WaQar un NiSa Writes

WaQar un NiSa Writes

Share

This page is for public awarness. This page is for discussing ideas and thoughts with people .

04/07/2022

خوبصورت انداز میں لکھے گئے خوبصورت الفاظ❤❤

19/06/2022

میں نہیں جانتا بادشا ہ کیسا ہوتا ہے. میرے خیال میں میرے باپ جیسا ہوتا ہے۔. آج مجھے اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان کی طرف سے فادرز ڈے کے موقع پر باپ کی عظمت کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔. ابو جان کے بارے میں جتنا بھی لکھا جائے اتنا کم ہے۔بچپن سے لے کر آج تک ابو جان ہماری خدمت کرتے نہیں تھکے۔ . بچپن میں جب کچی پنسل چھوڑ کر سیاہی والی قلم سے لکھنا شروع کیا تو بہت پر جوش تھی کہ اب میں پنسل سے ہوم ورک نہیں لکھوں گی ۔ ہیرو نامی قلم میری آئیڈیل تھی ،یہ لینے کی زد میں ابو جان کو بہت ساری مارکیٹ گھمائ ۔ ہر رنگ کی خوبصورت ڈیزائن کی قلم مل رہی تھی لیکن میری زد یہی تھی کہ مجھے ہیرو قلم چاہیے اور میرا رورو کر برا حا ل تھا۔ لیکن ابو جان نے میرے کچے دماغ میں بننے والی ہیرو پن کی امیج کو حقیقت میں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی اور آج تک مجھے وہ قلم نہیں مل سکی ۔. اسی طرح بڑی گاڑی (یعنی ٹرک ) کی چھت پر بیٹھنے کی خواہش کی ہو یا پارک گھو منے کی ۔ ابو جان نے ہر خواہش دل وجان سے پوری کی اور فضول زدوں کو بھی پورا کیا۔. بڑی ہوئ تو پڑھائی کے لیے فل سپورٹ کیا ۔ میرے خیالات کوہمیشہ سراہا اور ہر موقع پر سٹینڈ لیا۔.
اسی طرح پڑھائی کے سلسلے میں جب ملک سے باہر جارہی تھی تو ابو پورے معاشرے کے سامنے ڈٹ گئے ،ہر منفی بات کا مقابلہ کیا۔مجھ پر بھروسہ کیا اور اعتماد دیااور ہر طرح کی ذہنی پریشانی سے آزاد کیا۔. . . ابو جان سچے اور کھرے انسان ہیں ۔ ڈسپلن کے پابند اور مذہبی رجحان رکھتے ہیں ۔ ابو جان نے ہمیں ہمیشہ دین سے جڑے رہنے کی تلقین کی ہے۔ ابو جان نے زندگی بھر ہماری اور دوسروں کی خدمت کی ہے ۔
میں نے ابوجان سے power of belief in Allahبہت اچھے انداز سے سیکھا ہے ۔ابو جان نے ہمیشہ ہمیں یہ ہدایت دی ہے کہ ہر معاملے میں will power استعمال کرنی چاہئے اور اللہ پر توکل رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے ۔. میں آج جو کچھ ہوں اللہ کے بعد ابو جی کی وجہ سے ہوں اور میں ابو جان کے احسانات عمر بھر نہیں چکا سکتی اور میں ابو جان کی مشکور ہوں جنہوں نے ہمیں بہترین تعلیم اور تربیت دی اور بیٹی نہیں بیٹے کی طرح پالا پوسا۔. ابو کو ہمیشہ شکوہ ہوتا ہے کہ میں ان کو وقت نہیں دیتی ،ان کو کال نہیں کرتی ۔ میں اپنی غلطیوں کی معافی چاہتی ہوں اور شکایات دور کرنے کی پوری کوشش کروں گی ۔. . . . . . . . اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے ابو کو لمبی اور صحت والی زندگی دے آمین اور ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور ہماری وجہ سے ان کا سر فخر سے بلند ہو آمین ثم آمین (ویسے ابو جان کی شخصیت پر جتنا لکھا جائے اتنا کم ہے ،پھر کبھی انشاء اللہ)

