Bhai chara

Bhai chara

Share

health related videos

13/09/2023

‏وہ رَب کبھی مکمل طور پر آزمائش میں مُبتلا نہیں کرتا کہیں نہ کہیں کوئی دَروازہ کُھلا ضرور رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
جہاں سے رَحمت ٹھنڈی ہوا کے جُھونکوں کی طرح آ کر دِل کو پُرسکون کرتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
کوئی نہ کوئی آسانی تو مشکل کے ساتھ موجود رہتی ہے ....

08/07/2023

🌹السلام عليكم🌹ایمان بخیر زندگی🌹

😢😢18 ذوالحج یوم شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ آج کا دن مسلمانوں کے لئے ایک بہت ہی غمناک اور ایسے المیہ کا دن ہے کہ جس سے مسلمانوں کو ایسا نقصان ہوا جو قیامت تک پورا نہیں ہو سکتا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی وجہ سے مسلمان تفرقوں میں بٹ گئے۔ آج ہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کے چند واقعات اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں😢😢

📖❤️⁩🌹خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى الله عنها حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہ رضى الله عنها کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى الله عنها کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا ۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعۃ المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عثمان کوشہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اول اور سب سے عظیم سازش تھی ، یہ سازش جو عبد اللہ بن سبا سمیت متعدد منافقین کی سعی کا نتیجہ تھی درحقیقت صرف حضرت عثمان کے خلاف نہ تھی بلکہ اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی اور آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن کہ مسلمان تفرقہ اور انتشار میں ایسے گرفتار ہوئے کہ نکل نہ سکے۔یہ وہ بات تھی جس کی خبر حضرت عثمان نے ان الفاظ میں دی تھی کہ بخدا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گئے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے۔آپ کی شہادت پر مدینہ میں کہرام مچ گیا ۔حضرت سعید بن زید نے ارشاد فرمایا لوگو واجب ہے کہ اس بد اعمالی پر کوہ احد پھٹے اور تم پر گرے ،حضرت انس نے فرمایا حضرت عثمان جب تک زندہ تھے اللہ کی تلوار نیام میں تھی ،اس شہادت کے بعد یہ تلوار نیام سے نکلے گی اور قیامت تک کھلی رہے گی، حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا اگر حضرت عثمان کے خون کا مطالبہ بھی نہ کیا جاتا تو لوگوں پر آسمان سے پتھر برستے، حضرت علی کو جیسے ہی شہادت عثمان کی خبر ملی آپ نے فرمایا اے اللہ میں تیرے حضور خون عثمان سے بریت کا اظہار کرتا ہوں اور حافظ ابن کثیر﷫ نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت علی حضرت عثمان کے پاس جا کر ان پر گر پڑے اور رونے لگےحتیٰ کے لوگوں نے خیال کیا کہ آپ بھی ان سے جاملیں گئے۔علامہ ذہبی ﷫نے حضرت عثمان کے کمالات وخدمات کاذکران الفاظ میں کیاہے ‘ابوعمرعثمان ،ذوالنورین تھے ۔ان سے فرشتوں کو حیا آتی تھی۔ انھوں نے ساری امت کواختلافات میں بڑجانے کے بعدایک قرآن پرجمع کردیا۔وہ بالکل سچے ،کھرے ،عابدشب زندہ داراورصائم النہارتھے اوراللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ کرنے والے تھے،اوران لوگوں میں سے تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شہادت حضرت عثمان ‘‘میاں شیر محمد کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں خلیفۂ ثالث سید نا عثمان بن عفان کی مختصر سوانح ، عادت وخصال ، فضائل ومناقب اور کارناموں کا ذکر کر نےکےبعد ان کی الم ناک شہادت کا ذکر کیا ہے۔اور آپ کے قتل کرنے میں شامل افراد کےالگ الگ انجام کو بھی بیان کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ قدرت نے اعدائے دین ، اعدائے صحابہ اوراعدائے سید نا عثمان سے نہایت شدید انتقام لیا۔سبائی پارٹی کے ایک ایک فرد کو عبرت ناک سزا دی خود عبد اللہ بن سبا اشق الاشقیاء جس نے دین کی تخریب،تفریق میں بین المسلمین اور حضرت عثمان کی خونریزی وخو ن آشامی کایہ سارا پروگرام بنایا تھا نہایت بری طرح آگ میں جل بھون کر واصل جہنم ہوا۔ اس کی پارٹی کاایک ایک منبر اور حضرت عثمان کا ایک ایک دشمن پاگل ہوکر ذلت کی موت مرا۔🦋

