Good Life
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Good Life, Health/Beauty, Allah Wali, Karachi.
اپنی بیوی کے ساتھ oral s*x (اعضائے تناسل کو چومنا، چاٹنا یا اسکے ساتھ دوسری حرکات کرنا) کا کیا حکم ہے؟ (انتہائی معذرت کے ساتھ)
بعض لوگ قرآنِ پاک کی آیت "نساءکم حرث الکم فاءتوبھا" اس کے جواز میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں آگاہ کریں؟
جواب: ﷽
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ(223)
"تمھاری بیویاں تمھاری فصل ہیں۔ پس جسطرح تمھارا جی چاہے اپنی فصل میں تصرف کرو۔"
مطلب یہ کہ جس طرف سے تمھارا جی چاہتا ہے اسی طرف سے آؤ جیسے آگے کی طرف سے، پہلو سے، نیچھے سے یا اوپر کی طرف سے ف*ج میں جنسی مقاربت کر سکتے ہیں۔ (جگہ ایک ہی ہوگا یعنی فُرج لیکن کیفیت مختلف ہو سکتی ہے جیسے نیچے سے، اوپر سے، پہلو وغیرہ سے آنا) لیکن پیچھے دبر میں ج**ع کرنا حرام اور ایسے شخص پر لعنت برستی ہے۔
ج**ع سے پہلے بیوی کے ساتھ ج**ع کی باتیں (رفث)، چھونا اور بوسے لینا بعض علماء کے نزدیک مستحب اور بعض کے ہاں مباح ہیں۔ تاکہ بیوی بھی ج**ع کرنے کیلئے تیار ہو جائے اور اسکا حق ضائع نہ ہو جائے۔
عورت کی فُرج (شرمگاہ) کو چومنے، چاٹنے وغیرہ کے متعلق فقہائے کرام کے نظریات درج زیل ہیں:
شیخ صالح اللحیدان (رئیس القضاء الشرعی و عضو ھیئۃ کبار علماء عربستان) اس بارے میں فرماتے ہیں:
1۔ یہ عمل جانوروں کے ساتھ مشابہ ہے۔ بعض جانوروں میں یہ عادت پائی جاتی ہیں کہ مادہ کی شرمگاہ کو زبان سے چاٹتے ہیں۔ ہم اشرف المخلوقات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حیوانوں پر برتری اور شرف عطا فرمایا ہے۔
2۔ مزی (شرم گاہ کی نجاستیں) حرام اور ناپاک ہیں۔ تو کس طرح یہ حلال ہو جاتا ہے ایک حرام اور ناپاک چیز کو چاٹتے ہوئے؟
3۔ ساری بھلائی خیرالقرون ائماء اور سلف الصالحین میں ہیں۔ خیرالقرون میں اس عمل کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ائماء اور سلف الصالحین نے نبی کریمﷺ کی سیرت پر عمل کیا ہیں اور سیرت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔(یعنی سیرت میں تو اسکا بالکل ثبوت نہیں ہے لیکن ائماء کے دور میں بھی اسکا کوئی ثبوت نہیں)
4۔ اصل میں یہ عمل مغرب کے فسادی معاشرے کی تقلید ہے جو ٹی وی، فلم، کیبل اور انٹرنیٹ کے زریعے سے لوگوں تک پہنچی ہے۔ اور یہ جب ان لوگوں کے فاسد اعمال دیکھیں تو ان میں بھی اس کام کی خواہش پیدا جاتی ہیں۔
جید عالمِ دین ابن جبرین لکھتے ہیں کہ:
یہ عمل مکروہ ہے اسلیئے کہ یہ ادب، اخلاق اور فطرتِ سلیمہ کے خلاف ہے۔
اس بارے میں بعض طبی ماہرین نے ریسرچ کے بعد یہ بات ثابت کی ہیں کہ اس عمل میں بہت سے صحت کیلئے مضر اثرات موجود ہیں۔ منہ
کا شرمگاہ سے تعلق کے نتیجے میں امراض اور وائرسز کے انتقال کا سبب بنتا ہے۔ جیسے herpes اور HPV وائرس جو بلاخر منہ کے کینسر کا سبب بنتا ہے۔
15/11/2024
شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی فضیلت
حدیث پاک میں زبان اور شرمگاہ کوحرام اور ممنوع کاموں سے بچانے پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ” جو شخص میرے لیے اس چیز کا ضامن ہو جائے جو اس کے جبڑوں کے درمیان میں ہے یعنی زبان کا اور اس کا جو اس کے
دونوں پاؤں کے درمیان میں ہے یعنی شرمگاہ کا، میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔
شرمگاہ کی شہوت کا علمی اور عملی علاج
