Chishti Desi Ghe

Chishti Desi Ghe

Share

Desi Ghe

16/11/2022

‏اِس جہاں میں کچھ عجب ہے ؟
ہاں عجب ہے !
"زندگی کی ساری خوشیاں ایک غم کی مار ہیں"
یہ عجب ہے۔

05/11/2022

عبد الرحمن بن عوف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے ان کا لقب تاجر الرحمن تھا۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔[2][3]

عبدالرحمن نام، ابومحمد کنیت والد کا نام عوف اور والدہ کا نام شفاء تھا، یہ دونوں زہری خاندان سے تعلق رکھتے تھے، سلسلہ نسب یہ ہے عبدالرحمن بن عوف ؓ بن عبدجوف بن عبدبن الحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ القرشی الزہری۔ حضرت عبدالرحمن ؓ کا اصلی نام عبدعمروتھا، ایمان لائے تو رسول اللہ ﷺ نے بدل کر عبدالرحمن رکھا۔ [4]

اسلام
عام روایت کے مطابق حضرت عبدالرحمن ؓ واقعہ فیل کے دسویں سال پیدا ہوئے تھے، اس لحاظ سے جس وقت رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ توحید کی صدا بلند کی اس وقت ان کا سن تیس سال سے متجاوز ہوچکا تھا، فطری عفت وسلامت روی کے باعث شراب سے پہلے ہی تائب ہوچکے تھے، صدیق اکبر ؓ کی رہنمائی سے صراط مستقیم کی شاہراہ بھی نظر آگئی اور بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکررہروانِ حق کے قافلہ میں شامل ہو گئے، اس وقت تک صرف چند روشن ضمیر بزرگوں کو اس کی توفیق ہوئی تھی اورقافلہ سالار یعنی سرورِ دوعالم ﷺ ارقم بن ابی ارقم کے مکان میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔ [5]

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

ایک صحابیٔ رسول کی حیثیت سے حضرت عبدالرحمن ؓ رسالتمآب ﷺ کی محبت اورخدمت وحفاظت میں ہمیشہ پیش رہے، واقعہ احد صحابہ ؓ کی جان نثاری ومحبت کا نہایت سخت امتحان تھا، حضرت عبدالرحمن ؓ اس آزمائش میں پورے اترے، بدن پر بیس زخم کھائے، پاؤں میں ایسا کاری زخم لگا کہ لنگڑاکر چلنے لگے، لیکن جذبہ جان نثاری نے میدان سے منہ موڑنے نہ دیا۔ حضرت سرورِ کائنات ﷺ کبھی باہر تشریف لے جاتے تو حضرت عبدالرحمن ؓ پیچھے پیچھے ساتھ ہو لیتے، ایک دفعہ آنحضرت ﷺ باہر نکلے، حضرت عبدالرحمن ؓ بھی پیچھے چلے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ ایک نخلستان میں پہنچ کر سربسجود ہو گئے اوراس قدردیر تک سجدہ میں رہے کہ ان کو خوف ہوا کہ شاید روح اطہر خدا سے جاملی، گھبراکر قریب آئے آنحضرت ﷺ نے سرمبارک اٹھاکر فرمایا کیا ہے عبدالرحمن ؓ؟ انہوں نے اپنی گھبراہٹ کی وجہ عرض کیا، ارشاد ہوا"جبریل علیہ السلام نے مجھ سے کہا :کیا میں آپ کو یہ بشارت نہ دوں کہ خداوند جل وعلانے فرمایا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجےگا میں اس پر درود بھیجوں گا اورجو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا[20]یعنی یہ طویل سجدہ سجدۂ تشکر تھا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی ہمیشہ آپکی یاد تازہ رہتی تھی، نوفل بن ایاس فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ سے اکثر لطف صحبت رہتا تھا درحقیقت وہ خوب ہم نشین تھے، ایک روز ہم کو اپنے دولت کدہ پر لے گئے پھر خود اندرداخل ہوئے اورغسل کرکے باہرآئے، اس کے بعد کھانا آیا روٹی اورگوشت دیکھ کر بےاختیار رونے لگے میں نے پوچھا:ابو محمد!یہ گریہ وزاری کیسی؟بولے رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی لیکن تمام عمرآپﷺ کے اہل و عیال کو پیٹ بھر جو کی روٹی بھی نہ ملی، ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اتنے دنوں تک دنیا میں رہنا ہمارے لیے بہتر نہیں ہے۔ [21]

