Yaran e Nabi
Islamic video
سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہمہ وقت عبادات میں مشغول رہتے اور(فرائض کے علاوہ) کثرت سے نفلی نمازیں ادا فرماتے تھے بیشتر ایام نفلی روزہ رکھتے تھے اور بے شمار صدقات و خیرات کیا کرتے تھے اپ نے متعدد بار پا پیادہ(پیدل) ادا حج ادا فرمایا۔
(1)- اسدالغابہ لابن اثیر الجزری ج2 ص 40 تحت الحسین بن علی
(2)- الاستیاب معہ الاصابہ جلد اول ص 377 ترجمہ الحسین بن علی
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے 25 حج پیدل ادا کئے اس حالت میں ان کی عمدہ سواریاں ان کے ساتھ ساتھ چلائی جا رہی ہوتی تھیں اور آپ پیادہ پا یہ سفر کرتے تھے اور اسی طرح حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی پیادہ پا سفر حج کرنے کے واقعات مروی ہیں
(1)- مختصر ابن تاریخ ابن عساکر لابن منظور ج7 ص129 129 تحت ترجمہ الحسین بن علی
(2)- سیر اعلام النبلاء للذہبی ج3 ص193 تذکرہ حسین بن علی
(3)- البدایہ والنہایہ لابن کثیر ج8 ص207 تحت ذکر شئ من فضائلہ
بچپن کے زمانہ میں بچے اپنے والدین کے ساتھ بہت مانوس ہوتے ہیں اور اپنی طفلانہ حرکات کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔
اسی سلسلہ میں عمرو بن دینار ذکر کرتے ہیں کہ جب نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نماز میں سجدہ ریز ہوتے تو بعض دفعہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنی طفلانہ حرکات کی صورت میں جناب نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی پشت مبارک پر کئی بار سوار ہو جاتے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھاتے تو ان کو ہٹا دیتے۔
اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی بچپنے کی شوخیاں برداشت فرماتے تھے اور ازراہ عنایت کوئی سرزنش نہیں فرماتے تھے بلکہ شفقت فرماتے تھے۔
(المصنف لعبد الرزاق ج2ص34 تحت باب ما یقطع الصلٰوۃ)
حضرت یعلی بن مرہ الثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بار ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دعوت طعام میں بلائے گئے۔
راستہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کھیل رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلدی کر کے "حسین" کو پکڑنے کے لیے ہاتھ مبارک پھیلائے. حسین رضی اللہ عنہ ادھر ادھر بھاگتے. جناب نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنسی پیار کرتے ہوئے انہیں اٹھا کر گلے سے لگایا اور بوسہ دیا پھر فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جس نے ان سے محبت کی اللہ تعالی اس سے محبت فرمائے گا۔ جناب حسن اور جناب حسین رضی اللہ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہے۔
(نوٹ۔ اھل بیت کی یہ فضیلت ایک صحابی امت تک پہنچا رہا ھے جو دلیل ھے صحابہ اور اھل بیت کی محبت کی)
(1)- الادب المفرد للبخاری ص 55 تحت باب معانقۃ الصبی
(2)- مشکوٰۃ شریف ص571 الفصل الثانی باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بحوالہ ترمذی
(3)- کتاب فضائل الصحابہ لامام احمد ص 772 جلد 2 فضائل الحسن الحسین
(4)- کتاب المعرفۃ و التاریخ للبسوی ص 308۔ 309 جلد اول تحت یعلی بن مرہ الثقفی ۔
تنبیہ:- محدثین میں محمل حدیث کا بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک روایت کے معنی بیان کرنے کے لیے اس نوع کی دیگر احادیث کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے اور موقعہ و محل کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
یہاں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
چنانچہ مشکوٰۃ شریف مناقب اہل البیت الفصل الثانی میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں ان کے حق میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "عباس مني وانا منه" رواہ الترمذی۔
اس روایت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب میرے اقارب میں سے ہیں۔ اور میں ان کے خاندان میں سے ہوں۔