10/06/2022

ہم بحیثیت قوم ایک بے مروت و خودبین قوم ہیں، نہیں معلوم کہ عبرت کے کٹہرے میں ایک شخص کو اتارا جائے یا ایک قوم کو۔۔۔فتوی دیتے ہوئے عقیدت مند افراد پر گفتگو کی جائے یا ایک کف افسوس ملتے معاشرے پر،اسے مرحوم لکھوں کہ جس کا افسوس ہے یا کہ مجرم کہ جس کا سب بڑا جرم معاشرے کا وہ عکس القیاس تھا جو اس کے مذہبی لگائو کی بنیاد پر بنایا گیا،
اسے اس کمرے کی تنہائی کی گھٹن نے مار دیا یا تنگ نظر حد جاری کرتے ہوئے تازیانے ہاتھ میں کیے معاشرے کی گھٹن نے۔۔۔۔
عدالت کو عدلیہ کے پیمانے سے نکال کے معاشرے کے اعلی ظرف معاشرے کے حوالے کر دینا خوب ہے، پیتھالوجی پر تو اسپتال بن گئے مگر معاشرے کی نفسیاتی بیماریوں کیلئے مداوی کب کیا جائے گا،کب معاشرے کے حساس لوگ سوشل میڈیا کے جیل خانوں سے نکل کر معاشرے کی زمام اس طرف موڑیں گے۔۔۔حد پار کرنا جرم ہے مگر تمام معاشرے کے ہاتھوں حد جاری کرنے کا اختیار دے دینا کیا جرم نہیں جس میں بہت بڑا کارنامہ سماجی میڈیا کے مرچ مصالحے اور ریٹنگ کے شوقین افراد ہیں۔۔۔۔
ہم کب سمجھیں گے کہ نفرت جرم یا گناہ سے ہے نہ کہ مجرم کے وجود سے،اس کی زندگی سے۔۔۔۔
گناہ گناہ کا شور کرنا خوب مگر گناہ کی خبر عام کرنا گناہ یہ نہیں بتایا گیا،۔۔۔۔گناہ پر بغیر اختیار فیصلہ کردینا گناہ ہے یہ نہیں بتایا گیا۔۔۔۔
زرا اوائل اسلام پر گفتگو کرنے والے اول اسلام کے ناموروں کے اسلام قبول کرنے کے واقعات اور پھر مشاہیر اسلام خود رسول اللہ ص و اوصیاء کے طرز پر گفتگو کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔

اور" ایک شخص کو فرشتہ بنا کر مار دینا کہاں کا عدل ہے"

26/02/2022

مدینہ روانگی کی صبح مکہ میں تیز بارش ہو رہی تھی ہم نے سنا ایسا کم کم ہوتا ہے اور جب ہم مدینہ کی حدود میں داخل ہونے لگے نعت خواں کی آواز تصور سے حقیقت میں کھینچ لائی 'مدینہ آنے والا ہے' اور ہماری آنکھیں نم۔۔ دل مسرت اور تشکر سے پگھل پگھل رہا تھا بس میں موجود کئی لوگوں کی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں وہ سامنے روزہ مبارک نظر آنے لگا ہے مگر میں نے دور سے نہیں دیکھا مجھ پر ہیبت طاری تھی یا میرا دل یقین کرنے میں لگا تھا کہ یہ سچ ہے مجھے آنا نصیب ہو گیا الحمد للہ (covid کا آغاز ہو چکا تھا بہت سی پابندیاں لگنا شروع ہو گئی تھیں ہر شے غیر یقینی سی ہو رہی تھی یہ وہی دن تھے جب ٹھیک تین دن بعد انٹرنیٹ پر خانہ کعبہ کی خالی تصاویر پوسٹ ہو رہی تھیں کہ یہاں کوئی عبادت کرنے والا نہیں رہا حالانکہ ایسا نہیں تھا الحمد للہ ہر فلور پر طواف جاری رہا ) یا پھر میں مسجد نبوی میں جا کر اسے بہت قریب سے دیکھنا چاہ رہی تھی ۔۔
مدینہ ایسے تھا جیسے اپنا گھر یا شاید اس سے بھی زیادہ۔۔ میں اور حنا وہاں ایسے چلتے بھاگتے پھرتے تھے جیسے کوئی فکر ہی نہ ہو ساری دنیا کی فکریں اس حدود سے باہر رہ گئی تھیں وہاں کے بازاروں کی مہک مجھے اب بھی محسوس ہوتی ہے ریاض الجنہ جاتے ہی دل دھک دھک کرے یہ اتنے دور بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر خطبہ ہوتا ہوگا مرد کتنے خوش قسمت ہیں کتنے پاس سے دیکھتے ہیں یہ پہلو میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کتنے خوش قسمت ہیں یہ ہیں میرے پسندیدہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ 🤍 ۔۔ کیا واقعی آج جمعہ کے دن روزہ رسول سامنے ہے اور ہم درود پیش کر رہے ہیں مکہ اور مدینہ شاید وہ دو واحد جگہیں ہیں جہاں ہم روتے تھے تو چہرہ ہاتھوں میں چھپانا نہیں پڑتا تھا جہاں کوئی خود کلامی کے انداز میں اکیلا بیٹھا دعائیں کر رہا ہو تو کسی کو عجیب نہیں لگتا تھا جہاں کے فرش کی ٹھنڈک سیدھا دل تک جاتی تھی
وہ جذبوں کی کہانی لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی میں صرف اسے محسوس کر سکتی ہوں کچھ الفاظ تحریر کر سکتی ہوں جو اس سے انصاف نہیں کر سکتے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ایمانی شعور کی حالت میں پھر سے بلائیں (آمین) پہلی بار میں بہتتت کمیاں رہ گئی 💔
اور ہر پڑھنے والی آنکھ کو بھی تاکہ یہ محبت آپ بھی محسوس کر سکیں ان شاء اللہ. میری دوست ربیعہ کی وال سے اقتبا س۔

