Her Khabar per Nazir
You will be informed every day about what is happening in the world so that you stay informed about e
01/12/2025
CHOri
26/06/2024
13 جولائی سے ساون کا مہینہ شروع ہو رہا ہے
بزرگوں سے سنا ہے کہ ساون میں سوکھی لکڑی بھی زمین میں لگا دی جاۓ تو وہ سبز ہوجاتی ہے یعنی ساون کا مہینہ ہر قسم کے درخت اور قلمیں لگانے کے لیے موزوں ترین وقت ہے لہذا درخت لگانے کی تیاری شروع کر دیں تاکہ بڑھتے ہوۓ درجہ حرارت پر قابو پایا جاسکے درختوں میں نیم کا درخت 55ڈگری تک گرمی اور 10 ڈگری تک سردی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔
ایک بارہ فٹ کا درخت 3 ایئر کنڈیشنر کے برابر ٹهنڈک پیدا کرتا ہیں۔ نیم کا درخت رات کو بھی اکسیجن خارج کرتا ہے
درخت زندگی ہیں
درخت ایک قیمتی سرمایہ ہیں
نیم کہ پودے کی قیمت 50 سے 100 روپے تک ھوگی .اسکے علاوہ بکائن جامن شیشم کچنار پیپل پاپولر پلکن أم امرود وغیرہ کے درخت بھی ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں اول ماحول دوست ہیں
۔۔ درخت لگائیں. زندگیاں بچائیں ۔۔۔
#ڈڈیال #درخت
26/06/2024
نیم کا درخت %55 گرمی اور %10 سردی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔
ایک بارہ فٹ کا درخت 3 ایئر کنڈیشنر کے برابر ٹهنڈك پیدا کرتا ہیں۔
درخت زندگی ہیں۔
اپنے حصے کی شمع جلائیں
درخت لگائیں نسلیں بچائیں
A neem tree has the capacity to absorb 55% heat and 10% coldness. Once a twelve-foot tree produces cooling equivalent to three air conditioners. Trees are life. Trees are valuable assets. The value of a neem plant will range from 50 to 100 rupees. Plant trees. Save lives.
.
26/06/2024
دنیا کی خوفناک ترین ڈکیتی
200 بینٹ = 3083 روپے بل
اور 201 یونٹ - 8154 روپے بل
اضافی 1 پینٹ کے = 5071 روپے
متشکل ادا کرنا ہو گا۔
واپڈا انتظامیہ اور
پاسی سازوں پر
26/06/2024
بجلی کا بل اب فقط بل نہیں رہا بلکہ
با قاعده " ریاستی ڈکیتی"
بن چکا ہے..!!!
بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کے خلاف
ملک گیر ہڑتال 1 یکم جولائی
بجلی کے بلوں میں اضافہ نامنظور
26/06/2024
جب ہری پور میں سڑکیں درختوں میں ایسے چھپی ہوتی تھیں۔ تب پڑھے لکھے لوگ کم تھے۔ موسم سارا سال خوشگوار رہتا تھا۔ پودے زیادہ تعداد میں لگائے جاتے تھے۔ اب تعلیم کا تناسب کئی گنا بڑھ چکا لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اب درختوں کی افزائش اور شجرکاری کو اہمیت کیوں نہیں دیتے۔ گرمی کی اس شدت اور بارشوں کے نہ ہونے کا اندازہ شجر کاری کے نہ ہونے اور درختوں کی بے دریغ کٹائی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے
#شجرکاری
18/01/2023
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بڑی خبر، مصنوعی لبلبہ تیار
ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو اپنا شکار بناتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین اس مرض سے متعلق نئی تحقیق سامنے لاتے ہیں حال ہی میں سامنے آنے والے نتائج نے ٹائپ 2 ذیا بیطس کو بڑی خوشخبری سنادی ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج میں قائم ویلکم۔ ایم آر سی اِنسٹیٹیوٹ آف میٹابولک سائنس کے سائنس دان ایک مصنوعی پتہ بنانے میں کامیاب ہوگئے جو گلوکوز کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ ڈیوائس کیم اے پی ایس ایچ ایکس نامی ایپ (جو سائنس دانوں کی ٹیم کی جانب سے بنائی گئی ہے) کا استعمال کرتے ہوئے جسم میں موجود اضافی گلُوکوز کی نگرانی کرتی ہے۔
نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ آلے کی پہلی آزمائش ٹائپ 2 میں مبتلا افراد (جن کو ڈائیلاسز کی ضرورت نہیں تھی) کی بڑی تعداد پر کی گئی۔
ٹائپ 1 کے مریضوں پر استعمال کیے گئے آلے کے بر عکس یہ نئی ڈیوائس مکمل طور پر بند چکر کے نظام پر مشتمل ہے جس کے سبب انسولین کی مطابقت کے لیے آلے کو بار بار یہ نہیں بتانا پڑتا کہ آپ کچھ کھانے جا رہے ہیں بلکہ یہ ورژن خودبخود یہ معاملات دیکھ لیتا ہے۔
محققین نے کیمبرج یونیورسٹی ہاسپٹلز سے جڑے ایڈنبروک ہاسپٹل سے 26 مریضوں کا انتخاب کیا اور ان مریضوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔
ایک گروپ پر آٹھ ہفتوں تک مصنوعی پتے کو آزمایا گیا اور پھر روایتی طریقہ کار یعنی ایک دن میں متعدد انسولین کے انجیکشن پر ڈال دیا گیا۔ جبکہ دوسرے گروپ کو اس روایتی طریقہ کار سے گزارا گیا جس کو آٹھ ہفتوں بعد مصنوعی پتے سے بدل دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سردیوں میں ہم بیمار کیوں ہوتے ہیں؟ ماہرین نے وجہ ڈھونڈ لی
ٹیم نے مصنوعی پتے کی تاثیر کو دو طریقوں سے جاننے کی کوشش کی، پہلے طریقے میں یہ دیکھا گیا کہ مریض اپنا کتنا وقت متعین کردہ گلوکوز کی مقدار یعنی 3.9 سے 10.0 ملی مول فی لیٹر کےدرمیان سے کم میں گزارتے ہیں۔
اوسطاً، مصنوعی پتہ استعمال کرنے والوں نے اپنا دو تہائی (66 فی صد) وقت اس مقدار سے کم گلوکوز کے ساتھ گزارا جو کہ دوسرے گروپ (جن کی شرح 32 فی صد تھی) کی نسبت دُگنا تھا۔
دوسرے طریقے میں دیکھا گیا کہ مریض اپنا کتنا وقت گلوکوز کی 10.0 ملی مول فی لیٹر سے زیادہ مقدار کے ساتھ گزارتے ہیں۔
اوسطاً روایتی طریقہ کاراستعمال کرنے والوں نے اپنا دو تہائی (67 فی صد) وقت اس مقدار سے زیادہ گلوکوز کے ساتھ گزارا جبکہ مصنوعی پتہ استعمال کرنے والے گروپ نے اس کا نصف یعنی33 فی صد وقت اس مقدار سے کم میں گزارا تھا۔
14/01/2023
دنیا میں اپنی سب سے چھوٹی جسامت کے خرگوش کا نام کولمبیا بیسن پگمی خرگوش ہے لیکن اس کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ میں واشنگٹن کے ایک علاقے میں یہ نسل پائی جاتی ہے اور اس کا وزن زیادہ سے زیادہ 500 گرام تک ہوسکتا ہے۔
اپنی چھوٹی جسامت کی بنا پر ’کولمبیا بیسن بگمی خرگوش‘ ہتھیلی پر سما سکتے ہیں لیکن ان کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اپنی چھوٹی جسامت کے باوجود یہ خرگوش پالےنہیں جاسکتے ہیں اور اپنے قدرتی ماحول میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی بہت معمولی تعداد ہی دنیا میں موجود ہے۔
شرمیلے اوربہت ہی نایاب کولمبیا پگمی خرگوش کے بارے میں سال 2001 میں کہا گیا تھا کہ وہ جنگلی ماحول سے مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں۔ تاہم جانوروں کو بچانے والے ماہرین نے 14 خرگوش اپنے قبضے میں لے کر انہیں ایک ماحول فراہم کیا تاکہ وہ اپنی نسل خیزی کرسکیں۔
لیکن سال 2006 میں ایک خالص نسل کا نرخرگوش مرگیا اور اس کے بعد 2008 میں آخری نر بھی فوت ہوگیا۔ اس کے بعد خالص نسل (نوع) کے خرگوش کا ڈی این اے ایسے ہی قریبی نوع کے خرگوش میں منتقل کیا گیا۔
مشکل یہ ہے کہ کولمبیا بیسن پگمی خرگوش ایک قسم کی نایاب گھاس کھاتا ہے جو صرف موسمِ سرما میں ہی اگتی ہے۔ زراعت نے اس گھاس (سیگ برش) کو تباہ ردیا اور یوں وہ ختم ہونے لگے اور چھوٹے ہونے کی وجہ سے شکار بھی بن گئے۔
تاہم اب بھی ماہرین انہیں بچانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔
دنیا کا سب سے چھوٹا خرگوش جو ہتھیلی میں سما سکتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad
46000