انفاق فی سبیل اللہ

ہجرت کے بیان میں گذرچکا ہے کہ حضرت عبدالرحمن ؓ کو بے نیازی اوراستغنانے تجارت کی طرف مائل کر دیا تھا؛ چنانچہ اس میں انہوں نے اس قدر ترقی کی کہ ایک عظیم الشان دولت کے مالک ہو گئے، یہاں تک کہ ایک دفعہ ان کا تجارتی قافلہ مدینہ آیا تو اس میں سات سو اونٹ پر صرف گیہوں آٹا اور دوسری اشیائے خورد نی بار تھیں، اس عظیم الشان قافلہ کا تمام مدینہ میں غل پڑ گیا، حضرت عائشہ ؓ نے سنا تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ عبدالرحمن ؓ جنت میں رینگتے ہوئے جائیں گے، حضرت عبدالرحمن ؓ کو اطلاع ہوئی تو ام المومنین ؓ کے پاس حاضر ہوکر عرض کیا میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ یہ پورا قافلہ مع اسباب وسامان بلکہ اونٹ اورکجاوہ تک راہِ خدا میں وقف ہے" [24] صحابہ ؓ کی دولت ذاتی راحت وآسائش کے لیے نہ تھی ؛بلکہ جو جس قدرزیادہ دولت مند تھا اسی قدر اس کا دستِ کرم زیادہ کشادہ تھا، حضرت عبدالرحمن ؓ کی فیاضی اورانفاق فی سبیل اللہ کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کے عہد ہی سے شروع ہوچکا تھااور وقتاً فوقتاً قومی مذہبی ضروریات کے لیے گراں قدر رقمیں پیش کیں، سورۂ برأت نازل ہوئی اورصحابہ ؓ کو صدقہ وخیرات کی ترغیب دی گئی تو حضرت عبدالرحمن ؓ نے اپنا نصف مال یعنی چارہزار پیش کیے، پھر دو دفعہ چالیس چالیس ہزار دینا روقف کیے، اس طرح جہاد کے لیے پانچ سو گھوڑے اورپانچ سواونٹ حاضر کیے۔ [25] عام خیرات وصدقات کا یہ حال تھا کہ ایک ہی دن میں تیس تیس غلام آزاد کردیتے تھے، ایک دفعہ انہوں نے اپنی ایک زمین چالیس ہزاردینار میں حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ فروخت کی اورسب راہ خدا میں لٹادیا، (طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث تذکرہ عبدالرحمن ؓ) لیکن اس فیاضی کے باوجود ہر وقت یہ فکردامنگیر رہتی تھی کہ کہیں اس قدر تمول آخرت کے لیے موجب نقصان نہ ہو، ایک دفعہ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر گزارش کی اماں مجھے خوف ہے کہ کثرت مال مجھے ہلاک کر دے گی، ارشاد ہوا بیٹا راہِ خدا میں صرف کرو، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میرے اصحاب ؓ میں بعض ایسے ہیں کہ مفارقت کے بعد انہیں میرا دیدارنصیب ہوگا۔ [26] غرض فیاضی اورانفاق فی سبیل اللہ کا سلسلہ آخری لمحہ حیات تک قائم رہا، وفات کے وقت بھی بچاس ہزاردینار اورایک ہزار گھوڑے راہِ خدا میں وقف کیے، نیز بدر میں جو صحابہ ؓ شریک ہوئے تھے اوراس وقت تک زندہ موجود تھے ان میں سے ہر ایک کے لیے چار چارسودینار کی وصیت کی، بیان کیا جاتا ہے کہ اس وقت ایک سو اصحاب بدر بقید حیات تھے اورسب نے نہایت خوشی کے ساتھ اس وصیت سے فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ حضرت عثمان ؓ نے بھی حصہ لیا۔ [27] امہات المومنین کے لیے بھی ایک باغ کی وصیت کی جو چارلاکھ درہم میں فروخت ہوا، نیز اس سے پہلے مختلف موقعوں پر بڑی بڑی رقمیں پیش کیں، ایک دفعہ ایک جائداد پیش کی جو چالیس ہزار دینار میں فروخت ہوئی تھی، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ ان کے صاحبزادہ ابوسلمہ سے اکثر بطریق تشکرودعا فرمایا کرتی تھیں، خدا تمہارے باپ کو سلسبیل جنت سے سیراب کرے۔ [28]