23/02/2022

وہ دور دراز کے پسماندہ علاقے کے سادہ لوح لوگ تھے۔ غلام احمد کی ٹانگ خراب ہوئی تو گاؤں کے حکیم نے کہا ان کو شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جائیں ۔ریسکیو 1122کی مدد سے وہ لوگ شہر میں پہنچے۔ سرجیکل ایمرجنسی میں پہنچے، ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور مریض کی تشویش ناک حالت کے بارے میں بتایا ۔مریض کی فوراً ٹانگ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا کہ اس پروسیجر کے لیے خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ آپ لوگوں کو فوراً خون کا انتظام کرنا پڑے گا۔. غلام احمد کا بڑا بھائی غلام رسول اور بیٹا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ۔شہر ان کے لیے اجنبی تھا اور ہسپتال کی شکل پہلی دفع دیکھی تھی۔. ڈاکٹر نے کہا کہ ایک بندہ خون کا بندوبست کر کے آئے اور ایک مریض کا ٹیسٹ کروا لائے۔ خون کے بندوبست کے لیے ان کے پاس ڈونر ہی نہیں تھا۔وہ کہنے لگے دو یا تین دن تک بندوبست کریں گے۔ مریض کی سریس حالت سے وہ بے خبر تھے ۔. سترسالہ غلام رسول جب اپنے چھو ٹےبھائ کے لیے بلڈ بنک جانے لگا تو ایک ڈاکٹر بھی مدد کی غرض سے اس کے ساتھ چل دیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا ،آپ کے پاس خون دینے کے لیے بندے موجود ہیں؟ غلام رسول نے جواب دیا ڈاکٹر صاحب ایک آپ ہیں اور ایک اللہ کی زات ہے ۔ ڈاکٹر بھی بہت پریشان تھا کہ ڈونر کے بغیر ایک یا دو بوتلیں خون کی بندوبست ہو سکتی لیکن 5 بوتلوں کے لیے تو ڈونر چاہیے۔ غلام رسول بہت پریشان تھا۔ابھی بلڈ بنک سے بات کر ہی ریا تھا کہ ساتھ کھڑے لوگوں نے اس کی پریشانی دیکھی تو تین چار لوگ خون دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ غلام رسول کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غلام رسول نے اللہ کا لاکھ شکر ادا کیا اور ڈاکٹر اس کے اللہ پر بھروسہ کرنے کے انداز سے متاثر ہوا۔ ایک مزدور ان پڑھ انسان کا بھروسہ رب پر کتنا ذیادہ کہ وہ فورا بندے کے گمان پر اترتا ہے اور مان رکھ لیتا ہے۔. دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو اللہ کے ہی بھروسے پر زندگی گزارتے ہیں اور اللہ ہی کے لیے جیتے ہیں ۔

17/02/2022

ایک اچھا ڈاکٹر بننے کے لیے پڑھائی اور پریکٹس جتنی ضروری ہے ، اس کے ساتھ مریضوں کا آپ پر اعتماد کرنا بھی آپ کو اچھا ڈاکٹر بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔. . . . ایک نوجوان ڈاکٹر جب ایم ۔بی۔بی ۔ایس کی ڈگری حاصل کر کہ عملی زندگی میں آتا ہے تو اس کے لیے عملی زندگی ابتداء میں ایک بہت بڑا کڑھا امتحان ہوتی ہے ۔. مریضوں کو ڈیل کیسے کرنا ہے ،ایمرجنسی میں کیا کردار ادا کرنا ہے اور چھوٹے موٹے پروسیجر سب کچھ نیا ہوتا ہے ۔لیکن وہ نوجوان مریضوں کے لیے تو ایک ایسا مسیحا ہوتا ہے ،جیسے اس نے ان کی ساری مشکلات حل کرنی ہیں -. مریضوں کا یہ حوصلہ اور اعتماد ہے جو ایک ینگ ڈاکٹر کو اپنے اوپر پریکٹس کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ بلڈ سمپلنگ کرنی ہو ،ایک جگہ سےخون نہ آرہا ہے ،دوسری جگہ سے خون کے سمپل لینے کی اجازت دیتے ہیں ۔. مریضوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو تو وہ سالوں یاد رکھتے ہیں ۔ایک ڈاکٹر مریض کو بھول جاتا ہے ،لیکن مریض ڈاکٹر کو بھیڑ میں بھی پہچان لیتاہے۔. اکثر مریض شکایت کرتے ان کو کنولا سے تکلیف ہوتی ،انجکشن لگنے کی صورت میں درد اور ذیادہ بڑھ جاتی ۔ ہم۔ان کو وقتی حوصلہ دیتے کہ علاج کے لیے سب ضروری ہے ،خوراک کی نلکی ڈالنی کیوں ضروری ہے۔ ان کو ہر طرح سے اعتماد میں لیتے ،لیکن جب ڈاکٹر خود مریض بنتا ہے یا اس کا کوئی قریبی مریض ہو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ سب آسان نہیں ۔ کسی پر اعتماد کرنا اتنا آسان نہیں جتنا ہمیں لگ رہا ہوتا ہے۔ جب ایک سریس مریض ہوتا ،بڑےکنفیڈ نس سے سب مریض کو دیکھتے ۔ مریض کے لواحقین منتیں کرتے کہ ہمارے مریض کو بچا لو ، یہ ہمارا اکلوتا بیٹا یا بیٹی ہے ۔ہر طرح سے ان کو حوصلہ دیا جاتا ہے کہ اللہ سب ٹھیک کر دے گا لیکن ظاہری آثار زندگی کے نظر نہیں آرہے ۔یہ بھی ان لوگوں کا حوصلہ ہوتا ہےجو یہ الفاظ برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن آپ نے کتنی ہی ایمر جنسیز اکیلے ڈیل کی ہوں، آپ جتنے بھی بہادر ہوں،آپ کا جب قریبی شخص اس حالت میں ہوتا تو ایک اچھے سے اچھا ڈاکٹر کا نپ جاتا ہے ۔. مریضوں کا ڈاکٹر پر اعتماد ہی اچھا ڈاکٹر بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں اپنے تمام مریضوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ، جنہوں نے مجھ جیسی ناچیز پر اعتماد کیا۔اپنے اوپر پریکٹس کرنی کی اجازت دی اور سیکھنے کے لیے موقع دیا۔جزاک اللہ خیرا❤

