HDr Arshad Mehmood
Welcome to the official page of Dr. Arshad Mehmood, a highly experienced homeopathic
ہومیوپیتھی میں مائنڈ میتھڈ اور کلاسیکل طریقہ علاج کے درمیان بنیادی فرق مریض کو سمجھنے، علامات کے انتخاب اور دوا تک پہنچنے کے انداز میں ہے۔
1. موجودہ حالت بمقابلہ طویل ہسٹری:
کلاسیکل طریقہ میں مریض کی پیدائش سے لے کر اب تک کی تاریخ، خاندان، اور ماضی کے واقعات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ مائنڈ میتھڈ میں صرف مریض کی موجودہ ذہنی کیفیت پر فوکس ہوتا ہے، یعنی وہ اس وقت بیماری کے ردِعمل میں کیا محسوس کر رہا ہے۔
2. ذہنی علامات بمقابلہ جسمانی علامات:
کلاسیکل طریقے میں جسمانی علامات جیسے پیاس، بھوک یا موسم کے اثرات پر زور دیا جاتا ہے۔ مائنڈ میتھڈ میں مریض کے بولنے کا انداز، رویے اور غیر ارادی اشارے اہم ہوتے ہیں، اور ان سے حاصل کی گئی ذہنی علامات دوا کے انتخاب کی بنیاد بنتی ہیں۔
3. شخصیت بمقابلہ انفرادیت:
کلاسیکل ہومیوپیتھی اکثر طے شدہ شخصیت یا "ڈرگ پکچر" دیکھ کر دوا دیتی ہے۔ مائنڈ میتھڈ مریض کے ظاہری رویے کے بجائے انفرادیت یعنی بیماری کے دوران ظاہر ہونے والے مخصوص اور غیر معمولی رویے پر توجہ دیتا ہے۔
4. ٹرپل پی اصول (Triple P Principle):
مائنڈ میتھڈ تین اہم نکات پر کام کرتا ہے:
Present: جو ابھی موجود ہو
Predominant: جو غالب ہو
Persistent: جو مستقل اور بار بار ظاہر ہو
5. دوا تک پہنچنے کی رفتار:
مائنڈ میتھڈ مریض کی ذہنی علامات پر فوری توجہ دینے کی وجہ سے دوا تک پہنچنے میں بہت تیز ہے، جبکہ کلاسیکل طریقہ علامات کی بھرمار کی وجہ سے سست ہو سکتا ہے۔
6. حیاتی قوت (Vital Force) کا توازن:
دونوں طریقوں کا مقصد حیاتی قوت کو متوازن کرنا ہے، لیکن مائنڈ میتھڈ مریض کے ذہنی مرکز کو پکڑ کر فوری ترتیب دیتا ہے، جس سے جسمانی بیماریاں خود بخود بہتر ہونے لگتی ہیں۔
کلاسیکل طریقہ بیماری اور جسمانی علامات پر مرکوز ہوتا ہے، جبکہ مائنڈ میتھڈ کا اصول یہ ہے کہ "دنیا میں بیماری نہیں بلکہ بیمار ہوتا ہے"۔ اس لیے مریض کے ذہن کا علاج اصل شفا ہے
یہ بالکل ایسا ہے جیسے چاول کی ہانڈی چیک کرنے کے لیے صرف ایک دانہ دیکھ لیا جائے کہ وہ پکا ہے یا نہیں، پورے چاولوں کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سیگل مائنڈ میتھڈ میں روبرک (Rubric) کی تعریف اور اہمیت
ہومیوپیتھی میں، خاص طور پر سیگل مائنڈ میتھڈ میں، روبرک (Rubric) مریض کی ذہنی اور رویے کی علامات کو سمجھنے اور صحیح دوا تک پہنچنے کا ایک کلیدی ذریعہ ہے۔
روبرک کی تعریف
روبرک ایک ایسا تشخیصی پیمانہ (Evaluation Tool) ہے جو مریض کی موجودہ ذہنی کیفیت، رویہ اور جذباتی ردِعمل کو جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مریض کے بولے ہوئے الفاظ، حرکات اور رویوں کو ہومیوپیتھک زبان میں منتقل کرتا ہے، تاکہ دوا کا سب سے زیادہ موزوں انتخاب کیا جا سکے۔
روبرک کی اہم خصوصیات
1. تشخیص کا پیمانہ:
روبرک مریض کی ذہنی کیفیت کو جانچنے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔ مریض کی گفتگو، رویہ اور جسمانی حرکات کے ذریعے، ڈاکٹر براہِ راست سیمیلم (Simillimum) دوا تک پہنچ سکتا ہے۔
2. ذہنی تشریح (Mental Interpretation):
یہ مریض کے ذہن کے اندرونی خلفشار کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ روبرک بتاتا ہے کہ مریض بیماری کے دوران کیا محسوس کر رہا ہے اور اس کے باطن میں کیا ردِعمل جاری ہے۔
3. مریض کا ورژن (Patient’s Version):
مائنڈ میتھڈ میں مریض اپنی تکلیف کو اپنی زبان میں بیان کرتا ہے، جسے ورژن کہا جاتا ہے۔ معالج اس ورژن کو ہومیوپیتھک ریپرٹری کی زبان میں منتقل کرتا ہے اور یہی روبرک بن جاتی ہے۔
4. ہاؤ بھاؤ اور حرکات (Gestures):
روبرک صرف الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ مریض کے ہاؤ بھاؤ، اشارے، اور بولنے کے انداز بھی شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بار بار ہاتھ سر پر رکھنا، مخصوص انداز میں دیکھنا یا کسی چیز کو پکڑنا بھی روبرک کے طور پر لیا جاتا ہے۔
سیگل مائنڈ میتھڈ میں "ورژن" (Version) کی تعریف اور اہمیت
ہومیوپیتھک مائنڈ میتھڈ، خاص طور پر سیگل میتھڈ میں، "ورژن" سے مراد مریض کی وہ عام زبان یا الفاظ ہیں جن میں وہ اپنی تکلیف بیان کرتا ہے۔ یہ مریض کی باطنی کیفیت کا عکس ہے جو ریپرٹری کی مخصوص زبان (روبرک) میں تبدیل ہونے سے پہلے مریض کی اپنی زبان میں ظاہر ہوتا ہے۔
ورژن کا مفہوم
ورژن دراصل مریض کی کہانی یا اندازِ بیاں ہے، جو ڈاکٹر کو مریض کی انفرادیت اور موجودہ کیفیت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ سیگل میتھڈ میں ڈاکٹر کا کام مریض کے ورژن میں چھپے ہوئے غیر معمولی علامات کو تلاش کرنا اور انہیں صحیح روبرک میں ڈھالنا ہے۔
یہ طریقہ ڈاکٹر کو صرف جسمانی علامات پر انحصار کرنے کے بجائے ذہنی اور جذباتی علامات پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو درست دوا کے انتخاب کے لیے سب سے اہم رہنمائی ہیں
ورژن کی مثالیں اور متعلقہ روبرکس
