Herbal Bank, 03044300009

Herbal Bank, 03044300009

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Herbal Bank, 03044300009, Health/Beauty, 123, Lahore.

Photos from Herbal Bank, 03044300009's post 14/10/2023
13/10/2023

*پہلوان کیپسول*

*السلام علیکم سامعین حضرات آپ لوگوں*
*کی خدمت میں ایک ایسا تحفہ لے کر* *حاضر ھوا ہو جس میں ٹائمنگ کو بڑھانے* *اور مردانہ طاقت کا انوکھا فائدہ* ہے* *پہلوان کیپسول کا سب سے *بڑا* *فائدہ یہ ہے کے ہر کسی عمر والے* *استعمال کر سکتے ہے اور اس سے بھی* *زیادہ مزے کی بات یہ ہے کے پہلوان* *کیپسول وقتی اور دائمی پہلے ہی دن سے* *فائدہ بتانا شروع کر دیتا ہے*
*پہلوان کیپسول کئی برسوں سے آزمودہ ہے*
*محدود وقت تک کے لئے آرڈر لئے جائینگے*

*نوٹ: پہلوان کیپسول نقصان سے بالکل پاک ہے* *محدود وقت کے لئے دستیاب ہے*


*از قلم حکیم صاحب

Photos from Herbal Bank, 03044300009's post 20/09/2021

*لونگی اور عقر قرا منجن*
*دانت ومسوڑے کادرد. دانتوں کا پیلا پن. ٹھنڈا گرم لگنا. مسوڑوں سے خون نکلنا ,دانتوں کا ہلنا وغیرہ یہ منجن دانتوں ,گلے اور حلق کے اکثر امراض میں بے حد مفید ہے*.

*جس میں لونگ Cloveاور Pellitory Root جیسی قیمتی و دانتوں کو مضبوط کرنے والی ادویہ شامل ہیں.*

ترکیب استعمال: تھوڑی سی منجن لے کر دانتوں پر ملیں اور پانچ سے دس منٹ تک پانی استعمال نہ کریں اور منہ سے لعاب نکلنے دیں کچھ ہی دیر میں منہ صاف اور خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوگا اور دانت, منہ و حلق کے بہت سارے امراض سے محفوظ رہیں گے.

فوائد:
ان شاء اللہ منجن کے کچھ دیر مسلسل استعمال سے آواز صاف سریلی ہوجائے گی دانت موتیوں کی طرح چمکدار اور مضبوط ہو جائیں گے. منہ کی بدبو سے چھٹکارا مل جائے گا. کھانے کا حقیقی ذائقہ محسوس ہوگا.

نوٹ: (۱) اگر درد دائمی ہو یا اکثر ہو جاتا ہو تو ایک ایک گرام صبح و شام ہمراہ پانی نیم گرم کھلائیں۔ کچھ عرصہ کھلانے سے ہمیشہ کے لیے آرام ہو جائے گا۔ مگر دانتوں پر بھی باقاعدہ ملتے رہیں۔
(۲) مریض کی غذا ہمیشہ لطیف اور زود ہضم ہونی چاہیے۔ خاص طور پر جب مریض اعضائے غذائیہ کی خرابی میں مبتلا ہو تو جہاں تک ہو سکے غذا بالکل بند کر دیں۔ جب مریض شدید بھوک کی شکایت کرے تو لطیف نیم گرم غذا دیں۔ اگر مریض کو غذا پر نگرانی نہیں کریں گے تو حسب منشا آرام نہیں ہوگا۔

20/09/2019

صحت مند اعضائے تناسل کی نشانیاں اگر آپ میں یہ نشانیاں ہیں تو آپ بہت خوش قسمت انسان ہیں .
ورنہ آپ بہت بڑی مشکل میں ہیں

آج ہم آپ لوگوں کو نفس کے بارے میں کچھ ایسی خاص نشانیاں بتانے والے ہیں اگر وہ سب نشانیاں آپ کے نفس میں مجود ہیں تو آپ بہت ہی خوش قسمت انسان ہیں
▪نفس کی لمبائی 5 سے 6 انچ
▪ہوشیاری کی حالت میں بلکل سیدھا رہتا ہے .بلکے تھوڑا سا اوپر کی طرف موڑ جاتا ہے
▪اس کے بالز (Testicles) بہت ہی صحت مند ہوتے ہیں
▪مباشرت کے وقت اس میں غضب کی سختی ہوتی ہے جو عورت کو تڑپا کے رکھ دیتی ہے .
▪مباشرت کے وقت شہوت نہ ٹوٹے .
▪مبارک ہو جس آدمی میں یہ نشانیاں ماجود ہیں وہ مباشرت سے خوب لذت حاصل کرتا ہے

