jannat KY rahi
کیف اخاف من الفقر وانا عبد الغنی
08/06/2024
لَأن تكون عندي شعرة منه ﷺ
أحبُّ إليَّ مِن الدُّنيا وما فيها.
میرے پاس سید عالمﷺ کا ایک بال مبارک ہو
مجھے یہ دنیا و مافیھا سے زیادہ پسند ھے.
05/06/2024
جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے ، جیسے باپ کو ہمارے مسائل ، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں ، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا- کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں ،
" اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی ، بچت کی ہوتی ،کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی ...فلاں کی طرح عالیشان گھر ، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے "
" کہاں ہو ؟ کب آؤ گے ؟ زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں .
" سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے " انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں .
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر ، گاڑی، پلاٹ ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں " ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھےاسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے "
اس میں شک نہیں ، اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ،اسلئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے ، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے ، جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے .
بہت سی اولادیں ، وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ، ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں .
وقت گزر جاتا ہے ، اچھا بھی برا بھی ، اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے. جوانی، پڑھائی، نوکری شادی ،اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار ، جو نبھاتے ہوئے ، ہر لمحہ ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ ،احساس ،فکر ، پریشانی ، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے .
باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے ، اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے ، پرانوں کو فخر سے پہننا ، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر ، کبھی کبھی سر جھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بجھا کر لیٹ جانا، نظریں جھکائے ، انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد، جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر ، دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں .
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں ، پوچھ ہی لیں "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟ "
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چھو تی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے ، وہ " کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی "
جوان اولاد کے مستقبل ، شادیوں کی فکر ، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ ، تھک ہار کر اللّه اور اسکی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے ، تب یاد آتا ہے ، ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ،ایک ایک آیت پر رک رک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا .
ہر نماز کے بعد ،اٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے ، ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو ، نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا .
سر شام کبھی کبھی ، کمرے کی بتی بجھا کر ، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا ؟
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے ، اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے ، اس کی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں . یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے . لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں .
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں باپ کا چھونا پیار کرنا ، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں . باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ، پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ، ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ؟ پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہوں گے ، اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا .
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا ، ہر تمنا ، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے .
لیکن کم ہی باپ ہوں گے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں . یہ ایک چھپا ، میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ،اولاد کے لئے ، بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش ، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے ، اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم باپ بنتے ہیں . بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں . تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے .
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے، وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔
Copied
*57 اسلامی ممالک مل کر فlسtین کے ایک بچے کو ایک فیڈر دودھ نہ پہنچا سکے قیامت کے دن کیا منہ دیکھائیں گے 😭*
01/06/2024
چھٹیوں کے فیس کا مسئلہ
#چھٹیاں
01/06/2024
آرٹسٹ جارج ماکو کی پینٹنگ "یروشلم" (1932)
مدرسہ نور سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ گبول گوٹھ گلشن معمار کراچی
*بچوں کو سُست بنانے میں والدین کا کردار*
اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا‘ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے‘
پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ اس کا کہنا تھا ’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں‘ یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں‘ ان کے کپڑے دھوتی ہیں‘ استری کرتی ہیں‘ بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں‘ لنچ باکس تیار کرکے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں اور واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔
بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چناں چہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگادیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو‘ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔
ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں چناں چہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی‘ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا؟‘‘۔
*تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے*
آبکی دعاؤں کا طلبگار *آصف اقبال* تاج ماڈل اسکول*
*سـٓـــلام یا اخـٓـــتی‼️🫡*
آج ایک عرب خاتون نے سعودی عرب کی سپر مارکیٹ میں بت فروخت کیے جارہے تھے اس خاتون نے سنت ابراہیمی کو دوبارہ زندہ کر دیا میں سلام پیش کرتا ہوں اپنی بہن کو ۔۔
30/05/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.

31/05/2024