ذریعۂ معاش

تجارت اصلی ذریعہ ٔمعاش تھا، آخر میں زراعت کا کاروبار بھی نہایت وسیع پیمانہ پر قائم ہو گیا تھا، آنحضرت ﷺ نے خیبر میں ایک وسیع جاگیر مرحمت فرمائی تھی، پھر انہوں نے خود بہت سی قابل زراعت اراضی خرید کر کاشت کاری شروع کی تھی، چنانچہ صرف مقام"جرف" کے کھیتوں میں بیس اونٹ آب پاشی کا کام کرتے تھے۔ [31] حضرت عبدالرحمن ؓ کے کاروبار میں خدائے پاک نے غیر معمولی برکت دی تھی، وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں پتھر بھی اٹھاتا تو اس کے نیچے سونا نکل آتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اس قدرفیاض اورانفاق فی سبیل اللہ کے باوجود وہ اپنے وارثوں کے لیے نہایت وافر دولت چھوڑگئے، یہاں تک کہ چاروں بیویوں نے جائداد متروکہ کے صرف آٹھویں حصہ سے اسی اسی ہزار دینار پائے سونے کی اینٹیں اتنی بڑی بڑی تھیں کہ کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر تقسیم کی گئیں اورکاٹنے والوں کے ہاتھ میں آبلے پڑ گئے، جائداد غیر منقولہ اورنقدی کے علاوہ ایک ہزار اونٹ اورسوگھوڑے اورتین ہزار بکریاں چھوڑیں۔ [32]

04/11/2022

نبیِ رحمت ﷺ اور کسبِ معاش
از: مولانا توحید عالم بجنوری، مدرس عربی دارالعلوم دیوبند



یٰایُّھا الرُّسُلُ کُلُوْا مّنَ الطَّیِّبَاتِ (الآیة) اس خدائی حکم اور قانونِ الٰہی پر تمام انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام نے اپنے اپنے زمانے اور عہد کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے عمل کیا بالخصوص نبی آخر الزماں، رحمت عالم، ہادیٴ دوعالم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی مذکورہ قرآنی دستور کو عملی جامہ پہنایا، آقائے دو جہاں کبھی دایہ حلیمہ کے بچوں کے ساتھ بکریاں چراتے ہیں، تو کبھی خواجہ ابوطالب کے ساتھ بغرض تجارت شام کا سفر کرنے پر بضد ہوتے ہیں، محبوب رب العالمین اگر خدیجتہ الکبریٰ کا مال، مضاربت کے طور پر لے کر شام کا سفر فرماتے ہیں، تو اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے بدلے جنگل میں چراتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں؛ کیوں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہوتا اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیٰ نبینا وعلی الصلوٰة والسلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے اور حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمة اللہ علیہ ”معارف القرآن“ میں فرماتے ہیں کہ: کسبِ معاش کے ذرائع میں تجارت اور محنت سب سے افضل اور اطیب ذریعہٴ معاش ہے؛ لہٰذا رسولِ خدا ﷺ نے تجارت اور سوداگری فرمائی ہے۔

شغل تجارت

(۱) حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء سے روایت ہے کہ میں نے بعثت سے قبل ایک مرتبہ محمد بن عبداللہ ﷺ سے ایک معاملہ کیا، میرے ذمہ کچھ دینار باقی تھا، میں نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا کہ میں ابھی لے کر آتا ہوں، اتفاق سے گھر جاکر وعدہ بھول گیا، تین دن کے بعد یاد آیا کہ آپ ﷺ سے وعدہ کرکے آیا تھا، یاد آتے ہی فوراً وعدہ گاہ پہنچا تو آپ ﷺ کو اسی مقام پر منتظر پایا۔ آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا کہ: تم نے مجھ کو زحمت دی، میں تین روز سے اسی جگہ تمہارا انتظار کررہا ہوں۔