Photos from Herbal Bank, 03044300009's post 24/08/2019

ھوالحکیم
طلاٸے شہنشاہ

جیسے کے نام سے ظاھر ھے تمام طلاوں بادشاہ طلا ھے سختی موٹاٸی لمباٸی کےلیے تمام طلاوں کا بادشاہ اعظم ھے نسخہ درج کٸیے دیتا ھوں زیادہ تمہید وتعریف اس کا بنانے والا خود کرے گا
مجربات فقیر
کھنبی آدھا کلو آجکل موسم ھے سانڈے کی چربی تین سوگرام قضیب گاو پانچ عدد قضیب ریچھ تین عدد قضیب بکرا پانچ عدد ریگ ماھی چھ عدد نر روغن کنجدسیاہ ایک کلو تمام ادویہ کےباریک ٹکڑے کرکہ روغنی ھانڈی میں تمام ادویہ اور روغن ڈالکراوپر سے بند کرکہ ساٸیڈوں سے آٹالپیٹ دیں اور چار گھنٹے بالکل ھلکی آگ پر پکاٸیں چارگھنٹےبعد اتار کر مضبوط کھرل مار کہ چھان کر محفوظ کرلیں جہاں کوٸی طلا کام نہ کر رھا ھو اس کی چندبوندیں رزلٹ دیں گی

31/07/2019

پرانا مقولہ ہے کہ عورت کا پیار جزبات پہ مبنی ہوتا ہے.
جبکہ مرد کا پیار حرکات پہ مشتمل ہوتا ہے.

جو بھائی سیکس ٹائمنگ پہ بحث کر رہے ہیں وہ شاید سارا سیکس مرد کے حوالے سے ہی سمجھ رہے ہیں اور زور دار طریقے سے اندر باہر کر کے اپنا پانی نکالنے کو ہی سیکس سمجھ رہے ہیں.

پہلے تو یہ واضح طور پہ سمجھ لیں کہ عورت سے سکون حاصل کیا جاتا ہے. اور سکون صرف پانی نکالنے کا نام نہیں ہے. سیکس میں پورا جسم انوالو ہوتا ہے. جس کا ایک ایک مسام اس سے لطف اندوز ہوتا ہے.

مناسب حد تک لباس اتاریں اور اوپر موسم کی مناسبت سے کوئی چادر یا کپڑا اوڑھ لیں.
اپنے شریک سفر کے جسم کے مختلف حصوں کو ہاتھوں سے اور ہونٹوں سے محسوس کریں. اسے پیار کریں.
اس کے ساتھ چپک جائیں جیسے لباس جسم کے ساتھ چپکتا ہے.

جب جنسی ملاپ کا موقع آۓ تو اپنا عضو اپنے شریک سفر کی رانوں کے بیچ دبا دیں.( اگر سرعت انزال کا مسئلہ ہے تو خود کریں یا اپنے شریک سفر کو کہیں کے آپ کے عضو کو جڑ سے اس طرح پکڑین کہ انکی شہادت کی انگلی اور انگوٹھا اسے حلقے میں لے لے. اب اسے آخری حد تک دبائیں. سرعت انزال پہ کافی حد تک قابو ہو جائے گا اور تناؤ میں بھی اضافہ ہو گا. یہ طریقہ بار بار بھی آزمایا جا سکتا ہے.... جیسے آپ کو عورت کی شرمگاہ سے کھیل کے مزہ آتا ہے ویسے عورت کو بھی موقع دیں کہ وہ آپ کی شرمگاہ سے کھیلے) اور پیار کرتے رہیں. پھر آہستہ آہستہ اندر ڈالنا شروع کریں. اوپری سرا اندر ڈال کے رک جائیں. 20 30 سیکنڈ یا ایک منٹ بعد آدھ پون انچ مزید ڈال دیں. اسی طرح مکمل دخول کر دیں. اس دوران شریک سفر کو چومنا اور ہاتھوں سے سہلانا جاری رکھیں.

اب حرکت روک دیں. آپ محسوس کریں گے کہ آپکی شریک سفر آپ کے عضو کو اپنے اندر بھینچ رہی ہے اور مسلسل پانی چھوڑ رہی ہے. عورت کا پیار اسی میں مکمل ہو جاتا ہے. میرا زاتی تجربہ ہے اور میں نے اس طریقے سے بارہا اپنے ساتھی کو بنا ہلے جلے5 سے 6 بار منزل کیا ہے. (کیونکہ مجھے ان کے ویک پوائنٹ کا پتہ تھا. جہاں ہونٹ یا زبان لگتے ہی وہ منزل پہ پہنچ جاتے تھے😊)
جب آپ کے شریک سفر کی تسلی ہو جائے تو آپ اپنا کام شروع کریں. آرام سے اندر باہر کریں. سرے تک باہر نکالیں اور آرام سے جڑ تک اندر کر دیں. اس دوران پوزیشن بلکل آرام دہ ہونی چاہیے. نا آپ کے جسم میں تناؤ ہو نا شریک سفر کے بدن کو تڑوڑ مروڑ کے دہرا تہرا کیا ہو. بلکل ریلیکس پوزیشن ہو.

