Equal Rights for workers
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Equal Rights for workers, Health/Beauty, Karachi.
1. پاکستان میں لیبر قوانین صرف دکھاوے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
2. یہ قانون کتابوں میں مضبوط ہیں مگر حقیقت میں ان کی کوئی عزت نہیں۔
3. نجی کمپنیاں ان قوانین کو اپنے پاؤں تلے روندنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھاتیں۔
4. ورکر کو حق دینا تو دور، اسے انسان سمجھنا بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
5. تنخواہ دینا احسان نہیں، قانون ہے مگر ادارے اسے زبردستی احسان بنا دیتے ہیں۔
6. دیر سے تنخواہ دینا عام معمول بن چکا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں۔
7. اوور ٹائم کروایا جاتا ہے مگر پیسہ دینا کمپنی کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
8. یہ سیدھا سیدھا قانون شکنی ہے، پھر بھی سب خاموش ہیں۔
9. سوشل سکیورٹی اور EOBI کا نام صرف رجسٹر میں ہوتا ہے، حقیقت میں کچھ نہیں ملتا۔
10. کئی ورکر برسوں کام کرتے ہیں مگر ایک دن کی سیکیورٹی تک نہیں ملتی۔
11. ادارے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ ورکر کمزور ہے اور کہیں نہیں جا سکتا۔
12. ورکر سے دستخط کروا کر فائدے چھین لیے جاتے ہیں۔
13. اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ خاموشی اختیار کرے نہیں تو دروازہ نظر دکھا دیا جائے گا۔
14. یہ دھونس، یہ دباؤ، یہ بلیک میلنگ سب کھلے عام ہو رہی ہے۔
15. قانون اس ملک میں ہے مگر اس پر عمل کوئی نہیں کرتا۔
16. ادارے اپنی مرضی کے راج چلاتے ہیں۔
17. ورکر کو محض ایک نمبر سمجھا جاتا ہے، انسان نہیں۔
18. اگر وہ حق مانگ لے تو اسے “نئے بندے آ جائیں گے” کا ڈر دکھایا جاتا ہے۔
19. یہ سوچ مزدور دشمن ہے اور ملک دشمن بھی۔
20. کیونکہ جس ملک میں مزدور کمزور ہو وہاں ترقی صرف ایک خواب رہ جاتی ہے۔
21. ادارے ورکر کا پسینہ نچوڑ کر کماتے ہیں مگر اس کا حق ادا کرنا گوارا نہیں کرتے۔
22. یہ زیادتی سالوں سے جاری ہے اور ہر سال بڑھ رہی ہے۔
23. ورکر کی آواز دبانے کے لیے انتظامیہ پوری طاقت استعمال کرتی ہے۔
24. شکایت کرنے پر ورکر کے خلاف پلان بنا دیا جاتا ہے۔
25. اس کی نوکری خطرے میں ڈال دی جاتی ہے۔
26. اسے ثبوت لانے کو کہا جاتا ہے، مگر ثبوت دینے کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
27. اس ملک میں قانون کمزور نہیں ہے، نیت کمزور ہے۔
28. ادارے جانتے ہیں کہ کوئی ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
29. اسی وجہ سے وہ کھلے عام قانون توڑتے ہیں۔
30. ورکر کو اس حق تک رسائی نہیں جس کی اسے ضمانت دی گئی ہے۔
31. ایسا لگتا ہے جیسے قانون صرف مالک کے لیے بنایا گیا ہے، مزدور کے لیے نہیں۔
32. یہ تاثر خطرناک ہے اور اداروں کی بددیانتی کا ثبوت ہے۔
33. ورکر اگر ایک دن کے لیے رک جائے تو فیکٹری رک جاتی ہے۔
34. مگر مالک کی بے حسی نہیں رکتی۔
35. جب تک قانون کو سختی سے نافذ نہیں کیا جائے گا صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
36. اداروں کو جواب دہ بنانا پڑے گا۔
37. ورکر کو ڈر سے آزاد کرنا پڑے گا۔
38. ورکر کی عزت، حفاظت اور حق اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
39. اور جو قوم اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ دے، وہ کبھی کھڑی نہین ہو سگتی۔
کراچی کی مشہور ٹاول کمپنی کا اصل چہرہ: دو یونٹ بند،
ہزاروں مزدور برباد
کراچی کی ایک معروف ٹاول کمپنی نے وہ ظلم کیا ہے جس کا تصور بھی مشکل ہے۔ صرف ایک نہیں، بلکہ دو یونٹ بند کیے گئے۔ دونوں یونٹ رشید آباد میں تھے۔ ایک نیشنل کمپنی کے فرنٹ پر اور دوسرا بیک سائیڈ پر۔ دونوں یونٹس کو اچانک تالے لگا کر سینکڑوں نہیں، تقریباً ایک ہزار ورکرز کو سڑک پر کھڑا کر دیا گیا۔
مشینری راتوں رات دوسرے یونٹ پر منتقل کی گئی، اور اب وہاں کے ورکرز سے ڈبل شفٹیں، بیس بیس گھنٹے کام لیا جا رہا ہے۔ یہ کسی فیکٹری کا عمل نہیں، یہ صاف صاف جبری مشقت ہے۔ تھکے ہوئے لوگ اپنی حد سے باہر جا کر کام کر رہے ہیں کیونکہ انکار کی صورت میں جواب دینے کے لیے ان کے پاس نوکری نہیں بچتی۔
مزید عجیب بات یہ ہے کہ جو کمپنی سالوں تک ورکرز کو بقائدہ گریجویٹی دیتی تھی، اب اس نے زبردستی گریجویٹی ختم کر کے صرف PF لانچ کر دیا ہے۔ اور یہ تبدیلی ورکر کی مرضی سے نہیں ہوئی۔