مریض کا ورژن: "ڈاکٹر صاحب، میں جس حالت میں ہوں، یہاں میرا علاج نہیں ہو پا رہا، مجھے کسی بہتر جگہ یا بہتر پوزیشن میں ہونا چاہیے"
روبرک: DELUSION position desire for
مریض کا ورژن: "مجھے ہر وقت یہ وہم رہتا ہے کہ میری بیوی یا پارٹنر مجھے چھوڑ کر بھاگ جائے گی یا طلاق دے دے گی"
روبرک: DELUSION wife will run away from him
مریض کا ورژن: "میں نے بہت دوائیں لیں لیکن سب بیکار ثابت ہوئیں، اب کوئی علاج کام نہیں کر رہا"
روبرک: FEAR of death medicine therefore useless
مریض کا ورژن: "میں بیمار ہوں لیکن گھر کی ساری ذمہ داری مجھ پر ہے، مجھے مجبور ہو کر کام کرنا پڑتا ہے"
روبرک: ANXIETY to something compelled / DELUSION work is hard
مریض کا ورژن: "ڈاکٹر صاحب، بس یہ معمولی سا دانہ ہے، اسی کا علاج کر دیں"
روبرک: CONTENT / WELL says he is, when very sick
مریض کا ورژن: "میں ہمیشہ صحت مند رہا ہوں، پتہ نہیں اب یہ کیا ہو گیا ہے"
روبرک: DELUSION wealth of (اپنی سابقہ صحت پر فخر کرنا)
ایک کامیاب ہومیوپیتھ مریض کے ورژن کو غور سے سنتا ہے اور اس میں موجود غیر معمولی باتوں کو پکڑ کر صحیح دوا کا انتخاب کرتا ہے۔ مریض کے الفاظ ہی وہ چابی ہیں جو اس کی بیماری کے تالے کو کھولتی ہیں۔
مریض کا ورژن بالکل خام مال کی طرح ہے؛ ڈاکٹر اپنی مہارت سے اسے روبرک کی صورت میں تیار شدہ مال میں تبدیل کرتا ہے، تاکہ شفا کا راستہ ہموار ہو۔
ڈاکٹر ایم ایل سہگل (Dr. M. L. Sehgal) جدید ہومیوپیتھی کی دنیا میں ایک انقلابی، غیر روایتی اور تجربہ کار معالج کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ صرف ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ ایک مفکر، مبصر اور استاد تھے جنہوں نے ہومیوپیتھی کو کتابی اصولوں سے نکال کر زندہ مریض کے ساتھ جوڑ دیا۔
ڈاکٹر سہگل نے اپنی عملی زندگی کا آغاز روایتی ہومیوپیتھی سے کیا، جہاں بیماری کی تشخیص جسمانی علامات، موڈالیٹیز اور میٹیریا میڈیکا کے ذریعے کی جاتی تھی۔ کئی سالوں کی پریکٹس کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ ایک ہی دوا، ایک ہی پوٹینسی اور ایک ہی درست کیس کے باوجود مختلف مریضوں میں مختلف نتائج آ رہے ہیں۔ کچھ مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے تھے جبکہ کچھ میں بہتری رک جاتی تھی یا بیماری واپس آ جاتی تھی۔ یہی وہ سوال تھا جس نے انہیں روایتی طریقہ علاج پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا۔
ڈاکٹر سہگل کی اصل پہچان ان کا متعارف کردہ طریقہ علاج Revolutionized Homoeopathy (ROH) ہے، جسے عام طور پر Sehgal Mind Method بھی کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ اصل بیماری جسم میں نہیں بلکہ مریض کے مائنڈ کے موجودہ ردِعمل میں ہوتی ہے۔ جسمانی علامات دراصل مائنڈ کی اندرونی خرابی کا عکس ہوتی ہیں، اس لیے اگر مائنڈ کی صحیح کیفیت کو سمجھ لیا جائے تو دوا خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر سہگل کے مطابق مریض ایک سگنل مشین کی طرح ہوتا ہے جو اپنی بیماری کو الفاظ، لہجے، خاموشی، ردِعمل اور رویّے کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ معالج کا کام سوالات کی بھرمار کرنا نہیں بلکہ مریض کے ان سگنلز کو سمجھنا اور انہیں درست انگلش روبرکس میں کنورٹ کرنا ہے۔ اسی لیے انہوں نے PPP فارمولا متعارف کروایا، یعنی Present، Predominating اور Persisting علامات کی بنیاد پر دوا کا انتخاب۔
ڈاکٹر سہگل جسمانی علامات، ٹیسٹ رپورٹس اور پرانی ہسٹری کو ثانوی حیثیت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک سب سے اہم چیز مریض کی موجودہ ذہنی حالت ہوتی تھی، کیونکہ وہی اس لمحے بیماری کو کنٹرول کر رہی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے کیسز میں اکثر ایک ہی دوا، ایک ہی ڈوز اور طویل انتظار (Wait and Watch) کا اصول نظر آتا ہے۔
تعلیمی میدان میں بھی ڈاکٹر سہگل کا کردار غیر معمولی رہا۔ انہوں نے بے شمار لیکچرز، ورکشاپس اور کلینیکل کیس اسٹڈیز کے ذریعے اس میتھڈ کو پھیلایا۔ ان کے شاگرد آج دنیا کے مختلف ممالک میں پریکٹس کر رہے ہیں اور ROH کو ایک مکمل سسٹم کے طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی تعلیم کا انداز سادہ، منطقی اور براہِ راست کلینک سے جڑا ہوا تھا، اسی لیے ان کی باتیں طلبہ اور معالجین دونوں کے لیے آسانی سے قابلِ فہم بن جاتی تھیں۔
مختصراً، ڈاکٹر ایم ایل سہگل وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہومیوپیتھی کو یہ سکھایا کہ
مریض کیا کہہ رہا ہے، یہ نہیں بلکہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے — یہی اصل کلید ہے۔
ان کا دیا ہوا سہگل مائنڈ میتھڈ آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب مائنڈ کو سمجھ لیا جائے تو دوا خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔
سہگل میتھڈ کے آغاز کا بنیادی اور فیصلہ کن واقعہ ملیریا بخار میں مبتلا بچے کا کیس تھا، اور اسی کیس میں پہلی مرتبہ صرف مائنڈ روبرکس کی بنیاد پر دوا منتخب کی گئی۔