فراغت کے بعد اپنے شریک سفر کے اوپر ہی لیٹ جائیں. اسے چومنا اور سہلانا جاری رکھیں. کانوں کی لو، گردن، بغلیں اور چھاتی کے اطراف میں چومنا زیادہ بہتر ہے. امید ہے اس دوران بھی وہ 1 2 بار تو ضرور منزل ہوں گے. جب سانس اور دھڑکن بلکل نارمل ہو جائے تب سائیڈ پہ لیٹ جائیں. 10 سے 15 منٹ بعد اٹھ کے لباس پہنیں. پانی پئیں. پیشاب کریں. کھانا کھائیں. نہائیں دھوئیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا.

خواتین و حضرات اپنے تجربات اور راۓ باقی دوستوں سے شئیر کریں. تاکہ دوسروں کے علم میں بھی اضافہ ہو.

05/01/2019

کراماتی شفاخانہ:
*بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھائیں*

کسی بھی بیماری سے بچنے کے لیے انسانی جسم میں ایک خودکار نظام کام کرتا ہے جو بیماری کا سبب بننے والے جراثیموں کے حملے کو ابتدائی مرحلے پر ہی روک دیتا ہے انسانی جسم میں مزاحمت کا یہ نظام قوت مدافعت کہلاتا ہے۔

چناچہ جب قوت مدافعت کمزور ہونے لگتی ہے تو جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی طاقت کم ہونے لگتی ہے اور بیماریوں سے صحت یاب ہونے میں بھی خاصہ وقت لگتا ہے۔

لیکن مشہور ماہرِ غذائیت نے قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لیے ایک ایسا پاؤڈر بنانے کا طریقہ بتایا ہے جسے آپ با آسانی گھر میں موجود اجزا سے تیار کرکے محفوظ کرسکتے ہیں۔

اجزاء:
سونف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7 کھانے کے چمچ
دیسی ہلدی۔۔۔۔۔7 کھانے کے چمچ
ثابت دھنیا۔۔۔۔۔ 4 کھانے کے چمچ
سفید زیرہ۔۔۔۔۔ 4 کھانے کے چمچ
الائچی پاؤڈر۔ 3 کھانے کے چمچ
سونٹھ پاوڈر۔2 کھانے کے چمچ
کالی مرچ۔۔۔۔۔۔ 2 کھانے کے چمچ
دار چینی۔۔۔۔۔۔ ½ کھانے کا چمچ

بنانے کا طریقہ:
پسی ہوئی سونٹھ اور ہلدی کے علاوہ دیگر تمام اجزا کو ہلکی آنچ پر ہلکا سا بھون لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پیس لیں، اسکے بعد اس میں ہلدی اور سونٹھ پسی ہوئی شامل کریں اور اچھی طرح مکس کرنے کے بعد شیشے کے صاف مرتبان میں ڈال کر محفوظ کرلیں۔

استعمال کا طریقہ:
اس پاؤڈر کو آپ 3 طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں:

1) روزانہ آدھا چائے کا چمچ تیار شدہ پاؤڈر نیم گرم پانی کے ساتھ پھانک لیں۔

2) آپ اس پاؤڈر کی آدھے چائے کے چمچ جتنی مقدار میں ایک کھانے کا چمچ نیم گرم گھی شامل کرکے روزانہ صبح کھا سکتے ہیں۔

3) اس کے علاوہ آپ اسے سبزی اور دیگر کھانوں میں گرم مصالحے کی جگہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

یاد رکھیں:
قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے:

سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے پرہیز کریں۔
روزانہ ورزش کریں۔
وز ن نہ بڑھنے دیں۔
صفائی کا خاص خیال رکھیں اور ہر کام کے بعد ہاتھ ضرور دھوئیں۔

کھانوں کو اچھی طرح پکائیں جس سے اجزا میں موجود جراثیم ختم ہوجائیں۔

روزانہ 6 سے 8 گھنٹے کی نیند پوری کریں۔ اس کے علاوہ اگر ضرورت ہو تو غذائی سپلمنٹس کا استعمال کریں۔

اس بات کا دھیان رکھیں:
اگر آپ زیر علاج ہیں تو اس پاؤڈر کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے لازمی مشورہ کریں۔

