Mashfara Sunnat Hai
Always here to give free advice
Motivational Speaker
Life Coach
Trainer
اگر قارون کو بتا دیا جاۓ کہ آپکی جیب میں رکھا ہوا ATM CARDاس کے خزانے کی ان چابیوں سے بہتر ہےجسے اس وقت کے طاقتور ترین انسان بھی اٹھانے سے عاجز تھے تو قارون پر کیا بیتے گی؟؟؟؟
اگر کسری کو بتا دیا جاۓ کہ آپ کے گھر کی بیٹھک میں رکھا ہوا صوفہ اس کے تخت سے کہیں زیادہ آرام دہ ہےتو اس کے دل پر کیا گزرے گی؟؟؟
اور اگر قیصر روم کو بتا دیا جاۓ کہ اس کے غلام شتر مرغ کے پروں سے بنے جن پنکھوں سے اسے ہوا پہنچایا کرتے تھے آپ کے گھر کے پنکھے اور اے سی کے ہزارویں حصے کے برابر بھی نہیں تھے تو اسے کیسا لگے گا؟؟؟
آپ اپنی خوبصورت کار لے کر ہلاکو خان کے سامنے سے فراٹے مارتے ہوۓ گزر جائیں تو کیا اب بھی اسے گھوڑوں پر غرور ہو گا؟؟؟
ہرقل بادشاہ خاص مٹی سے بنی صراحی سے ٹھنڈا پانی لے کر پیتا تھاتو دنیا اس کی آسائش پر حسد کیا کرتی تھی تو اگر آپ اسے اپنے گھر کے ف*ج کا پانی پیش کریں گے تو وہ کیا سوچے گا؟؟؟
جناب آپ بادشاہوں کی سی راحت میں نہیں رہ رہے بلکہ سچ یہ ہے کہ بادشاہ آپ جیسی راحت کا سوچ نھی نہیں سکتے تھے.....
لیکن کیا کریں آپ سے تو جب بھی ملے آپ اپنے نصیب سے نالاں ہی نظر آۓ ہیں...
ایسا کیوں ہے کہ آپ کہ جتنی راحتیں اوت وسعتیں بڑھ رہی ہیں آپ کا سینہ اتنا ہی تنگ ہوتا جا رہا ہے..
پروردگار سے شکوہ کرنے کی بجاۓ شکر ادا کیجیے خالق کی ان نعمتوں کا جن کا شمار بھی نہیں کیا جا سکتا...
والسلام
سحری میں زیادہ پانی پینا آپ کے معدے میں سٹور نہیں ہو گا
یہ خاصیت صرف اونٹ میں ہوتی ہے لہذا پیٹ کو تربیلا ڈیم نہ بنائیں🤗🙏
13/03/2023
ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا:
یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں. جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں.
وزیر نے کہا:
بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے
بادشاہ نے پوچھا:
اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟
وزیر نے کہا:
بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے درہم ڈال کر، صراحی پر لکھیئے اس میں تمہارے لیئے سو درہم ہدیہ ہے،رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیں اور تماشہ دیکھ لیجیئے.
بادشاہ نے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے ہی کیا، صراحی رکھنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا.
دستک سن کر اندر سے خادم نکلا، صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا. درہم گنے تو ننانوے نکلے، جبکہ صراحی پر لکھا سو درہم تھا. خادم نے سوچا: یقینا ایک درہم کہیں باہر گرا ہوگا. خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اوردرہم کی تلاش شروع کر دی.
ان کی ساری رات اسی تلاش میں گزر گئی. خادم کا غصہ اور بے چینی دیکھنے لائق تھی۔ اس نے اپنے بیوی بچوں کوسخت سست بھی کہا کیونکہ وہ درہم تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے.
کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری.
دوسرے دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی.
بادشاہ سمجھ چکا تھا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے.
لوگ ان 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں. اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی
اوروہ ایک نعمت بھی الله کی کسی حکمت کی وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا.
لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں.
حاصل ہو جانے والی ننانوے نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکرگزار بندے بن کر رہیئے.