ورکرز کے سامنے ایک فارم رکھ کر کہا جاتا ہے:
"سائن کرو، ورنہ کل سے نوکری نہیں۔"
اور اس فارم میں کیا لکھا ہے؟
یہ کہ ورکر خود کہہ رہا ہے کہ ہمیں گریجویٹی نہیں چاہیے، ہمیں PF چاہیے۔
اس میں یہ جملہ بھی ڈالا گیا ہے کہ:
"ہم کمپنی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کا حق نہیں رکھتے"۔
یہ فارم کمپنی کی HR خود دے رہی ہے، مگر لکھا ایسے ہے جیسے یہ ورکر کی ذاتی درخواست ہے۔ یعنی ظلم بھی ان کا، اور الزام بھی ورکر پر ڈال دیا گیا۔
ایک طرف یہ کمپنی سوشل میڈیا پر خود کو اصولوں، ویلفیئر اور صاف ستھری پالیسیوں کا علمبردار بنا کر دنیا کو دکھاتی ہے۔ خریداروں کے سامنے پیپر ورک میں بہترین ماحول، محفوظ فیکٹری اور مکمل لیبر کمپلائنس دکھائی جاتی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ پیپر ورک ایک دکھاوا ہے، اور فیکٹری کے اندر حالات اس کے الٹ ہیں۔
خریداروں کو وہ فائل دکھائی جاتی ہے جہاں سب کچھ اچھا ہوتا ہے، مگر اصل فیکٹری وہ ہے جہاں لوگ اپنی صحت، وقت، گھر اور زندگی کی قیمت چکا کر کام کر رہے ہیں۔ جہاں لیبر قوانین کو بے رحمی سے توڑا جا رہا ہے۔ جہاں یونٹ بند کر کے لوگ ایک نوٹس کے بغیر فارغ کیے جا رہے ہیں۔ جہاں ٹرانسپورٹ بچانے کے بہانے پچیس سے تیس سال کے تجربہ کار ملازمین کو بے روزگار کیا گیا۔
یہ سب کوئی غلطی نہیں۔ یہ ایک منصوبہ بندی ہے:
"پرانے لوگوں کو نکالو، خرچہ کم کرو، مشینیں دوسری جگہ لے جاؤ، باقی ورکرز کو بیس بیس گھنٹے نچوڑو، پھر دنیا کو دکھاؤ کہ ہم ایک مثالی کمپنی ہیں۔"
یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جو لوگ اپنے ہی مزدوروں کے حق پر ڈاکا ڈالیں، انہیں یہ حق نہیں کہ سوشل میڈیا پر خود کو انسان دوست کہلائیں۔
مزدور کمزور نہیں ہوتا۔ اس کا صبر آزماتا ضرور ہے، مگر ٹھکتا نہیں۔ اور جب مزدور کی آہ اٹھتی ہے تو بڑے بڑے ادارے ہل جاتے ہیں۔
یہ تحریر ان سب کمپنیوں کے نام ہے جو دوغلی پالیسیوں پر چل رہی ہیں۔
یاد رکھیں:
ظلم چل سکتا ہے،
مگر ہمیشہ نہیں۔۔
✍️ پاکستان کے دو رنگ: ایک قانون امیر کے لیے، ایک حقیقت عام آدمی کے لیے
پاکستان میں عام آدمی کی زندگی مشکل سے گزرتی ہے۔ گھر کے خرچے، بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور روزمرہ کی ضرورتیں اتنی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں کہ ایک تنخواہ سے مہینہ پورا ہونا مشکل ہو گیا ہے۔ محنت کرنے والے لوگ صبح سے شام تک کام کرتے ہیں، مگر زندگی پھر بھی سکون نہیں دیتی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں قانون سب کے لیے ایک نہیں چلتا۔ امیر کے لیے راستے سیدھے ہیں، ان کا کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔ عام شہری کے لیے ہر قدم پر رکاوٹ ہے۔ سفارش کے بغیر فائل نہیں چلتی، شکایت کا حل نہیں ملتا اور انصاف کا دروازہ اس کے لیے ہمیشہ بھاری رہتا ہے۔
ایک طرف وہ خاندان ہیں جو بہترین اسکولوں، پرائیویٹ اسپتالوں اور ہر سہولت تک پہنچ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے بچوں کے علاج کے لیے قرض مانگنا پڑتا ہے یا فیس بھرنے کے لیے چیزیں بیچنی پڑتی ہیں۔ یہی فرق معاشرے میں بے اعتمادی بڑھاتا ہے۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر مسائل وہی رہتے ہیں۔ تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور انصاف تک رسائی آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے ایک خواب ہے۔ اگر یہ ملک مضبوط ہونا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے عام آدمی کی زندگی آسان بنانی ہوگی۔ قانون اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک وہ سب کے لیے برابر نہ ہو۔
اصل ترقی تب آئے گی جب محنت کش کو یہ یقین ہوگا کہ اس کا حق کوئی نہیں مار سکتا اور اس کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔
تحریر: Muhammad Ibrahim Bhutto
✍️ پاکستان میں محنت کش طبقے کی روزانہ کی جدوجہد
پاکستان میں مڈل کلاس اور لوئر کلاس ہر دن نئی مشکل کا سامنا کرتی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو پرائیویٹ نوکریوں میں صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں وہ حق نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں۔ 💔
زیادہ تر مالکان اور کنٹریکٹر سرکاری کم از کم اجرت بھی پوری نہیں دیتے۔ کام زیادہ، تنخواہ کم۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس، بجلی اور راشن کے خرچے ان کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ 🏠💡🍞
