abu umama
من کنت مولا و ھذا علی مولا : المستدرک
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
حضرت عبداللہ بن عمر سے روا یت ہے نبی ﷺ نے فر مایا بے شک اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی توبہ قبول فرماتا رہتا ہے۔جب تک نزع کا عالم طاری نہ ہو۔
وضاحت : یعنی موت سے پہلے توبہ کی گنجائش ہوتی ہے ۔
سنن ابن ماجہ 4252
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ النَّدَمُ تَوْبَةٌ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ
حضرت عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ سے روایت ہے انھو ں نے فر مایا میں اپنے والد (حضرت معقل بن مقرن ) کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر کی خد مت میں حاضر ہو ا۔میں نے انھیں سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ندامت توبہ ہے۔میرے والد نے ان سے کہا کیا آپ نے نبی ﷺ سے (براہ راست) سنا ہے کے ندامت توبہ ہے تو انھو ں نے کہا ہا ں۔
https://zubairalizai.com/ibnemaja/ #4252
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4245
تحقیق و تخریج:حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ،
حکم الحدیث: إسنادہ حسن،
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ خَدِيجٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَلْهَانِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا قَالَ ثَوْبَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنْ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا
حضرت ثوبان سے روا یت ہے۔نبی ﷺ نے فر ما یا۔میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرور پہچا ن لوں گا۔جو قیا مت کے دن تہامہ کے پہا ڑوں جیسی سفید (روشن) نیکیاں لے کر حا ضر ہوں گے تو اللہ عز وجل ان (نیکیوں کو) بکھرے ہوئے غبار میں تبد یل کر دے گا۔حضرتے ثوبان نے عر ض کیا اللہ کے رسول ان کی صفات بیان فر ما دیجیے۔ان(کی خرابیوں) کو ہمارے لئے واضح کر دیجیے۔کہ ایسا نہ ہو کہ ہم ان میں شا مل ہو جا ئیں۔اور ہمیں پتہ بھی نہ چلے آپ نے فرما یا۔وہ تمھارے بھائی ہیں اور تمھاری جنس سے ہیں اور رات کی عبادت کا حصہ حاصل کرتے ہیں جس طرح تم کرتے ہو۔لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ انھیں جب تنہائی میں اللہ کے حرام کر دہ گناہوں کا موقع ملتا ہے۔تو ان کا ارتکا ب کر لیتے ہیں۔
حکم الحدیث: إسنادہ حسن،
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَجَدَ الرَّجُلَ يُصَلِّي عَلَى حَالِهِ فَقَامَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ثَلَاثًا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا
حضرت جا بر بن عبداللہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پا س گزرے جو ایک چٹا ن پر نماز پڑ ھ ر ہا تھا۔آپ مکہ کے ایک حصے میں (کسی کا م سے) تشریف لے آئے وہا ں کچھ دیر تشریف فرما تھے پھر واپس تشریف لے گئے۔دیکھا وہ آدمی اسی طرح نماز پڑ ھ رہا ہے رسول اللہ ﷺ نے دونو ں ہا تھ جمع کر کے (اشارہ کرتے ہو ئے) تین با ر فر ما یا۔لو گو (افراط و تفر یط سے بچ کر) میا نہ روی اختیار کرو۔پھر فر ما اللہ تعا لی (ثوا ب دینے سے) نہیں اکتا لیکن تم ہی (عمل کر نے سے) اکتا جا تے ہو۔
https://zubairalizai.com/ibnemaja/ #4241
03/08/2023
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4224
تحقیق و تخریج:حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ،
حکم الحدیث: حسن،
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ قَالَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَلَأَ اللَّهَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَلَأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَهُوَ يَسْمَعُ
حضرت عبداللہ بن عبا س سے روایت ہے رسو ل اللہ نے فر ما یا۔جنتی آ دمی وہ ہے جس کے کا نو ں کو اللہ لو گو کی اچھی را ئے سے بھر دیتا ہے اور وہ سن رہا ہو تا ہے۔(کہ لوگ میری تعریف کر رہے ہیں) اور جہنمی وہ ہے جس کے کا نو ں کو اللہ کی بری رائے سے بھر دیتا ہے اور وہ سن رہا ہو تا ہے۔(کہ لو گ مجھے اچھا نہیں سمجھتے
Sunan ibn Majah شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق و تخریج سے سنن ابن ماجہ
ڈیرا قاضی خیل علیزئی :
02/08/2023
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ قَالُوا صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ لَا إِثْمَ فِيهِ وَلَا بَغْيَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا۔کو ن سا آدمی افضل ہے آپ نے فر ما یا ہر صا ف دل والا صحا بہ نے عر ض کیا سچی زبا ن والا تو ہم جا نتے ہیں۔صاف دل والا کو ن ہو تا ہے آ پ نے فر ما یا پر ہیز گا ر پا ک با ز جس (کے دل) میں نہ کو ئی گنا ہ ہو نہ زیا دتی نہ کینہ نہ حسد
Sunan ibn Majah شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق و تخریج سے سنن ابن ماجہ
یہ بات بلکل صحیح ہے ( اور میرا زاتی تجربہ بھی ہے 😭) کے ایک شخص کسی معمولی سے انسان کی محبت میں جب گرفتار ہو جاتا ہے تو دیکھنے میں آتا ہے کے محبت اس کی فطرت بن جاتی ہے :
مگر دوسری طرف ایک شیخ ہے جو 40 سال سے بخاری پڑھا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے محبت کا دعوےدار ہے مگر محبت اس کی عادت نہیں بنتی ! بلکہ اس میں کافی سختی پائی جاتی ہے اور انتہائی بداخلاق ہوتا ہے
آخر کیوں ؟؟
اس کی کئی وجوہات ہیں مگر ہم اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ایک ہی بیان کریں گے "
وجہ یہ ہے کے یہ شیخ اپنے دعوے میں سچا نہیں ہے جبکہ دوسری طرف وہ عام شخص جو کسی انسان سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت میں وہ لوگوں کو معاف کرتا ہے اور ہر انسان سے محبت ہی کرتا ہے تو وہ اپنے دعوے میں بلکل سچا ہے ۔
1/08/2023
ابو اُمامہ مبشر علیزئی
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ حَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کےلئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کر ے (یعنی اسے حقیر جا نے)۔
وضاحت : یعنی یہ گناہ اس شخص کی ہلاکت کیلے کافی ہے ۔ واللہ اعلم
https://zubairalizai.com/ibnemaja/ #4213
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4201
تحقیق و تخریج:حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ،
حکم الحدیث: صحیح مسلم،
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘اعتدال اختیار کرو اور سیدھے رہو۔تم مین سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات نہین دے گا’’۔حاضرین نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا:‘‘مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور اپنے فضل میں چھپا لے’’۔
وضاحت : بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو چند نیک اعمال کرنے کے بعد اکڑ جاتے ہیں اور خود کو لوگوں سے بہتر سمجھنے لگ جاتے ہیں یعنی تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں اس حدیث میں ایسے لوگوں کو نصحیت کی گی ہے ۔ واللہ اعلم
ابو اُمامہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
43260