*جب کبھی خون کے رشتے دل دکھائیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کو یاد کر لینا جن کے بھائیوں نے انھیں کنویں میں پھینک دیا تھا ۔*
*جب کبھی لگے کہ تمھارے والدین تمھارا ساتھ نہیں دے رہے تو ایک بار حضرت ابراھیم ؑ کو ضرور یاد کر لینا جن کے بابا نے انکا ساتھ نہیں دیا بلکہ انکو آگ میں پھنکوانے والوں کا ساتھ دیا.*
*جب کبھی لگے که تمہارا جسم بیماری کی وجہ سے درد میں مبتلا ہے تو ہائے کرنے پہلے صرف ایک بار حضرت ایوبؑ کو یاد کرنا جو تم سے زیادہ بیمار تھے.*
*جب کبھی کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو شکوہ کرنے سے پہلے حضرت یونسؑ کو ضرور یاد کرنا جو مچھلی کے پیٹ میں رہے اور وہ پریشانی تمہاری پریشانیوں سے زیادہ بڑی تھی ۔*
*اگر کبھی جھوٹا الزام لگ جائے یا بهتان لگ جائے ناں ! تو ایک بار اماں عائشہ ؓ کو ضرور یاد کرنا ۔*
*اگر کبھی لگے که اکیلے رہ گۓ ہو تو ایک بار اپنے بابا آدم ؑکو یاد کرنا جن کو اللّٰہ نےاکیلا پیدا کیا تھا اور پھر انکو ساتھی عطا کیا ۔تو تم ناامید نہ ہونا تمہارا بھی کوئی ساتھی ضرور بنے گا ۔*
*اگر کبھی اللّه کے کسی حکم کی سمجھ نہ آرہی ہو تو اس وقت نوح ؑ کو یاد کرنا جنہوں نے بغیر کوئی سوال کیے کشتی بنائی تھی پر اللّه کے حکم کو مانا تھا تو تم بھی ماننا ۔*
*اور اگر کبھی تمھارے اپنے ہی رشتے دار اور دوست تمہارا تمسخر اڑائیں تو نبیوں کے سردار محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو یاد کر لینا ۔*
*تمام نبیوں کو اللّه نے آزمائش میں ڈالا کہ ہم ان کی زندگیوں سے صبر و استقامت ، ہمت وتقوٰی اور ڈٹے رہنے کا سبق حاصل کریں ۔*
*اپنے نبیوں کی زندگیوں کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔ انھیں اپنا آئیڈیل بنائیں۔
"آج میں پانچ منٹ میں ان لوگوں تک ایک سبق پہنچانا چاہتا ہوں۔ جو کسی بھی وجہ زندگی میں رک گئے ہیں۔ ہم سب کی زندگی میں ایسے حادثے ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں گرا دیتے ہیں توڑ دیتے ہیں۔
"ہمیں لگتا ہے۔ ہم برے ہیں, ہم بد قسمت ہیں, تبھی ہم خود سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں. لوگوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ خود کو اپنے کمرے میں, گھر میں قید کر لیتے ہیں۔ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ زندگی جہنم ہو جاتی ہے۔ موت کی طلب بڑھ جاتی ہے۔"
"مگر آج میں ہر ٹوٹے دل, ہارے ہوئے, تھکے ہوئے سے مخاطب ہوں۔ یہ کچھ پوائنٹ اٹھا لو اور آگے بڑھو۔
"سب سے پہلے.
خود کو پہچانو۔ تم کون ہو, تمہارا مقصد کیا ہے۔ اللہ نے تمہیں کیوں بھیجا ہے۔ زمین پر موجود ایک درخت, ایک پہاڑ, ایک کیڑا بھی بوجھ نہیں ہے۔ تو تم بے مقصد نہیں ہو سکتے۔ خود کی تلاش میں نکلو۔ اپنے دل میں جھانکو۔ سجدوں میں ڈھونڈو۔ رات کے تیسرے پہر ہاتھ اٹھاؤ۔ جب تم میں خود کو جاننے کی طلب ہو گی تو اللہ تمہارے دل میں تمہارا مقصد ڈال دے گا۔"
(کسی اور کی طرح بننے کی کوشش مت کرو کیوں کہ وہ پہلے ہی لیا جا چکا ہے)
اور "بی یورسیلف" کا اصول ہے کہ خود کا دوسروں سے موازنہ مت کرو۔ اگر موٹیویشن چاہئیے تو اوپر والوں کو دیکھو اور اگر احساس کم تری ہو رہا ہے۔ تکلیف ہو رہی ہے تو فوراً نیچے والوں سے موازنہ کرو۔ تمہارے پاس گاڑی نہیں ہے تو دیکھو کسی کے پاس سائکل بھی نہیں ہے۔ تمہارے پاس بڑا گھر نہیں ہے توکوئی فٹ پاتھ پر سو رہا ہے۔ تمہارے پاس کھانے کو پزا برگر نہیں ہے کوئی کچرے سے کھا رہا ہے۔ موازنہ کرنا ہی ہے تو ایسے کرو۔"
" ویلیو یورسیلف.