مسئلہ صرف تنخواہ کا نہیں۔ بہت سی جگہوں پر ملازم کو عزت بھی نہیں ملتی۔ نہ صحیح چھٹی، نہ میڈیکل، نہ مستقبل کا کوئی تحفظ۔ اگر کوئی شکایت کرے تو نوکری جانے کا ڈر دکھا دیا جاتا ہے۔ 😞
حکومت قوانین تو بناتی ہے، مگر ان پر عمل نہ ہونے سے مالکان کھلی مرضی چلاتے ہیں۔ یوں ملک کی اصل ریڑھ کی ہڈی، یعنی مزدور، کلرک، سیلز مین اور فیکٹری ورکر، سب مشکلات میں جکڑے رہتے ہیں۔ ⚙️👷♂️
محنت کش روز کماتے ہیں اور روز کھاتے ہیں۔ اگر ایک دن کام نہ ملے تو گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ لوگ ہمت نہیں چھوڑتے۔ یہی پاکستان کے اصل ہیرو ہیں، جن کی آواز اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔ 🇵🇰❤️
عنوان: کنٹریکٹ بیس نظام — منافع فیکٹری مالک کا، بوجھ مزدور کا
پاکستان کے بیشتر نجی اداروں میں ایک نیا اندازِ ظلم عام ہو چکا ہے،
جسے خوشنما لفظوں میں “کنٹریکٹ بیس نظام” کہا جاتا ہے۔
مگر اصل میں یہ نظام محنت کش طبقے پر معاشی ظلم کا دوسرا نام ہے۔
1. کنٹریکٹ کا مطلب: وقتی کام، مستقل پریشانی
فیکٹری مالک کے لیے یہ نظام منافع کا ذریعہ ہے،
مگر مزدور کے لیے روزگار کی غیر یقینی زندگی۔
چھ مہینے یا ایک سال کے کنٹریکٹ پر مزدور کو بھرتی کیا جاتا ہے،
پھر جب چاہیں نکال دیا جاتا ہے —
نہ کوئی وجہ پوچھ سکتا ہے، نہ کوئی حق مانگ سکتا ہے۔
یہ وہ نظام ہے جس نے غریب کو “مزدور” سے “عارضی مشین” بنا دیا ہے،
جو صرف تب تک کام کی ہے جب تک منافع آتا رہے۔
2. حقوق صرف کاغذوں میں
قانون کے مطابق ہر مزدور کو سوشل سیکیورٹی، ای او بی آئی، بونس، چھٹیوں اور میڈیکل کا حق حاصل ہے۔
مگر کنٹریکٹ بیس ملازمین کو ان میں سے کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔
جب وہ پوچھتے ہیں تو کہا جاتا ہے،
“آپ تو پرماننٹ نہیں ہیں، بس عارضی کنٹریکٹ پر ہیں۔”
یوں لگتا ہے جیسے کنٹریکٹ ایک بہانہ ہے
غریب کا حق مارنے کا —
اور یہ ظلم قانون کے پردے میں ہو رہا ہے۔
3. منافع بڑھے تو مالک کا، نقصان ہو تو مزدور کا
جب پیداوار بڑھتی ہے تو مالک کہتا ہے،
“یہ سب میری مینجمنٹ کی محنت ہے۔”
اور جب مارکیٹ میں کمی آتی ہے تو حکم ملتا ہے،
“کچھ لیبر کم کر دو، اخراجات گھٹاؤ۔”
یعنی فائدہ ہمیشہ اوپر والوں کا،
اور نقصان ہمیشہ نیچے والوں کے حصے میں۔
4. لوئر کلاس کی خاموش مجبوری
کنٹریکٹ پر کام کرنے والا مزدور جانتا ہے
کہ اگر زبان کھولی تو نوکری ختم۔
اسی لیے وہ ظلم سہہ کر بھی چپ رہتا ہے۔
یہی چپ اس کی مجبوری ہے،
کیونکہ اس کے پیچھے ایک گھر ہے، بچوں کا پیٹ ہے،
اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بچے بھوکے سوئیں۔
5. فیکٹری مالکان کی ترجیح: سستی لیبر، زیادہ منافع
زیادہ تر فیکٹریاں اس نظام کو اس لیے پسند کرتی ہیں
کہ انہیں کنٹریکٹ ورکر سستے ملتے ہیں،
ان پر کوئی ذمہ داری نہیں،
نہ سوشل سیکیورٹی دینی ہے، نہ پنشن، نہ میڈیکل۔
یعنی انسان کو استعمال کرو،
پھر بدل دو جیسے مشین کا پرزہ۔
یہی سوچ انسانیت کے خلاف سب سے بڑا جرم ہے۔
نتیجہ
اسلام نے فرمایا:
> "مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو۔"
مگر آج کے معاشرے میں مزدور کا پسینہ تو سوکھ جاتا ہے،
کبھی کبھی خون بھی بہہ جاتا ہے،
پھر بھی اس کا حق نہیں ملتا۔
اگر یہ نظام اسی طرح چلتا رہا،
تو ایک دن آئے گا جب مزدور صرف مشین نہیں،
بلکہ خاموش غصہ بن جائے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت، ادارے اور فیکٹری مالکان
اس طبقے کو انسان سمجھیں،
محنت کشوں کے حقوق صرف وعدوں میں نہیں،
عمل میں نظر آنے چاہئیں۔
عنوان: غریب کی خاموشی بھی احتجاج ہے
ہم اکثر سڑکوں پر، بازاروں میں، یا فیکٹریوں کے باہر اُن چہروں کو دیکھتے ہیں جن پر تھکن، فکر اور بے بسی لکھی ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں کہتے، نہ شور مچاتے ہیں، نہ شکایت کرتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی خاموشی خود ایک احتجاج ہے — اُس نظام کے خلاف جو ان کی محنت پر تو چلتا ہے، مگر انہیں جینے کے حقوق نہیں دیتا۔
1. خاموش مزدور، شور کرتا نظام
غریب آدمی صبح سے شام تک کام کرتا ہے، مگر جب وہ تنخواہ لیتا ہے تو چہرے پر خوشی نہیں، صرف حساب ہوتا ہے — کہ کس بل کو پہلے جمع کراؤں اور کس کو اگلے مہینے تک ٹال دوں۔