یہ ایک تقریباً دس سالہ بچہ تھا جو شدید ملیریا بخار میں مبتلا تھا، درجہ حرارت بہت زیادہ تھا، جسم شدید کمزور تھا، مگر اس کے باوجود بچہ نہ کوئی شکایت کر رہا تھا، نہ گھبراہٹ ظاہر کر رہا تھا، اور نہ ہی تکلیف کو سنجیدگی سے لے رہا تھا۔ جب اس سے بار بار پوچھا گیا کہ تمہیں کیسا لگ رہا ہے، تو وہ مسلسل ایک ہی جواب دے رہا تھا کہ “I am well”، حالانکہ اس کی حالت واضح طور پر نازک تھی۔ ساتھ ہی وہ خاموشی سے بستر پر لیٹے رہنے کو ترجیح دے رہا تھا، آنکھیں بند رکھتا تھا اور کسی سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہا تھا۔
ڈاکٹر ایم ایل سہگل نے یہاں جسمانی علامات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور صرف بچے کے رویّے، ردِعمل اور الفاظ کو بنیاد بنایا۔ انہوں نے بچے کی ذہنی کیفیت کو درج ذیل انگلش روبرکس میں کنورٹ کیا:
1. INDIFFERENCE, complain does not
یعنی مریض شدید بیماری کے باوجود کوئی شکایت نہیں کر رہا، لاپرواہ ہے، بیماری کو اہمیت نہیں دے رہا۔
2. WELL, says he is, when very sick
یعنی مریض انتہائی بیمار ہونے کے باوجود خود کو ٹھیک کہتا ہے۔
3. BED, desire to remain in
یعنی مریض بستر میں پڑے رہنے کو ترجیح دیتا ہے، حرکت یا بات چیت سے گریز کرتا ہے۔
یہ تینوں روبرکس Present، Predominating اور Persisting تھے، یعنی اسی وقت موجود تھے، بچے کے پورے رویّے پر غالب تھے، اور مسلسل ظاہر ہو رہے تھے۔ انہی روبرکس کی بنیاد پر ڈاکٹر سہگل نے دوا Hyoscyamus منتخب کی۔
دوا دینے کے بعد بخار ٹوٹ گیا، بچے کی حالت تیزی سے بہتر ہوئی، اور بیماری کا وہ سلسلہ جو بار بار لوٹ آتا تھا، وہیں ختم ہو گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ڈاکٹر سہگل پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ اصل بیماری جسم میں نہیں بلکہ مائنڈ کے موجودہ ردِعمل میں ہوتی ہے، اور اگر مائنڈ کی صحیح کیفیت پکڑ لی جائے تو دوا خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔
اسی ایک بچے کے کیس نے ڈاکٹر سہگل کو اس نتیجے تک پہنچایا کہ
علاماتِ جسم کو نہیں بلکہ Mind Signals کو پڑھنا چاہیے
اور
Mind Chapter کو نہیں بلکہ Mind as a Controller کو سمجھنا چاہیے۔
ڈاکٹر دھرمیوگ کے مطابق
ہومیوپیتھک مائنڈ میتھڈ کے مطابق میڈیسن دینے کے بعد مریض کی جرنی دراصل حیاتی قوت (Vital Force) کے بیدار ہونے اور جسم میں دوبارہ توازن قائم ہونے کا نام ہے۔ یہ عمل محض علامات کے دبنے کا نہیں بلکہ جسم، ذہن اور اندرونی نظام کے ہم آہنگ ہونے کا سفر ہوتا ہے، جس کے واضح اور منظم مراحل ہوتے ہیں۔
1. دوا کے دو بنیادی اثرات (Actions)
میڈیسن دینے کے بعد عموماً دو طرح کے ایکشن سامنے آتے ہیں۔ پرائمری ایکشن (Primary Action) دوا کا فوری اثر ہوتا ہے جس میں مریض کو کلینک میں ہی ذہنی سکون، ہلکا پن یا جسمانی کیفیت میں فرق محسوس ہونے لگتا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ دوا اور پوٹینسی درست سمت میں منتخب کی گئی ہیں۔ اس کے بعد سیکنڈری ایکشن (Secondary Action) شروع ہوتا ہے جو دراصل مریض کی حیاتی قوت کا اپنا ردِعمل ہوتا ہے، اس کے دو حصے ہوتے ہیں، پہلا کاؤنٹر ایکشن جسے ایگریویشن کہا جاتا ہے، اور دوسرا کیوریٹو ایکشن یعنی اصل شفائی عمل۔
2. ہومیوپیتھک ایگریویشن اور طاق اعداد کا اصول
شفا کے عمل کے دوران علامات کا عارضی طور پر بڑھ جانا ایک مثبت اور خوش آئند علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس تبدیلی کو عموماً طاق اعداد کے اصول پر پرکھا جاتا ہے، یعنی 3، 5 یا 7 دن یا بعض صورتوں میں گھنٹوں کے اندر کیفیت میں واضح تبدیلی آتی ہے۔ اگر تیسرے، پانچویں یا ساتویں دن علامات میں ابھار آئے تو یہ ہومیوپیتھک ایگریویشن کہلاتا ہے جو اس بات کی نشانی ہے کہ دوا نے حیاتی قوت کو متحرک کر دیا ہے۔ اسی دوران جسم اپنے اندر جمع شدہ زہریلے مادوں کو نزلہ، دست، پسینہ، پیشاب یا جلد پر دانوں کی صورت میں خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔
3. شفاء کی سمت (Hering’s Law of Cure)
درست علاج کی صورت میں بیماری کا سفر ایک خاص سمت اختیار کرتا ہے۔ سب سے پہلے بہتری مرکز سے محیط کی طرف آتی ہے، یعنی ذہنی سکون اور اندرونی اعضاء میں بہتری پیدا ہوتی ہے اور بعد میں بیرونی علامات میں تبدیلی آتی ہے۔ اسی طرح علامات کا رخ اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا ہے، یعنی سر کی علامات پہلے اور ٹانگوں یا پاؤں کی علامات بعد میں۔ اس کے علاوہ ماضی کی وہ علامات جو پہلے دبائی گئی ہوں، دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں، جو اس بات کی واضح دلیل ہوتی ہے کہ دوا بیماری کی جڑ تک پہنچ کر کام کر رہی ہے۔
(Placebo)
جیسے ہی حیاتی قوت کا ردِعمل شروع ہو جائے، مثلاً بخار، دست، نزلہ یا کسی اور صورت میں اخراجی عمل نظر آئے، تو اصل دوا فوراً روک دینا ضروری ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر مریض کو صرف پلاسیبو پر رکھا جاتا ہے تاکہ شفائی عمل بغیر رکاوٹ کے جاری رہے۔ اگر مریض کی نیند بہتر ہو رہی ہو، بھوک بحال ہو رہی ہو اور مزاج میں ٹھہراؤ آ رہا ہو تو صرف جسمانی درد یا پرانی علامات کی موجودگی کی بنیاد پر دوا تبدیل نہیں کرنی چاہیے