(۲) آپ ﷺ نے بعثت سے قبل عبداللہ بن سائب کے ساتھ بھی تجارت میں شرکت فرمائی تھی، وہ آپ ﷺ سے کہتے ہیں کنتَ شریکی فنعم الشریکُ لا تداری ولا تماری (آپ ﷺ تو میرے شریک تجارت تھے اور کیا ہی اچھے شریک تھے، نہ کسی بات کو ٹالتے تھے اور نہ کسی بات میں جھگڑتے تھے)۔

(۳) آپ ﷺ نے قیس بن سائب کے ساتھ بھی تجارت میں شرکت فرمائی تھی، وہ فرماتے ہیں کان خیرَ شریکٍ لا یماری ولا یشاری (آپ بہترین شریک تھے، نہ جھگڑتے تھے، نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے)۔

(۴) حضرت خدیجہ بنت خویلد کے مال میں بطور مضاربت ملکِ شام جاکر تجارت کرنا تواتر کی حد تک مشہور ومعروف ہے، اسی سفر میں حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ ساتھ تھے، انھوں نے آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کا خوب مشاہدہ کیا اور واپسی پر وہ رُودادِ سفر بیان کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے آپ ﷺ سے کہا: لات وعزی کی قسم کھاؤ! آپ ﷺ نے فرمایا میں نے کبھی لات وعزّٰی کی قسم نہیں کھائی، یہ سن کر وہ صاحب کہنے لگے یہ نبی آخر الزماں کی علامت ہے؛ غرض یہ کہ یہی سفر عقدِ مسنون کا سبب اور ذریعہ ثابت ہوا۔

اصولِ تجارت

قرآن کریم، احادیث رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بزنس اور تجارت بہترین پیشہ اور نبی کی سنت ہے، بشرطیکہ اسلامی اصول اور آداب کا لحاظ رکھا جائے؛ لہٰذا تجارت پیشہ لوگوں کو بہت سے اہم اور شرعی امور کی پابندی کرنی چاہیے اور متعدد کاموں سے بچنا اور پرہیز کرنا چاہیے اور ساتھ ہی عقیدہ یہ ہو کہ ان امور کی پابندی اور پرہیز سے دارین کی فلاح مقدر ہوگی۔

تجارت میں مطلوب اوصاف

(۱) تقویٰ: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تاجر لوگ قیامت کے دن نافرمان لوگوں میں شامل کرکے اٹھائے جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں، نیکی اختیار کریں اور سچ بولیں۔

(۲) امانت ودیانت: رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: التاجرُ الصدوقُ الأمینُ مع النبیین والصدیقین والشھداء (سچا امانت دار تاجر آخرت میں انبیا، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا) (ترمذی،ج۳،ص۱۴۵)

(۳) سچائی: اوپر کی روایت میں دیانت وامانت کے ساتھ ایک وصف صدق اور سچائی بھی مذکورہے۔

(۴) نرمی اور حسن اخلاق: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مزارعت کو حرام نہیں فرمایا؛ بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ: ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو (مشکوٰة شریف،ص۳۱۵)

(۵) بہتر ادائیگی: آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو ادائیگی میں سب سے بہتر ہو (بخاری شریف، ج۱،ص۳۲۲)

(۶) تول میں جھکاؤ: اجرت لے کر وزن کرنے والے سے حبیب کبریا ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ زِنْ وأرْجحْ (تولو اور جھکاہوا تولو)

(۷) صبح سویرے بیداری: اللہ کے نبی ﷺ نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ میری امت کے لیے اس کی صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما، لہٰذا راویِ حدیث حضرت صخرغامدی اپنے تاجروں کو صبح کے وقت ہی بھیجتے تھے؛ چنانچہ وہ مالدار ہوگئے اور ان کے مال میں اضافہ ہوگیا۔ (مشکوٰة شریف،ص۳۳۹)

(۸) صدقہ: قیس بن غرزہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس زمانہ میں ہمیں ”سماسرہ“ کہا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ”تجار“ کی جماعت! بیشک شیطان اور گناہ دونوں خریدوفروخت میں آجاتے ہیں، پس تم اپنی تجارت کے ساتھ صدقہ کو ملالو (مشکوٰة شریف،ص۲۴۳)

(۹) سخاوت: نبیِ آخر الزماں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ سخی انسان پر رحم فرمائے جب وہ بیچے جب وہ خریدے اور جب وہ تقاضہ کرے (بخاری شریف ج۱،ص۲۷۸)

