Faisal rana

Faisal rana

Share

PAKISATN PATRIOTIC YOUTH🇵🇰

Photos from Faisal rana's post 04/01/2026

تیل کے سب سے زیادہ (303 بلین ڈالر) ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا کے صدر اور ان کی بیوی کو امریکہ نے حملے کے چند گھنٹوں کے بعد آسانی سے پکڑ لیا، وجہ کمزور فوج اور مضبوط دفاعی نظام کا نہ ہونا تھی۔

دنیا میں تیل کے تیسرے بڑے (209 بلین ڈالر) ذخائر رکھنے والے ایران، امیر کبیر قطر اور لبنان پر اسرائیل اور امریکہ نے بغیر کسی ڈر و خوف کے حملے کیے، ان کے اہم ریاستی مہمانوں سمیت سائنسدانوں، جرنیلوں اور قیادت کو شہید کیا اور اب ایران میں بغاوت کی آگ لگا دی ہے، جبکہ یہ ممالک دولت کے امبار ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس مضبوط فوج اور دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔

موجودہ دور میں دولت سے زیادہ مضبوط دفاع ضروری ہو چکا ہے۔ اب تو ممالک کے درمیان معاشی معاہدے بھی دفاعی حکمت عملی کے پس منظر میں کیے جاتے ہیں۔

ہم پاکستانی اللہ کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ رب کریم نے پیارے پاکستان کو ایک مضبوط فوج عطا فرمائی ہے اور مضبوط دفاعی نظام سے نوازا ہے۔

آج دنیا کے ایک مشکل حصے میں ہونے کے باوجود اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان اپنے مضبوط فوج اور دفاعی نظام سے ہر طرح کے اندرونی و بیرونی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا کر دشمن کو ہر مخاذ پر عبرت ناک شکست دے رہا ہے۔

ہم پاکستانی قوم اللہ کریم کے شکر گزار ہیں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان زندہ باد🇵🇰

14/10/2025

میری خاموشی کو میری کمزوری نہ سمجھنا اور نہ کبھی خود کو میری پہنچ سے باہر سمجھنا تیرے دودھ پینے سے لے کر سگرٹ پینے تک کا ریکارڈ ہے میرے پاس اسلیے بات اُتنی کرو کہ بعد میں مشکل نہ ہو تمہیں آٸ ایس آٸ زندہ باد پاکستان پاٸندہ باد
Isi Markhor
ISI

05/10/2025
02/10/2025

جنرل عاصم منیر کون ہے ؟؟؟
وہ ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر چکا ہے وہ پاکستان کی سب سے بڑی تھرٹی کور کو کمانڈ کر چکا ہے وہ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ جنرل تک تیس سال گزار چکا ہے وہ برگیڈئیر کے ایک ستارے سے لیکر لیفٹیننٹ جنرل کے تین ستاروں تک آگیا ہے وہ اب کالر پر چار ستارے لگاۓ دنیا کی نویں بڑی فوج کا سربراہ ہے اسکو روزانہ کی بنیاد پر اسکا ایجوٹنٹ جنرل اور ڈی جی آئی ایس آئی درجنوں رپورٹس دیتے ہیں وہ روز اتنے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کارگل کی افغانستان کی جنگ میں خدمات دے چکا ہے وہ پاکستان کی بڑی کور انفنٹری کا تگڑا جرنیل ہے وہ پاکستانی تھنک ٹینک کا حصہ ہے وہ پالیسیز میکرز ٹیم کا حصہ ہے وہ ایک لفظ بولنے سے قبل دس بار سوچتا ہوگا اسکی تقریر پہلے دس جگہوں پر دیکھی جاتی ہوگی اسکے سیکریٹری ایجوٹنٹ جنرل آئی ایس پی آر GHQ کے جرنیل سب اِسکے مشورے سے چلتے ہیں وہ ایسی پالیسیز بناتے ہیں دنیا کہتی ہے GHQ کے جرنیلوں کی ہمیں سمجھ نہیں آ سکی وہ اثاثے ایسے رکھتے ہیں کہ پوری دنیا کی انٹیلیجنس ایجنسیز اربوں ڈالر جھونک کر نہیں ڈھونڈ پائی انکی پالیسیز کی دنیا معترف ہے اور پھر ہم اُسکو بتائیں گے کہ آپ نے روسی فلاں کام کیوں کیا واہ سبحان اللّہ گلی محلوں میں چلتے پھرتے جنگ سے نا واقف جذباتی قسم کے دانشورو جنہوں نے ملکی دفاع کے لیے زندگیاں گزار دی ہیں وہ بہت بہتر سمجھتے ہیں کس وقت کیا کرنا ہے اور کیسا بیان دینا ہے۔ تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں جو بھی ٹویٹر فیسبک پہ پاکستانی دفاعی اداروں کو برا بولتے تھکتے نہیں آپ پہلے اپنے گریبان کے اندر دیکھو تم نے اِس ملک کے لیے کیا ایسا کردیا ہے جو تمہارے اندر کا کیڑا تم کو سکون نہیں لینے دے رہا تم جیسے لوگ پاکستان پہ بوجھ ہیں اپنے دماغ اپنے دل اپنے ہاتھوں کو پاکستان کی بہتری کی طرف لگاٶ تاکہ تم پاکستان پہ بوجھ نہ بن سکو
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد

13/08/2025

بائیس گولیاں سینے پر کھا کر پینتیس دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے والا شہید کیپٹن عبداللہ ،اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں آپ پر نازل فرمائے جنت فردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آپ دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
وقت ا چکا ہے کہ ملک کے خلاف ہر غلط سوچ رکھنے والا ہر انتشاری ہر فسادی کو ریاست کو چاہیے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ماؤں کے بیٹے اس ریاست کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ۔ جو بھی اس ملک کی فوج پر تنقید کرتا ہے الزام لگاتا ہے وہ 💯 پرسنٹ ملک کا غدار ہے

06/08/2025

پاک فوج کو کسی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی سیاستدان کسی بھی سیاسی ورکر کسی عالمٍ دین کسی مولوی کسی ذاکر کسی پادری کسی پنڈت کسی بھی مزہب سے تعلق رکھنے والے سے کوٸ مثلا نہیں مگر جب پاکستان پاکستان کی فوج کہ خلاف زہر اُگلیں گے گالم گلوچ غلط پوسٹ کرینگے تو پھر اسکے ذمدار آپ خود ہونگے پھر اسکا حساب آپکو ہر صورت دینا پڑے گا چاہے آپ کتنی بڑی توپ کیوں نہ ہوں پھر جلدی یا دیر سے پاک فوج آپ سے حساب لے گی ملک دشمنوں کا ایجنڈا کسی صورت معاف نہیں کیا جاے گا پاکستان زندہ باد پاک فوج پاٸندہ باد

15/07/2025

1: ہڈیوں کی تعداد: 206
2: پٹھوں کی تعداد: 639
3: گردے کی تعداد: 2
4: دودھ کے دانتوں کی تعداد: 20
5: پسلیوں کی تعداد: 24 (12 جوڑے)
6: دل کے چیمبرز کی تعداد: 4
7: سب سے بڑی شریان: شہ رگ
8: نارمل بلڈ پریشر: 120/80 ایم ایم ایچ جی

9: خون کا پی ایچ: 7.4
10: ریڑھ کی ہڈی میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 33
11: گردن میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 7
12: درمیانی کان میں ہڈیوں کی تعداد: 6
13: چہرے پر ہڈیوں کی تعداد: 14
14: کھوپڑی میں ہڈیوں کی تعداد: 22
15: سینے میں ہڈیوں کی تعداد: 25
16: بازو میں ہڈیوں کی تعداد: 6
17: انسانی بازو میں پٹھوں کی تعداد: 72
19: قدیم ترین رکن: چمڑا
20: سب سے بڑی خوراک: جگر
21: سب سے بڑا خلیہ: مادہ بیضہ
22: سب سے چھوٹا خلیہ: سپرم سیل
23: سب سے چھوٹی ہڈی: درمیانی کان کی رکاب
24: پہلا ٹرانسپلانٹ شدہ عضو: ایک گردہ
25: پتلی آنت کی اوسط لمبائی: 7 میٹر
26: بڑی آنت کی اوسط لمبائی: 1.5 میٹر
27: نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن: 3 کلوگرام
28: ایک منٹ میں دل کی دھڑکن: 72 بار
29: جسمانی درجہ حرارت: 37 °C
30: خون کا اوسط حجم: 4 سے 5 لیٹر
31: خون کے سرخ خلیوں کی عمر: 120 دن
32: سفید خون کے خلیات کی عمر: 10 سے 15 دن
33: حمل کی مدت: 280 دن (40 ہفتے)
34: انسانی پاؤں کی ہڈیوں کی تعداد: 33
35: ہر کلائی میں ہڈیوں کی تعداد: 8
36: ہاتھ کی ہڈیوں کی تعداد: 27
37: سب سے بڑا اینڈوکرائن غدود: تھائرائڈ گلینڈ
38: سب سے بڑا لمفیٹک عضو: تللی
40: سب سے بڑی اور مضبوط ہڈی: فیمر
41: سب سے چھوٹا پٹھوں: سٹیپیڈیئس (درمیانی کان)
41: کروموسوم نمبر: 46 (23 جوڑے)
42: نوزائیدہ بچے کی ہڈیوں کی تعداد: 306
43: خون کی واسکاسیٹی: 4.5 سے 5.5 تک
44: یونیورسل ڈونر بلڈ گروپ: O نیگٹیو
45: یونیورسل ریسیور بلڈ گروپ: AB
46: سب سے بڑا leukocyte: monocyte
47: سب سے چھوٹی leukocyte: lymphocyte
48: خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں اضافے کو پولی گلوبولی کہتے ہیں۔
49: جسم کا بلڈ بینک ہے: تللی
50: زندگی کے دریا کو خون کہا جاتا ہے۔
51: عام خون میں کولیسٹرول کی سطح: 100 ملی گرام/ڈی ایل
52: خون کا مائع حصہ ہے: پلازما
تُو پاک ہے، اے رب، تو کتنا عظیم ہے۔
(اللہ نے سب کچھ کامل بنایا)