ہومیوپیتھک مائنڈ میتھڈ میں میڈیسن دینے کے بعد مریض کی جرنی کا مقصد صرف درد یا علامت ختم کرنا نہیں بلکہ مریض کو ذہنی، جسمانی اور مجموعی طور پر دوبارہ صحت مند اور متوازن بنانا ہوتا ہے، جہاں حیاتی قوت خود شفا کا سفر مکمل کرتی ہے۔
تمثیل: یہ پورا عمل بالکل ایسا ہے جیسے بند انجن کو اسٹارٹ کرنے کے لیے صرف ایک بار چابی گھمائی جاتی ہے، جب انجن یعنی حیاتی قوت اسٹارٹ ہو جائے اور اس میں سے آواز یا دھواں نکلنے لگے تو بار بار چابی گھمانے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ گاڑی کو خود اپنی منزل کی طرف بڑھنے دینا ہی دانشمندی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سہگل کے مطابق
انقلابی ہومیوپیتھی میں دوا کی ڈوز اور اس کے بعد شروع ہونے والا شفایابی کا سفر روایتی ہومیوپیتھک طریقۂ علاج سے بالکل مختلف اور زیادہ منظم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں علاج کا مقصد صرف علامات کا خاتمہ نہیں بلکہ بیماری کے پورے سفر کو الٹ دینا ہوتا ہے۔
دوا کی ڈوز (Potency and Dose):
ڈاکٹر سہگل کے مطابق علاج کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک دوا اور ایک ہی ڈوز دی جائے۔ زیادہ تر کیسز میں دوا کی 30 پوٹینسی کی پہلی خوراک ہی مریض کو شفایابی کے سفر پر ڈالنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔ تاہم وہ کیسز جن میں جسمانی سطح پر بیماری بہت زیادہ بگڑ چکی ہو، وہاں 6 یا اس سے کم پوٹینسی استعمال کرنا زیادہ محفوظ اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اگر پہلی ڈوز واضح طور پر کام کر رہی ہو تو دوا بدلنے یا پوٹینسی بڑھانے میں جلد بازی کے بجائے صبر اور انتظار اختیار کرنا ضروری ہے، کیونکہ غیر ضروری مداخلت شفا کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
بعد کا سفر (The Journey after Medicine):
دوا دینے کے بعد مریض کی کیفیت عام طور پر دو اہم مراحل سے گزرتی ہے۔
پہلا اثر (First Action):
صحیح دوا کے انتخاب کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ مریض ذہنی اور جسمانی طور پر فوری سکون محسوس کرتا ہے۔ اس کی کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے، سوچ میں وضاحت آتی ہے اور وہ خود کو پہلے سے زیادہ متحرک اور ہلکا محسوس کرتا ہے۔ یہ مرحلہ اس بات کی علامت ہے کہ دوا نے حیاتی قوت کو درست سمت میں تحریک دے دی ہے۔
دوسرا اثر (Second Action):
یہ مرحلہ دراصل علامات کی واپسی یا الٹ سفر پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں شفایابی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران پرانی یا دبی ہوئی علامات عارضی طور پر دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ پورا عمل ایک خاص نظم کے تحت طاق دنوں مثلاً 1، 3، 5، 7، 9 یا 11 دنوں کے مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ ان دنوں کے درمیان آنے والے دن کو پیک ڈے (Peak Day) کہا جاتا ہے، جس میں تکلیف وقتی طور پر بڑھ سکتی ہے، مگر یہی وہ نقطہ ہوتا ہے جہاں سے علامات بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
زہریلے مادوں کا اخراج (Elimination of Toxins):
اس شفایابی کے سفر کے دوران جسم اپنے قدرتی راستوں یعنی ناک، منہ، پیشاب، پاخانہ اور جلد کے ذریعے زہریلے مادوں کا اخراج شروع کر دیتا ہے۔ ہر نیا مرحلہ پچھلے مرحلے کے مقابلے میں ہلکا، کم مدت والا اور کم تکلیف دہ ہوتا ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ بیماری پیچھے ہٹ رہی ہے اور جسم صحت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس پورے عمل میں معالج کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مریض کو ذہنی طور پر تیار رکھے تاکہ وہ عارضی تکلیف یا علامات کی واپسی سے گھبرا کر علاج ترک نہ کر دے۔
ڈاکٹر دھرمیوگ کے مطابق
ہومیوپیتھک مائنڈ میتھڈ کے مطابق دوا کی طاقت (Potency) کے انتخاب اور خوراک (Dose) کے تعین میں مریض کی عمر، بیماری کی نوعیت، کیس کی شدت اور سب سے بڑھ کر حیاتی قوت (Vital Force) کے ردِعمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دوا کا مقصد صرف علامات کو دبانا نہیں بلکہ حیاتی قوت کو شفا کے عمل کے لیے متحرک کرنا ہوتا ہے، اسی لیے پوٹینسی اور خوراک میں غیر ضروری تکرار سے گریز نہایت ضروری ہے۔
1. پوٹینسی کا انتخاب (Potency Selection)
مختلف عمر اور کیفیت کے مریضوں کے لیے پوٹینسی کے عمومی اصول درج ذیل ہیں:
بچے (Children): بچوں میں جسمانی علامات زیادہ واضح اور حیاتی قوت زیادہ فعال ہوتی ہے، اسی لیے ان میں عموماً 1M پوٹینسی بہتر اور مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
نوجوان (Young): نوجوان مریضوں میں ذہنی اور جسمانی علامات کا امتزاج پایا جاتا ہے، لہٰذا 200 یا 1M پوٹینسی کا انتخاب کیس کی گہرائی کے مطابق کیا جاتا ہے۔