اور "حسین منی وانا من الحسین" کا مطلب بھی یہ ہے کہ ہمارا خاندان و نسب ایک ہے وہ میری نسل میں سے ہیں اور میں اس کے آباء میں سے ہوں۔
اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ہم میں اتنا قرب اور مناسبت ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
قران کریم میں "منی" کا لفظ اس معنی میں بھی آیا ہے۔
فمن شرب منه فليس مني..... ومن لم يطعمه فانه مني. (مفہوم ۔۔پس جس نے اس سے پیا وہ مجھ سے نہیں ہے اور جس نے اس سے نہ کھایا وہ مجھ سے ہے) سورۃ البقرہ
اس میں ان حضرات کے بارے میں پیشین گوئی بھی ہے کہ یہ لوگ کبھی میرے طریقے سے نہ ہٹیں گے اور یہاں مبارک نسب و نسل کا قرب اور شرف بھی بیان فرمایا ہے اور تمام امت میں ان کا اعلی و ارفع مقام پر فائز ہونا واضح کیا گیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے ساتھ محبت کی اس نے میرے ساتھ محبت کی اور جس نے ان کے ساتھ بغض و عناد رکھا اس نے میرے ساتھ بغض و عناد رکھا۔
(1)- کتاب فضائل صحابہ لامام احمد جلد 2ص 776 تحت فضائل الحسن والحسین
(2)- السنن الکبریٰ للنسائی جلد 5 ص 49
اب یہاں یہ بھی دیکھنا ہے کہ امت تک اس فضیلت کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پہنچا رہے ہیں اس کا واضح مطلب ہے کہ صحابہ اہل بیت سے کس حد تک محبت کرتے تھے
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے محبت اور قدر دانی اور انکے اسلام و ایمان کی گواھی۔
یار لوگ نام علی کا لیتے ھیں اور بعض اپنا نکالتے ھیں اللہ انکو ھدایت دے)
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد جب غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا، نماز جنازہ کے لیے حضرت عمر کی میت مبارک کو لا کر رکھا گیا اس وقت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے تمام اہل اسلام کے سامنے صفوں کے روبرو آکر حضرت عمر فاروق کے ایمان و اسلام کی گواہی دی اور رشک کا اظہار فرمایا۔
حضرت علی کے اس بیان کو "مسجی" والی روایت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے.
بہت سے محدثین فقہاء و مؤرخین سنی و شیعہ نے اس روایت کو اپنی اپنی اسانید کے ساتھ درج کیا ہے
امام محمد اور امام ابو یوسف نے اپنے استاد امام ابو حنیفہ سے روایت کی اور امام ابو حنیفہ نے امام محمد باقر سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ "حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی میت پر حاضر ہو کر فرمایا اللہ آپ پر رحم فرمائے اللّٰہ کی قسم روئے زمین پر اس کفن پوش سے زیادہ محبوب میرے نزدیک کوئی شخص نہیں ہے۔ میں اللہ کی جناب میں حاضر ہوں جیسا کہ اس کا اعمال نامہ ہے میرا بھی اعمال نامہ ویسا ہی ہو"
(1)- کتاب الآثار لامام ابو یوسف ص 215 رقم 952
(2)- کتاب الآثار لامام محمد ص 146 باب فضائل صحابہ
(3)- جامع مسانید الامام اعظم للقاضی الخوارزمی المتوفی665ھ ، ص 204 جلد اول باب فضائل عمر
(4)- مسند لامام احمد ج 1ص 109، تحت مسندات سیدنا علی معہ منتخب کنزالعمال، تحت مسندات مرتضوی
(5)- طبقات ابن سعد، باب حالات عمر ج3 ص 269- 270
(6)- المصنف لابن ابی شیبہ ص 37- 38 ج 12 کتاب الفضائل
(7)- المستدرک للحاکم نیشاپوری ص 93-94 ج 3 بمع تلخیص ذہبی
کتب شیعہ
(8)- کتاب معانی الاخبار للشیخ الصدوق، ص 117
(9)- کتاب الشافی، ص 171 -177 بمع تلخیص الشافی ص 428
سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنھما باپ ، بیٹا دونوں گواھی دیتے ھیں "سیدنا عمر فاروق" جنتی ھیں۔
ملنگ کہتا ھے میں نہیں مانتا۔۔ فیصلہ آپ پہ ھے