13/02/2022

بنت ایوب مریم کی کتاب "جہاں دوست" پر مختصر تبصرہ
ڈاکٹر وقار النساء (راولپنڈی)
جب سے عملی زندگی میں قدم رکھا زندگی کی سمجھ نہیں آرہی کدھر بھاگ رہی ہے۔ دن رات کی ٹف ڈیوٹیز اور بیمار مریضوں کے ساتھ زندگی اس روانی سے گزر رہی کہ یاد ہی نہیں رہتا کوئی اور بھی زندگی ہے۔
ایسے میں آپ کو اگر کوئی یاد رکھے، کسی محفل میں دعوت دے تو زندگی میں رنگ بھر جاتا ہے۔
ایک روز اسی طرح اپنی معمول کی روٹین ڈیوٹی پر تھی کہ اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان کے بانی و چیئرمین محترم جناب حفیظ چودھری بھائی کی کال آئی کہ آپ نے 25 دسمبر کو آرٹس کونسل راولپنڈی جانا ہے اور ہماری ایک رائٹر ہے اس نے کتاب لکھی ہے اور اس کی کتاب کو وہاں میڈل ملنا ہے۔ آپ نے ضرور شرکت کرنی ہے۔ حفیظ بھائی کو انکار کرنا مناسب نہیں سمجھا، میں نے کہا اگر ہاسپٹل میں مصروف نہ ہوئی تو ضرور جاؤں گی ان شاءاللہ گی۔
اتفاق سے اس دن میں صبح ہاسپٹل سے فری ہوئی اور آرٹس کونسل پہنچی۔ آرٹس کونسل کے ہال میں بیٹھی ایک لڑکی جو میرا ہی انتظار کر رہی تھی، اس نے مجھے ویلکم کیا، گویا یہ بنت ایوب مریم تھی جو فیصل آباد ایگریکلچر یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہے اور راولپنڈی میں اپنے اعزاز میں سجائی گئی تقریب میں شریک ہے، میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی وجہ سے وقت پر نہیں پہنچی تھی، بنت ایوب مریم میری ساری صورتحال سے واقف تھی کہ اس کے پیچھے کیا ماجرا تھا۔۔۔ بنت ایوب مریم سے مل کر بہت اچھا لگا۔ ان سے بہت باتیں کیں اور بہت کچھ سیکھا۔ اتنی چھوٹی عمر میں اتنا اچھا لکھتی ہیں ماشاء اللہ۔ اانہوں نے مجھے اپنی کتاب گفٹ دی کہ اسے میں نے پڑھنا ہے اور اپنی رائے بھی دینی ہے۔ میں نے حامی بھرلی کہ بوقت فرصت پڑھ کر رائے دوں گی۔
بنت ایوب مریم نے چھوٹی سی عمر میں انسان اور اللہ کے تعلق کو بہت اچھے انداز میں بیان کیا۔ اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں ڈالنے کے لیے ہمیں کیسے اعمال کرنے ہیں، سب بہت اچھے سے بیان کیا۔ آج کل کی نوجوان نسل میں ایسے ہیرے بھی موجود ہیں جو کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور بے شمار تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
اس کتاب کے تین حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں اللہ کی قربت کیسے حاصل کرنی ہے ، اللہ پر یقین کامل ہونا، اللہ سے ہی مانگنا اور اللہ ہی کو اپنا دوست سمجھنا بہت اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ بیان کی گئی ہیں، اور تیسرے حصے میں تزکیہ نفس کو بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے ہماری پیاری بہن بنت ایوب مریم صاحبہ نے۔ بے شک ہم اللہ کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور وہی منزل ہے۔ کتاب کا بہترین تحفہ دینے کے لیے میں بنت ایوب مریم کی مشکور ہوں، آپ کی سوچ اور فکر انداز بہت اچھا لگا اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
میں تمام نوجوانوں کو نصحیت کرتی ہوں کہ وہ اس کتاب سے مستفید ہوں۔ آج کل کی مصروف زندگی میں "جہاں دوست " جیسی کتابوں کا مطالعہ کرنا ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بنت ایوب مریم کو دن بدن اور ترقی دے اور ان کی تحریریں ہمیشہ لوگوں تک پہنچتی رہیں۔ سلامت رہیں پیاری بہنا! ۔آمین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ PS: Sorry for late posting on social media

