین بن یعقوب" تھا۔
9... (مصر کا عزیز اور اس کی بیوی): مصر کا عزیز "پوتیفر" (بوتیفار) کہلاتا تھا، جبکہ اس کی بیوی جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف بلایا تھا، اس کا نام "زلیخا" تھا۔
10... (ذوالنون): سورۃ الانبیاء میں جن کا ذکر ہے، وہ نبی "یونس بن متیٰ" علیہ السلام .
11... (جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کر رہا تھا): وہ ظالم بادشاہ جس نے کہا تھا "میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں"، وہ "نمرود بن کنعان" تھا، اور تکبر و انکار کی مثال اسی سے دی جاتی ہے۔
12.... (سورۃ عبس میں آنے والا اندھا شخص): وہ جلیل القدر صحابی "عبد اللہ بن ام مکتوم" رضی اللہ عنہ ہیں، جن کے بارے میں نازل ہوا: "عبس وتولیٰ کہ اس کے پاس ایک اندھا آیا"۔13... (المجادلہ): وہ خاتون جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں سے اوپر سے سنی اور ان کے بارے میں سورۃ المجادلہ نازل ہوئی، وہ صحابیہ "خولہ بنت ثعلبہ" رضی اللہ عنہا تھیں۔
14... (جس نے اپنا کاتا ہوا دھاگا پھر سے توڑ دیا): سورۃ النحل میں "اور نہ بنو اس عورت کی طرح جس نے اپنا مضبوط کاتا ہوا سوت پھر سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا"، یہ مکہ کی ایک عورت "ریطہ بنت عمرو" تھی۔
15... (حمالۃ الحطب): ابو لہب کی بیوی جس کا ذکر سورۃ المسد میں ہے، اس کا نام "ارویٰ بنت حرب" (ام جمیل) تھا، اور وہ ابو سفیان کی بہن تھی۔
16... (سورۃ الکوثر میں شانئک): جس نے نبی کریم ﷺ کو "ابتر" کہا تھا، وہ "العاص بن وائل" تھا۔
17 ... (جس کے دل کی سختی کا ذکر): سورۃ القلم میں "ہم اس کے ناک پر نشان لگا دیں گے"، یہ "ولید بن مغیرہ" تھا جس نے اللہ کی نعمتوں سے کفر کیا۔
18... (جس کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا): سورۃ الکہف میں اس سے مراد "عیینہ بن حصن الفزاری" اور "الاقرع بن حابس" ہیں۔
19... (مال و اولاد والا شخص): سورۃ التغابن میں "تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو صرف آزمائش ہیں"، یہ آیت "عوف بن مالک الاشجعی" کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اپنے اہل و عیال کے لیے نرم دل ہو کر غزوات میں پیچھے رہ جاتا تھا۔
🤍 اللہم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه الطاهرين الطيبين 🤍 ثناءاللہ حسین

18/04/2026

قربان جاؤں اپنے نبی ﷺ پر جن عظمت کا علم جانوروں کو بھی تھا 👇
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایک کتے کا واقع ذکر کیا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کے لیے بدلہ لیا ۔

"ایک دن نصاریٰ کے بڑوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئی جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی ۔ اس تقریب میں ایک عیسائی مبلغ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کی شان اقدس میں ہرزہ سرائ اور دشنام طرازی کی - قریب ہی ایک شکاری کتا باندھا ہوا تھا جو اس صلیبی کی طرف سے بکواس کرنے پر چھلانگیں مارنے لگا اور زوردار جھٹکا دے کر رسی نکالی اور اس بدبخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا اور اس کو کاٹا اس پر لوگوں نے اس کتے کو قابو کیا اور ہٹایا ۔ تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ:

"یہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم ) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا" -

اس پر اس صلیبی نے کہا:
"بالکل نہیں بلکہ یہ کتا خوددار ہے جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا رہاہوں تو اس نے مجھ پر حملہ کر دیا" ۔

یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب کریم صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم کی شان اقدس میں پھر دشنام طرازی کی -
اس بار کتے نے رسی ہی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پر چھلانگ لگا کر اس کے منحوس گردن کو دبوچ لیا اور اسے بھنبھوڑ کر ہلاک کر ڈالا ۔

یہ ماجرا دیکھ کر چالیس ہزار منگولوں نے اسلام قبول کر لیا" ۔

(الدرر الکامنہ ۲۰۳/۳)

اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا کہ اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کو کاٹا اور اسکى گردن دبوچى جس سے وہ ہلاک ہوگیا" -

امام ذہبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ "معجم الشیوخ" صفحہ ۳۸۷ میں نقل کیا ہے ۔

17/04/2026

عاتکہ بنت زید❤‍🩹
عبد اللہ بن ابی بکر سے نکاح کیا وہ شہید ہوگئے
پھر زید بن خطاب سے نکاح کیا وہ شہید ہوگئے
پھر عمر بن خطاب سے نکاح کیا وہ شہید ہوگئے
پھر زبیر بن عوام سے نکاح کیا وہ شہید ہوگئے
پھر حسین بن علی سے نکاح کیا وہ شہید ہوگئے
حتی کہ اہلِ مدینہ نے کہا جو شخص شہادت کا خواہاں ہو وہ ان سے نکاح کرے ۔ ۔ ۔
(طبقات ابن سعد ٣/ ١٠٤)
اور ہمارے ہاں ایک شوہر فوت ہو جائے تو وہ عورت منحوس قرار دیدی جاتی ہے🥹

16/04/2026

مطالعہ کرنے کا عجیب انداز .

حافظ زھبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے-
کہ عبید بن یعیس ایک محدث تھے- حدیث کی کتاب سامنے ہوتی تھی اور وہ اس کا مطالعہ کرتے تھے-
یاد کرتے تھے اور revision کرتے تھے اور اتنے مصروف ہوتے تھے کہ ان کو کھانے کی فرصت نہیں ملتی تھی - بہن ان کے لیے کئی مرتبہ کھانا پکاتی یا گرم کرتی یاپھر تیار کرتی ان کو پرصت ہی نا ملتی تو بہن نے کہا بھائی اگر آپ کو مطالعہ سے فرصت ہی نہیں تو میں ہی لقمے بنا کے منہ میں ڈال دیتی ہوں- آپ مطالعہ بھی کرتے رہے اور لقمہ بھی چباتے رہے چنانچہ 20 سال ان کا یہ معمول رہا کہ کھانے کے وقت بہن لقمے ڈال دیتی تھی اور وہ کھانا کھاتے تھے اور کھانے کے وقت بھی مطالعہ جاری رہتا تھا -

کتاب کانام . علم کی پیاس جلد دوم ص 323

از افادات . حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی

14/04/2026

شفاعت کا وعدہ ❣️

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص اس دعا کو فرض نماز کے بعد پڑھنے کا اہتمام کرے، قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت لازم ہو جائے گی:
اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَاجْعَلْهُ فِي الْمُصْطَفِينَ مَحَبَّتَهٗ وَفِي الْعَالَمِينَ دَرَجَتَهُ وَفِي الْمُقَرَّبِينَ دَارَهُ
ترجمہ
اے اللہ! محمد ﷺ کو بلند ترین مقام (وسیلہ) عطا فرما، منتخب بندوں کے دلوں میں ان کی سچی محبت پیدا فرما، تمام جہانوں میں ان کا مرتبہ بلند فرما، اور اپنے مقرب بندوں میں ان کا اعلیٰ مقام عطا فرما۔

(مجمع الزوائد 16981)

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Abbottabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Abbottabad
Abbottabad