"ابو مطر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے جب مجوسی غلام ابو لولوء فیروز نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا تھا تو میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ عمر بن خطاب رو رہے تھے۔ میں نے کہا اے امیر المومنین! آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ حضرت عمر نے کہا کہ میرے حق میں جو آسمانی فیصلہ ہے وہ مجھے معلوم نہیں ہے ۔جنت میں جاؤں گا یا دوزخ میں؟ اس وجہ سے روتا ہوں. میں نے کہا آپ کو جنت کی خوشخبری ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے شمار دفعہ سنا کہ آپ فرماتے تھے پختہ عمر کے جنتیوں کے سردار ابوبکر و عمر ہوں گے اور یہ بڑے عمدہ سردار ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے علی ! آپ اس بشارت کے گواہ ہیں؟ میں نے کہا ہاں میں گواہ ہوں اور اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی کہا کہ تو بھی اس بات کی گواہی دے کہ بفرمان نبوی "عمر" جنتی ہیں"-
(کنزالعمال (بحوالہ ابنِ عساکر) ج6 ص364- باب فضائل عمر فصل فی وفاتہ)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے "داماد" ہیں اور جناب حسنین کریمین کے "بہنوئی" ہیں ۔
لوگوں میں یہ امر مسلم ہے کہ دو شخصوں کے درمیان رشتہ داری کا قائم ہونا ایک آدمی کا لڑکی کا رشتہ دینا دوسرے شخص کا اس کو قبول کرنا باہم اعتماد اور وثوق کی بنیاد پر ہوتا ہے اور آپس میں رشتہ کر لینے کے بعد یہ برادرانہ رابطہ مضبوط تر ہو جایا کرتا ہے۔
اس تمدنی اور نفسیاتی اصول کے تحت حضرت فاروق اعظم عمر بن خطاب نے حضرت علی المرتضی سے ان کی صاحبزادی "ام کلثوم" کا رشتہ طلب کیا (جو کہ سیدہ فاطمۃ الزھراء کے بطن سے ھیں) اور حضرت علی نے بخیر خوبی اور رضامندی سے اپنی عزیزہ کا نکاح کر دیا۔
اس موقع پر حضرت عمر فاروق نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سردار دو عالم نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بیان کیا جو انہوں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یعنی فرمان نبوت ہے کہ "قیامت کے روز تمام رشتے اور تعلقات ختم ہو جائیں گے مگر صرف میرے خاندان کے ساتھ رشتہ اور انتساب کام آئیگا".
حضرت عمر نے کہا میری دلی آرزو ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے کے ساتھ میری نسبت قائم ہو جائے.
ام کلثوم بنت علی جو حضرات سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کے بطن مبارک سے تھی ان کا نکاح حضرت علی المرتضی نے بخوشی ورضا حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب سے کر دیا حضرت عمر نے اس نکاح کو سعادت مندی تصور کرتے ہوئے عقیدت مندی کے ساتھ قبول فرمایا یہ رشتہ ان دونوں حضرات کے باہمی حسن تعلقات کی بڑی مضبوط دلیل ہے۔ ایسے دلائل واضح کو نہ تسلیم کرنا اور پھر بھی ان حضرات کی باہمی دشمنی اور عداوت کا تصور قائم رکھنا عدل و انصاف کے خلاف ہے قرآن مجید،حدیث و تاریخ کو پس پشت ڈال دینے کے مترادف ہے یہ مسئلہ حدیث، روایات اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔
حوالہ جات درج ذیل ہیں
(1)- "کتاب السنن" قسم اول ج3 ص130 لسعید بن منصور الخراسانی المکی المتوفی 227 ھ قسم اول جلدثالث باب النظر الی المرأۃ اذا افراد ان یتزوجھا۔
(2)- المستدرک للحاکم ،ج3ص142،باب فضائل علی
(3)- کنز العمال ج7ص98،روایت825-طبع قدیم(بحوالہ ابن سعد وابن راہویہ مختصراً رواہ بتمامہ)
(4)- مجمع الزوائد للہیثمی ج9ص173 تحت فضل اھل بیت ۔
(5)- کتاب نسب قریش ص41 تحت ولد علی بن ابی طالب
(6)- کتاب المحبر، ص56 تحت اصہار علی
(7)- "المعارف" لابن قتیبہ ص89، 80 تحت اولاد عمر بن خطاب
(8)- کتاب انساب الاشراف بلاذری ص 428
(9)- کتاب الثقات لابن حبان ج2 ص144.تحت بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(10)- جمہرہ انساب العرب لابن حزم ص37، 38 تحت اولاد علی
کتب شیعہ سے۔ (1)- فروع کافی ج2ص141،کتاب النکاح ،باب تزویج ام کلثوم
(2)- الاستبصار جزء ثالث ص186،ابواب العدۃ
(3)- تہذیب الاحکام ص238 کتاب الطلاق باب عدۃ النساء
اسکے علاوہ بیشمار حوالہ جات موجود ھیں
سب سے پہلا انتشار فی الاسلام کا مجرم
