Dil Kaa Rasta
Social work
28/3/2026
22/11/2025
Legant Ismael Shahid and Peer Abdul Rasheed Abaseen News chitral
06/11/2025
*دیور بھابھی ایک دوسرے کیلۓ موت ہیں۔*
سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سواری کے انتظار میں ٹیکسی میں ہی منہ پر کپڑا ڈال کے ڈرائیونگ سیٹ پر لیٹا ہے کہ اچانک ایک خاتون درد سے کراہتی ہوئی اسے آکر کہتی ہے کہ مجھے درد زہ کی تکلیف ہورہی ہے کسی قریبی ہسپتال میں لیکر چلو ڈرائیور اسے نزدیکی ہسپتال لے جاتا ہے اور خاتون کو امیرجنسی ایڈمٹ کر لیا جاتا ہے اور چونکہ ڈرائیور اس خاتون کو لیکر آتا ہے لہذا جلدی میں اس ڈرائیور کا نام اور نمبر اس خاتون کے شوہر کے طور پہ لکھ لیا جاتا ہے اور چونکہ جلدی میں وہ خاتون کرایہ نہی دے سکی اسلیۓ ڈرایئور اس خاتون کا انتظار کرتا ہے زیادہ ٹائم گزرنے کے بعد ڈرائیور کو بتایا جاتا ہے کہ خاتون کو ایڈمٹ کرلیا ہے لہذا انہیں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں ڈرائیور یہ سوچ کر واپس چلا جاتا ہے کہ کل پرسوں آکر خاتون سے کرایا لے جاؤنگا اور وہ اپنے گھر چلا جاتا ہے دوسرے وہ گھر میں ہوتا ہے کہ اسکے فون پر کال آتی ہے کہ بھائی آپ اپنی بیوی کو کدھر چھوڑ کر چلے گیۓ ڈرائیور پریشان ہو کر پوچھتا ہے کہ جناب کونسی بیوی کس کی بیوی؟؟
اسے بتایا جاتا ہے کہ کل آپ اپنی بیوی کو ہسپتال ایڈمٹ کروا کے گیۓ ہیں آپکی بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہسپتال پہنچیۓ۔
ڈرائیور ہسپتال پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو میری بیوی ہے ہی نہی جبکہ خاتون کہتی ہے یہی میرا شوہر ہے اور یہ بچہ بھی اسی کا ہے بات طول پکڑتی ہے اور بچے کی ولدیت جاننے کیلۓ معاملہ ڈی این اے تک جا پہنچتا ہے ڈی این اے پہلے خاتون گھبرا کر کہتی ہے ٹھیک مییرا ڈی این اے کرلیجۓ لیکر پہلے بتا دوں کہ کبھی کبھار مشین خراب بھی ہوتی ہے رزلٹ ٹھیک نہی آتا
بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوتا ہے رزلٹ آتا ہے اور خاتون کو ڈاکٹر چھوٹا قرار دیتا ہے خاتون کہتی ہے میں تو پہلے کہا تھا لازمی نہیں کہ مشین کا رزلٹ ٹھیک آۓ یہ سن کر ڈاکٹر غصے میں کہتا ہے اے جھوٹی عورت مشین خراب ہو نہ ہو یہ مشین تو کہہ رہی ہے کہ یہ شخص کبھی باپ ہی نہیں بن سکتا ۔۔۔۔ یہ سن کر ڈرائیور صاحب کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب آپکی مشین واقی خراب ہے کیونکہ میرے تو چھ بچے ہیں یہ سن کر ڈاکٹر پریشان ہوجاتا ہے اور دوسری مشین سے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور رزلٹ سیم پہلے کی طرح آتا ہے
خاتون کو جھوٹا قرار دیکر روانہ کردیا جاتا ہے اور ادھر ڈرائیور سوچ میں پڑجاتا ہے کہ اگر مشین ٹھیک ہے تو میرے گھر میں جو بچے ہیں وہ کس کے ہیں
یہی سوچتے ہوۓ وہ گھر پہنچتا ہے اور بند دروازے کو ٹھوکر مار کے کھولتا ہے بیوی اسے پیار محبت سے پوچھتی ہے سرتاج خیر تو ہے آج کیا ہوا آپ جلدی گھر آگۓ اور غصے میں ہیں کیا ہوا کچھ بتایۓ
ڈرائیور اپنے حواس پر قابو پاکر کہتا ہے مجھ سے جھوٹ نہیں بولنا مجھے سب کچھ پتہ چل گیا ہے لہذا جھوٹ مت بولنا سچ سچ بتانا ورنہ میں تمہیں مار دونگا یا طلاق دیدونگا
ڈرائیور اسے سارا قصہ بتاتا ہے اور کہتا ہے اب سچ سچ بتاؤ یہ جو چھ بچے ہیں کس کے ہیں
بیوی کہتی ہے آپنے جو کہا وہ سچ ہے یہ بچے واقعی آپکے نہیں ہیں ڈرائیور پوچھتا ہے پھر کس کے ہیں بیوی کہتی ہے اس گھر میں آپکا بھائی بھی تو رہتا ہے اپ رات میں ٹیکسی چلاتے ہیں اور رات میں آپکا بھائی گھر میں ٹیکسی چلاتا ہے مطلب جب آپ باہر ٹیکسی چلاتے گھر آپکا بھائی گاڑی چلاتا ہے مجھے پتہ چل گیا تھا کہ آپ باپ نہیں بن سکتے اسلیۓ غصہ ہونیکی ضرورت نہیں یہ بچے آپکے بھائی کے ہی ہیں ڈرائیور انڈیا کے شہر بھوپال سے تعلق رکھتا تھا سمجھدار تھا اسلیۓ اسنے فورا بیوی بچوں کی ٹکٹ کروائی اور انڈیا پہنچ کر اسنے بیوی کو طلاق دیدی اور بیوی کو کہا چونکہ بچے میرے نہیں ہیں اسلیۓ تجھے طلاق دیتا ہوں بچے میرے بھائی کے ہیں عدت گزار کر میرے بھائی سے شادی کرلو۔۔
اب یہاں ہمارے نبی آخر زماں آقاۓ دوجہاں کی کہی ہوئی چودہ سو سال پہلے کی بات یاد آگئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک صحابیہ رض نے سوال کیا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم کیا اسلام میں بھابھی دیور سے بھی بھی پردہ کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے فرمایا کہ "ہاں دیور بھابھی تو اکیلے میں ایک دوسرے کیلۓ موت ہیں"۔۔ چونکہ ہمارے جیسے غریب معاشروں میں جہاں فیملی سسٹم رائج ہے اس چیز سے حتی الامکان بچنا چاہۓ۔۔۔ اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔۔ آمین
01/09/2025
مارکیٹ سے 75 روپے کم قیمت پر لیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Islamabad
25000