بزرگ (Old): بڑی عمر کے افراد میں حیاتی قوت نسبتاً کمزور ہوتی ہے، اس لیے علاج کا آغاز عموماً 30 پوٹینسی سے کرنا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
LM پوٹینسی (0/1): سہگل مائنڈ میتھڈ کے مطابق 0/1 (LM1) سے علاج شروع کرنا سب سے نرم، محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے، چاہے بیماری شدید ہو یا دائمی۔ یہ پوٹینسی کم شدت کے ساتھ تیز اور مسلسل اثر دکھاتی ہے۔
2. دوا تیار کرنے اور دینے کا طریقہ (Preparation & Dispensing)
واٹر ڈوز کا طریقہ درج ذیل ہے:
ایک صاف بوتل میں 100ml پانی لے کر اس میں منتخب شدہ دوا کا صرف ایک گلوبیول شامل کیا جاتا ہے۔ استعمال سے پہلے بوتل کو 10 جھٹکے (Strokes) دیے جاتے ہیں۔ اس محلول میں سے 10ml نکال کر دوسرے 100ml تازہ پانی میں ملایا جاتا ہے اور اس میں سے مریض کو صرف 5ml یا ایک چمچ دیا جاتا ہے، باقی محلول ضائع کر دیا جاتا ہے۔
شدید کیفیت میں 30ml کی بوتل میں ایک گلوبیول ڈال کر محلول تیار کیا جا سکتا ہے اور اسے تین برابر حصوں میں تقسیم کر کے تین دن تک استعمال کروایا جا سکتا ہے۔
3. خوراک کب دہرائی جائے؟ (Repetition of Dose)
واحد خوراک (Single Dose): ہومیوپیتھی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی دوا کم سے کم مقدار میں دی جائے۔
انتظار اور مشاہدہ (Wait and Watch): دوا دینے کے بعد مریض کے ردِعمل کا بغور مشاہدہ ضروری ہے۔ اگر بہتری جاری رہے تو دوا دہرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دوا کب بند کریں؟ جیسے ہی حیاتی قوت کا ردِعمل ظاہر ہونا شروع ہو، مثلاً وقتی بگاڑ، بخار، نزلہ، دست یا جلدی علامات، تو دوا فوراً بند کر دی جاتی ہے اور مریض کو صرف Placebo/SL پر رکھا جاتا ہے۔
4. اہم ہدایات
شدید ذہنی امراض یا گہرے ذہنی تناؤ کی صورت میں بعض اوقات اونچی پوٹینسی جیسے 10M کی صرف ایک خوراک بھی کافی ثابت ہوتی ہے، بشرطیکہ کیس اس کا تقاضا کرے۔ اگر دوا سے کوئی واضح اثر ظاہر نہ ہو تو پوٹینسی میں بتدریج اضافہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً 0/1 سے 0/2 پر جانا۔
بعض حالات میں بال کے ذریعے علاج (Hair Transmission) کا طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے، جو خاص طور پر بچوں یا بے ہوش مریضوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ہومیوپیتھک علاج میں ڈوز کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دوا کو پانی میں حل کر کے دیا جائے اور جیسے ہی حیاتی قوت شفا کے عمل میں داخل ہو جائے، دوا روک دی جائے تاکہ قدرتی علاجی عمل میں مداخلت نہ ہو۔
تمثیل: یہ پورا عمل بالکل ایسا ہے جیسے بند انجن کو اسٹارٹ کرنے کے لیے صرف ایک بار چابی گھمانا کافی ہوتا ہے؛ انجن چلنے کے بعد بار بار چابی گھمانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہومیوپیتھک دوا کا کام حیاتی قوت کو صرف آغاز دینا ہے، بار بار دوا دہرانا شفا کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
سب سے پہلا ورژن: جیسے ہی مریض آتا ہے وہ آتے ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کر دیتا ہے۔ بیٹھتے ہی کہتا ہے میرا سر درد ہے، گھٹنے میں درد ہے، مجھے ڈپریشن ہے۔ ہم کہتے ہیں: رکیں، پہلے اپنا نام بتائیں، آرام سے بیٹھیں، عمر بتائیں، پتہ بتائیں، فون نمبر بتائیں۔ پھر ہم آگے بات کرتے ہیں۔ یہاں کون سا روبرک آئے گا؟ Abrupt
دوسرا ورژن: مریض آتا ہے اور کہتا ہے کئی سال ہو گئے مجھے یہ مسئلہ ہے لیکن میں نے کبھی دوا نہیں لی، یا کہتا ہے کہ بہت دن سے مسئلہ تھا لیکن آج تک دوائی نہیں لی۔ ہمارا اگلا سوال ہوتا ہے: آج لینے کیوں آئے؟ مختلف مریض مختلف جواب دیتے ہیں۔ ایک مریض کہتا ہے آج بہت زیادہ بڑھ گئی ہے مسئلہ، آج بہت زیادہ ہو گئی تو سوچا دوائی لینی پڑے گی۔ اس میں پہلی اسٹیج میں مریض بے پروائی دکھاتا ہے — Indifferent to suffering — اور آج جب زیادہ ہو گئی تو خرچ ہونے کا ڈر — Fear of extravagance — یہاں O***M آتی ہے۔
تیسرا ورژن: مریض کہتا ہے کئی سال سے الگ الگ جگہ سے دوائیں لی ہیں، چھ سات سال ہو گئے روز دوا کھاتا ہوں۔ اور آج بھی اس لیے آیا ہوں کہ پچھلی دوائیں فائدہ نہیں دے سکیں۔ یہ ہے Perseverance — مریض بار بار کوشش کرتا ہے چاہے کسی سے ہو، کسی سسٹم سے ہو، لیکن کوشش جاری رہتی ہے۔
چوتھا ورژن: مریض کہتا ہے ڈاکٹر صاحب آج میں بس آپ کے پاس آگیا ہوں آپ نے مجھے ٹھیک کرنا ہے۔ عام لوگ یہ بات اکثر کہتے ہیں۔ یہاں وہ لفظ ’’آپ‘‘ زیادہ استعمال کرتا ہے تو روبرک ہے: Carried desire to be — کہ مجھے آپ ہی ٹھیک کریں۔
پانچواں ورژن: مریض کہتا ہے بڑے دن ہو گئے مجھے بخار ہو رہا ہے، 101 دن ہو گئے۔ گھر میں کبھی اجوائن، کبھی سونف، کبھی تلسی لیتا رہا۔ لیکن اب ایک ہفتہ سے زیادہ ہو گیا تو لگتا ہے دوا لینی پڑے گی۔ پہلے سوچتا تھا گھریلو چیزوں سے ٹھیک ہو جاؤں گا، اب لگتا ہے نہیں، دوا ضروری ہے۔ یہاں روبرک ہے Help calling for — اس میں ایک ہی دوا ہے: PLATINA۔
