Muhammad Asif
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Asif, Health/Beauty, Karachi.
*کمال کی عقلمندی* ♥️
ایک قاضی صاحب نے دوسری شادی کرلی مگر اس بات کا انکی پہلی بیوی کو علم نہ تھا مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم خاندان سے تھیں اور ان کی حمایت میں پورا خاندان نکل پڑتا تھا بیگم اخر بیگم ہوتی ہے اسے شک پڑ گیا کہ قاضی صاحب کے انداز اور تیور کچھ بدلے ہوئے ہیں قاضی صاحب نے ہر ممکن یقین دلانے کی کوشش کی مگر بیگم کے دل سے شک کا بال نہ نکلا آخر ایک بار جب لڑائی عروج پر پہنچ گئی تو بیگم بولی ابھی قرآن پر حلف اٹھائیں کہ آپکی میرے علاؤہ کوئی بیوی نہیں ۔۔اب قاضی صاحب بری طرح پھنس گئے بیگم نے جب دیکھا کہ قاضی صاحب حلف نہیں اٹھا رہے تو انکا شک یقین میں بدل گیا۔ قاضی صاحب موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے آسی وقت گھر سے باہر نکل گئے۔ بیگم نے رونا دھونا ڈالا اس دوران قاضی صاحب سے ملاقات کے لیے لوگ بھی گھر آئے مگر چونکہ وہ گھر ہی نہیں تھے تو سب مایوس ہو کر چلے گئے۔قاضی صاحب نے پوری رات سوچا اور آخر کار صبح صبح گھر سے نکلے اور جاتے جاتے اپنی دوسری بیگم کو کہا کہ تم میرے جانے کے بعد فورا میرے گھر پہنچ جانا قاضی صاحب اپنی پہلی بیگم کے گھر پہنچے حسب توقع پورا خاندان موجود تھا ابھی قاضی صاحب سب کو بتا ہی رہے تھے کہ کل رات کہاں رہے کہ چھوٹے بیٹے نے بتایا کہ ایک سائلہ اپنے شوہر کے متعلق مسئلہ پوچھنے آئی ہیں یہ وہ خفیہ کوڈ تھا جو قاضی صاحب نے اپنی دوسری بیگم کو بتایا تھا تا کہ یہ یقین ہو کہ مہمان خانے میں وہی موجود ہیں قاضی صاحب نے بیٹے کو کہا کہ ان خاتون کو کہیں کہ وہ مہمان خانے میں انتظار کریں ۔اتنے میں پہلی بیگم نے پھر وہی حلف کا مطالبہ رکھ دیا کہ اگر ان کے دل میں چور نہیں تو کیوں نہیں قرآن کو بیچ میں لاتے قاضی صاحب نے کہا میں حلف ایک شرط پر لوں گا کہ آج کے بعد یہ موضوع پھر کبھی زیر بحث نہیں آئے گا۔ بیگم نے فوراً حامی بھر لی قاضی صاحب نے وضو کیا اور "قرآن کریم ہاتھ میں لے کر باآواز بلند کہا" اس گھر سے باہر اگر میری کوئی بھی بیوی ہے تو اسے میری طرف سے تین طلاق"۔
*پیارے آقاﷺعمومًا ٹھنڈا میٹھا پانی پسند فرماتے تھے*،دودھ کی لسی بھی پسندتھی مگر وہ کبھی کبھی نوش فرماتے تھے
۔(مراۃ المناجیح،ج6،ص79)
*(لیکن یاد رہے!وہ ٹھندا پانی آج کل کے برف ملے یا فریج کے پانی کی طرح نہیں ہوتا تھا)۔*
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
*بعض عشاق فرماتے ہیں قبر اتنی گہری ہونی چاہیے کہ مردہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑا ہو سکے۔*
(مرآة المناجيح 485/2)💚
*دنیاوی غم کا مکمل تشفی بخش علاج*
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
ﷲ تعالٰی کسی مسلمان کو دو غم اور دو فکریں نہیں دیتا،جس دل میں آخرت کا غم و فکر ہے ان شاءﷲ اس میں دنیا کا غم و فکر نہیں آتا دنیاوی تکلیفیں اگر آ بھی جائیں تو دل ان کا اثر نہیں لیتا۔کلورا فارم سنگھا دینے سے آپریشن کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ﷲ تعالٰی غم آخرت نصیب کرے حضرت حسین رضی ﷲ تعالٰی عنہ یہی کلورافارم سونگھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کربلا کی مصیبتیں خندہ پیشانی سےجھیل گئے۔