08/01/2022

شکریہ اسلامک رائٹرز موومنٹ پا کستان ❤

14/08/2021

آج جانے کیوں پرانے دن یاد آرہے ہیں۔ مدنی سکول اور اس سے جڑی یادیں ستا رہی ہیں 😌۔ جب بھی 14 آگست آتا تھا ۔ سکول میں فنکشن ہوتا تھا۔ نئے کپڑے سلواتے تھے ۔ پروگرام کی خوشی کی وجہ سے پوری رات نیند نہیں آتی تھی ۔پروگرام ہمیشہ مدنی سکول کے دوسرے کمپس جو مٹی کا ایک گھر تھا ،اس کے سامنے بڑے گراؤنڈ میں منعقد ہوتا تھا۔ پروگرام کی تیاری ہمیشہ ایک مہینہ پہلے شروع ہو جاتی تھی ۔ اس وقت کی عظیم فی میل ٹیچرز جذبےاور ایمانداری کے ساتھ دن رات ایک کر کہ بچوں کو فنکشن کے لیے تیار کرتی تھی ۔کوئ بچوں کو نعت پڑھنے کی تیاری کرواتی تھی ،کوئ تقریر کی تیاری کرواتی تھی ،ملی نغموں پر ٹیبلو اور لوکل زبان میں ڈرامے کی تیاری بچوں کو کروائی جاتی تھی۔ مدنی سکول یونین کونسل پوٹھہ شریف میں پڑھائی کے لحاظ سے ٹاپ پر تھا۔ مدنی سکول کے فنکشن دیکھنے کے لیے علاقے بھر سے لوگ جمع ہوتے تھے اور بچوں کی حوصلہ آفزائ کرتے تھے ۔ پروگرام میں وطن سے محبت کا اظہار کیا جاتا تھا، علاقائی ثقافت دکھائی جاتی تھی اور سبق آموز باتیں سیکھنے کو ملتی تھی ۔پروگرام کا اختمام ماسٹر ابرار (ابرار چاچو) اور نانا ابو (بابو انور عباسی) کی دلچسپ باتوں پر ہوتا تھا۔ مدنی سکول کی وجہ سے علاقے میں ایک جذبہ نظر آتا تھا۔ اچھا پڑھنے او ر ٹاپ کرنے پر سارے لوگ حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ایسا لگتا تھاسب کے حوصلے بلند ہیں اور سب بچوں کے مستقبل کے لیے پر امید ہیں ۔ پھر رفتہ رفتہ وقت نے کروٹ بدلی، مدنی سکول کو جانے کس کی نظر لگ گئ ۔ ساری رونقیں ختم ہوگئیں اور اب تو نام ونشان بھی ختم ہو چکا ہے 😥. بچپن کی زندگی انسان کی شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ایک پر اعتماد بچہ ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہے ۔ مدنی سکول کی وجہ سے میرے جیسے بہت سارے بچوں کو سیکھنے کے لیے اچھا ماحول ملا۔ جس نے فائدہ اٹھایا وہ اپنی منزل پر بھی پہنچ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں مدنی سکول کے تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جن کی وجہ سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوا اور زندگی کا مقصد ملا۔ آج ہم جو کچھ بھی ہیں اس سکول کی وجہ سے جہاں سے بنیاد شروع ہوئ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم نئ جنریشن کو وہ سب سکھا نہیں پا رہے جو وقت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اب وہ جذبہ رہا ہے ۔ سب کی اپنی راہیں ہیں ۔وہ یونیٹی نہیں رہی جو مدنی سکول کی وجہ سے تھی۔ ۔ ۔ ۔ میری طرف سے سب کو جشن آزادی مبارک اور آج کل کے نوجوانوں سے گزارش ہے زندگی کو کسی مقصد کے لیے گزاریں اور نئ نسل کی اچھی شخصیت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اسی کردار کی وطن عزیز کو ضرورت ہے تبھی ہم مکمل طور پر آزاد ہو سکتے۔ happy independence day to all especially # madnians

