MKS-Malik

MKS-Malik

Share

manufacturing and supplier cloth Huk

24/06/2024
01/04/2023

وہ پاکستان جو گندم کی پیداوار میں 7واں بڑا ملک ہے۔

یہ میری وہ کتابیں ہیں جو آج تک مجھ سے جدا نہیں ہوئی۔ کلاس نہم سے لیکر ماسٹر تک سارا نصاب ابھی تک موجود ہے۔ لیکن زندگی نے جو سبق دیا وہ ان میں سےکسی کتاب میں نہیں۔ جو ان کتابوں میں پڑھا ایسا کچھ بھی میری زندگی میں نہیں۔ نہ قائد اعظم کے چودہ نکات۔ نہ اکبر بادشاہ۔ نہ الجبرا۔ نہ مسٹر چپس۔ نہ سطح مرتفع پوٹھوہار۔ نہ ہی وہ پاکستان جو گندم کی پیداوار میں ساتواں خود کفیل ملک ہے۔
مجھے پیسے کمانے کا طریقہ تو بتایا نہ گیا۔ بس فوٹو سنتھسیز کا عمل پڑھاتے رہے۔ سارا دن کمسٹری کے فارمولے کو رٹہ لگواتے رہے۔ حالانکہ ہر چیز بنی بنائی ملتی ہے وہ بھی پیسوں سے۔ تو پیسہ کمانا تو کسی ماسٹر نے نہیں
سکھایا۔
بیالوجی کی کتنی شاخی ہیں اگر یاد نہ ہوا تو فیل۔ لیکن میرے سے کتنے لوگوں کی امیدیں وابسطہ ہیں یہ کہیں نہیں لکھا۔
تمام helping verb یاد ہیں مجھے لیکن helping work کوئی بھی یاد نہیں۔
مجھے my father مضمون آج بھی یاد ہے۔ لیکن father خوش کیسے رہتا ہے یہ نہیں پتا۔
میں نے پڑھا ہے کہ پاکستان میں نمک کی اپنے بڑے بڑے پہاڑ ہیں۔ لیکن مجھے اپنے اس پہاڑ کا ایک چھوٹا سا پتھر 100 روپے میں ملتا ہے۔
سوچنے لگا کہ اپنے اساتذہ سے پوچھو کہ آپ نے جو پڑھایا وہ صحیح تھا۔ جب استاد کا دروازاہ کھٹکھٹایا تو آواز آئی کہ وہ مردم شماری کے لئے گئے ہیں۔ دوسرے استاد کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سکول کے بعد ڈینگی مہم کی میٹنگ میں ہیں۔ تیسرے استاد کا کی طرف گیا وہ پولیوں ۔ یعنی میرے استادوں کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسرے کاموں میں لگا دیا۔ پھر ایک استاد یاد آیا کہ وہ اس وقت گھر ہوں گے۔ انکے گھر پہنچا تومعلوم ہوا کہ 3 گھنٹے ہو گئے وہ آٹا لینے گئے واپس نہیں آئے۔
پھر مجھے سمجھ آگیا کہ کچھ بھی نہیں ان کتابوں میں جو مجھے 3 وقت عزت کی روٹی دے سکے۔ اتنی کتابیں پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا اگر مزدوری ہی کرنی تھی۔
آخر میں تلخ بات یہ کہ کتابیں مجھے اتنا بھی نہ سکھا سکی کہ جو کتابیں پڑھ کے میں زمانے میں معتبر ٹھہرا۔ لوگ مجھے پڑھا لکھا کہتے ہیں ۔ انہیں کتابوں پہ تبصرا کرنے لگ گیا۔ بندہ زیرک تو کتنا پاگل ہے۔ایک ایک لیکچر کے ہزاروں روپے دئیے۔ فیسیں جمع کروائی۔ داخلے جمع کروائیں۔ راتوں کو جاگ جاگ کر مشقیں لکھیں ۔ ایک ایک کتاب سینکڑوں ہزاروں میں خرید کر پڑھی تھی۔ اج ردی میں اسکا صرف 900 روپے ریٹ لگا۔ بہت دکھ ہوا مجھے کہ اتنا مہنگا علم اتنے سستے میں کیسے بیچ سکتا ہوں۔ لیکن کیا کرتا روٹی کمانا تو سیکھایا ہی نہیں گیا۔MKS-Malik

16/03/2023

اس پر ابھی اکاؤنٹ بنانے کے 100 ٹوکن آپکو فری ملیں گے جبکہ ایک ٹوکن کی قیمت ابھی 10 روپے ہیں
اور آپکے پاس 100ٹوکن ہیں ت آپکے پاس 1000روپیہ ہوگا لیکن اگر ہم یہی ٹوکن بچا کر رکھیں اور ڈیلی صرف دل کے نشان پر کلک کرتے رہیں تو ہمارے پیسے بننا شروع ہوجائیں گے تقریباً ایک مہینے کے بعد اس ایک ٹوکن کی قیمت 1$ڈالر تک جائے گی اس کا مطلب آپکا ایک ٹوکن 270 روپے کا ہوجائے گا تو آپکے وہ 100ٹوکن سیدھے 28000 کے ہوجائیں گے آگے آپکی مرضی ہے اس سے بڑا موقع نہیں مل سکتا پاکستانی عوام کو
اس کمپنی نے PSL میں بھی حصہ لیا ہوا ہے
ابھی یہ اکاؤنٹ فری ہیں بعد میں ڈالروں میں اکاؤنٹ اوپن ہوں گے
تو میری گزارش ہے تمام دوستو والوں سے اس کو مزاق میں نہ لیں جلدی سے جوائن کریں
Hi! I would like to invite you to B-Love Network.

Follow the link, download the B-Love Network App & Get 500 BLV Tokens for Free by using this Referral Code: NVKYRLIZPH

https://play.google.com/store/apps/details?id=biz.innovationfactory.bnetwork

27/09/2022

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)

آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا ۔
کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،
ایک دن معمو لات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)
بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا
وائسرائے۔ نام؟
کھڑک سنگھ'
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"
وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟
کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤں میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں"
وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جس نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کردیے اور کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔
اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،
کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔
جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔
۔
ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'
جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں درانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے کیھت سے نکلے اور کھسم(شوہر) کو مار مار کر جان سے مار دیا"
جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟
دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی(بیلچا) تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھانا تھا"
کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مرگیا نا؟
پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکیے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا(تنازعہ) تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟
جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔
تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کررہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے ۔
فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)
پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر طرف لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کانپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نہ پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہیں ریاست میں خوب امن رہا آس پاس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔
اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہوجائے گی۔
-Malik

21/06/2022

موسم بہت زبردست ہے ،
اگر معیشت کو خطرہ نہ ہو تو آج دو دو کپ☕ چائے پی لوں۔😏
🍵☕🫖😳😜😂😂

02/04/2022

Pakistan zindahabad

05/10/2021

Happy teacherday miss you

17/08/2021
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Gujranwala?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Street No 14 Qudratabad , Wazirabad
Gujranwala
5200