اگلا ورژن: مریض کہتا ہے یہ میرے سارے ٹیسٹ ہیں دیکھ لیجیے۔ ہم کہتے ہیں ٹیسٹ پرانے ہیں، ایک سال پرانے ہیں، نئے چاہئیں۔ ایک مریض کہتے ہیں: ہاں ڈاکٹر صاحب جو کہیے کروا لوں۔ یہ ہے Light desire۔ دوسرا کہتا ہے: نہیں نہیں میں ٹیسٹ نہیں کرواؤں گا بس دوا دے دیں۔ یہ ہوگا Light shuns۔ تیسرا کہتا ہے: اگر آپ کو لگے ان سے کام چل جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ کروالیں گے۔ یہاں آتا ہے Recognizes reality and accepts — یہ Coccus کا تھیم ہے۔
اگلا ورژن: مریض کہتا ہے مجھے سالوں سے تکلیف ہے، بتائیں میں ٹھیک ہو جاؤں گا؟ ہم کہتے ہیں ہاں۔ وہ کہتا ہے: نہیں ڈاکٹر صاحب پکا بتائیں میں ٹھیک ہو جاؤں گا؟ یہ ہے Light desire for — کہ اس کی خواہش ہے اسے پکا یقین دلایا جائے کہ وہ ٹھیک ہوگا۔
اگلا ورژن: مریض کہتا ہے مجھے کوئی بیماری برداشت نہیں ہوتی، چاہے سر درد ہو، چاہے دست ہوں، چاہے ہلکا بخار ہو — کچھ بھی ہو جائے برداشت نہیں ہوتا۔ ذرا سی تکلیف ہو تو برا حال ہو جاتا ہے۔ یہ ہے Intolerance of complaints / intolerance of ailments — یہاں NUX VOMICA واحد دوا ہے۔
اگلا ورژن: مریض کہتا ہے جتنا بھی وقت لگ جائے آپ مجھے ٹھیک کر دیں۔ یہ پہلے والے ’’carried desire to be‘‘ جیسا ہے مگر یہاں وقت کے لفظ کی وجہ سے روبرک ہوگا: Carried desire to be slow — اور اس میں ایک ہی دوا ہے: PULSATILLA۔
آخری ورژن: مریض کہتا ہے بہت پین ہے، ابھی فوراً دوا دیں تاکہ ابھی کے ابھی آرام آجائے۔ یہاں روبرک ہے: Impatience—cure him at once, یعنی وہ ڈاکٹر سے اصرار کرتا ہے کہ ابھی فوراً ٹھیک کرو۔ اس میں دوا ہے Chamomilla۔ مریض جنہیں فوراً آرام چاہیے، جن کی برداشت ختم ہو جاتی ہے، وہاں CHAMOMILLA کام کرتی ہے۔
آپ کی استفسار "Abundance" (ایبنڈنس) کے متعلق ہے، جو ذرائع میں ایک اہم رُوبرِک کے طور پر زیر بحث آیا ہے، جسے عام طور پر **Delusion Abundance of Everything** (ڈلیوژن ایبنڈنس آف ایوری تھنگ) یا اس سے متعلقہ حالات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر دھرمیگ سر کے لیکچرز میں، **ڈلیوژن ایبنڈنس** کا بنیادی مطلب کسی چیز کی **پرچور مقدار** (abundance) یا **بہت زیادہ** ہونا ہے۔ یہ رُوبرِک مریض کے اس احساس کو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی مسئلہ، تکلیف یا کوئی اور چیز حد سے زیادہ ہو گئی ہے یا کثرت میں موجود ہے۔
# # # کلینیکل اطلاق اور مریض کا ورژن
ڈاکٹرز کو یہ رُوبرِک اس وقت استعمال کرنا چاہیے جب مریض شدت اور کثرت پر زور دے کر بات کرے۔ ذیل میں اس کے اطلاق کے چند کلینیکل پہلو اور مریضوں کی مثالیں دی گئی ہیں:
1. **علامات کی کثرت یا شدت:**
* جب مریض بتاتا ہے کہ اسے **بہت زیادہ** خارش (itching) ہو رہی ہے یا پاگلوں کی طرح خارش کرتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ حد سے زیادہ تکلیف میں ہے، تو یہ **ڈلیوژن ایبنڈنس** ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات مریض خارش کرتے ہوئے خون بھی نکال دیتے ہیں، جو اس کثرت کی تصدیق کرتا ہے۔
* جب مریض یہ کہتا ہے کہ اسے اتنی کمزوری ہے کہ اسے دکھائی بھی نہیں دیتا اور وہ کوئی کام نہیں کر پاتا، تو یہ بھی **ایبنڈنس** کو ظاہر کرتا ہے۔
* ایک مریض نے بتایا کہ اسے ۱۶ دست ہو گئے (loose motions)، یہ کثرت یا زیادہ ہونے کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ دیہاتی زبان میں یہ کہنا کہ "اتنا لیٹنگ ہو رہا ہے کہ تیل نہیں پھوٹ رہا ہے" (مسلسل دست آنا) بھی ایبنڈنس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
* جب مریض یہ بیان کرے کہ اسے **بہت زیادہ** جلن (burning) ہو رہی ہے یا جسم میں بہت زیادہ درد ہے، تو یہ شدید علامات کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔
2. **کام میں عدم صلاحیت (Business Incapacity) کے ساتھ:**
* **ڈلیوژن ایبنڈنس** کو اکثر **بزنس اِن کیپیسٹی** کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جس میں مریض کام کرنا تو چاہتا ہے مگر علامات کی کثرت کی وجہ سے نہیں کر پاتا۔
* مثال کے طور پر، "بہت زیادہ سر درد ہوتا ہے" یا "گیس بہت زیادہ بنتا ہے" جس کی وجہ سے پڑھائی یا کوئی بھی روزمرہ کا کام نہیں ہو پاتا، تو یہاں **ڈلیوژن ایبنڈنس** کے ساتھ **بزنس اِن کیپیسٹی** کا رُوبرِک لیا جاتا ہے۔
3. **دیگر حالات:**
* ایسے مریض جو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اس بیماری کو جڑ سے نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ بیماری کئی مہینوں سے ان کے ساتھ "لگی ہوئی" ہے، یعنی مرض کی پرچور اور مسلسل موجودگی کا احساس ہے۔
* جب کسی مریض میں شرم و حیا (timidity) بہت زیادہ یا "ہائی لیول پر" ہو جائے، تو اس حالت کو بھی **ڈلیوژن ایبنڈنس** میں لیا جا سکتا ہے۔
* بعض اوقات مریض اپنے بال گرنے کی کثرت پر بات کرتے ہیں، جہاں یہ رُوبرِک استعمال کیا گیا۔
# # # ایبنڈنس اور ایکسٹراویگنس میں فرق
ذرائع میں ڈاکٹروں نے **ڈلیوژن ایبنڈنس** اور **ایکسٹراویگنس** (Extravagance) میں فرق واضح کرنے کی درخواست کی تھی:
* **ڈلیوژن ایبنڈنس (Abundance):** اس کا تعلق بنیادی طور پر **مقدار کی کثرت** (copious quantity) سے ہے۔ مریض اپنے مسائل کو "بہت زیادہ" کہہ کر بیان کرتا ہے۔
* **ایکسٹراویگنس (Extravagance):** اس کا مطلب ہے **حد سے تجاوز کرنا**۔ یہ مریض کے غیر معمولی رویے، دکھاوے یا حد سے زیادہ اخراجات کے تناظر میں استعمال ہو سکتا ہے، یعنی معمول سے زیادہ بڑھ جانا۔ اگر بیماری بڑھ گئی ہے اور مریض کو لگتا ہے کہ یہ حد سے زیادہ ہو گئی ہے (جس سے اس کی جان کو خطرہ ہو)، تو وہاں **ایکٹراویگنس** کا لہجہ آ سکتا ہے، جبکہ **ایبنڈنس** زیادہ تر *موجودہ* علامات کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔
# # # متعلقہ دوا
اس رُوبرِک کے تحت متعدد ادویات ہیں، لیکن ذرائع میں **سِلفر** (Sulphur) کا ذکر کثرت سے کیا گیا ہے، خاص طور پر جب یہ رُوبرِک **بزنس اِن کیپیسٹی** یا **ڈلیوژن فائر وِس** (جلن) کے ساتھ استعمال ہو۔ سلفر کا مریض ہی زیادہ تر اپنے مسائل کو اس قدر کثرت اور شدت سے ظاہر کرتا ہے۔
آپ کی ہدایت کے مطابق، ذیل میں اہم **روبَرِکس** (Rubrics) انگریزی میں درج ہیں اور ہر رُوبرک کے نیچے اُس کی تفصیلی وضاحت اور متعلقہ کیسز (Cases) درج ہیں جو ذرائع میں دی گئی گفتگو پر مبنی ہیں:
# # **TOUCH IMPELLED TO TOUCH**
(چُھونے پر مائل ہونا)
یہ رُوبرک اُس وقت لیا جاتا ہے جب مریض اپنے درد کی جگہ کو **ہلکے سے یا بار بار چُھو کر** ڈاکٹر کو تفصیل سے دکھاتا ہے، جیسے "یہاں درد کر رہا ہے"۔ یہ بھی ایک **کمیونیکیٹو** طریقہ ہے مریض کا اپنی تکلیف بیان کرنے کا۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* مریض پیٹ میں ہلکے درد کے ساتھ ساتھ کندھے اور گھٹنے کی طرف اشارہ کر کے بتاتا ہے کہ درد کر رہا ہے۔
* اگر مریض درد کی جگہ کو **زیادہ چُھوئے** اور بڑھا چڑھا کر دکھائے، تو اُسے **EXTRAVAGANCE** (اِنتہا پسندی/زیادہ اِظہار) کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔
---
# # **DELUSION BODY PART DISFORMED / DEFORMED**
(وَہم: جسم کے اَعضاء کا بِگڑ جانا یا بدشکل ہو جانا)
یہ رُوبرک اُس وقت لیا جاتا ہے جب مریض کو یہ احساس ہو کہ اُس کے جسم کا کوئی حصہ خراب، کمزور، یا اپنے **آکار میں نہیں رہا** (یعنی ڈیفارمڈ ہو گیا ہے)۔ یہ صرف سوجن (Swelling) یا پتھری (Stone) کی صورت میں نہیں لیا جاتا جب تک کہ مریض خود نہ کہے کہ عضو خراب ہو گیا ہے۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* **یوٹائن ٹیوُب** یا **فیلوپِین ٹیوُب کا بلاک** ہو جانا یا اُس میں کوئی دِقت آنا۔ (ایسے کیس میں **Aconite** دینے کا مشورہ دیا گیا ہے)۔
* **کان کا پردہ پھٹ جانا**۔
* خون کا **ہیموگلوبن یا پلیٹ لَیٹ کا گر جانا/کم ہو جانا**۔
* ناک کی **ہڈی کا ٹیڑھی ہو جانا**، ناک کے اندر ماس بن جانا، یا آنکھ کا **لَینس یا ریٹِنا خراب** ہو جانا۔
* **شُوگر** کے سبب کِڈنی کا **ڈیمج یا برباد** ہو جانا۔
---
# # **DELUSION WORK HARMFUL**
(وَہم: کام نقصان دہ ہو گا)
یہ رُوبرک اُس وقت لیا جاتا ہے جب مریض کو یہ ڈر ہو کہ کوئی **جسمانی کام (Physical Work)** کرنے سے اُس کو نقصان ہو گا یا اُس کی موجودہ بیماری کی حالت خراب ہو جائے گی۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* مریض نے گھٹنے کے درد میں **کام کر لیا** اور درد بڑھ گیا۔
* ڈاکٹر نے آرام کرنے یا کسی ممنوعہ چیز (جیسے باہر کی چیزیں) کھانے سے منع کیا ہو، لیکن مریض نے **ہدایت کو بیچ میں ہی توڑ دیا** (Interrupt کر دیا) اور اُس کی حالت خراب ہو گئی۔
* کوئی خاتون کہتی ہے کہ جب وہ کوئی **کام کرتی ہے تو اُس کے ہاتھ پیر سُوج جاتے ہیں** یا درد پڑ جاتا ہے۔
* مریض کہے کہ وہ **دھوپ میں کام نہیں کرے گا** کیونکہ ایسا کرنے سے اُسے الرجی ہو جاتی ہے۔
---
# # **ANXIETY DO SOMETHING COMPELLED**
(اِضطراب: کچھ کرنے پر مجبور ہونا)
یہ رُوبرک اُس وقت لیا جاتا ہے جب کوئی شخص **زبردستی یا مجبوری میں** وہ کام کرتا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتا۔ یہ جبرَن ہوتا ہے جبکہ **UNDERTAKE THING OPPOSED TO HER ATTENTION** میں گھبراہٹ ہوتی ہے۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک مریض کمر میں درد کے باوجود کام کرتا ہے کیونکہ **گھر میں وہ اکیلا ہے** اور اُسے پورے پریوار کے لیے کھانا بنانا پڑتا ہے۔
* مریض کہتا ہے کہ اِچھا تو نہیں ہوتی ہے کہ کام کروں لیکن **مَن کو دبا کے** کرنا پڑتا ہے۔
---
# # **SPEECH DELIRIOUS EYES WITH WILD OPEN**
(تقریر باہوشی (ڈِلِیریئس): آنکھیں چوڑی کھول کر)
یہ رُوبرک اُس وقت لیا جاتا ہے جب مریض کی **آنکھیں چوڑی کھلی ہوں (Wild Open)**، اور اُس کی **گفتگو (Speech) اُس کی بیماری سے مَیل نہ کھائے** یا اپنے ٹریک سے اُتر جائے۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* **سورائسِس (Psoriasis)** کا ایک مریض جو بہت زیادہ خارش کی شکایت کر رہا تھا، لیکن اُس کا بتانے کا انداز ایسا تھا کہ وہ اپنی آنکھیں بڑی کر کے دکھا رہا تھا، جیسے وہ ڈرا ہوا ہو۔