19/04/2021

Yameenuddin Ahmed CEO of Time lenders, a father, husband and an amazing human being writes
کچھ عرض والدین سے بھی
یمین الدین احمد
بچوں کے حوالے سے ان کا اپنے والدین کے حقوق پورا کرنے اور احسان کے حوالے سے تو کافی کچھ کہا اور لکھا جاتا ہے اور ان کی اصلاح کے لئے بات بھی کی جاتی ہے۔ میں خود بھی اکثر بچوں کو جو میرے سیشنز میں آتے ہیں، اس حوالے سے سمجھاتا رہتا ہوں۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں والدین کو بھی کافی کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے اور اکثر والدین بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے نابلد ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بس اسکول میں داخل کروادیا اور فیس بھر دی تو ذمہ داری پوری ہوگئی۔ بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی گروتھ کے حوالے سے ہمارے ہاں زیادہ بات نہیں کی جاتی۔ یہ تحریر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور میرے مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہے جو میں نے بیشمار والدین کو کرتے ہوئے پایا ہے۔
عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں بچے کی پیدائش ہوگئی ہے تو ہم والدین بن گئے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے لیکن مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو بحیثیت والدین کے ہمیں یہ ادراک ہونا چاہئے کہ بچے ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک امانت ہیں اور ایک بڑی ذمہ داری ہے جو ہمیں سونپی گئی ہے۔ اور جب آپ کوئی ذمہ داری لیتے ہیں تو اس سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ کے اندر اس کو پورا کرنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی ہونی ضروری ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں بحیثیت والدین کے ہماری تربیت کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ہم بچپن سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں مختلف مضامین پڑھتے ہیں لیکن کبھی ہمیں یہ نہیں پڑھایا جاتا یا بتایا جاتا کہ میاں کل کو تمہاری شادی ہوگی اور شادی کے بعد ازدواجی زندگی کے ڈائنامکس اس سے پہلے کی زندگی سے بہت مختلف ہوتے ہیں تو دیکھو ان کو احسن طریقے سے نبھانے کے لئے یہ حکمت تمہیں سیکھنی پڑے گی! چونکہ ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو ہم اسی طرح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے معاشرے میں عام طور سے دیکھا ہوتا ہے۔
پچھلے اٹھارہ برسوں سے ٹریننگ، کوچنگ اور کاؤنسلنگ کے شعبے میں ہزاروں لوگوں سے ملنے کے بعد اور اس سے بھی پہلے خود کی شادی ہونے اور والدین بننے کے عمل سے گزرنے کے دوران مجھے اس بات کا شدّت سے احساس ہوتا رہا ہے کہ شادی کا انسٹیٹیوشن ہمارے ہاں زندہ تو ہے لیکن اس سے وہ فوائد و ثمرات معاشرے کو نہیں مل رہے جو ملنے چاہئے تھے۔ میں اپنے سیشنز میں اس پر بات کرتا رہتا ہوں لیکن مجھے اس بات کا خیال آیا کہ اس پر اپنے تجربات لکھنے بھی چاہئیں کہ اور والدین کو فائدہ ہو جائے اور وہ لوگ جو یہ غلطیاں کر رہے ہیں وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کر سکیں، ان کو سدھارنے کی کوئی کوشش کریں اور جو مستقبل میں اس مرتبے پر فائز ہونے والے ہیں وہ ان غلطیوں سے بچ جائیں جو بیشمار گھرانوں میں ہو رہی ہیں۔
پچھلے چند برسوں میں میرے پاس کئی شادی شدہ جوڑے اپنے مسائل لے کر آئے ہیں خصوصاً پچھلے ایک برس میں اس حوالے سے کیسز میں خاصا اضافہ دیکھا ہے میں نے۔ والدین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد رجوع کرتی ہے کہ ان کے بچے ان کی بات نہیں مانتے یا یوں کہیں کہ بچوں میں بغاوت کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ اکثر محبت کرنے والے والدین اپنے بچوں کی جذبات سازی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ایسے اشتعال دلانے والے تبصرے کرتے ہیں اپنے بچوں پر کہ ان کے اندر فرسٹریشن جنم لیتی ہے اور ان کی شخصیت تباہ ہو جاتی ہے۔
آپ یقین جانئے کہ میں صدمے میں بیٹھا ہوتا ہوں جب والدین میرے سامنے اپنے بچوں کو شرمندہ کرتے ہیں، ان پر شدّت سے تنقید کرتے ہیں، یا ان پر کوئی الزام لگاتے ہیں، ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ بچہ مایوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ خصوصاً جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کو ایسی باتیں کہنا جو وہ دوسروں کو کبھی نہیں کہیں گے۔ اگر آپ کے بچے آپ کی بات نہیں سنتے، بدتمیز ہیں یا ان کا طرز عمل گھر سے بغاوت جیسا ہے تو پہلے یہ دیکھیں کہ کہیں آپ کے اندر یہ چیزیں تو نہیں پائی جاتیں جن کا اب ذکر کیا جارہا ہے...