یادر ہے کہ شرمگاہ کی شہوت کو پورا کرنا انسانی فطرت کا تقاضا اور بے شمار فوائد حاصل ہونے کا ذریعہ ہے، اگر اس تقاضے کو شریعت کے بتائے ہوئے جائز طریقے سے پورا کیا جائے تو یہ دنیا میں بہت بڑی نعمت اور آخرت میں ثواب حاصل ہونے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر اسے ناجائز و حرام ذرائع سے پورا کیا جائے تو یہ دنیا میں بہت بڑی آفت اور قیامت کے دن جہنم کے درد ناک عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب ہے، لہذا جو شخص اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ اگر کسی عورت سے شرعی نکاح کر سکتا ہے تو نکاح کرلے تا کہ اسے اپنے لئے جائز ذریعہ مل جائے اور اگر وہ شرعی نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر روزے رکھ کر اپنے نفس کو مغلوب کرنے کی کوشش کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ان تمام اسباب اور محرکات سے بچنے کی بھی بھر پور کوشش کرے جن کی وجہ سے نفس کی اس خواہش میں اضافہ ہوتا ہے، نیز ناجائز و حرام ذریعے سے اس خواہش کو پورا کرنے پر قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جن سزاؤں اور عذابات کا ذکر
کیا گیا ہے ان کا بغور مطالعہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے نفس کی حفاظت کے لئے خوب دعائیں کرے۔اللہ پاک ہم سب پراپنا خاص فضل وکرم کرےاورحرام کاموں سےبچائےآمین یارب العالمین
15/11/2024
بغل اور پیشاب و پاخانے کی جگہ کے بالوں کی صفائی کے متعلق
ہفتہ میں ایک بار ان حصّوں کے بالوں کی صفائی کرنی چاہیئے اور سب سے بہتر دن جمعہ کا ہے۔
ان بالوں کی صفائی میں 15 دن تک تاخیر جائز ہے اور 40 دن گزرنا گناہ ہے۔
بغل اور شرم گاہ کے بال کترانا فطری کاموں میں شامل ہیں۔ اور اسلام نے اسکی بہت تاکید کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
"یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرت میں سے ہیں:
1۔ ختنہ 2۔ زیر ناف بال صاف کرنا 3۔ مونچوں کا کاٹنا 4۔ ناخن کاٹنا 5۔ بغل کے بالوں کی صفائی"
نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ ہر ہفتے بالوں کی صفائی کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہے کہ "رسول اللہ ﷺ مونچوں کے کم کرنے، ناخن، بغل اور شرمگاہ کے بالوں کی صفائی کے 40 دن مقرر کئے ہیں کہ انکو اس سے زیادہ نہیں چھوڑنے۔"
بغل کے بالوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے۔ اسطرح کرنے سے بغل سے بدبو نہیں آئے گی اور اچھی طرح صفائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو تو پھر کاٹا جائے۔ (آج کل نوچنے کیلئے برقی مشین ملتی ہے جس سے نوچنا بہت آسان ہوتا ہے)
مرد کیلئے زیر ناف بال استرے یا بلیڈ سے صاف کرنا بہتر ہے۔ مونڈھتے وقت ابتدا ناف کے نیچھے سے کرے اور پاؤڈر کریم وغیرہ کوئی بال صفا چیز لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے اور عورت کیلئے سنت یہ ہے کہ کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے بال ختم کرے، استرہ نہ لگائے۔
زیر ناف صفائی کی حدود:
زیر ناف کی صفائی کی حد مثانہ سے نیچے پیڑو کی ہڈی سے شروع ہوتی ہے، اسلیئے پیڑو کی ہڈی کے شروع سے لے کر مخصوص اعضا، انکے اردگر اور انکے برابر رانوں کے جوڑ تک اور پاخانہ خارج ہونے کی جگہ کے بال صاف کرنا واجب ہے۔
14/11/2024
13/11/2024
13/11/2024
پیار محبت اور نرمی کا رویہ