"جب تم خود کو جان جاؤ تو اپنے آپ کو اہمیت دو۔ ویلیو دو۔ خود پر کام کرو۔ خود کو اپ گریڈ کرو۔ نئی سکلز سیکھو فیوچر ڈگری کا نہیں ہنر کا ہے۔ میں کہتا ہوں ہر لڑکا اور لڑکی کو ایک ایسا ہنر ضرور آنا چاہئے کہ جب وہ چاہے اس سے پیسے بنا لے۔ خود کو بہتر سے بہتر بناؤ۔"
"ویلیو دینے کا دوسرا اصول ہے کہ کسی کو بھی اجازت مت دو کہ تم پر انگلی اٹھائے۔ وہ تمہیں تکلیف دے, اپنے گرد ہیلتھی باؤنڈری بنا لو۔ ہر کسی کو یہ باؤنڈری پار مت کرنے دو اور زندگی میں 'نہ' کہنا سیکھو۔ جب کوئی تمہیں تمہاری مرضی کے خلاف یا تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کوئی کام کروانا چاہتا ہو تو اسے نہ کہہ دو۔ (نہ کہنا سیکھیں, کیونکہ دوسروں کو نہ کہہ کر آپ خود کو ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں۔)
" ایکسیپٹ یور سیلف.
"تم جیسے ہو خود کو قبول کرو۔ قد چھوٹا ہے, رنگ کالا ہے, بہت لمبے ہو۔ جو بھی ہے جیسے بھی ہے خود کو قبول کرو لوگ تب ہی تمہیں قبول کریں گے۔ جب تم خود کو قبول نہیں کرتے تو لوگ تمہارا مزاق اڑاتے ہیں۔ تم خود کو آج قبول کر لو۔ اس حد تک قبول کر لو کہ جب کوئی تمہاری کسی کمی کا مزاق اڑائے تو اس اعتماد سے سر اٹھائے بیٹھے رہو کہ اسے لگے اس نے کچھ غلط بول دیا۔"
" فار گو یور سیلف
"ٹھیک ہے تم نے غلط بندہ چن لیا, ٹھیک ہے تم وقت پر صحیح لوگوں کو ٹائم نہیں دے سکے۔ ٹھیک ہے تم میڈیکل میں نہیں جا سکے, ٹھیک ہے تم انجینیئر نہیں بن سکے, ٹھیک ہے تم نے زندگی میں غلط فیصلے لے لیے, ٹھیک ہے تم اچھے لوگوں کو نہیں پہچان سکے۔ اب خود کو معاف کر دو پلیز۔ دوسروں کی معافی کے لیے ضروری ہے کہ تم خود کو معاف کر دو۔ ہر پچھتاوا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ آؤ۔ کوئی تمہیں تمہاری تکلیفوں سے نکالنے نہیں آئے گا مگر تم خود اپنا بازو پکڑ کر خود کو باہر کھینچ لاؤ۔ اپنا مسیحا خود بن جاؤ۔"
" لو یورسیلف.
