Aik Amm Aurat

Aik Amm Aurat

Share

It's about everything

17/06/2026

🚨 LOST IN MASJID AN-NABAWI?

One of the most common problems in Madinah isn't getting into the mosque.

It's finding your way back out.

Many pilgrims tell their family:

📍 "Meet me at Gate 309."

A few hours later, they can't remember the number.

That's why Masjid an-Nabawi uses a color-coded gate system.

💚 Green Gates (365–369 & 301–308)
South side • Near the Rawdah area.

💜 Purple Gates (309–313)
South-West side • Towards Masjid Ghamamah, Masjid Abu Bakr, and the Zamzam collection area.

🧡 Orange Gates (314–327)
West side • Western courtyard and surrounding areas.

💙 Blue Gates (344–364)
East side • Towards Jannatul Baqi.

❤️ Red Gates (328–343)
North side • Towards hotels and many ladies' entrances.

💡 Before separating from your family or group, agree on TWO things:

✅ Gate Color
✅ Gate Number

That simple step can save a lot of stress after prayer when thousands of people are leaving at the same time.

📌 Save this guide now. You may not remember it when you need it.

🤍

09/06/2026

جولائی 2021 کی ایک رات اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں 27 سالہ نور مقدم کو ظاہر جعفر کی رہائش گاہ پر بے دردی سے سر کا۔ٹ کر قتل کیا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ انہیں پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نور مقدم نے فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔ وہ پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر مین گیٹ تک پہنچیں۔ ہاتھ میں موبائل فون بھی تھا لیکن چوکیدار اور مالی نے گیٹ بند کر دیا۔ وہ باہر نہ نکل سکیں۔

ٹرائل کورٹ نے فروری 2022 میں ظاہر جعفر کو سزائے مو۔ت سنائی جسے بعد میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔نور مقدم کا قصور کیا تھا؟ وہ رشتہ ختم کرنا چاہتی تھیں۔ بس۔

کچھ یہی خدشہ بلوچستان کوئٹہ کے ہسپتال میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کے واقعے میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ اور ایسے دیگر کئی واقعات ایک سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

مئی 2024 میں 25 سالہ فرزانہ پروین لاہور ہائی کورٹ کے باہر اس مقدمے میں پیشی کے لیے آئی تھیں جو اس کے اپنے خاندان نے اس کے خلاف دائر کیا تھا۔ اس نے خاندان کے پاند کے لڑکے کو ٹھکرا کر اپنی مرضی سے محمد اقبال سے شادی کی تھی۔ عدالت کے باہر دن دہاڑے اس کے باپ بھائیوں اور دیگر رشتے داروں نے مل کر اسے ڈنڈوں اور اینٹوں سے مار مار کر ما۔ر ڈالا۔ وہ اس وقت تین ماہ کی حاملہ تھی۔ باپ نے خود پولیس کو اطلاع دی اور کہا کہ بیٹی نے خاندان کی ناک کٹوائی، اسے کوئی پچھتاوا نہیں۔

اپریل 2026 میں لاہور کے علاقے چوہنگ میں نویں جماعت کی ایک طالبہ اکیڈمی سے نکل رہی تھی کہ ملزم ساجد پہلے سے گلی کے کونے پر موٹرسائیکل پر بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی وہ باہر نکلی تو ملزم نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ طالبہ کا چہرہ، سر اور کندھے جھلس گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق رشتہ نہ دینے کی رنجش اس حملے کا سبب تھی۔ سی سی ٹی وی میں پورا منظر ریکارڈ ہوا۔ ملزم فرار ہوا۔ پولیس مقابلے میں زخمی ہوا اور بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

اپریل 2026 میں ہی لاہور گڑھی شاہو میں ملزم علی احمد نے پڑوسی طالبہ کو رشتے سے انکار کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسلحے کے زور پر اسے زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور مارا پیٹا جس سے سر اور جسم پر چوٹیں آئیں۔

جون 2025 میں اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بتایا کہ ملزم بار بار ثنا یوسف سے رابطہ کر رہا تھا اور وہ دوستی سے انکار کر رہی تھی جس کے بعد ملزم نے ق۔تل کا منصوبہ بنایا۔