وہ اپنے دل میں جانتا ہے کہ اس کی محنت سے ملک کے کارخانے، بازار اور کمپنیاں چل رہی ہیں،
مگر اس کے اپنے گھر میں اکثر چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے۔
یہ خاموشی اس لیے نہیں کہ اسے درد نہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے یقین نہیں کہ کوئی سنے گا۔
2. معاشرہ جو سننا نہیں چاہتا
ہماری سوسائٹی میں غریب کی بات کو اکثر “شکایت” سمجھ لیا جاتا ہے۔
اگر وہ اپنے حق کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ “صبر کرو، اللہ بہتر کرے گا۔”
مگر کیا صبر صرف غریب کے لیے ہے؟
امیر جب ذرا سا نقصان دیکھے تو سڑکوں پر آجاتا ہے، عدالتوں میں پہنچ جاتا ہے،
لیکن غریب جب اپنے بچوں کے لیے دودھ نہ خرید سکے تو صرف خاموش رہتا ہے۔
یہ خاموشی ہی اس کا احتجاج ہے — ایک ایسا احتجاج جو روز ہوتا ہے، مگر کوئی دیکھ نہیں پاتا۔
3. زندگی کے سوال، جو کبھی ختم نہیں ہوتے
غریب کے ذہن میں روز نئے سوال جنم لیتے ہیں:
کیا میری اولاد بھی یہی زندگی گزارے گی؟
کیا میرے بچوں کو کبھی اچھی تعلیم ملے گی؟
کیا میرا گھر کبھی پکا ہوگا؟
یہ سوال وہ کسی سے پوچھتا نہیں، کیونکہ اسے جواب کا یقین نہیں۔
4. عزت، جو محنت سے نہیں ملتی
اسلام نے سکھایا کہ عزت محنت میں ہے، مگر آج کے دور میں عزت صرف دولت سے ملتی ہے۔
ایک مزدور اگر پسینے میں تر ہو تو لوگ منہ موڑ لیتے ہیں،
لیکن وہی لوگ کسی امیر کی غلط بات کو بھی تعریف سمجھ کر سنتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف صرف کتابوں میں رہ گیا ہے۔
5. خاموشی کب ٹوٹے گی؟
غریب کی خاموشی کب تک برداشت کرے گی؟
شاید وہ دن دور نہیں جب یہ خاموش لب بول پڑیں گے،
اور وہ احتجاج سڑکوں پر نہیں بلکہ دلوں میں گونجے گا۔
تب لوگ سمجھیں گے کہ خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ تھکی ہوئی امید کا دوسرا نام ہے۔
نتیجہ
یہ ملک تب تک نہیں سنورے گا جب تک اس کے مزدور کا چہرہ مطمئن نہیں ہوگا۔
جو لوگ دن رات پسینہ بہاتے ہیں، ان کے حصے میں کم از کم سکونِ دل تو آنا چاہیے۔
غریب کی خاموشی کو معمولی مت سمجھو —
یہ وہ صدا ہے جو آسمان تک جاتی ہے،
اور جب اللہ سنتا ہے، تو انصاف خود حرکت میں آتا ہے۔
عنوان: محنت زیادہ، صلہ کم
پاکستان میں سب سے زیادہ محنت کرنے والا طبقہ وہ ہے جو سب سے کم سہولتیں پاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں، دھوپ، گرمی، شور اور تھکن برداشت کرتے ہیں، مگر شام کو گھر لوٹتے وقت ان کے ہاتھ میں صرف اتنا پیسہ ہوتا ہے کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو سکے۔
یہی وہ طبقہ ہے جسے ہم لوئر کلاس یا محنت کش طبقہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں وہ عزت، حقوق اور مراعات نہیں ملتیں جن کے وہ حقدار ہیں۔
1. نجی اداروں میں ناانصافی
پرائیویٹ سیکٹر میں محنت کش طبقے کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافی ہوتی ہے۔
وہاں کام کرنے والے مزدور، ہیلپر، پیکر، درزی، یا مشین آپریٹر گھنٹوں کام کرتے ہیں،
مگر ان کی تنخواہ اتنی نہیں کہ گھر کا خرچ پورا ہو سکے۔
اسی ادارے میں بیٹھے افسران ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر وہ تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں جن کا عام کارکن تصور بھی نہیں کر سکتا۔
میٹنگ روم کے اندر فیصلے وہ کرتے ہیں، مگر اُن فیصلوں کا بوجھ اٹھانے والا ہاتھ کسی مزدور کا ہوتا ہے۔
2. حقوق صرف کاغذوں تک محدود
قانون کہتا ہے کہ ہر مزدور کو سوشل سیکیورٹی، ای او بی آئی، اور دیگر سہولتوں کا حق حاصل ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں مزدور آج بھی بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہے ہیں۔
نہ ان کے پاس میڈیکل کی سہولت ہے، نہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی سہارا۔
جب تک وہ کام کرتے رہیں، تب تک ان کی ضرورت ہے۔
جیسے ہی بیمار ہوں یا بوڑھے، ان کی جگہ نیا بندہ رکھ لیا جاتا ہے۔
3. تنخواہ بمقابلہ مہنگائی
روز کی مہنگائی دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے غریب آدمی کی کمائی کا کوئی وزن ہی نہیں۔
بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، اور آٹے کا تھیلا — سب کچھ ان کی آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہے۔
کئی مزدور تو ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو صرف ایک وقت کا کھانا دے کر دوسرے وقت “اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔”