"لو یور سیلف کا اصول ہے رسپیکٹ یور سیلف۔ کوئی تمہاری تب تک عزت نہیں کرے گا جب تک تم اپنی عزت نہیں کرو گے۔ پیارے دوستوں! خود سے محبت کرو۔ دوسروں کے سامنے گرنا نہیں کھڑا ہونا ہے۔
"اور جب تم خود کو عزت دینا, ویلیو دینا سیکھ جاؤ گے تو تم دوسروں کو بھی یہ سب دے سکو گے اور پھر جب تم زند گی میں کسی مقام پر پہنچ جاؤ تو اپنے سے نیچے والوں کا ہاتھ تھام کر اوپر کھینچ لینا۔"
"مجھے عہد چاہئیے کہ ہم ہار نہیں مانیں گے۔ اپنے لیے لڑیں گے۔ اپنی پہچان بنائیں۔ میں ان لوگوں سے انسپائر نہیں ہوتا جو اپنے والد کا پیسہ شو آف کرتے ہیں۔ اگر تم کچھ ہو تو اپنا کمایا دکھاؤ۔ مجھے بتاؤ تمہارا کیا ہے۔ ہم وکٹم نہیں ہیں ہم فائٹر ہیں, ہم لڑیں گے۔ اپنی تکلیفوں سے، اپنے غموں سے۔"
"پیارے دوستوں! وی آل ول رائز۔ لیکن ضروری ہے کہ خود کو پہچان لو. ہم عام نہیں ہیں۔ کوئی بھی عام نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی پسند کی فیلڈ میں آگے بڑھ آؤ, کچھ کر جاؤ۔ تمہاری پہچان تمہارا خاندان, تمہارے ماں باپ, بہن بھائی نہیں ہیں۔ اپنی پہچان تم خود ہو.مجھے بتاؤ تم کون ہو
"آخر میں اپنے بارے میں کہوں گا میں نے اللہ سے مدد مانگی اس نے مجھے رستہ دکھایا۔ میں نے خود کو پہچانا۔ میں آج یہاں کھڑا ہوں۔ میں نہیں ہوں میں ایک کوشش ہوں۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ لوگ بھی اپنے لیے قدم بڑھائیں گے میں رستہ دکھا سکتا ہوں منزل کا تعین کر کے قدم آپ کو خود بڑھانا ہے۔"
"میں پرفیکٹ نہیں ہوں"
میں اچھا ہوں میں برا ہوں۔
میں, میں ہوں, اور میں خود پر شرمندہ نہیں ہوں۔
ہاں میں, میں ہوں۔
میں میں ہوں۔
تحریر بائے صدام حسین
مناسب لفظوں کا اِنتِخاب"
’’کھالو‘‘ کی جگہ ’’کھالیجئے‘‘،
’’میرا فیصلہ یہ ہے‘‘ کی جگہ ’’میری رائے یہ ہے‘‘،
’’میں یہ کہہ رہا تھا‘‘ کی جگہ ’’میں یہ عرض کررہا تھا‘‘، ”مجھے تم سے کام ہے“ کی جگہ ”مجھے آپ سے کچھ کام ہے“ یا” آپ کو تھوڑی زَحْمت دینی ہے“،
’’اندھے‘‘ کی جگہ” نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ،
’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘،
’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ’’ کیسے تشریف لائے؟‘‘ ،
’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘،
’’آپ غلط کہہ رہے ہیں ‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے ‘‘،
’’آپ میری بات نہیں سمجھے ‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ استعمال کیجئے
اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے۔“
سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا
محترم والدین _____!!!!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ لوگ اس چیز کو لیکر کافی بے چین ہوں گے آپ کا بچہ امتحانات میں بہترین کارکردگی دکھاۓ لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں مستقبل کے آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنہیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنہیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں
ان بچوں میں مستقبل کے ادیب بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لئے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ۔۔۔۔۔
ان بچوں میں سے اتھلیٹیس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے
لہٰذا اگر آپ کا بچہ اگر زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خود اعتمادی اور اسکی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجیے گا
اگر وہ محنت کے باوجود اچھے مارکس نا لا سکیں تو انہیں حوصلہ دیجیے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لئے بنائے گے ہیں
_____________
🍁🍂🍁🍂
Not be able to give a lot of time for outdoor sittings and be with your family more.
And a lot more that we feel the pressure of not having. Its alright, it's just alright. Let it be and just breathe.
For many around us who come under a social pressure to match a lot and put ourselves in deep pressurised thinking.
"Everything will come to you in its due time"
Click here to claim your Sponsored Listing.