(۱۰) تنگ دست کی رعایت: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اللہ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا (ترمذی شریف، ج۱،ص۱۵۶)

مذکورہ بالا اوصاف کے علاوہ تاجر میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع بہت ضروری ہے اور حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی رحمة اللہ علیہ سیرتِ المصطفیٰ کی پہلی جلد میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب سے زیادہ بامروت، سب سے زیادہ خلیق، سب سے زیادہ پڑوسیوں کے خبرگیر، سب سے زیادہ حلیم وبردبار، سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ امانت دار تھے، لہٰذا یہ تمام اوصاف ہر مسلمان میں ہونے چاہئیں خواہ وہ تاجر ہو یا نہ ہو۔

جن چیزوں جن سے تاجر کو بچنا چاہیے

(۱) ناپ تول میں کمی: ارشاد باری ہے وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ الَّذِیْن اذا اکْتَالُوا علی الناسِ یَسْتَوفُونَ وَاذا کَالواھُمْ أوْ وَزَنُواھم یُخْسِرُونَ (تطفیف) (بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے کہ جب وہ لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیتے ہیں اور جب لوگوں کو ناپ کریا تول کر دیں تو گھٹادیتے ہیں)

(۲) دھوکہ: رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا مَنْ غَشّ فَلَیْسَ مِنَّا (جو کوئی دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں) (مشکوٰة شریف ص۲۴۸)

(۳) جھوٹ: ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں، صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتلائیے اے اللہ کے رسول ﷺ! فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ﷺ سہارا لگاکر بیٹھے ہوئے تھے تو بیٹھ گئے اور فرمایا: یاد رکھو اور جھوٹ بات اور جھوٹی گواہی سے بچے (راوی نے) دو مرتبہ کہا، پھر آپ ﷺ اسی کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ ﷺ خاموش نہ ہوں گے (بخاری شریف ص۸۸۴)

(۵) وعدہ خلافی کرنا: اوپر حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء کی روایت میں گزرا کہ آپ ﷺ حسب وعدہ تین روز تک وعدہ گاہ پر انتظار فرماتے رہے اور بعد میں کوئی جھگڑا یا برا بھلا بھی نہیں کہا (سیرت المصطفیٰ جلد۱)

(۶) قسم کھانا: عام طور پر تجارت پیشہ لوگوں میں جھوٹی سچی قسمیں کھانے کی عادت ہوتی ہے، لیکن حضرت خدیجہ کے مال کو لے کر جب شام تجارت کے لیے گئے تھے تو میسرہ بیان کرتے ہیں ایک صاحب قسم کھلانے لگے تو آپ ﷺ نے قسم کھانے سے انکار فرمادیا (سیرت مصطفی جلد۱)

(۷) بیجا مناقشہ کرنا: حضرت قیس بن سائب کی روایت گزری کہ آپ ﷺ بہترین شریک تجارت تھے اور جھگڑا کرتے تھے نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے (ایضاً)

(۸) کسی کو نقصان پہنچانا: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی مسلمان کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور کسی کو مشقت میں ڈالے اللہ اس پر مشقت ڈالے گا (مشکوٰة شریف ص۲۴۹)

(۹) گالی گلوج: فحش گوئی اور ہر بُری بات سے اجتناب بھی ضروری ہے، کیوں کہ آپ ﷺ ان چیزوں سے سب سے زیادہ بچتے اور پرہیز کرتے تھے۔

بکرایاں چرانا

فخرالاولین والآخرین، امام الانبیاء والمرسلین، شفیع المذنبین، رحمة للعالمین اور حبیب ربّ العالمین حضرت محمد ﷺ نے جب آنکھیں کھولیں اور ذرا ہوش سنبھالا تو رضاعی والدئہ محترمہ حلیمہ سعدیہ سے پوچھا کہ: رضاعی بھائی عبداللہ نظر نہیں آتے، حضرت سعدیہ نے فرمایا کہ: وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں، اسی وقت فرمایا کل سے میں بھی بھائی عبداللہ کے ہمراہ بکریاں چرانے جاؤں گا، گویا اسی وقت یہ احساس فرمالیا کہ: اپنا بار دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود اٹھانا چاہیے، نیز جب آپ مکہ میں رہتے تھے تو اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے بدلے چراتے تھے۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مقام” الظہران“ میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ وہاں پیلو کے پھل چننے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: سیاہ دیکھ کر چنو وہ زیادہ خوش ذائقہ اور لذیذ ہوتے ہیں، ہم نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے؟ کہ آپ کو یہ بات معلوم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے بھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ہاں میں اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط پر چرایا کرتا تھا۔