4. عزتِ نفس کا بحران
یہ لوگ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔
ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اپنی محنت سے عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
مگر جب معاشرہ ان کی محنت کو معمولی سمجھے اور ان کے حقوق دبائے، تو وہ عزتِ نفس کے ساتھ جینا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
5. یہ ملک انہی کے کندھوں پر کھڑا ہے
یہی لوگ سڑکیں بناتے ہیں، فیکٹریوں میں پیداوار بڑھاتے ہیں،
کپڑا، کھانا، مشین، تعمیر — ہر چیز ان کی محنت سے بنتی ہے۔
اگر ایک دن یہ لوگ ہڑتال کر دیں تو پورا نظام رک جائے۔
مگر پھر بھی ان کے لیے نہ قانون کی آواز اٹھتی ہے، نہ حکومت کی نظر پڑتی ہے۔
نتیجہ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> “اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔” (سورہ النجم: 39)
لیکن ہمارے معاشرے نے یہ اصول بدل دیا ہے۔
یہاں کوشش غریب کرتا ہے، اور پھل دوسرا کھا جاتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوچ کو بدلیں۔
محنت کش کا حق صرف تنخواہ نہیں، بلکہ عزت، تحفظ اور انصاف بھی ہے۔
جب تک مزدور کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ نہیں آئے گی،
تب تک کوئی بھی معاشرہ ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا۔
عنوان: برابری کے حقوق اور زندگی کی نابرابری
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو برابر پیدا کیا۔ کسی کے رنگ، نسل، زبان یا مال میں فضیلت نہیں رکھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے خود ہی معاشرے کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا۔ آج کے پاکستان میں لوئر کلاس اور مڈل کلاس وہ دو طبقے ہیں جو محنت تو سب سے زیادہ کرتے ہیں، مگر ان کے حصے میں سہولتیں سب سے کم آتی ہیں۔
1. محنت زیادہ، بدلہ کم
غریب مزدور، ڈرائیور، ریڑھی بان، درزی یا فیکٹری ورکر روز صبح سے شام تک کام کرتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔
مگر دن کے آخر میں ان کے ہاتھ میں جو پیسہ آتا ہے، وہ اکثر ایک دن کی روٹی، کرایہ اور بجلی کے بل میں ختم ہو جاتا ہے۔
یہی حال مڈل کلاس کا بھی ہے — تعلیم حاصل کرنے کے باوجود وہ مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے محنت ان کا مقدر بن گئی ہو، مگر سکون کسی اور کا حق۔
2. تعلیم: خواب یا حقیقت؟
ایک مزدور کا بیٹا اگر پڑھنا بھی چاہے تو اچھی تعلیم کے دروازے اس کے لیے بند ہیں۔
پرائیویٹ اسکولوں کی فیس، کتابوں کے اخراجات، اور یونیورسٹی کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔
دوسری طرف امیر طبقے کے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور واپس آ کر انہی عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں جن تک عام آدمی کبھی نہیں پہنچ پاتا۔
3. صحت کی عدم برابری
کسی غریب کے گھر میں بیماری آجائے تو وہ دوا اور علاج کے اخراجات سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج صرف پیسے والوں کا حق بن چکا ہے۔
یہ فرق صرف علاج کا نہیں بلکہ زندگی اور موت کے فیصلے کا ہے۔
4. انصاف اور آواز
لوئر کلاس کے پاس اپنی بات سنانے کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں۔
اگر کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے تو وہ تھانے اور عدالتوں کے چکروں میں سالوں خوار ہوتا ہے،
جبکہ دولت مند کے لیے قانون خود نرم ہو جاتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انصاف، دولت کی دہلیز پر سجدہ کرتا نظر آتا ہے۔
5. مڈل کلاس: پسے ہوئے مگر خاموش
پاکستان کی مڈل کلاس ایک ایسا طبقہ ہے جو ملک کا بوجھ اٹھاتا ہے مگر بدلے میں کچھ نہیں پاتا۔
یہی لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ملک کی اکانومی چلاتے ہیں،
لیکن نہ ان کے لیے کوئی ریلیف ہے، نہ سہولت۔
وہ غریب نہیں کہ امداد لے سکیں، نہ اتنے امیر کہ سکون سے جی سکیں۔
یوں وہ ایک خاموش جدوجہد میں زندگی گزارتے ہیں۔
نتیجہ: برابری کا خواب کب پورا ہوگا؟
اسلام اور آئینِ پاکستان دونوں برابری کا درس دیتے ہیں،
مگر عمل صرف کتابوں تک محدود ہے۔
جب تک ریاست یہ نہیں سمجھے گی کہ ہر شہری کا حقِ زندگی، تعلیم، صحت اور انصاف برابر ہے،
تب تک یہ طبقاتی خلیج بڑھتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ نے سب کو اشرف المخلوقات بنایا ہے،