حال ہی میں چند روز قبل کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک واقعہ سامنے آیا جس میں ملزم نے اس پوری 'بیماری' کو ایک ہی جملے میں بیان کر دیا ہے۔ 64 سالہ شخص نے اپنی 58 سالہ بیوی کو محض اس لیے لوہے کی راڈ سے مار مار کر ق۔تل کر دیا کہ انہوں نے انکار کیا تھا۔ قتل کے بعد شوہر نے گھر پر تالا لگایا اور خود تھانے جا کر گرفتاری دی۔ وہ بڑے فخر سے میڈیا کو اس واردات کی تفصیلات بتاتے پھر رہے ہیں۔

اب کوئٹہ کے ہسپتال کے واقعے کو ہی لے لیجیے۔ ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا گیا۔ بلوچستان میں موجود بعض صحافی یہ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہسپتال کا لفٹ آپریٹر ڈاکٹر ماہ نور کو پسند کرتا تھا۔ اس نے پیغامات بھیجے اور جب انکار ہوا تو اس نے تیزاب سے چہرہ جلانے کی ٹھان لی۔ تاہم ابھی تک یہ اندیشہ ہی ہے۔ اس حوالے سے تاحال کوئی مصدقہ رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

لیکن اگر یہ اندیشہ درست نکلا تو پھر سوال یہ ہے کہ اس ملک میں 'نہیں' کہنا کتنا مہنگا پڑتا ہے؟
ثنا یوسف نے نہیں کہا تو سینے میں گولی ماری گئی۔ نور مقدم نے رشتہ توڑنا چاہا تو سر ت۔ن سے جدا کر دیا گیا۔ کراچی کی خاتون نے انکار کیا تو لوہے کے راڈ سے انہیں مارا گیا۔

یہ غصہ کہاں سے آتا ہے؟ یہ سوچ کہاں بنتی ہے کہ عورت کا انکار مرد کی توہین ہے اور توہین کا بدلہ خون سے لیا جاتا ہے؟ کبھی سوچا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ کیوں مرد نہیں، نہیں سننا چاہتا؟

میرا ماننا ہے کہ یہ تربیت ان گھروں میں ہوتی ہے جہاں مرد کی نہیں حرف آخر ہوتی ہے اور عورت کی نہیں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ ان محلوں میں پروان چڑھتی ہے جہاں لڑکے کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ مرد کا ارادہ ٹوٹنا نہیں چاہیے اور جہاں انکار کو بے وفائی کہا جاتا ہے۔

یہ غیرت کا لفظ بھی عجیب ہے۔ یہ غیرت عورت کے مسخ ہوئے چہرے پر نہیں جاگتی۔۔ گھر میں مار کھاتی بیوی کی چیخوں پر نہیں جاگتی۔۔ یہ صرف اس وقت جاگتی ہےجب 'ناک کٹنے' کا خطرہ ہو۔۔۔ یہ غیرت نہیں یہ انا ہے۔ اور یہ انا قاتل ہے۔

یہ سلسلہ کہاں تک جا رہا ہے اس کا اندازہ ان سرکاری اعداد و شمار سے لگائیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 470 خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔ صنفی تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور خواتین کی سائبر ہراسگی کے ڈھائی ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

اس سے پچھلے سال 2024 میں جنوری سے نومبر تک 392 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں جن میں پنجاب میں 168، سندھ میں 151، خیبرپختونخوا میں 52 اور بلوچستان میں 19 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی سال تیزاب گردی کے 43 کیسز سامنے آئے۔ یہ صرف رپورٹ شدہ کیسز ہیں۔ جو درج نہیں ہوئے، جو گھر کی چار دیواری میں دفن ہو گئے وہ کہیں شمار نہیں ہوتے۔

ایسے مرد ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ اور مسئلہ ان کا ذہنی مریض ہونا نہیں ہوتا بلکہ ان کو ذہنی مریض بنانا اصل مسئلہ ہے اور انہیں ذہنی مریض ہم ہی بناتے ہیں اور پھر انہیں اس مرض پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرنا بھی سکھاتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ ہم قانون کی کتابوں میں اس کا حل ڈھونڈ رہے ہیں۔ کبھی سی سی ڈی تو کبھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ قانون تو اس وقت آتا ہے جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔۔۔ جب چہرہ جل چکا ہوتا ہے۔۔یا جب سانس رک چکی ہوتی ہے۔ اصل کام اس سے بہت پہلے کا ہے۔