🍀طالب دعا شوکت علی🍀

اے ہمارے پروردگار 🤲
ہم سب کو اپنی خاص حفاظت میں پناہ میں خاص رحم و کرم میں جگہ عطا فرما،
ہر طرح کے دکھ درد تکلیف ظاہری و باطنی بیماریوں سے محظوظ فرما، جو لوگ بظاہر یا چھپ کر ہم کو اندرونی بیرونی طور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تکلیف میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں ان کے شر سے ہمیشہ کے لئے ہمیں محفوظ فرما، اے رب کریم ہم سب کو ہر طرح کے مرض سے قرض سے محفوظ فرما دکھ درد بیماری لا چاری دشمنی و حاسدین منافقین سے حفاظت فرما، یا رب ذولجلال ہماری تمام خطائیں معاف فرما دے اور ہمارے دلوں کو اور ہماری روحوں کو سکون نصیب فرما بیشک تو غالب حکمت والا اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا مہربان ہے آمین یا رب العالمین

Photos from Bhai chara's post 04/07/2023

زیرنظر کتاب انقلابی لیڈر چی گویرا کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ چی گویرا،ارجنٹینا کے انقلابی لیڈر تھے۔ وہ 14 مئی 1928 ءکو ارجنٹائن میں پیدا ہوئے۔ اپنی نوجوانی سے ہی وہ کتب بینی کے شوقین تھے، ان کے گھر میں تین ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل ذخیرہ تھا۔
چی بنیادی طور پر میڈیکل کے طالب علم تھے، تعلیمی کیرئیر کے دوران ہی ان میں سیاحت کا شوق پیدا ہوا اور 1950ءسے 1953ءتک انہوں نے تین بار سارے جنوبی امریکہ کی سیاحت کی۔ تینوں بار انہوں نے متعد ممالک کے سفر کیے جن میں چلی ، پیرو ، ایکواڈور ، کولمبیا ، وینزویلا ، پانامہ ، برازیل ، بولیویا اور کیوبا شامل ہیں۔ان سفروں پر کئی کتابیںاور خود ان کی یاداشتیں شائع ہو چکی ہیں۔ان سفروں کے دوران چی کے مشاہدے میں جہاں بے پناہ اضافہ ہوا، وہیں جب وہ دیہات اور چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے گزرے تو وہاں کے رہنے والے باشندوں کی حالت زار، غربت اور بھوک اور بیماریوں نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ وہ غریبوں کے لیے بہت حساس دل رکھتے تھے اوراس مشاہدے سے اس نتیجے پر پہنچے کہ تقریباً تمام جنوبی امریکہ اس وقت کٹھ پتلی حکمرانوں کے زیر تسلط ہے، اور ان کی آڑ میں سرمایہ داری نظام یہاں جڑ پکڑ رہا ہے جس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکہ ہے۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ دونوں یعنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا سرپرست امریکہ کبھی بھی غریبوں کے دوست نہیں ہوسکتے اور ان کی تسلط سے اس خطے کو آزاد کرانے کے لیے انہیں اپنی تعلیم چھوڑ کر انقلابی راہ اپنانا پڑے گی۔
چی گویرا نے لاطینی امریکہ میں انقلابات کی قیادت کی۔ اسی بنیاد پر تیسری دنیا کے ممالک میں اُن کو ایک ہیرو کے طور پر جانا اور مانا گیا۔ وہ دنیا میں طبقاتی نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی ایک لازوال شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بولیویا میں سوشلسٹ انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ امریکی سی آئی اے نے اُن کو جسمانی طور پر تو ختم کردیا لیکن اُن کا نظریہ اور جدوجہد دنیا کے محکوم لوگوں کے لیے ایک امید بن کر ہمیشہ کے لیے ہوگئے۔ آج بھی چی گویرا، دنیا میں ایک مقبول ترین شخصیت کے طور پر اپنی حیثیت اور مقام رکھتے ہیں۔

19/05/2023

صَــلَّــی اللّٰـهُ عَـلَـیْـہِ وَاٰلِــہ وَسَــــلَّم۔
درود شریف کا ورد کثرت سے کریں

19/05/2023
17/05/2023

ہماری اور یورپ کی انسانیت میں فرق :
یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔
عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کے لئے آتی ہے اور خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اس کا کیس کافی خراب لگ رہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کر دیا جائے۔
ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔
نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اس کے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے۔۔100 فیصد ڈاکٹر مافیا جن کو لوگ مسیحا سمجھتے ہیں اصل میں قصائی ہے اگر کسی کو شک ہے تو ان کے درمیان وقت گزاریں سب پتہ لگ جائیں گا کے صحت کا شعبہ پاکستان کے بڑے مافیاز میں سے ایک بن گیا ہے،جہاں مریض،انسانیت،دین ،اخلاقیات ،نہیں صرف کاروبار ہوتا ہے۔۔۔۔

16/05/2023

ا

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے
سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے
کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے
(سورۃ الْأَنْعَام، 6: 17)

♣️⁩⁦⁦⁦♦️⁩♣️⁩⁦«««««««🇦 🇸 🇦 🇩»»»»»»»♣️⁩⁦♦️⁩⁦♣️⁩⁦

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Hause No J 182 J Area Korangi No 5 Karachi
Karachi
00000