مگر انسان نے خود اپنے بنائے ہوئے معیاروں سے انسانوں کو کم تر اور برتر بنا دیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوچ کو بدلیں،
اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں احترام انسانیت سب سے بڑی پہچان ہو۔
یہ موضوع بہت اہم ہے، کیونکہ "برابری کے حقوق" (Equal Rights) صرف آئین یا قانون کی بات نہیں، بلکہ انسانیت اور انصاف کی بنیاد ہے۔ ذیل میں ایک تفصیلی تحریر ہے جو آپ کے بتائے ہوئے نکات پر روشنی ڈالتی ہے۔
پاکستان میں برابری کے حقوق اور طبقاتی فرق
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ یعنی ساری مخلوقات میں سب سے بلند مقام انسان کو دیا گیا، بغیر کسی ذات، نسل یا مال و دولت کے فرق کے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں انسان نے خود اپنے بنائے ہوئے معیاروں کے تحت انسانوں کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا ہے۔
پاکستان میں اگر ہم معاشرتی ڈھانچے کو دیکھیں تو واضح طور پر چار طبقے سامنے آتے ہیں:
1. Lower Class (غریب طبقہ)
2. Middle Class (درمیانہ طبقہ)
3. Upper Class (امیر طبقہ)
4. High Class (انتہائی بااثر طبقہ)
ان طبقات کا فرق صرف دولت تک محدود نہیں رہا، بلکہ قانون، انصاف، تعلیم، صحت، روزگار، اور عزت تک میں نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔
1. قانون کا غیر مساوی اطلاق
ہمارے ملک میں قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
غریب شخص معمولی جرم کرے تو فوراً جیل چلا جاتا ہے۔
لیکن بااثر یا امیر شخص چاہے بڑا جرم کرے، اسے ضمانت، سفارش یا تعلقات کے ذریعے بچا لیا جاتا ہے۔
یہی دوہرا معیار ہمارے عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "اور ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
(سورۃ الحجرات: 13)
اس آیت میں اللہ نے واضح فرما دیا کہ عزت و فضیلت دولت یا مرتبے سے نہیں، بلکہ تقویٰ اور کردار سے ہے۔
2. تعلیم اور صحت میں طبقاتی تقسیم
پاکستان میں امیر بچوں کے لیے مہنگے اسکول، ایجوکیشن سسٹم اور غیر ملکی نصاب ہیں، جب کہ غریب طبقہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
اسی طرح علاج کے معاملے میں بھی امیر کے لیے پرائیویٹ اسپتال اور جدید سہولتیں ہیں، جبکہ غریب کو سرکاری اسپتال کی لائنوں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
3. روزگار اور مواقع
زیادہ تر ملازمتیں سفارش، تعلقات یا پیسے کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں۔ ایک اہل اور محنتی غریب شخص کو وہ مقام نہیں ملتا جو کسی صاحبِ اثر شخص کو آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔
یہی ناانصافی ملک میں مایوسی، کرپشن، اور نفرت کو جنم دیتی ہے۔
4. سماجی عزت اور برتاؤ
ہمارے معاشرے میں عزت بھی دولت سے ناپی جاتی ہے۔
غریب کے الفاظ کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ امیر کی ہر بات کو “رائے” سمجھا جاتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی مساوات کے اصولوں کو بھی پامال کرتا ہے۔
---
نتیجہ
اسلام اور انسانیت دونوں یہ سکھاتے ہیں کہ ہر شخص برابر ہے۔
اگر ہم واقعی ایک منصف معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں قانون، انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار میں برابری لانا ہوگی۔
جب تک ہر طبقے کے لیے ایک جیسا قانون اور موقع نہیں ہوگا، "اشرف المخلوقات" کا اصل مقام ہم کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
🧵 Feroze1888 Mills — نامور کمپنی، مگر مزدوروں کے ساتھ یہ سلوک؟
(سچ بولنا جرم نہیں، ضمیر کی آواز ہے)
کیا یہ وہی Feroze1888 Mills ہے جو خود کو ملٹی نیشنل کہتی ہے؟
کیا یہ وہی ادارہ ہے جہاں لوگوں نے اپنی زندگیاں، جوانی اور وقت قربان کیا؟
یہ وہی کمپنی ہے جہاں stitching اور packing جیسے سخت محنت والے شعبوں میں سینکڑوں ملازمین نے 20 سے 25 سال تک دیانتداری سے خدمات انجام دیں —
مگر آج جب وہ عمر کے اس مقام پر پہنچے کہ نئی جگہ نوکری ملنا ممکن نہیں، تو Feroze1888 نے:
🔴 مشینری دوسری برانچ منتقل کر دی
🔴 برانچ بند کر کے ملازمین کو فارغ کر دیا
🔴 Resignation زبردستی لکھوایا گیا
🔴 اور دھمکی دی گئی کہ:
> "اگر استعفیٰ نہ دیا تو دھکے دے کر نکال دیں گے، اور جو کچھ دیا جا رہا ہے، وہ بھی نہیں ملے گا!"