ایسے جرائم کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ تب جب باپ گھر میں بیٹے کے سامنے اس کی ماں سے اونچی آواز میں بات کرتا ہے اور چار سالہ بیٹا دیکھتا ہے۔۔ وہیں سے یہ تعلیم شروع ہوتی ہے کہ عورت کی نہیں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہم نے لڑکوں کو صدیوں سے یہ سکھایا ہے کہ مردانگی کا مطلب ہے؟ یہی کہ بات منوانا۔۔۔ تو جب کوئی بات نہیں مانتا تو وہ آگ بگولہ ہوتا ہے۔

نصاب میں حساب اور سائنس کے ساتھ یہ بھی پڑھانا ہوگا کہ نہیں کا مطلب نہیں ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھی زندگی ہوتی ہے۔ منبروں سے جب تک عورت کے احترام کی بات اسی گرم جوشی سے نہیں اٹھے گی جس سے باقی موضوعات اٹھتے ہیں تب تک دین کا نام لے کر ظلم ڈھانے والے نہیں رکیں گے۔

ہمارے ڈراموں اور فلموں نے تو اس زہر کو میٹھا بنا بنا کر پروسا ہے۔۔ ہم ڈراموں میں دیکھتے ہیں کہ ہیرو انکار کے بعد بھی لڑکی کا پیچھا کرتا ہے، تنگ کرتا ہے اور آخر میں لڑکی پگھل جاتی ہے۔۔۔ پھر کہانی دوسرا موڑ لیتی ہے اور ہم محظوظ ہوتے ہیں جبکہ درحقیقت ہماری ذہن سازی ہو رہی ہوتی ہے۔

یہ بات خود بھی مانیں اور اپنے ارد گرد بچوں بڑوں سب کو باور کرائیں کہ عورت کا انکار اس کا بنیادی حق ہے۔۔۔ عورت کا انکار آپ کو آگ بگولہ ہونے کا اختیار ہرگز نہیں دیتا۔ سوچیں اگر عورت مرد کی جگہ لے کر مرد کے انکار پر اس طرح کا ردعمل دینے پر آجائے تو؟

ادیب یوسفزئی

07/06/2026

💥 میں نے کوئی نامناسب لباس نہیں پہنا تھا لیکن۔۔
میرے شوہر نے مجھے دیکھتے ہی کہا: "اس عمر میں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟" 💔💔

شادی کو بہت سال ہو چکے ہیں۔
اور ان سالوں میں عورت بہت کچھ سیکھ جاتی ہے۔

کب اپنی خواہش کو فضول خرچی کہنا ہے۔

کب نیا جوڑا دیکھ کر دل مار لینا ہے۔

کب شیشے کے سامنے رُک کر بھی خود کو جلدی سے نظر انداز کر دینا ہے۔

اور کب اپنے بالوں میں سفیدی کا پہلا تار دیکھ کر مسکرا دینا ہے، جیسے یہ بھی کوئی عام سی بات ہو۔

میں بھی یہی کرتی رہی تھی۔

گھر، بچے، کچن، مہمان، رشتے دار، سکول، فیسیں، بل…

زندگی آہستہ آہستہ میرے اندر سے وہ لڑکی نکالتی گئی جو کبھی عید سے ایک رات پہلے چوڑیاں ملا کر رکھتی تھی۔

پھر پچھلے ہفتے بازار میں ایک جوڑا دیکھا۔

سبز رنگ کا۔
بہت نفیس۔
نہ شوخ۔
نہ بےجا۔

بس ایسا کہ دل نے کہا:

"حرا، یہ تم پر اچھا لگے گا۔"

میں نے بہت دیر تک قیمت دیکھی۔

پھر خود کو دیکھا۔

پھر سوچا:

"کب تک ہر چیز بچوں، گھر اور دوسروں کیلئے خریدتی رہوں گی؟"