* مریض بڑی بڑی آنکھیں کر کے بڑھا چڑھا کر بتائے، جیسے کہے "یہاں سے یہاں تک پھیلا ہوا ہے" یا "آپ تو بولے تھے ٹھیک ہو جائے گا، ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا"۔
* اگر مریض **بات ڈاکٹر سے کر رہا ہو لیکن چہرہ کہیں اور دیکھ رہا ہو** اور آنکھوں کا کانٹیکٹ مِلے نہیں، تو یہ بھی اِس رُوبرک کا اِشارہ ہو سکتا ہے۔
* **ڈِلِیریئس بھاؤ** کا مطلب ہے "اپنے ٹریک سے اُتر جانا" جیسے شراب پینے والا یا گٹکا کھانے والا صحیح سَینٹینس نہیں بول پاتا۔ (یہ رُوبرک **O***m** سے متعلق ہے)۔
---
# # **FEAR PREGNANCY DURING ABORTION IN LATTER PART**
(خوف: حمل کے دوران، آخری حصے میں اسقاط حمل کا ڈر)
یہ رُوبرک اُس خوف کے لیے ہے جب حمل کے دوران کسی بھی **لَیٹَر پارٹ (Later Part)** سے (جیسے یُوٹرس، ناک، یا بواسیر/Piles) سے **بلِیڈِنگ (Bleeding) یا ڈِسچارج** ہو اور حاملہ عورت کو **اَبورشن (Abortion)** کا شدید ڈر ہو۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک حاملہ خاتون (4-5 ماہ) جس کو دانت میں درد تھا، لیکن یُوٹرس سے **تھوڑا تھوڑا بلڈ** آرہا تھا، اور اُسے ڈر تھا کہ کہیں انگریزی دوا لینے یا بیماری کی وجہ سے **اَبورشن نہ ہو جائے**۔
* کوئی پریگننٹ عورت جس کو پیٹ میں بچہ ہوتے ہوئے بھی لِیکوریا یا بلِیڈِنگ چلتی ہے، یا پَین ہوتا ہے، اور وہ **اَبورشن کے ڈر سے** ڈاکٹر کے پاس دوڑ کر آتی ہے۔ (اِس رُوبرک پر **O***m** نے 101 سے زائد کیسز میں کامیابی دی ہے)۔
---
# # **CONFUSION OF MIND INJURY TO HEAD AFTER**
(دماغی اُلجھن: سر پر چوٹ لگنے کے بعد)
یہ رُوبرک اُس صورتحال کے لیے ہے جب **سر پر چوٹ لگنے (Head Injury)** کے بعد مریض کا **دماغی توازن بگڑ جائے**، وہ کنفیوز رہے، یا اُس کی یادداشت چلی جائے۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک شخص کو جھگڑے میں **سر پر لاٹھی سے مار لگا**، اور اُس کے بعد سے اُسے **مِرگی (Epilepsy)** کے دورے پڑنے لگے، اور اُس کا دماغ کام نہیں کرتا تھا۔
* ایک بچہ جو **پیڑ سے گِر گیا** تھا، اور گِرنے کے بعد پاگلوں کی طرح حرکتیں کر رہا تھا، یعنی اُس کا دماغ خراب ہو گیا تھا۔
* کوئی بھی چوٹ جو ماتھے یا سر پر لگی ہو، جس سے مائینڈ کنفیوز ہو جائے یا یادداشت چلی جائے۔ (یہ رُوبرک بھی **O***m** کو ظاہر کرتا ہے)۔
---
# # **DELIRIUM EPILEPSY DURING**
(ڈِلِیریئم: مِرگی کے دورے کے دوران)
یہ رُوبرک اُن مریضوں کے لیے ہے جنھیں **مِرگی (Epilepsy)** کے دورے پڑتے ہیں، اور دورے کے دوران وہ **باہوشی کی حالت (Delirious State)** میں چلے جاتے ہیں، اُنھیں ہوش نہیں رہتا، نہ بولتے ہیں اور نہ حرکت کرتے ہیں۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک شخص جس کو چوٹ لگنے کے بعد مِرگی آئی۔ دورے کے دوران وہ **بے ہوش ہو جاتا ہے**، دانتیں لگ جاتی ہیں، اور منہ سے جھاگ آتی ہے۔
* اِس رُوبرک میں **O***m** اور **Hyoscyamus** دوائیں ہیں۔
---
# # **FRIGHTENED EASILY WITH EYE CLOSING**
(آسانی سے ڈر جانا، آنکھیں بند کر لینا)
یہ رُوبرک اُس اَن کامن سِمٹم کے لیے ہے جہاں مریض یا بچہ **جلدی ڈر جاتا ہے** اور **ڈَر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے**۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* اُوپر مذکور مِرگی کے کیس میں، مریض ڈرتا تھا تو آنکھیں بند کر لیتا تھا۔
* ایک چھوٹے لڑکے کو ڈرایا گیا تو اُس نے آنکھیں بند کر کے ماں کو تھام لیا۔
---
# # **BITING HAND**
(ہاتھ چبانا/کاٹنا)
یہ رُوبرک ایسے بچوں یا مریضوں کے لیے ہے جن میں یہ **اَن کامن عادت** ہو کہ وہ اپنے ہاتھوں یا ہتھیلیوں کو کاٹتے یا چباتے رہتے ہیں۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک بچہ جو بہت زیادہ کھانستا تھا، اُس کی بیماری دوائیوں سے ٹھیک نہیں ہوئی، لیکن اُس کی عادت تھی کہ وہ **اپنے ہاتھوں کو چباتا** رہتا تھا۔
* ایک چھوٹا بچہ جس کا **ہائیڈروسیل** بڑھا ہوا تھا، اور وہ ہمیشہ اپنے ہاتھ کاٹتا رہتا تھا، تو اُسے اِس رُوبرک کے تحت **O***m** دی گئی اور وہ ٹھیک ہو گیا۔
---
# # **BARGAINING**
(سودے بازی)
یہ رُوبرک مریض کے اُس رویے کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ **بدلے میں کچھ دے کر احسان مند ہوتا ہے**، جیسے غریب مریض کا ڈاکٹر کو دُعا دینا تاکہ وہ اپنا فرض ادا کر سکے۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک **عمر رسیدہ اور غریب خاتون** جو ڈاکٹر سے پیسہ نہیں لینے پر کہتی ہے **"جُگ جُگ جِی بابُو"** (جیو، بیٹے/بابو)۔
* یہ رُوبرک **Pulsatilla** سے متعلق ہے۔
---
# # **COMPLAIN NEVER**
(کبھی شکایت نہ کرنا)
یہ رُوبرک ایسے بچوں یا مریضوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو **اپنی بیماری یا تکلیف کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے**، یا شکایت نہیں کرتے۔
# # # متعلقہ کیسز/تفصیل:
* ایک بچہ جو کچھ بتا نہیں رہا تھا کہ اُسے کیا ہوا ہے، صرف کچھ خاص حرکتیں کر رہا تھا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Gujranwala
52080