(مرآت المناجیح)
اللہ پاک ہمیں غم مصطفیٰ عطا فرمائے
فقیہ اعظم ہند ، استاذُالعلماء ، شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
مولانا محمد الیاس قادری (دعوتِ اسلامی کے بانی) زِیْدَ مَجْدُہُم انتہائی ذہین ، فطین ، قوی الحافظہ انسان ہیں اور مطالعہ کے بےحد شوقین وسیع المطالعہ بزرگ ہیں ، عقائد و احکام کے جزئیات اتنے زیادہ ان کو یاد ہیں کہ آج کل کے درسِ نظامیہ کے فارغ التحصیل اور بہت سے مشہور علماء کو اس کا عشرِ عشیر بھی محفوظ نہیں ، صحیحُ العقیدہ سنی ، پابندِ شرع ، مجدد اعظم اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرّہ کے مسلک کے پابند ، انتہائی متقی اور پرہیزگار انسان ہیں ، انہیں سب وجوہ کی بنا پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی زبان میں تاثیر دی ہے اور ان کے کام میں برکت عطا فرمائی ہے ، ہزاروں بَدمذہب ان کی وجہ سے صحیحُ العقیدہ سنی ہوئے ، لاکھوں لاکھ افراد شریعت کے پابند بنے ، جس کی نظیر اس وقت کسی بھی عالم یا پیر کے تلامذہ یا مریدین میں نہیں ، پگڑی باندھنا سنّت ہے ، علما تک نے چھوڑ دیا ہے ، پیر صاحبان نے چھوڑ دیا ہے ان کی تبلیغ سے لاکھوں افراد ہَرا عمامہ باندھنے لگے ہیں ، داڑھی منڈانے اور کتروانے کا رَواج عام ہے بڑے بڑے پیر صاحبان کے خصوصی مریدین داڑھیاں منڈاتے ہیں ، پیر صاحب ان سے داڑھی نہیں رکھوا سکتے انہوں نے لاکھوں گریجویٹ اور لکھ پتیوں کے بچّوں کو داڑھیاں رکھوادیں۔
( فتاویٰ شارح بخاری ،ج 3 ص 479 ملتقطا )
۔
*14 ایسی حکمتیں جن پر عمل کرنے سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا*
1. اعتماد کی انتہا یہ ہے کہ جب لوگ آپ کا مذاق اڑائیں تو آپ خاموش رہیں کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور وہ کون ہیں۔
2. خاموش لوگ یا تو بڑے غم کے حامل ہوتے ہیں یا بڑے خواب کے۔
3. آپ نے یہ دنیا نہیں بنائی تاکہ دوسروں پر اپنی شرائط مسلط کریں۔ پہلے خود کو درست کریں تاکہ آپ دوسروں کے لیے مثال بن سکیں، پھر ان سے توقع کریں کہ وہ آپ کے جیسے ہوں۔
4. جاہلوں سے بحث کرنا پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہے، چاہے آپ کتنی بھی محنت کریں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
5. جوتے کے پاس زبان ہے لیکن وہ بولتا نہیں، میز کے پاس پاؤں ہیں لیکن وہ چلتی نہیں، قلم کے پاس پر ہے لیکن وہ اڑتا نہیں، گھڑی کے پاس کانٹے ہیں لیکن وہ کاٹتے نہیں، اور بہت سے لوگوں کے پاس عقل ہے لیکن وہ سوچتے نہیں۔
6. وہ آپ کے بارے میں برا بولتے ہیں، پھر آپ کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور آپ کے چہرے پر مسکراتے ہیں، یہ سب سے گندے لوگ ہیں۔
7. مشکل وقت انسان کے اصل جوہر کو ظاہر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
8. چھوٹے دماغ کے لوگوں کی چھوٹی پریشانیاں ہوتی ہیں، جبکہ بڑے دماغ کے لوگوں کے پاس پریشانیوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔
9. ایسے شخص کے قریب نہ رہیں جو آپ کو خوش کرتا ہو، بلکہ ایسے شخص کے قریب رہیں جو صرف آپ کے ساتھ خوشی محسوس کرتا ہو۔
10. لوگ لہروں کی مانند ہیں، اگر آپ ان کے ساتھ چلیں تو وہ آپ کو ڈبو دیں گے، اور اگر ان کی مخالفت کریں تو وہ آپ کو تھکا دیں گے۔
