ORHAN Guloona

ORHAN Guloona

Share

Orhan

12/06/2026

بدلتی ہوئی دنیا: دورِ حاضر کے چیلنجز اور امکانی صورتحال
​آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، اسے اگر 'تبدیلی اور بے یقینی کا دور' کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ عالمی سیاست، معیشت اور ٹیکنالوجی میں اتنی تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں کہ دنیا کا پورا نقشہ اور پرانا نظام بدلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ دورِ حاضر کے چند اہم ترین عالمی مسائل اور حالات درج ذیل ہیں:
​1۔ جیو پولیٹکس اور علاقائی تنازعات
​آج عالمی امن کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ روس اور یوکرین کی طویل جنگ، مڈل ایسٹ (خصوصاً غزہ اور لبنان) کے انتہائی کشیدہ حالات اور تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد جنگ نے دنیا کو بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) جیسے عالمی ادارے ان تنازعات کو روکنے میں بے بس نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے دنیا کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔
​2۔ معاشی بحران اور مہنگائی کا طوفان
​جنگوں، سپلائی چین کی خرابی اور وبائی امراض کے بعد کے اثرات نے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ممالک، اس وقت بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ توانائی (پٹرول اور گیس) اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے نے عام انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
​3۔ ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change)
​دنیا کا سب سے بڑا لیکن خاموش دشمن 'کلائمیٹ چینج' ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کہیں بدترین سیلاب (جیسے پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں دیکھے گئے) آ رہے ہیں تو کہیں شدید قحط سالی ہے۔ گلیشیئرز کا پگھلنا اور موسموں کا بے ترتیب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر زمین کو بچانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل انتہائی ہولناک ہوگا۔
​4۔ ٹیکنالوجی کا انقلاب اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)
​حالاتِ حاضرہ کا ایک انتہائی اہم پہلو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والا انقلاب ہے، خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا عروج۔ جہاں اے آئی (AI) نے طبی، تعلیمی اور سائنسی میدانوں میں نئے راستے کھولے ہیں، وہی اس نے روزگار کے تحفظ، سائبر سیکیورٹی اور جعلی معلومات (Deepfakes) کے حوالے سے نئے سنگین سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
​حاصلِ کلام (Conclusion)
​مجموعی طور پر، دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر ہے۔ ایک طرف انسان نے ٹیکنالوجی اور سائنس میں بے پناہ ترقی کر لی ہے، تو دوسری طرف نفرتیں، جنگیں اور ماحولیاتی تباہی انسانی بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ عالمی طاقتیں ذاتی مفادات اور جنگی جنون کو چھوڑ کر مشترکہ چیلنجز (جیسے ماحولیات اور معیشت) پر توجہ دیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور محفوظ دنیا دی جا سکے۔

11/06/2026

https://www.facebook.com/profile.php?id=61575184697581
my page please all Friends are to follow this page