سب سے افسوسناک بات یہ کہ: 📌 اوپر سے ان کو Gratuity جیسا بنیادی قانونی حق بھی نہیں دیا گیا!
---
❗ کیا یہ انصاف ہے؟
ایک مزدور جس نے 25 سال ادارے کو دیے، اسے اس طرح نکال دینا؟
برانچ بند ہونے کا مطلب یہ کہ انسان کا حق بھی ختم ہو جائے؟
کیا صرف cost cutting کے نام پر انسانی عزت پامال کرنا جائز ہے؟
---
✊ ہم پکار اٹھے ہیں:
Feroze1888 Mills ان تمام محنت کشوں کو ان کی Gratuity فوری ادا کرے
زبردستی resignation لینا، دھمکانا، اور حق چھیننا — ان سب کا قانونی نوٹس لیا جائے
وفاقی حکومت، لیبر ڈیپارٹمنٹ، اور انسانی حقوق کے ادارے فوری مداخلت کریں
---
📢 یہ تحریر ان مزدوروں کی ترجمان ہے جنہیں چپ کرا دیا گیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ آواز بلند کی جائے!
> ”مزدور کی خاموشی ظالم کو مزید طاقتور بناتی ہے،
لیکن سچ کی للکار پورے نظام کو بدل سکتی ہے۔“
آپ نے جو تفصیلی سوال کیا ہے، وہ پاکستان کے لیبر قوانین میں "ورکر" (worker) کی قانونی تعریف سے متعلق ہے — خاص طور پر Standing Orders Ordinance 1968 اور Industrial Relations Act 2012 (IRA 2012) کے تناظر میں۔
آئیے قدم بہ قدم مکمل قانونی، عملی، اور حقائق پر مبنی جواب دیتے ہیں:
---
✅ قانونی تعریف: "ورکر" کون ہے؟
پاکستان کے لیبر قوانین کے مطابق:
> "ورکر" (یا Workman) وہ شخص ہے جو:
کسی ادارے میں تنخواہ یا معاوضے کے عوض
ذہنی یا جسمانی کام کرتا ہو
اور انتظامی یا فیصلہ سازی اختیارات نہ رکھتا ہو۔
(ماخذ: Standing Orders Ordinance 1968 - Section 2(i), IRA 2012 - Section 2( # # ))
---
❌ کون "ورکر" نہیں ہوتا؟
ایسے افراد جو:
ادارے کی پالیسی یا فیصلوں میں اختیار رکھتے ہوں
ملازمت دینے یا ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہوں
ڈسپلن، بونس، ترقی، سزا میں براہِ راست کردار رکھتے ہوں
مینجمنٹ رپورٹس، پلاننگ یا بجٹ بناتے ہوں
---
🔍 آپ کے بیان کے مطابق درج ذیل افراد کی حیثیت:
عہدہ / کردار کام کی نوعیت "ورکر" کی کیٹیگری؟ Gratuity کا استحقاق؟
Stitching/Packing Supervisors ورکنگ اسٹاف کو ہدایات دینا، اشیاء لینا دینا، خود انسپیکشن کرنا ✅ ورکر ✅ اہل
Inline QC Inspectors خود انسپیکشن، سیمپل جانچنا، "پاس" لگانا ✅ ورکر ✅ اہل
Logistics Supervisor (Only Counting/Recording) سامان گننا، اسٹور میں رکھوانا ✅ ورکر ✅ اہل
Trims Store Handlers سامان لانا، جاری کرنا ✅ ورکر ✅ اہل
Department Incharges (If no hiring/firing authority) شیڈول بنانا، ورک تقسیم کرنا، اسٹاک یا ٹاسک دیکھنا ✅ ورکر (اگر صرف سپروائزری سطح پر ہیں) ✅ اہل
🔎 نوٹ:
اگر Managers یا Incharges صرف یہی کام کرتے ہیں:
فزیکل وزٹ
انسپیکشن
ٹاسک کی نگرانی
اور ان کے پاس نوکری سے نکالنے/رکھنے یا سزا/ایوارڈ کا اختیار نہیں ہے،
تو وہ بھی "ورکر" تصور ہو سکتے ہیں — اور لیبر قوانین کا تحفظ مل سکتا ہے۔
---
⚖️ Gratuity کا معاملہ:
قانون (West Pakistan Industrial & Commercial Employment (Standing Orders) Ordinance, 1968 - Order 12(6)):
> اگر کوئی ورکر 1 سال یا اس سے زیادہ ملازمت کرتا ہے اور کمپنی پروویڈنٹ فنڈ (PF) نہیں دیتی، تو وہ لازماً Gratuity دے گی۔