14/07/2025

پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جاری فراڈ
ایک نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشئر تھا۔ اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘
وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ہر روز ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا۔ وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا۔۔۔
یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے،
آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘
یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا۔
اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک اسٹیٹمنٹس دکھائیں۔ اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا...
منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘ اس نے قہقہہ لگایا اور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا،
’’یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا۔"
یہودی تاجر ناراض ہوگیا‘ اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا ۔
’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘ میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘ وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا،
یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا‘ اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا.
یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔
اس فراڈ کا تعلق پیسے کے سکے سے جڑا ہے۔
پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی۔
اس کرنسی میں چھ سکے تھے‘
ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا
اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘ پیسے کے سکے کو پائی کہا جاتا تھا،
اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے اور 64 پیسوں کے برابر ہوتا تھا۔
یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘
1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں عشاریہ نظام نافذ کر دیا۔
جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا۔
جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی۔ اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے. یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے۔
لیکن بعد ازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے۔
یہاں تک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے اور ہم نے پچھلے تیس برس سے ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا۔ کیوں...؟
کیونکہ اسٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کررہا لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے۔ حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے تو اس میں روپوں کے ساتھ ساتھ پیسے ضرور شامل ہوتے ہیں مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا۔
جس کے بعد پٹرول کی قیمت 266 روپے 13 پیسے‘
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 273 روپے 65 پیسے
اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 269 روپے 94 پیسے ہوگئی۔
اب سوال یہ ہے کہ ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں ہے۔لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائےگا تو کیا پمپ کا کیشیر اسے 87 پیسے واپس کرے گا...؟ نہیں وہ بالکل نہیں کرے گا
چنانچہ اسے لازماً 62 کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے...
یہ زیادتی کیوں ہے..؟ اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘
پاکستان میں روزانہ 3 لاکھ 20 ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے،
آپ اگر اسے لیٹرز میں کیلکولیٹ کریں تو یہ 5 کروڑ 8 لاکھ 80 ہزار لیٹرز بنتا ہے، آپ اندازاہ کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں ہر لیٹر پر87 پیسےاڑاتی ہیں تو یہ کتنی رقم بنے گی...؟
یہ 4 کروڑ 42 لاکھ 65 ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں جناب...
یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پٹرول نہیں ڈلواتے‘ کچھ لوگ ڈیزل، مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں اور زیادہ تر لوگ 5 سے 40 لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں اور بڑی حد تک یہ پیسے, روپوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پیسوں کی ہیراپھیری موجود رہتی ہے،
مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘ وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘ مہینوں کو برسوں اور برسوں کو 30 سال سے ضرب دے تو یہ اربوں روپے بن جائیں گے۔۔
گویا ہماری سرکاری مشینری 30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے اور حکومت کو معلوم تک نہیں.
ہم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا...
یہ بھی ہوسکتا ہےکہ اس کرپشن کا والیم ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہو
لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ
جب اسٹیٹ بینک پیسے کا سکہ جاری ہی نہیں کررہا تو
حکومت کرنسی کو سکوں میں کیوں ماپ رہی ہے اور ہم
’’راؤنڈ فگر‘‘ میں قیمتوں کا تعین کیوں کرتے ہیں...؟
ہم 62 روپے 13 پیسوں کو62 روپے کر دیں یا پھر پورے 63 روپے کر دیں تا کہ حکومت اور صارفین دونوں کو سہولت ہو جائے۔
حکومت اگر ایسا نہیں کر رہی تو پھر اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی ہیرا پھیری ضرور موجود ہے کیونکہ ہماری حکومتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری ظالم بےحس، کرپٹ بیوروکریسی کوئی ایسی غلطی نہیں دہراتی، جس میں اسے کوئی فائدہ نہ ہو۔
منقول

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Non
Karachi
75850