07/06/2026

آج کے دور میں مزدوری کے حالات: چیلنجز اور بدلتی حقیقتیں
مزدور کسی بھی معاشرے اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آج کے دور (موجودہ دور) میں مزدوری کے حالات کا جائزہ لیا جائے، تو یہ طبقہ شدید معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار نظر آتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکنالوجی کی یلغار اور غیر یقینی روزگار نے مزدوروں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
آج کل کے معاشی حالات میں مزدوروں کو درپیش اہم ترین مسائل اور حقائق درج ذیل ہیں:
۱. کمر توڑ مہنگائی اور کم اجرت
آج کا سب سے بڑا چیلنج مہنگائی اور اجرت کے درمیان کا بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ روزمرہ کی اشیاء، بجلی کے بل، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مزدور کی روزانہ کی اجرت (دیہاڑی) یا ماہانہ تنخواہ بہت کم ہے۔ ایک عام مزدور صبح سے شام تک سخت محنت کرنے کے بعد بھی اپنے خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کر پاتا ہے۔
۲. روزگار کا عدم تحفظ (Daily Wage Instability)
آج کل مستقل ملازمتوں کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ تر مزدور "ڈیلی ویج" (روزانہ کی بنیاد) یا عارضی معاہدوں (Contract) پر کام کرتے ہیں۔
اگر کسی دن کام نہ ملے، تو اس دن گھر کا چولہا نہیں جلتا۔
بیماری یا کسی حادثے کی صورت میں کوئی معاوضہ یا چھٹی نہیں ملتی۔
"گیگ اکانومی" (Gig Economy) جیسے کہ ڈیلیوری بوائز یا آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز، بظاہر آزاد ہیں لیکن انہیں کوئی سماجی تحفظ (Social Security) حاصل نہیں ہے۔
۳. ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کا دباؤ
جدید دور میں فیکٹریوں اور صنعتوں میں مشینوں اور کمپیوٹرز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ وہ کام جو پہلے دس مزدور مل کر کرتے تھے، اب ایک مشین کر دیتی ہے۔ اس آٹومیشن کی وجہ سے غیر ہنرمند (Unskilled) مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اور جو مزدور نئی ٹیکنالوجی سے واقف نہیں ہیں، وہ ریس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
۴. بنیادی سہولیات اور حقوق کا فقدان
آج بھی ایک بڑی تعداد ایسے مزدوروں کی ہے جو خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں۔
طبی سہولیات: کام کے دوران حادثے کی صورت میں علاج معالجے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہوتا۔
کام کے اوقات: قانون کے برعکس، کئی جگہوں پر مزدوروں سے 12 سے 14 گھنٹے کام لیا جاتا ہے لیکن اوور ٹائم نہیں دیا جاتا۔
خواتین مزدور: شعبہ محنت میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اکثر کم اجرت دی جاتی ہے اور انہیں ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک تلخ حقیقت:
"ملک کی تعمیر میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا ہاتھ، رات کو اکثر خالی پیٹ اور چھت کے بغیر سونے پر مجبور ہوتا ہے۔"
حل اور وقت کی ضرورت
مزدوروں کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد کروانا ضروری ہے:
منصفانہ اجرت: مہنگائی کے تناسب سے کم از کم اجرت کا ازسرنو تعین کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے۔
سوشل سیکیورٹی نیٹ: تمام مزدوروں (خواہ وہ عارضی ہوں یا مستقل) کو سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ کارڈ اور پنشن جیسی سہولیات کے دائرے میں لایا جائے۔
تکنیکی مہارت (Skills Training): حکومت اور نجی اداروں کو مل کر مزدوروں کے لیے جدید اسکلز ٹریننگ پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ وہ بدلتی ہوئی مارکیٹ کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔
آخری بات
کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کے بلند و بالا ٹاورز سے نہیں، بلکہ اس کے مزدور کے خوشحال چہرے سے ہوتا ہے۔ جب تک ہم مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کا پورا حق اور عزت نہیں دیں گے، تب تک حقیقی معاشی و سماجی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔
آپ کے خیال میں موجودہ دور میں مزدوروں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلا اور فوری قدم کیا ہونا چاہیے؟اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں ۔

04/06/2026

زندگی کے اتار چڑھاؤ اکثر ہمیں تھکن کا احساس دلاتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ تقدیر کوئی پتھر پر لکھی ہوئی لکیر نہیں جو بدل نہ سکے۔ انسان کی کوشش اور اس کی نیت میں وہ طاقت ہوتی ہے جو حالات کا رخ موڑ سکتی ہے۔
​اگر آپ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، تو یہ چند باتیں شاید آپ کو حوصلہ دیں:
​۱. حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے
​وقت کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ یہ گزر جاتا ہے۔ آج اگر دھوپ ہے تو کل چھاؤں بھی آئے گی۔ صبر کا مطلب صرف انتظار کرنا نہیں، بلکہ انتظار کے دوران اپنا رویہ مثبت رکھنا ہے۔
​۲. تقدیر اور تدبیر
​تقدیر پر یقین رکھنا سکون دیتا ہے، لیکن تدبیر (کوشش) کرنا ہمارا فرض ہے۔ کبھی کبھی ہم ان دروازوں پر دستک دیتے رہتے ہیں جو ہمارے لیے بند ہوتے ہیں، جبکہ خدا نے ہمارے لیے کوئی بہتر راستہ کھولا ہوتا ہے جو ہم دیکھ نہیں پا رہے ہوتے۔
​۳. خود پر کام کریں
​جب باہر کے حالات ہمارے اختیار میں نہ ہوں، تو بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر پر توجہ دیں۔
​شکر گزاری: ان چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کے پاس ہیں۔
​سیکھنا: ہر مشکل سبق دے کر جاتی ہے۔ دیکھیں کہ یہ وقت آپ کو کیا سکھا رہا ہے۔
​"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے"
​آپ کی ہمت ہی آپ کی سب سے بڑی جیت ہے۔

30/05/2026
30/05/2026

MUHAMMAD AFFAN KHATTAK

28/05/2026

Please also follow my page

27/05/2026

تمام دوستوں کو عید الاضحی بہت بہت مبارک ہو ۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karak?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

TEHSIL AND DISTT KARAK
Karak
27000