*بچوں پر تنقید کرتے رہنا*
کوئی بھی ایسے ماحول میں آگے نہیں بڑھ سکتا جس میں ہر وقت تنقیدی جائزے لئے جاتے رہیں۔ اپنے بچوں پر مستقل تنقید کرنا انھیں ناکامیوں کا احساس دلاتا ہے۔ یاد رکھئے کہ والدین کے الفاظ طاقتور ہوتے ہیں اور نوعمر کی سوچ اور بنتی ہوئی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بار بار تنقید سنتے سنتے بچے اپنی ہی شخصیت سے بیزار ہونے لگ جاتے ہیں، ان کے اندر احساس محرومی جنم لینے لگ جاتا ہے، بہت سے کیسز میں ایسے بچے ایک وقت پر آپ کے ساتھ سختی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ بہت سارے بچے بار بار کی بےجا تنقید سن سن کر خاموش ہو جاتے ہیں، ان کا والدین پر سے بھروسہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے، آگے چل کر ان کو زندگی میں لوگوں کے ساتھ اعتماد اور بھروسے کے مسائل پیش آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بچہ ایک پھول کی طرح بہت نازک ہوتا ہے، اگر آپ پھول کو مسلیں گے تو وہ ختم ہوجاۓ گا بلکل ایسے ہی وقت بے وقت کی تنقید بچے کی شخصیت کو مرجھا دیتی ہے۔ یہ اصول ید رکھیں کہ اپنے بچے کو کبھی بھی ایسا کچھ مت کہیں جو آپ نہیں چاہتے کہ کوئی آپ سے کہے۔ تصور کیجئے کہ آپ کے ہر فیصلے پر تنقید کے نشتر چلاۓ جاتے رہیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟
*بچوں کو سوچنے کی آزادی دینے کے بجاۓ اپنے احکامات کے تابع رکھنا*
جس طرح آپ اپنے معاملات میں سوچنے کی آزادی چاہتے ہیں ایسے ہی بچے بھی سوچنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ بہت سے والدین بچوں کو یہ آزادی نہیں دینا چاہتے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ ہر کام ان کے مشورے کے مطابق کرے۔ وہ کھیل کھیلے جو ہم کہہ رہے ہیں، وہ کتاب پڑھے جو ہم چاہتے ہیں، وہ مضامین چنے جو جو ہم کہہ رہے ہیں، وہ پیشہ اختیار کرے جس کا میں نے کہا ہے، وہاں شادی کرے جہاں ہم چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ آپ کا بچہ ہے یا آپ قیدی بنا کر لائے تھے؟ عام طور پہ والدین اس طرح کے جملے کہتے ہوئے پاۓ جاتے ہیں...
"میں کہہ رہا ہوں نہ تمہیں میڈیکل سائنس لینی چاہئے، تمہیں ڈاکٹر بننا ہے۔"
"لیکن بابا! مجھے میڈیسن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں تو کمپیوٹر سائنس پڑھنا چاہتا ہوں۔"
"ہم نے بچپن سے سوچا ہوا تھا کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے، بس ہم تو تمہیں ڈاکٹر ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔"
"بیٹا یہ اشتیاق احمد کے ناول پڑھنے سے کیا فائدہ، پھینکو یہ ناول اور یہ کتاب پڑھو، فلاں مولانا صاحب کی ہے جو بہت بڑے عالم ہیں۔"
"اس ادارے میں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو لوکل کمپنی ہے!"
"بابا! اس کمپنی کے مالکان بہت اچھے لوگ ہیں، تنخواہ بھی بہت اچھی مل رہی ہے اور یہاں کا ماحول بھی میرے مزاج کے مطابق ہے۔"
"بیوقوف ہو کیا؟ ارے میں کہہ رہا ہوں نا کہ میرا مشورہ مانو، کسی ملٹی نیشنل کمپنی کو جوائن کرو۔"
"تم نے خود لڑکی کیسے پسند کر لی؟؟؟ تمہیں تو ایسی لڑکی سے شادی کرنی چاہئے جیسی میں کہہ رہی ہوں۔"
"امی! آپ ایک بار ان کے گھر جا کر مل تو لیں۔ وہ با حجاب ہے، دین کا فہم رکھتی ہے، ذہین ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہماری اچھی ذہنی ہم آہنگی ہے۔"
"نہیں نہیں! تمہیں نہیں پتا، آج کل لڑکیاں بڑے بہروپ بناتی ہیں تم جیسے لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے۔ بس میں نے کہہ دیا ہے کہ میں تمہاری شادی فلاں گھر میں کرنا چاہتی ہوں۔"
کیا آپ نے اس طرح کے مکالمے سنے ہیں؟ کیا آپ نے مشاہدہ کیا ہے کہ ہمارے گھروں میں ایسا ہو تا ہے؟ لیکن آپ ایسا نہ کریں۔ خصوصاً جب بچہ کسی غلط کام کی بات نہیں کر رہا۔ اسے سوچنے اور کرنے کی آزادی دیجئے، اس کی مدد کیجئے، اس کی ہمّت افزائی کیجئے ورنہ مستقبل میں آپ کو پچھتانا پڑ سکتا ہے۔
"بچہ ہماری خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی مشین نہیں ہے اور آپ اس مشین کے انجنیئر نہیں ہیں کہ اس کے فین بیلٹ کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کستے رہیں۔ بچے کسی چمن میں کھلے ہوئے پھولوں کی مانند ہیں اور آپ اس چمن کے مالی ہیں۔ اور مالی کا کام نشونما کرنا ہے، اس پھول کی خوبصورتی اور خوشبو سے اس چمن کو مہکانا ہے۔"
تو کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟
----جاری ہے----
(آپ اس مضمون کو میرے نام کے ساتھ کاپی کرسکتے ہیں اور آگے شئر کرسکتے ہیں۔)