اجرت پر بکریاں چرانا

اجرت لے کر کوئی کام کرنا، خواہ بکریاں چرانا ہو یا کوئی دوسرا کام کرنا شانِ نبوت ورسالت کے خلاف نہیں ہے، بعض سیرت نگاروں کو ایسا محسوس ہوا تو انھوں نے اس واقعہ کی تاویلات فرمائی ہیں؛ حالاں کہ محققین کی رائے یہی ہے کہ کام کی اجرت اور مزدوری لینا کوئی غیرشرعی امر نہیں ہے اور نہ ہی مقامِ رسالت کے خلاف ہے، ہاں! تبلیغ احکام اور اشاعت دین پر اجرت لینا شانِ نبوت کے خلاف ہے، جس کو جابجا کلام الٰہی میں بیان کیاگیا ہے، نسائی شریف میں حضرت نصر بن حزن سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ اونٹ والے اور بکریوں والے آپس میں فخر کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ موسیٰ علیہ السلام نبی بناکر بھیجے گئے اور وہ بکریوں کے چرانے والے تھے، داؤد علیہ السلام نبی بناکر بھیجے گئے اور وہ بھی بکریاں چرانے والے تھے اور میں بھی نبی بناکر بھیجا گیا اور میں بھی اپنے گھروالوں کی بکریاں مقامِ اجیاد میں چرایا کرتا تھا۔