اور کئی سال بعد پہلی بار اپنے لیے وہ جوڑا خرید لیا۔

اُس شام ہماری ڈنر بکنگ تھی۔

میں نے سوچا ان کو اچھا لگے گا۔

بال بنائے۔
ہلکا سا کاجل لگایا۔
کلائیوں میں چوڑیاں پہنیں۔

اور وہی سبز جوڑا پہن کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

قسم سے، میں کوئی دلہن نہیں لگ رہی تھی۔

کوئی فلمی ہیروئن بھی نہیں۔

بس ایک عام سی عورت لگ رہی تھی…

جو کئی سال بعد خود کو اچھی لگی تھی۔

وہ گھر آیا۔

میں مسکراتی ہوئی اُس کے سامنے گئی۔

چند لمحے وہ مجھے دیکھتا رہا۔

پھر اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی ناگواری اتر آئی۔

"یہ کیا پہن لیا ہے؟"

میں نے ہلکی سی ہنسی میں بات ٹالنی چاہی۔

"اچھا نہیں لگ رہا؟"

وہ بولا:

"یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟"

میں خاموش ہو گئی۔

"اتنا تیار ہونا ضروری تھا؟"

"ہم صرف کھانا کھانے جا رہے ہیں، کوئی شادی میں نہیں۔"

میں نے آہستہ سے کہا:

"مجھے اچھا لگ رہا تھا۔"

وہ ہنس دیا۔

وہ ہنسی مذاق والی نہیں تھی۔

وہ ہنسی کسی کو چھوٹا کرنے والی تھی۔

"اس عمر میں؟"

بس۔

یہ دو لفظ میرے اندر کہیں گہرے اتر گئے۔

اس عمر میں۔

جیسے شادی کے چند سال بعد عورت پر خوبصورت لگنے کی میعاد ختم ہو جاتی ہو۔

جیسے بچوں کی ماں بننے کے بعد اُس کا سجنا مذاق بن جاتا ہو۔

جیسے بیوی کا دل، آئینہ اور خواہشیں صرف جوانی کے پہلے چند برسوں تک جائز ہوں۔

میں نے کہا:

" میں نے کوئی غلط لباس نہیں پہنا۔"

وہ جھنجھلا گیا۔

"بات لباس کی نہیں ہے۔"

میں نے پہلی بار اُس کی طرف سیدھا دیکھا۔

"تو پھر بات کس کی ہے؟"

وہ کچھ لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا:

"مجھے یہ سب ڈرامے پسند نہیں۔"

"تم جیسی ہو، ٹھیک ہو۔"

"یہ سجنا سنورنا، چوڑیاں، کاجل… اب ان سب کی کیا ضرورت ہے؟"

اُس لمحے مجھے سمجھ آ گیا۔

مسئلہ لباس نہیں تھا۔

مسئلہ یہ تھا کہ میں نے اپنے آپ کو دوبارہ دیکھ لیا تھا۔

اور شاید وہ عادی ہو چکا تھا مجھے صرف ایک کردار میں دیکھنے کا۔

بیوی۔
ماں۔
گھر سنبھالنے والی۔
مگر عورت؟

وہ شاید بھول چکا تھا کہ میں وہ بھی ہوں۔

میں نے آہستہ سے کہا:

"تو کیا شادی کے بعد عورت کو اچھا لگنے کا حق ختم ہو جاتا ہے؟"

وہ بولا:

"میں نے ایسا کب کہا؟"

میں نے جواب دیا:

"کہا نہیں، محسوس کروا دیا۔"

کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

ہم ڈنر پر نہیں گئے۔

وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا۔

اور میں کمرے میں آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

وہی جوڑا۔

وہی چوڑیاں۔

وہی کاجل۔

مگر اب آنکھوں میں پانی تھا۔

میں دیر تک خود کو دیکھتی رہی۔

اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عورت کو سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب وہ اپنے لیے تیار ہو…

اور جس شخص کیلئے دل میں جگہ ہو، وہ اسے دیکھ کر شرمندہ کر دے۔

اگلی صبح میں نے وہ جوڑا اتار کر الماری کے سب سے سامنے لٹکا دیا۔

اس نے دیکھا تو بولا:

"اب بھی رکھو گی اسے؟"

میں نے سکون سے کہا:

ہاں
میں نے کہا:

"کیونکہ یہ صرف جوڑا نہیں ہے۔"

"یہ مجھے یاد دلائے گا کہ میں صرف ذمہ داریوں کا نام نہیں ہوں۔"

"میں ایک عورت بھی ہوں۔"

"اور مجھے اچھا لگنے کیلئے کسی کی اجازت نہیں چاہیے۔"