31/03/2021

❤ The journey is short ❤

An elderly woman got on a bus and sat down. At the next stop, a strong, grumpy young lady climbed up and sat down beside the old woman, hitting her with her numerous bags.

When she saw that the elderly woman remained silent, the young woman asked her why she had not complained when she hit her with her bags?

The elderly woman replied with a Smile: "There is no need to be rude or discuss something so insignificant, as my trip next to you is so short, because I am going to get off at the next stop."

This answer deserves to be written in gold letters: "There is no need to discuss something so insignificant, because our journey together is too short."

Each of us must understand that our time in this world is so short. That darkening it with useless arguments, jealousy, not forgiving others, discontentment and bad attitudes are a ridiculous waste of time and energy.

Did someone break your heart? Stay calm.
The trip is too short.

Did someone betray, intimidate, cheat or humiliate you? Relax. Don't stress.
The trip is too short.

Did someone insult you without reason? Shake it off. Ignore it. The trip is too short.

Did a neighbor make a comment that you didn't like? Take a deep breath. Ignore him/her. Forgive and forget it. The trip is too short.

Whatever problem someone has brought us, remember that our journey together is too short.

No one knows the length of our trip. Nobody knows when it will arrive at its stop. Our trip together is short.

Let us appreciate friends and family.
Let us be respectful, kind and forgiving.
In return, we will be filled with gratitude and joy. After all, our trip together is very short.

Share your smile with everyone.
Our trip is very short...

_ Author Unknown۰ # copied .

07/03/2021

مجھ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے جو جاندار نہیں ہے لیکن سانس لیتی ہے؟
میں عجیب اچھنبے میں پڑ گیا کہ بھلا وہ کیا چیز ہوسکتی ہے جو جاندار نہ ہو لیکن سانس لیتی ہو؟
کافی دیر کے بعد اچانک قران کی یہ آیۃ ذہن میں کوندی:
*"والصبح اذا تنفس"* (تکویر آیۃ 18)
قسم ہے صبح کی جب وہ گہری سانس لے۔
میں نے جواب دیا کہ وہ صبح ہے جو جاندار تو نہیں لیکن سانس لیتی ہے۔
سائل نے تعریف کی لیکن میں الجھ گیا کہ صبح بھلا کیسے سانس لے سکتی ہے؟
تفاسیر وغیرہ کھول کر دیکھیں تو مفسرین نے تنفس کا ترجمہ زندہ ہوجانے سے کیا تھا کہ جیسے سانس لے کر انسان زندہ ہوتا ہے اسی طرح صبح بھی ہر دن زندہ ہوتی ہے کچھ نے صبح کو سانس لینا اور رات کو سانس چھوڑنا تعبیر کیا۔ بعض نے کہا کہ لیل سے مراد اسلام سے پہلے کی تاریکی تھی اور یہاں صبح سے مراد حضور ﷺ کی بعثت کا اجالا ہے۔
کل ایک تفسیر پڑھی تو حیران رہ گیا :
آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو اپنے اندر آکسیجن سمیٹ لیتے ہیں اور جب چھوڑتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں۔
اللہ تعالی نے قران میں صبح کی قسم کھائی اور فرمایا کہ جب وہ *"گہری"* سانس لے۔
عجیب معاملہ ہہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہی سائنس نے *"فوٹوسینتھیسس"* کا عمل ایجاد کیا ہے جس میں درخت ایک غیر حسی طریقے سے ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر سمو کر آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں۔ اور یہ عمل صبح کے وقت سب سے زیادہ عروج پر ہوتا ہے یعنی دنیا میں سب سے زیادہ آکسیجن کی مقدار صبح کے وقت پائی جاتی ہے اور یہی دنیا کی گہری سانس ہوتی ہے۔ یہ عمل بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، دوپہر میں ہلکا ہوتا ہے، شام میں ختم ہوتا ہے اور رات میں الٹا ہوجاتا ہے کہ درخت آکسیجن کی بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرنے لگتے ہیں لیکن پھر اگلی صبح وہی عمل دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔
میں شدید حیران ہوا کہ قران کی ایک چھوٹی سی آیۃ نے سائنس کا اتنا بڑا معمہ سینکڑوں سال پہلے بتا دیا تھا!.... سبحان اللہ
Copied

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Islamabad