حضرات انبیا علیہم السلام سے بکریاں چروانا

حاملینِ نبوت ورسالت حضرات انبیا ورسل علیہم الصلوٰة والسلام کو چوں کہ بارگاہِ ایزدی سے ایک خاص مقصد اور مشن کے تحت بھیجاگیا تھا اور وہ ہے امت کی گلہ بانی یعنی بعثت ونبوت سے سرفراز فرمانے کے بعد بنی نوعِ آدم کو ہر ہر نشیب و فراز سے بچاتے ہوئے ہموار راستہ پر چلانا اور گمراہ کن اور پیچیدہ راستوں سے نکال کر صراطِ مستقیم اور معتدل راہ پر چلاتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچانا، اس مقدس و پاکباز گروہ اور جماعت کا فریضہٴ منصبی ہوتا تھا اور افرادِ انسان بالکل بے خبر اور بے نکیل جانور کی طرح ہر طرف دوڑنا اور ہر چراگاہ سے چرنا، اپنا فطری عمل جانتے ہیں، پس انبیاء علیہم السلام ہر ہر گام پر حفاظت فرماتے ہیں، جبکہ ہر چہار جانب سے انسانی بھیڑیے شیطان کے حملے ہوتے ہیں، ساتھ ہی نفوس کا مستقل من چاہا راستہ ہوتا ہے، جو رب چاہے راستوں سے ذرہ برابر میل نہیں کھاتا، پس یہ دونوں درندے یعنی شیطان اور نفسِ امّارہ گمراہ کن راستوں کو تمام تر زیبائش و آرائش سے آراستہ کرکے اولادِ آدم اور حوّا کے لاڈلوں کو راہِ راست اور خدائی ڈگر سے ہٹاکر کسی بھی غلط راستے پر ڈالنے کو مقصدِ زندگی سمجھتے ہیں اور شیطان اپنی ذریات کو اسی پر انعامات سے نوازتا ہے کہ کسی صورت بھی انسانوں کو راہِ جنت سے برگشتہ کرکے راہِ جہنم پر گامزن کردیا جائے، اس صورتِ حال میں اگر انبیاء اور رسولوں کی مقدس جماعت کی اور ان کے پیروکاروں کی کاوش وکوشش اور جدوجہد نہ ہوں تو راہِ راست کے راہرو حضرات اور خدا کے فرماں برداروں کا کیا حال ہوگا؟ وہ کسی ادنیٰ عقل رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ہے، اولادِ آدم اور بناتِ حوّا کی یہ حالت جانوروں میں بکریوں سے بہت زیادہ میل کھاتی ہے کہ اونٹ، گائے، بیل اور بھینس کو چرانا اور سنبھالنا اتنا مشکل نہیں ہے، جتنا بکریوں کو چرانا اور ان کی حفاظت کرنا مشکل ترین ہے؛ کیوں کہ بکریاں کبھی اِدھر بھاگتی ہیں تو کبھی اُدھر، ابھی یہاں ہیں تو تھوڑی دیر میں وہاں نظر آتی ہیں اور چرواہا بے چارہ سرگرداں اور پریشان رہتا ہے ، کبھی اِدھر سے روکتا ہے توکبھی اُدھر سے، مزید براں بھیڑیے کا خوف وخطرہ ہمہ وقت لگا رہتا ہے، درندہ ہمیشہ گھات میں رہتا ہے کہ کب چرواہے کی نظر ہٹے اور وہ اپنا کام تمام کربھاگے، چرواہا چاہتا ہے کہ تمام بکریاں یکجا اکٹھی رہیں؛ تاکہ بھیڑیوں اور درندوں سے حفاظت رہے، صبح سے شام تک بھیڑبکریوں کے پیچھے پیچھے اسی طرح بھاگتا اور دوڑتا رہتا ہے، بالکل اسی طرح حضراتِ انبیاء اولاد آدم کے ریوڑ اور امت کے افراد کے لیے متفکر اور پریشان رہتے ہیں کہ تمام افرادِ امت اور بنی آدم کا پورا ریوڑ راہِ راست اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے۔ شیطان اور نفس امّارہ کے حملے سے ہرہر فرد محفوظ رہے، بلکہ نبی اور رسول کو اپنی قوم اور امت کی فکر چرواہے سے بہت زیادہ ہوتی ہے کہ چرواہا کم از کم رات کو سکون کی نیند سوتا ہے؛ لیکن نبی ورسول کو سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، چلتے، پھرتے ہر وقت یہی فکر رہتی ہے کہ امت میں صلاح وفلاح کیسے پیدا ہو اور قوم اپنی ہلاکت وبربادی کے راستے سے بچ کر دائمی راحت وآرام کا راستہ کس طرح اختیار کرے اور قوم وملت بالکل بکریوں کی طرح اپنی ہلاکت وتباہی کی فکر نہیں کرتی، شیطانی درندوں اور نفس کے پھندوں میں قوم پھنستی رہتی ہے، نبی قوم کی یہ حالت دیکھ کر اس قدر دکھی ہوتے ہیں کہ مخلوق اس کا اندازہ شاید نہ کرسکے؛ البتہ خالق کو اس کا اندازہ ضرور ہوتا ہے؛ کیوں کہ وہ عَالِمُ الغَیْب وَالشَّھَادَةِ ہے، پس ارشادِ باری ہے: لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ أنْ لاَّ یَکُوْنُوْا مُوٴْمِنِیْنَ(الکہف) (شاید آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنی جان دیدیں گے)