دولہا کو شبِ عروسی میں دولہن کےساتھ بڑےپیارومحبت اور نرم مزاجی کا رویہ اپنانا چاہئے اور جنسی تسکین کیلئے جلد بازی سے کام نہیں لینا چا ہے جنسی عمل سے پہلے دولہا دولہن کےساتھ پیارمحبت کی میٹھی میٹھی باتیں کرےاس کےساتھ پیارکرےاپنی محبت کا اظہار کرےشبِ عروسی میں دولہن کےساتھ بہت نرمی کابرتاؤ کرنا چاہیےاسے پیار بھری باتوں سے مسحور کرنا چاہئے اور محبت سے لبریزبوسوں کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کے حساس حصوں کوبہت نرمی سے سہلانا چاہیے بعض مرد شب عروسی میں ہی تشددپراُتر آتے ہیں وہ بیوی کو حکم دیتے ہیں کہ فوری کپڑے اتاردواگر وہ مزاحمت کرے تو زبردستی اسکے کپڑے اتار نے لگتے ہیں اس قسم کی وحشیانہ حرکتوں سے عورت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں عورت کےدل میں مردکیلئے نفرت پیداہوجاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ مرد آہستہ آہستہ پیارومحبت کےساتھ یہ فعل سر انجام دے اورساتھ ساتھ عورت کوبھی ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرتا رہے اور جنسی عمل میں قطعی جلد بازی سے کام نہ لے کیونکہ کنواری لڑکی کو بہت خوف سا ہوتا ہے ایک مرد کو اپنے ساتھ عریاں دیکھ کر عورت بہت گھبرا جاتی ہے اور سخت پریشان ہوتی ہے مرد کویہ یادرکھنا چاہیےاس کاکام عورت کوایک بالکل نئے تجربے کیلئے تیار کرنا ہے اس لئے مرد کو آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے قدم اٹھانا چاہے مرد یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی کو کسی نے ہاتھ نہ لگایاہو اور اس کے باوجود یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ عورت جنسی معاملات میں تجربہ کار ہو گی اور اس معاملے میں شرم وجھجک سے کام لےگی عورت کی اس شرم وجھجک کوپیارومحبت سےدورکرنااب مردکی زمہ داری ہے
دلہن کی اجنبیت دور کرنا
سہاگ رات شوہر کیلئے جو پہلا کام ہے وہ دلہن کی اجنبیت کودور کرناہے اوردلہن کو یہ احساس دلانا ہے کہ جس گھر میں دلہن بن کر آئی ہےاب یہ اس کا گھر ہے اور اس گھر کے تمام افراد اس کےلیےفیملی ممبرہیں آج سے اس کی زندگی کے ایک نئےدورکاآغازہورہا
ہے جس میں اس نے والدین کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہناہےاوراُسےوالدین کی جدائی برداشت کرناہو گی۔
12/11/2024
12/11/2024
اگر بیوی ہمبستری کیلئے راضی نہ ہو تو شوہر کیا کرے
اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی بیوی کے ساتھ
ز بردستی ہمبستری کریں، اگر بیوی ہمبستری کے لئے راضی نہ ہوتو اسے پیار سے پوچھا جائے کہ اسے کوئی پرابلم تو نہیں یا
کس وجہ سے وہ انکار کررہی ہے، اگر بالفرض آپ اس کے ساتھ زبردستی ہمبستری کربھی لیتے ہیں تو اگراُسکا کوئی نقصان ہوجائے تواُسکا کون ذمہ دار ہوگا ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ "اگر شوہر
اپنی بیوی کو ج**ع کیلئے بلائے اور بیوی آگے سے انکار کردے اورشوہراُسی حالت میں سُو جائےتواللہ تعالیٰ اورفرشتےساری رات اُس عورت پرلعنت بھیجتےہیں"
توبہتر یہی ہےکہ اس کی وجہ پوچھی جائے اور اگر وہ کسی وجہ سے ناراض ہے تو اس کی نا راضگی دور کی جائے۔
12/11/2024
12/11/2024
بیوی سے ہمبستری کرنا صدقہ ہے (مسلم شریف)
اس حدیث پاک سے دین اسلام کی عظمت و رحمت ظاہر ہوتی ہے کہ جب یہ کام مرد کسی عورت سے نا جائز طریقے سے کرتا ہے تو وہ گناہ ا کبر ہوتا ہے لیکن جب مرد یہ ہی کام ایک پاکیزہ بندھن میں بندھ کے کرتا ہے تو صدقہ وعبادت بن جاتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارا مذہب اسلام ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
75000