امت محمدیہ میں سب سے پہلے جس نے انتشار پیدا کیا وہ شخص "عبداللہ بن سبا" تھا جو نسلاً یہودی تھا اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مختلف مقامات پر مختلف قوموں میں اپنے پروگرام کا پرچار کیا لوگوں کو ہم نوا بنایا۔ اس کی منافقانہ چالوں میں جو لوگ آگئے ان کو آمادہ کر کے خلیفہ اسلام سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر وار کرنے کے لیے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی مرکز اسلام پر حملہ کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کیا۔ اس طرح اہل اسلام میں افتراق اور انتشار کا باب ہمیشہ کے لیے کھل گیا ۔
(1)- وہ لوگوں سے دریافت کرتا تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمانوں سے واپس تشریف لائیں گے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ہاں آئیں گے تو کہتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیسی علیہ السلام سے یقینا افضل ہے تو پھر ان کے واپس آنے سے کیوں انکار ہے۔
(2)- پھر یہ چیز پیش کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں وصیت کی تھی یعنی ان کو اپنا وصی اور اپنا قائم مقام مقرر کیا تھا پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور علی المرتضی خاتم الاوصیاء ہیں۔
(3)- اس کے بعد یہ بات سامنے رکھتا کہ خلافت و امارت کے لیے حضرت عثمان سے حضرت علی بن ابی طالب زیادہ حقدار ہیں اور عثمان نے اپنی خلافت کے درمیان کئی قسم کی زیادتیاں کر ڈالی ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں تھی کہتا ہے کہ حضرت علی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں لیکن وصیت کو پورا نہیں کیا گیا یعنی ان کا حق غصب کیا گیا حضرت عثمان نے خلافت کو ناحق طور پر لے لیا لوگوں کو اس مسئلہ پر برانگیختہ کیا کرتا تھا۔ اپنے اس کردار کی وجہ سے وہ بصرہ سے نکال دیا گیا پھر کوفہ میں داخل ہوا پھر وہاں سے شام چلا گیا شام سے اسے نکالا گیا پھر مصر میں داخل ہوا مصر وغیرہ کے بہت سے لوگ اس کے پراپگنڈا سے متأثر ہو کر فتنوں میں مبتلاء ہوئے۔ ان لوگوں نے کوفہ، بصرہ کے عوام کی جماعتوں کی طرف مراسلت خط و کتابت جاری کر رکھی تھی شکایات عثمانی ان مراسلات کا موضوع ہوتا تھا اس طریقے سے انہوں نے لوگوں کو مخالفت عثمانی پر مجتمع کیا۔ اور کچھ لوگ حضرت عثمان کی طرف بحث و جدال کرنے کے لیے مدینہ ارسال کیا ۔وہاں جا کر انہوں نے کبار صحابہ کرام کو معزول کرنے اور اپنے رشتہ داروں کو امیر بنانے کے طعن ذکر کیے۔ اس طرح لوگوں کے قلوب میں شبہات ڈالنے کی کوشش کی۔
یہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت علی کی "امامت" کے فرض ہونے کا دعوی کیا اور حضرت علی کے مخالفین سے براءت کرنے کو ضروری قرار دیا (یعنی تبری' کرنے کو لازم ٹھہرایا)
حاصل کلام یہ ہے کہ عثمانی خلافت کے آخری ایام میں ابن سبا کی یہ منافقانہ تحریک اہل اسلام میں اختلاف ڈالنے کے لیے چلائی گئی تھی اور ابن سبا نے مختلف علاقوں میں اپنے ہمنواء شر پسند افراد پیدا کر لیے تھے۔ جو حضرت عثمان پر اعتراض کرتے اور ان کے عمال کی زیادتیاں شمار کرتے تھے۔ یہ لوگ مشورہ کے ساتھ کوفہ سے بصرہ سے اور مصر سے چڑھائی کر کے مدینہ منورہ میں آئے تھے۔ اور حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اہل مصر کا سرگروہ عبدالرحمن بن عدیس البلوی تھا۔ بصریوں کا لیڈر حکیم بن جبلہ العبدی تھا اور اھل کوفہ کی پارٹی کا سربراہ مالک بن حارث الاشتر النخعی تھا۔
پہلے کچھ ایام ان لوگوں نے محاصرہ عثمانی کئے رکھا اس دوران مختلف مطالبات حضرت عثمان سے منوانے کے لیے حیلے اور بہانے بنائے رکھے۔ لیکن اصلی مقصد چونکہ دوسرا تھا (یعنی اسلام کے مرکز کو ختم کرنا مقصود تھا) اس لیے مطالبات تسلیم ہونے پر بھی وہ کسی صورت میں مطمئن اور راضی نہیں ہوتے تھے۔ آخر کار انہوں نے اپنے مزموم مقاصد کی طرف اقدام کیا مرکز اسلام (خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان ذوالنورین 84 سال کی عمر میں) موقع پا کر 18 ذوالحجۃ 35ھجری کو شہید کر دیا۔۔۔