حرفِ آخر

اللہ رب العزت کا یہ مقدس گروہ نہایت برگزیدہ اور چنیدہ ہوتا ہے، تمام انسانوں میں خداتعالیٰ کا سب سے پسندیدہ طبقہ یہی انبیاء اور رسولوں کا ہے، اگر باری تعالیٰ چاہتا تو دنیا کا مال ودولت اور حکومت واقتدار اس مقدس جماعت کے قدموں میں ڈال دیتا؛ لیکن قانونِ الٰہی اور خدائے بزرگ وبرتر کی عادتِ مبارکہ بالکل مختلف رہی ہے کہ یہ مقربین بارگاہِ خدا اکثر وبیشتر فقر وفاقہ اور تنگ دستی میں مبتلا رہے ہیں، اپنی اور اہل خانہ کی ضروریاتِ زندگی کے لیے جدوجہد اور محنت ومشقت کرتے نظر آتے ہیں وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ امت اور قوم سبق حاصل کرے؛ کیوں کہ انسانوں کی اکثریت غربت وافلاس کی شکار ہے اوریہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کی تصدیق کرنے اور پیروی کرنے میں پہل کرنے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اور دولت مند حضرات اور صاحب اقتدار لوگ ہمیشہ یا اکثر وبیشتر مخالفت کرتے ہیں؛ کیوں کہ ان کو اپنا اقتدار، اپنی چودھراہٹ اور اپنی موج ومستی ختم ہوتی دِکھتی ہے؛ چنانچہ مخالفت پر کمر کس لیتے ہیں اور دبے کچلے لوگ، معاشرہ میں کمتر سمجھے جانے والے لوگ اور فقر وفاقہ میں مبتلا افراد نبی اور رسول کا دامن تھامنے اور ساتھ دینے میں ہی عافیت وراحت محسوس کرتے ہیں۔ پس نبی اور رسول اپنے ماننے والوں کی اکثریت کو ذریعہٴ معاش کا راستہ دکھانے کے لیے کبھی تجارت کو اختیار کرتے ہیں اور اس کے فضائل وفوائد بیان کرتے ہیں تاکہ امت کا بڑا طبقہ اس پیشہ سے جڑکر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا معاش درست کرسکے، کبھی نبی بکریاں چراتے ہیں کہ امت کا دوسرا گروہ اور بہت سے افراد اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسرے کام اختیار کرے خواہ اپنے مویشی سے یا دوسرے لوگوں کے مویشیوں کو اجرت پر چراکر بچوں کی پرورش وغیرہ کا نظم کرسکے؛ بہرکیف ہر طبقہ اور ہر جماعت اصولِ شریعت (قرآن وحدیث) کے ساتھ ذریعہٴ معاش اختیار کرسکتا ہے؛ چنانچہ ہر وہ پیشہ جائز ہوگا جس میں اصولِ شریعت کی مخالفت نہ ہو اور اتباع سنت کی بھی نیت ہو، تو دنیا کے ساتھ ساتھ ذخیرئہ آخرت بھی ہوگا، خدا تعالیٰ تمام امت کو اتباعِ سیدالمرسلین کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے! آمین یا رب العالمین۔



$ $ $

----------------------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء

01/11/2022

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
راست گو سوداگروں کو قیامت میں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا ،
اور فرمایا !
کہ حق تعالی ان مؤمنوں کو دوست رکھتا ہے جو کوئی پیشہ اختیار کرکے روزی کماتے ہیں _
اور فرمایا !
کہ تجارت کرو کہ دس میں نو حصے رزق اسی پیشے میں ہے .
ترجمہ کیمیائے سعادت صفحہ 331
" کسب معاش کی فضیلت اور اس کا ثواب"

01/11/2022

آثار میں آیا ہے کہ جس گھر میں اہل خانہ مرد عورت اور بچے مل کر کھانا کھاتے ہیں ان پر کھانے کے دوران اللہ تعالی اور اس کے فرشتےسلام بھیجتے ہیں ،
اور اصل اہمیت یہ ہے کہ بیوی بچوں کو جو کچھ کھلائے حلال کا کمایا ہوا ہو _
ترجمہ کیمائے سعادت صفحہ 325

01/11/2022

ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ کونسا عقدہ ہے جو حل ہو نہیں سکتا
، ، ،
ہمت مرداں مدد خدا

24/10/2022

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا،( اور ایک روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سننے کے لیے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتا) دوسرا بھائی محنت مزدوری یا کاروبار کرتا، محنت مزدوری یا کاروبار کرنے والے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی( اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ) میرا بھائی کسی کام میں میری مدد نہیں کرتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے تمہیں اس کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو۔
الصحيحة رقم (2769) سنن الترمذي

11/10/2022

یہ میری چھوٹی سی شاپ ہے ، کس کس کو پسند آئی ہے ؟؟؟ ذرا بتاؤ تو سہی ؟؟؟؟؟

09/10/2022

"کسب معاش کی فضیلت "
عیسی علیہ السلام نے ایک شخص کو دیکھا اور دریافت کیا کہ کیا کام کرتے ہو ؟ اس نے کہا عبادت کرتا ہوں_آپ نے کہا کھانا کہاں سے کھاتے ہو؟اس نے کہا کہ میرا ایک بھائی ہے جو مجھے کھانا کھلا دیتا ہے_فرمایا "تو پھر تمہارا بھائی تم سے زیادہ عبادت گزار ہے "_
(کیمیائے سعادت صفحہ نمبر331 ، امام غزالی رحمہ اللہ)

09/10/2022

میرے کاروبار کی پہلی ایڈویٹائزمنٹ

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Bannu?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

KPK
Bannu
0302352