وہ خاموش رہا۔

میں نے پہلی بار بہت نرمی سے مگر واضح لہجے میں کہا:

"تمہیں میرا جوڑا پسند نہ آئے، یہ تمہارا حق ہے۔"

"مگر مجھے اپنی عمر، اپنے وجود اور اپنی خوشی پر شرمندہ کرنا تمہارا حق نہیں۔"

پھر میں نے چوڑیاں اُتاریں نہیں۔

انہیں کلائی میں رہنے دیا۔

کیونکہ کچھ چیزیں احتجاج نہیں ہوتیں…

صرف یاد دہانی ہوتی ہیں۔

اس بات کی یاد دہانی کہ عورت کی خوبصورتی صرف اُس کے نکاح، ولیمے یا جوانی کے دنوں تک محدود نہیں ہوتی۔

وہ چالیس میں بھی عورت ہے۔

پچاس میں بھی۔

بچوں کی ماں بن کر بھی۔

اور گھر کی ذمہ داریوں میں تھک کر بھی۔

اور جو مرد اپنی بیوی کو عمر کے ساتھ کم نہیں، مکمل ہوتے دیکھ سکے…

وہی اصل میں محبت کرنا جانتا ہے۔ ❤️

07/06/2026
22/05/2026

🤍 بس چند دنوں میں…

8 ذوالحجہ کا آغاز ہو جائے گا۔

اور لاکھوں حاجی مکہ مکرمہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہونا شروع کر دیں گے۔

وہ لمحہ جب حج اچانک تیاری جیسا محسوس ہونا بند ہو جاتا ہے…
اور حقیقت بننا شروع ہو جاتا ہے۔

بھری ہوئی بسیں۔
ہر طرف سفید احرام۔
منیٰ کے خیمے ایک بار پھر بھرنے لگیں گے۔
اور تھکن آہستہ آہستہ شروع ہو جائے گی۔

بہت سے حاجیوں کے لیے…
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل تھوڑا سا کانپنے لگتا ہے۔

کیونکہ ترویہ کے بعد عرفہ آتا ہے۔

اور عرفہ کے بعد…
کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا 🤍

22/05/2026

*Urdu Translation:*

⚠️ بس 3 دن باقی ہیں… حاجی منیٰ کی طرف یومِ ترویہ کے لیے روانہ ہونا شروع کریں گے۔

اور بہت سے پہلی بار حج کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ حج کی تھکن اکثر منیٰ سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔

*یومِ ترویہ سے پہلے:*

✅️ *ابھی سے پانی اور مائعات کا استعمال بڑھا دیں*
کمزور یا چکر آنے کا انتظار نہ کریں

✅️ *اپنے بنیادی وٹامنز اور ذاتی دوائیں ساتھ رکھیں*
خاص طور پر اگر آپ کا جسم جلدی تھک جاتا ہو

✅️ *بہت سے تجربہ کار حاجی شہد، الیکٹرولائٹس یا انرجی اسنیکس بھی تیار کر لیتے ہیں*
کیونکہ حج کے دن جسمانی طور پر بہت جلد تھکا دینے والے ہو سکتے ہیں

✅️ *ابھی سے اپنی نیند درست کر لیں*
آنے والے دنوں میں آرام خود بخود کم ہو جائے گا

✅️ *غیر ضروری چہل قدمی اور بار عمرہ کرنا کم کر دیں*
اپنی توانائی منیٰ، عرفہ، مزدلفہ اور جمرات کے لیے بچا کر رکھیں

✅️ *اپنا چھوٹا حج بیگ پہلے سے تیار کر لیں*
(ID، چارجر، پاور بینک، چپل، ٹشو، اسپرے، دوائی)

تجربہ کار حاجی جانتے ہیں…
ترویہ سے پہلے اپنے جسم کا خیال رکھنا بھی حج کی تیاری کا حصہ ہے 🤍

19/05/2026

Some people leave Makkah with hundreds of photos…

but the thing they remember most
is one quiet moment they never posted 😔

A du’a beside the Kaaba.
A tired walk after tahajjud.
Crying alone after everyone slept.
Looking at the Haram one last time before leaving.

Not every beautiful moment needs to be shown.

Some moments were only meant
to stay between you and Allah

🤍

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Faisalabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Faisalabad