11. میں نہیں جانتا کامیابی کا راز کیا ہے، لیکن ناکامی کا راز سب کو خوش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
12. میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہوں، تو یا تو میں کامیاب ہوں گا، یا میں کامیاب ہوں گا، یا میں کامیاب ہوں گا۔
13. اگر بھولنے کی نعمت نہ ہوتی، تو ہم میں سے بہت سے لوگ پاگل ہو جاتے۔
*سب سے اہم:*
14. خود کو کنجوسوں کی فہرست سے نکال دیں اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ❤️ پر درود بھیجیں۔
یہ حکمتیں آپ کو نہ صرف ذہنی سکون فراہم کریں گی بلکہ آپ کی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔
مولانا رومی جس انداز سے لوگوں کو مثالوں سے سمجھاتے تھے،
واہ مولانا رومی کاش آپ کا دور آپ کا زمانہ ملتا
کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا :
ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو طبیب کے پاس گیا
اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سواء شہد کے تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔
اس شخص نے حکیم سے ایک ڈبا لیا اور چلا گیا لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا
مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی
جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا
کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں ۔
ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے ۔۔
بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی ایاز کو کہا کہ تین بڑے ڈبے شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں
ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے
آپ تین ڈبے کیوں دے رہے ہیں ۔
بادشاہ نے ایاز سے کہا ایاز
وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے
ہم بادشاہ ہیں ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے ۔
مولانا رومی فرماتے ہیں ۔
آپ الله پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ
`مانگیں تو صحیح ......❣`
اگر انسان بن کر سوچا جائے تو لوگوں کی طرف سے ملی ہوئی تکلیف کی چبن زخمی کردیتی ہے، اور بہت درد ہوتا ہے..........ایسا درد کہ آنکھوں کی نمی لازم ہوجاتی ہے...........
لیکن..... اگر مومن بن کر سوچا جائے تو ایسے درد پہ بھی سکون ملتا ہے ..............کیوں کہ ایک مومن لوگوں کی طرف سے ملی ہوئی زیادتی کو اللہ کی طرف سے دیا گیا امتحان سمجھ کر اسے پاس کر نے کی کوشش کرتا ہے..... اسے دوسروں سے شکوہ نہیں ہوتا....... وہ تقدیر پہ مضبوط ایمان کی وجہ سے تسلی میں ہوتا ہے کہ اسکا رب امتحان کے بعد اسے بہترین رزلٹ سے نوازے گا۔
تکلیف اور ظلم پہ درد اسے بھی ہوتا ہے.. چبن اسے بھی ہوتی ہے....... کیونکہ وہ بھی تو انسان ہوتا ہے..... مگر اسکے پاس انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان کی بھی ڈگری ہوتی ہے......
اسکا ایمان اسے مایوس ہونے اور واویلا کرکے وقت ضائع کرنے سے بچا لیتا ہے....... وہ درد کو لے کر بیٹھا ہی نہیں رہتا بلکہ سہتا ہے، معاف کرتا ہےاور آگے بڑھ جاتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