اگر آپ کو گیس کی شکایت ہے تو آدھے چائے کے چمچ سے کم مقدار میں استعمال کریں۔

04/01/2019

ﻣﻌﺪﮮ ﮐﺎ ﺍﻟﺴﺮ
‏( Gastric ulcer ‏)
ﺗﻌﺎﺭﻑ
ﺍﻟﺴﺮ ﮐﺴﯽ ﻋﻀﻮ ﯾﺎ ﻧﺴﯿﺞ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻢ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﺎ ﺯﺧﻢ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺍﮔﻠﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺴﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﯾﮧ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﺍﺗﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻃﺐ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﯾﺎ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮮ ﭘﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺯﺧﻢ ﺍﻟﺴﺮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﻠﻮﭘﯿﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺴﺮ ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ Gastric ulcer ﺍﮔﺮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ Duodenal ulcer ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ Peptic ulcer ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔
ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ
ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﺍﻟﻤﻌﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮞ ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﻘﻌﺪ ﺗﮏ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺎﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ۔ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﺨﺶ ﺩﮮ ۔
ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻏﺬﺍﺋﯿﮟ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺟﺰﻭ ﺑﻨﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﮐﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎﻭﯼ ﮐﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺏ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ ۔ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﻧﺎﻟﯽ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﻧﺎﻟﯽ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻘﻌﺪ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﻧﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻋﻀﺎﺋﮯ ﮨﻀﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻌﺪﮦ ، ﺁﻧﺘﯿﮟ ، ﻏﺪﻭﺩ ، ﺍﻋﻀﺎﺋﮯ ﺟﮕﺮ ، ﻟﺒﻠﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﻃﺤﺎﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﻧﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺣﺼﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﻏﺬﺍﺅﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﺬﺏ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﻓﺎﺿﻞ ﻣﻮﺍﺩ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔
ﮨﺎﺿﻤﮧ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺍﻧﺰﺍﺋﯿﻤﺰ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺣﯿﺎﺗﯿﺎﺗﯽ ﻣﺎﺩﮮ ﮐﯿﻤﯿﺎﻭﯼ ﻋﻮﺍﻣﻞ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻏﺬﺍ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺼﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﺬﺍ ﺟﺬﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﻌﺾ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻧﺌﮯ ﭨﺸﻮﺯ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﯿﺎﺗﯿﺎﺗﯽ ﻣﻮﺍﺩ ﻣﺜﻼً ﺍﻧﺰﺍﺋﯿﻤﺰ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﻮﮐﺲ ﻧﺎﻣﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺭﺳﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﻮ ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻋﻀﻼﺗﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﻗﺪﺭﮮ ﮐﻢ ﮔﺮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﺒﺎﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﺳﮯ ﻟﻌﺎﺑﯽ ﻣﯿﻮﮐﺲ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺰﺍﺋﻤﺮ ‏( ﺧﻤﯿﺮ ‏) ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻏﺬﺍ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻟﻌﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻧﺰﺍﺋﻤﺮ ﺟﺴﮯ Ptyalin ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﻀﻮﻡ ﮐﮯ ﻣﺮﺍﺣﻞ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻏﺬﺍ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯽ ﺟﺴﮯ ﺍﯾﺴﻮﻓﯿﮑﺲ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻏﺬﺍ ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﻋﻀﻼﺗﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﮨﺎﺋﯿﮉﺭﻭ ﮐﻠﻮﺭﮎ ﺍﯾﺴﮉ ﯾﮩﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻧﭽﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﭘﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺑﯽ ﮐﮯ ﺟﺬﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﮔﯿﺴﭩﺮﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﻧﭽﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺾ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﭼِﭗ ﭼِﭙﺎ ﻣﺎﺩﮦ ﻣﯿﻮﮐﺲ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﻮ ﮨﺎ ﺋﯿﮉﺭﻭﮐﻼﺭﮎ ﺍﯾﺴﮉ ﮐﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﺟﻮ ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﭙﺴﯽ ﻧﻮﺟﯿﻦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺰﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﻠﮑﺮ ﭘﯿﭙﺴﻦ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﺎﺩﮦ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﻋﻀﻼﺕ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﻮ ﭘﯿﺴﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺎﺿﻤﮯ ﮐﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻧﺸﺎﺳﺘﮧ ﮐﻮ ﮔﻠﻮﮐﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﭘﺮ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﻓﻌﻞ ﻭ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺯﻭﺩ ﮨﻀﻢ ﻏﺬﺍﺋﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻔﺮ ﺟﻠﺪ ﻃﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻏﻨﯿﺎﺕ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﯽ ﻏﺬﺍﺋﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍ ﺟﺰﻭﯼ ﻃﻮﺭ ﮨﺮ ﮨﻀﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻢ ﻣﺎﺋﻊ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍ ﭘﺲ ﭘﺲ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﭨﻮﭦ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﻣﺎﺋﻊ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﻏﺬﺍ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻣﺎﺋﻊ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻃﺐ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻤﻮﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔
ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍ ﮐﮯ ﺟﺬﺏ ﺑﺪﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻧﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺪﮮ ﺳﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ‏( ﮈﯾﻮﮈﯾﻨﻢ ‏) ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﮈﯾﻮﮈﯾﻨﻢ ‏( ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ‏) ﮐﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺩﻭ ﺍﻧﭻ ﮐﮯ ﻏﺪﻭﺩ ﺍﻟﮑﻠﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﯾﮧ ﺍﻟﮑﻠﯽ ﻣﻌﺪﮮ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﯿﺰﺍﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﺘﺪﻝ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﻧﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮﺍﺀ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮧ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻟﺒﻠﺒﮧ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﺍﻧﺴﻮﻟﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭼﺎﺭ ﺍﻧﭻ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔
ﺟﮕﺮ ﻭ ﻏﺪﻭﺩ ﺟﺴﻢ ﺍﻟﻮﺟﻮﺩ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﮐﮯ ﺧﺎﺭﮐﺎﻧﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﮐﺎﻡ ﻏﺬﺍ ﮐﮯ ﮨﻀﻮﻡ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺯﻝ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ۔ ﭘﺘﮧ ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻀﻼﺗﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﮨﻀﻢ ﺟﺐ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺎ ﺳﮕﻨﻞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﺷﺎﻣﻞ ﻏﺬﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺻﻔﺮﺍﻭﯼ ﻣﺎﺩﮦ ﺯﺭﺩﯼ ﻣﺎﺋﻞ ﺳﺒﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﻟﺒﻠﺒﮧ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﺪﻭﺩ ﮨﮯ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﻋﻘﺐ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮐﺎﻡ ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔
1 ۔ ﺍﻧﺴﻮﻟﯿﻦ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
2 ۔ ﮨﺎﺿﻤﮧ ﮐﮯ ﺍﻧﺰﺍﺋﻤﺰ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭﯾﭧ ، ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﺎﻟﯿﮑﯿﻮﻟﺰ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺩﮮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﺟﺬﺏ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ ۔
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ، ﻧﺸﺎﺳﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺟﺬﺏ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻏﺬﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺰﺍﺋﻤﺰ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔
ﻏﺬﺍ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺗﮏ ﭘﺴﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﺍﺳﮯ ﺟﺬﺏ ﮐﺮﻟﮯ ۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﮐﮯ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﻮ ﺟﺬﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮨﺎﺿﻤﮧ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 4 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻏﺬﺍ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪﮦ ﺣﺼﮧ ﺑﮍﯼ ﺁﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﻏﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺪﻧﯽ ﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺬﺏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺑﮍﯼ ﺁﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻀﻢ ﮐﻮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 4 ﺗﺎ 5 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻏﺬﺍ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﺨﺘﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﻏﺬﺍ ﮐﮯ ﮨﻀﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﻌﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﮨﻀﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﻥ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻣﺘﺮﺷﺢ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺍﺳﮑﻮ ﺟﺬﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺰﻭ ﺑﺪﻥ ﺑﻨﺎﺩﮮ ۔ ﻏﺬﺍ ﮐﻮ ﺧﻮﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺗﮏ ﺍﮔﺮ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﺰﻭ ﺑﺪﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﭺ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻀﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ ۔ ﻓﺎﺿﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺎﺩﮮ ﮐﻮ ﻓﻀﻠﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺭﯾﮑﭩﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻘﻌﺪ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﺍﺳﺒﺎﺏ
ﺍﻟﺴﺮ ﺍﺳﭙﺮﯾﻦ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﻮﯾﺖ ﮐﯽ ﺩﺭﺩ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﺩﻭﯾﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﺭﭨﯿﺰﻭﻥ ، ﺳﭩﯿﺮﺍﺋﯿﮉﺯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﺗﮭﺮﺍﺋﭩﺲ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﻭﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻋﺎﺭﺿﮧ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﭼﭩﭙﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﻣﺼﺎﻟﮧ ﺟﺎﺕ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻏﺬﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺒﺐ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﯾﻠﻮ ﭘﯿﺘﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﺰﻣﻦ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺷﻮﺯﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﺎﺭ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺣﺪ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻣﻔﺮﺩ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺍﻟﺴﺮ ﻋﻀﻼﺗﯽ ﺍﻋﺼﺎﺑﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﻭﺍﻓﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍﻭﺵ ﭘﺎﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﻣﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺎﺕ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻏﺪﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﮨﯽ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﻣﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻋﺼﺎﺑﯽ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﮑﻼﺋﻦ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺆﺛﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻗﻮﺕ ﻃﺒﻌﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺭ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﭘﮍﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﻣﻔﺮﺩ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺷﻔﺎ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﻮﮐﺲ ﻧﺎﻣﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﺭﺳﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮﮐﮧ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻋﻀﻼﺗﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮔﮭﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻣﻔﺮﺩ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﺍﻃﺒﺎﺀ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﻀﻼﺗﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﻋﻀﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﭩﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﯿﮑﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺗﮍ ‏( ﭘﮭﭧ ‏) ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﭩﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﭽﮑﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮓ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﺘﻮﺍﺗﺮ ﻟﮕﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔
ﻋﻼﻣﺎﺕ
ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﻥ ﺳﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺴﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺭﺩ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﭘﮭﺮ ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﮨﻠﮑﺎ ﺳﺎ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻗﮯ ﺁﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﺭﺩ ﺫﺭﺍ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﻋﺮﻭﻕِ ﺷﻌﺮﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﯼ ﺷﺮﯾﺎﻥ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﻧﯽ ﻗﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺮﺍﺯ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺧﻮﻥ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻟﺴﺮ ﺟﺐ ﺑﮕﮍﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﺭﺳﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻟﺴﺮ ﭘﺮ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺰﻣﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﮕﮍﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﺩﻥ ﺑﺪﻥ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﺗﺸﺨﯿﺺ
ﺟﺐ ﻣﺮﯾﺾ ﺩﺭﺩ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﯽ ﭘﮑﯽ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﯽ ﮐﺮﮮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺁﺭﺍﻡ ﺁﺋﮯ ﯾﺎ ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺭﺍﻡ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻗﺎﺭﻭﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺧﯽ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﻮﮔﺎ ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﭘﮧ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺧﯽ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﻮ ﻣﺰﻣﻦ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺪﺭﯾﺞ ﺳﯿﺎﮨﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﯾﻮﺭﮎ ﺍﯾﺴﮉ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺯﺵ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﺑﻌﺾ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮨﻠﮑﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﻮﺯﺵ ﺑﮭﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺘﺎﺑﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺷﺪﮦ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺴﭩﺮﻭ ﺳﮑﻮﭘﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﯽ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﻣﺮﯾﺾ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﺘﺮﺍﺩﻑ ﮨﮯ ﺳﭽﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﺮﯾﺾ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﺑﭩﻮﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻣﻌﺪﮦ ﺍﺳﯽ ﺁﻟﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻗﮯ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﻗﮯ ﮐﺎ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﮐﺎ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﻧﯽ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺲ ﺳﯿﻠﺰ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮨﮯ ۔
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻏﺪﺩ ﺟﻮ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﻠﻮﭘﯿﺘﮭﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﮑﻼﺋﻦ ﺍﺩﻭﯾﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﺎﺿﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻧﻈﺎﻡ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﺍﺩﻭﯾﮧ ﮐﯽ ﻣﺘﻮﺍﺗﺮ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺍﺩﻭﯾﮧ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ۔
ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﻤﯿﺎﻭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻀﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﻧﻈﺎﻡ ﮨﻀﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﻟﮑﻼﺋﻦ ﺍﺩﻭﯾﮧ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺧﺘﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺻﻮﻟﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ ۔ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺷﯽ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﻌﺪﯼ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﻠﻮﺱ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺁﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﻤﻮﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﯾﻞ ﺻﻔﺮﺍﺀ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻓﻄﺮﯼ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ۔
ﻣﺎﮨﯿﺖ ﻣﺮﺽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﻀﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺳﮯ ﺳﻮﺩﺍﻭﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﻭﺵ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﻓﺮ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺭﻃﻮﺑﺎﺕ ﺍﻟﺴﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺻﻮﻟﯽ ﻋﻼﺝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻏﺪﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺩﺍﻭﯼ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﻭﺵ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻟﺴﺮ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﺭﻓﻊ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔
ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ
ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﻣﻌﺪﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺟﺬﻭﺑﺪﻥ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﮑﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺭﻭﻏﻨﯽ ﺍﺷﯿﺎﺀ، ﭼﭧ ﭘﭩﯽ، ﻣﺮﭺ ﻣﺼﺎﻟﺤﮧ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﯿﺰ، ﺑﺮﮔﺮ، ﮐﯿﻮﺑﺰ، ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ، ﺑﺎﺯﺍﺭﯼ ﮐﮭﺎﻧﮯ، ﭨﻤﺎﭨﻮ ﮐﯿﭽﭗ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮯ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﮦ ﻏﺮﻕ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺮﯾﺾ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﺜﻼً ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ، ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺍﻟﺴﺮ، ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻢ، ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ، ﺁﻧﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺯﺵ، ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺟﻠﻦ، ﺭﯾﺎﺡ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ، ﮐﮭﭩﯽ ﮈﮐﺎﺭﯾﮟ، ﻣﻨﮧ ﮐﺎ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﺪﻣﺰﮦ، ﻏﺬﺍ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻦ، ﺟﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻑ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺩﺭﺩ، ﭘﺎﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺣﺎﺟﺖ، ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﯿﻠﺌﮯ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﺍﯾﺴﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻭﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺯﺧﻢ، ﻣﻌﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺯﺵ، ﻣﻌﺪﮦ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ، ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﻮ، ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﻣﺮﭺ ﻣﺼﺎﻟﺤﮧ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺟﻠﻦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮉﯼ ﺳﺎﺋﭩﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﺍﯾﺴﯽ ﺯﻭﺩ ﺍﺛﺮ ﺩﻭﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﯽ ﺧﺎﺹ ﺩﻭﺍ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﮐﻮ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﭘﺮ ﻻﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺍ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺟﻮ ﺳﻮﺯﺵ ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻌﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﮨﻤﯽ ﺑﺤﺎﻝ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﺳﮯ ﺟﮕﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺴﺘﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﺟﮕﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻨﺪﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻓﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﻃﺐ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻣﺆﺛﺮ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺴﻢ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻀﺮﺍﺛﺮﺍﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺆﺛﺮ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﻣﺪﺍﻓﻌﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻭﺭﻣﻮ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻭﺍ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺟﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺪﮦ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﻮﻥ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﺸﺎﺵ ﺑﺸﺎﺵ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺑﮭﻮﮎ ﭼﻤﮑﺎﻧﮯ، ﻏﺬﺍ ﮐﻮ ﮨﻀﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﺟﺰﻭ ﺑﺪﻥ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﻭﻏﺮﯾﺐ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﺩﻭﺍ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﺜﻼً ﺳﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﻦ، ﮔﯿﺲ، ﺗﺒﺨﯿﺮ، ﺑﺪﮨﻀﻤﯽ، ﺗﺮﺵ ﮈﮐﺎﺭﯾﮟ، ﺍﭘﮭﺎﺭﮦ ﭘﻦ، ﻗﮯ، ﻣﺘﻠﯽ، ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ، ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ، ﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺍﻟﺴﺮ، ﻣﻌﺪﮮ ﮐﺎ ﻭﺭﻡ، ﻣﻌﺪﮮ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ، ﻣﻌﺪﮮ ﭘﺮ ﺑﻮﺟﮫ، ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ، ﭘﯿﭧ ﮐﺎ ﭘﮭﻮﻟﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﯿﻮﺍﻟﮯ ﺟﻤﻠﮧ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺷﻤﺎﺋﯽ ﺩﻭﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮨﻤﮧ ﻭﻗﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺁﭘﮑﻮ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮐﺮﺩﯾﮕﯽ۔ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﺯﻣﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭّﻝ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﮎ ﮨﯽ ﮐﻢ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﭩﮭﯽ ﮈﮐﺎﺭﯾﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻮﺟﮫ ﯾﺎ ﭘﺴﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻠﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺘﻠﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻠﮑﺎ ﺩﺭﺩ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﺌﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﺾ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻮﺯ ﻣﻮﺷﻦ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻨﮧ ﮐﺎ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﮯ ﺍﻓﻌﺎﻝ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﻣﻌﺪﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺑﻮﺗﻞ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﯿﻨﺎ ﻗﻄﻌﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻮﺍﺭﺿﺎﺕ ﻣﯿﮟ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺑﮩﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻃﺐ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﯿﺮ ﺑﮩﺪﻑ ﺗﺤﻔﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﺗﻨﺪﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﻧﻈﺎﻡ ﮨﻀﻢ ﮐﻮﻏﻀﺐ ﮐﯽ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻏﺬﺍ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﮨﻀﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻗﻮﺕ ﻭ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ۔ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﺍﭘﮭﺎﺭﮦ ﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﻦ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﻭﺁﺭﺍﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺁﭖ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ، ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﭘﮑﻨﮏ ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﭘﺮ، ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ،ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺪﭘﺮﮨﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ " ﻣﯿﺎﮦ ﺣﯿﺎﺕ " ﮨﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻧﻮﭦ : ﺍﺱ ﺩﻭﺍ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺍﯾﻔﯿﮑﭧ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ، ﮨﺮ ﻓﺮﺩ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ، ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ، ﻣﺮﺩ ﺳﺐ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﻣﻔﯿﺪ ﮨ

*السر کی 10 خاموش علامات*
السر جسم کے کسی عضو میں زخم پڑجانے کو کہتے ہیں اور معدے میں زخم ہونے کی صورت میں اسے السر کا نام دیا جاتا ہے جو اکثر معدے کی پچھلی دیوار پر ہوتا ہے تاہم اگلی سطح پر بھی یہ زخم ہوجاتا ہے۔

یہ پرانا ہونے کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے مگر کیا آپ اس کی علامات سے واقف ہیں؟

درحقیقت معدے یا پیٹ میں اس درد کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہئے خاص طور پر اگر درج ذیل میں دی جانے والی علامات سامنے آئیں۔

*شکم کے اوپری حصے میں درد*
السر کی ایک سب سے عام علامت شکم کے اوپری حصے میں درد ہونا ہے، شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق السر اوپری غذائی نالی میں کسی بھی جگہ ہوسکتا ہے تاہم یہ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ یہ چھوٹی آنت یا معدے میں ہوتا ہے، جہاں درد محسوس ہوتا ہے، یہ درد عام طور پر سینے کی ہڈی اور ناف کے درمیان ہوتا ہے اور جلن، خارش یا طبیعت سست ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ کیفیت آغاز میں ہلکی اور قابل برداشت درد کے ساتھ ہوتی ہے مگر السر بڑھنے سے یہ سنگین ہوتی چلی جاتی ہے۔

*متلی*
السر کی ایک اور بڑی نشانی دل متلانا ہے، طبی ماہرین کے مطابق السر کے نتیجے میں ہاضمے میں موجود سیال کی کیمیسٹری بدل جاتی ہے جس کے نتیجے میں دل متلانے خصوصاً صبح کے وقت ایسا احساس ہوتا ہے۔ السر ہونے پر خوراک کو ہضم کرنا اکثر مشکل کام ثابت ہوتا ہے۔

*قے ہونا*
اگر السر بڑھنے لگے تو وقت کے ساتھ دل متلانے کا احساس بڑھ کر قے کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو اکثر ہونے لگتی ہے، جو کوئی اچھا تجربہ تو نہیں مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں ادویات جیسے اسپرین اور بروفین سے دور رہنا چاہئے کیونکہ ان کے استعمال سے السر کی حالت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

*قے یا فضلے میں خون آنا*
واش روم میں فضلے میں خون آنا مختلف طبی مسائل کا باعث ہوسکتا ہے تاہم اگر شکم کے اوپری حصے میں درد کے ساتھ ایسا ہو تو یہ السر کی علامت ہوسکتی ہے، اگر آپ کو بھی اس کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

*کھانے کے بعد اکثر سینے میں جلن*
اگر آپ کو اکثر سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے چاہے غذا کچھ بھی ہو تو السر اس کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ السر کے بیشتر مریضوں کو سینے میں شدید درد کی شکایت رہتی ہے جس کے باعث کھانے کے بعد ہچکیاں آنے لگتی ہیں۔

*کھانے کی خواہش ختم ہوجانا*
السر کے بیشتر مریضوں کے اندر کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں غذا کی مقدار کے استعمال میں کمی آتی ہے جبکہ الٹیاں زیادہ آنے لگتی ہیں اور وزن میں غیر متوقع کمی ہوجاتی ہے۔

*بھوک کا عجیب احساس*
اگرچہ السر کے باعث کھانے کی خواہش ختم ہوجاتی ہے، مگر کھانے کے بعد ایک سے 3 گھنٹے تک ناف اور سینے کے درمیان درد کو اکثر افراد بھوک سمجھ لیتے ہیں، کچھ کھانے سے ہوسکتا ہے کہ درد میں ریلیف ہو تو یہ معدے میں السر کی علامت ہوسکتی ہے۔

*پیٹ پھولنا*
اگر آپ کو محسوس ہو کہ پیٹ ضرورت سے پھول گیا ہے تو یہ گیس کے مقابلے میں سنگین معاملہ ہوسکتا ہے بلکہ السر کی ایک نشانی ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ السر کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہوتی ہے خصوصاً ایسے افراد میں جنھیں پیٹ کے درمیانی حصے میں شکایت کی تکلیف بھی ہو۔

*کمردرد*
ویسے تو السر کو معدے اور چھوٹی آنت سے منسلک کیا جاتا ہے مگر اس کا درد سفر کرکے کمر تک بھی جاسکتا ہے، اگر السر آنتوں کی دیوار تک پھیل جائے تو اس کا درد زیادہ شدید ہوجاتا ہے، دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور اس میں کمی مشکل سے آتی ہے۔

*ڈکاریں*
بدہضمی السر کی چند عام علامات میں سے ایک ہے اور یہ عام طور پر ڈکار کی شکل میں نظر آتی ہے۔
اگر معمول سے زیادہ ڈکاریں آرہی ہوں اور اس کے ساتھ اوپر درج علامات میں سے کوئی نظر آئے تو معالج سے رجوع کریں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Culinary Team

Attire

Address

123
Lahore
LAHORE