مگر:
اگر کمپنی نے Provident Fund Act 1925 کے تحت PF دیا ہے،
اور ورکر سے رضامندی (written consent) سے سائن لیا ہے،
تو Gratuity لازم نہیں — کیونکہ ایک وقت میں صرف ایک اسکیم لاگو ہو سکتی ہے۔
---
📌 لیکن... آپ کے کیس میں:
PF دیا گیا ✅
مگر Gratuity نہیں دی گئی ❌
اور اگر PF اسکیم کے لیے کوئی سائن، اپروول یا معاہدہ نہیں تھا، تو آپ اب بھی Gratuity کے قانونی حقدار ہو سکتے ہیں۔
---
✅ آپ کیا کر سکتے ہیں؟
1. تمام اسٹاف کی لسٹ تیار کریں (نام، عہدہ، مدت ملازمت)
2. کمپنی سے:
Employment letters
PF Contribution Records
کوئی Agreement/Consent مانگیں (اگر دیا ہو PF کے لیے)
3. لیبر کورٹ / لیبر کمشنر میں تحریری شکایت درج کریں:
Gratuity کا مطالبہ کریں
یہ ثابت کریں کہ آپ administrative post پر نہیں ت
بہت اہم اور قانونی لحاظ سے نازک سوال ہے۔
آئیں اسے پاکستان کے لیبر قانون (خصوصاً Standing Orders Ordinance, 1968 اور Industrial Relations Act, 2012) کی روشنی میں صاف انداز میں سمجھتے ہیں:
---
✅ سوال:
"کیا منیجر، سپروائزر، اِنچارجز — 'ورکرز' میں شمار ہوتے ہیں؟"
🔍 جواب (قانونی وضاحت کے ساتھ):
1. "ورکر" (Workman) کی تعریف:
Standing Orders Ordinance 1968 اور IRA 2012 کے تحت،
> "ورکر وہ شخص ہے جو کسی ادارے میں جسمانی یا ذہنی محنت کے عوض تنخواہ پر کام کرتا ہو — چاہے وہ مستقل ہو، کنٹریکٹ پر ہو یا ٹرینی۔"
---
❌ لیکن... یہ افراد ورکر نہیں کہلاتے:
وہ لوگ جو انتظامی (Managerial), نگران (Supervisory), یا فیصلہ ساز (Administrative) اختیارات رکھتے ہوں
مثلاً: منیجرز، ڈیپارٹمنٹل ہیڈز، ہیومن ریسورس آفیسرز، یا ایسے سپروائزرز جو:
نوکری دینے/نکالنے کی پاور رکھتے ہوں
ڈسپلنری ایکشن لے سکتے ہوں
ورکرز کی کارکردگی پر رپورٹ لکھ سکتے ہوں
✅ جبکہ عام نگران، اسسٹنٹ سپروائزر، یا لوئر لیول اِنچارج —
اگر صرف نگرانی کرتے ہیں، فیصلہ نہیں — تو وہ "ورکر" کی تعریف میں آتے ہیں۔
---
🤔 آپ کے کیس میں (Stitching & Packing Department کے افراد):
عہدہ ورکر میں شمار؟ وضاحت
Stitching Supervisor ✅/❌ Depends اگر صرف حاضری، ہدایات، اور معیار دیکھتا ہے = ورکر
اگر سزا یا رپورٹ لکھتا ہے = نگران افسر (non-worker)
Packing Incharge ✅/❌ Depends اگر صرف کوآرڈی نیٹ کرتا ہے = ورکر
اگر کنٹرول/چارج میں ہے = Non-worker
Department Manager ❌ انتظامی عہدہ ہے، ورکر میں شمار نہیں ہوتا
---
📌 نتیجہ:
اگر کوئی شخص:
صرف تکنیکی سپروائزری یا پروڈکشن کوآرڈی نیشن کر رہا ہے،
اور اسے نوکری دینے/نکالنے یا سزا دینے کا اختیار نہیں ہے،
تو وہ "ورکر" کی قانونی تعریف میں آتا ہے — اور:
اس پر لیبر قوانین کا اطلاق ہوگا
وہ Gratuity، سروس فوائد، اوور ٹائم، چھٹیوں، تحفظ کا حقدار ہوگا
وہ لیبر کورٹ میں کیس کر سکتا ہے
---
✅ آپ کیا کریں؟
آپ اپنے عہدے، ذمہ داری اور اختیارات کو دیکھ کر ثابت کر سکتے ہیں کہ:
> "ہم انتظامی سطح پر نہیں، صرف ورکنگ یا نگران سطح پر کام کرتے تھے، اس لیے ہمیں 'ورکر' سمجھا جائے اور وہی حقوق دیے جائیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