اسکے بعد امت سے آج تک اس انتشار کا خمیازہ بھگت تھی ھے یہ تھی سبائی ٹولے کی بنیاد۔
عبداللہ بن سباء کی اسلام دشمنی اور افتراق بین المسلمین کی مختصر سی کارگزاری ذکر کر دی ہے۔ مزید اس کے حالات اگر ملاحظہ کرنے مطلوب ہوں تو مندرجہ ذیل مقامات کی طرف توجہ کریں
(1)۔ البدایہ والنہایہ لابن کثیر ج 7ص 167،168تحت34ھ
(2)۔ تاریخ ابن خلدون (عبدالرحمن بن خلدون المغربی )ج 2۔ ص 1027 تحت بدأ الانتقاض علی عثمان
(3)۔تاریخ ابن جریر طبری ج5ص 90،98،99 تحت33ھ،35ھ
(4)- میزان الاعتدال للذہبی ج2ص 40 تحت حرف العین (تذکرہ عبداللہ بن سباء)
(5)- لسان المیزان لابن حجر ج3 ص 289 تحت حرف العین (تذکرہ عبداللہ بن سباء)
(6)- کتاب التمہید والبیان فی مقتل شہید عثمان، ص 88 تحت ذکر بعث ابن سوداء دعاتہ فی البلاد۔
(7)- تاریخ خلیفہ ابن خیاط ج1 ص 145 تحت 35 ھ( الفتنہ زمن عثمان)
(1)-سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس شخص نے حضرت عثمان کے دین سے تبری اور بیزاری اختیار کی یقینا وہ اپنے ایمان و اسلام سے بری ہوگیا۔
("الاستیعاب" معہ اصحابہ ج3 ص 76. تذکرہ عثمان)
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیانات کے ذریعہ یہ مسئلہ فیصلہ شدہ ہے کہ جو آدمی حضرت عثمان کو ایماندار نہیں جانتا وہ خود ایماندار نہیں جو حضرت عثمان سے بیزار ہوگا وہ دین اسلام سے بیزار ہوگا۔
(2)ـ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اسی نقش قدم پر چل رہا ہوں جس پر عثمان رضی اللہ عنہ آ رہے تھے اللہ کے دین کے معاملے میں انہیں (خیرات و حسنات میں) وہ سبقتیں حاصل ہیں جن کے بعد اللہ ان کو کبھی بھی عذاب نہیں دے گا۔
(انساب الاشراف بلاذری ج5ص9)
(3)- حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے زمین کرید رہے تھے اور آیت ہذا (ان الذين سبقت لهم من الحسنى اولئك انها مبعدون) پڑھ کر فرمایا یہ لوگ حضرت عثمان اور انکے ساتھی ھیں۔ (جنکے لئے جنت مقرر ھو چکی ھے اور وہ دوزخ سے دور ھیں۔)
(انساب الاشراف بلاذری ج 5 ص 10 باب امر عثمان بن عفان۔)
سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام تو واضح ھے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کے بارے گمراہ کرنے والے سے پوچھا جائے تیرا کیا تعارف ھے؟
حضور نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما جن کی ماں حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا ہے۔
یکے بعد دیگرے حضرت عثمان بن عفان کے نکاح میں آئیں ۔اس دوھرے رشتہ کی بناء پر حضرت عثمان کو امت نے "ذوالنورین" کے لقب سے یاد کیا. یعنی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے دو نور نظر یکے بعد دیگرے ان کو نکاح میں نصیب ہوئے۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ نے تاریخ الخلفاء باب ذکر عثمان میں لکھا ہے کہ "حضرت عثمان کے سوا پوری اولاد آدم میں کوئی شخص ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں ائی ہوں"
(1)- تاریخ الخلفاء سیوطی ص 105 باب ذکر عثمان بن عفان۔
(2)- الصواعق المحرقہ لابن حجر المکی ص107 ،الباب السابع، الفصل الاول۔
(3)- کنز العمال جلد 6ص 371 تحت فضائل ذن النورین عثمان۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دوھرے داماد رسول ہیں۔ اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہم زلف (ساڈھو) ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کے بہنوئی ہیں۔ سیدین حسنین کریمین کے "خالو " ھیں۔
لہٰذا محبت اھل بیت انکی رشتہ داری کے ادب کا تقاضا کرتی ھے۔
ھمارے رشتے دار تو قابلِ احترام ھوں اور نبی کے رشتہ دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور ھم تو اپنی بیٹیوں کے رشتے بڑی تحقیق کے بعد معزز لوگوں میں کرتے ھیں لیکن تعجب ھے ایک طبقہ امام الانبیاء کے بارے کیوں .....؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Khushab
123456
