Ezify

Ezify

Share

🛍️ Affordable. Trendy. Beautiful.
💎 Lace & Jewelry made for you

26/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Shahi Hussain, Sultana SK, Asghar Ali

20/11/2025

یہ مجھے ہی ایلین لگ رہا یا آ پ کو بھی😅😅😅😅

18/11/2025

ہر صبر کی ایک کہانی ہے، اور ہر دعا کی ایک منزل بھی۔۔ یہ نہ سوچنا کہ تمہارا یہ صبر بغیرپھل کے ہی رہ جائیگا، کبھی یہ گمان نہ کرنا کہ تمہاری دعائیں ضائع ہو جائیں گی، یا د ر کھو ! جس رب سے تم نے امید لگارکھی ہے نا، وہ تو ساتوں آسمانوں اور اس کائنات کا مالک ہے۔ تو جس رب نے تمہارے واسطے یہ تقدیر لکھی ہے، وہی تمہارے حالات کو بدل دینے پر بھی قادر ہے، پس تم اپنے رب کی رحمت سے بھی نا امید نہ ہونا۔💗
صبح بخیر 🙂

15/11/2025

ایک بندے نے بیوی سے کہا کہ تم اللہ کے نام کی قسم کھا کر بتاؤ کہ مجھ سے محبت کرتی ہو۔ بیوی نے کہا کہ جہاں تک قسم کھانے کی بات ہے تو سن لو کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی۔ بندہ بڑا پریشان ہوا کہ میں بیوی سے اتنی محبت کرتا ہوں لیکن وہ محبت ہی نہیں کرتی۔ فورا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور واقعہ سنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کو بلا کر پوچھا تو عورت نے کہا کہ میں نے وہی بات کہی جو حقیقت تھی۔ کیا میں جھوٹ بولتی؟

حضرت عمرؓ نے نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا:

ہاں، تو جھوٹ بول دیتی نا! اگر تم میں سے کسی عورت کو اپنے شوہر سے محبت نہ بھی ہو، تو اسے یہ بات منہ پر نہیں کہنی چاہیے کیونکہ بہت کم گھر ایسے ہوتے ہیں جو صرف محبت پر قائم ہوں، لوگ زیادہ تر اخلاق اور احسان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ (تهذيب الآثار، ابن جریر طبری:146)

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ہر جگہ فوراً سے جواب دینا کوئی دانشمندی نہیں ہے، بعض حقیقتیں سچی ہونے کے باوجود نہیں کہنی چاہیں کیونکہ وہ تیر بن کر دوسرے کے دل کو زخمی کر دیتی ہیں، ایسا دل جس نے آپ کے ساتھ کافی عرصہ رہنا ہے۔

یہاں حضرت عمر نے عورت کو دھوکہ یا جھوٹ نہیں سکھایا بلکہ احسن بات کرنا سکھائی کہ ایسے معاملات میں بد امنی کے بجائے سلامتی ، توڑ کے بجائے جوڑ ، بربادی کے بجائے آبادی اور نفرت کے بجائے پیار والی بات کہنی چاہیے۔

میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:

وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ
اور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کر دی ہے۔ (سورت روم: 21)

زوجین کے درمیان یہ دونوں صفات ہونی چاہیں لیکن کبھی کبھار محبت ختم ہونے لگتی ہے ( خاص طور پر جب حسن ڈھلنے لگے، مال کم ہونے لگے، خوبصورتی بجھنے لگے، وقت زیادہ گزرنے لگے) تو ایسی صورت میں رحمت کو لازم پکڑ لینا چاہیے۔ صرف محبت کی وجہ سے رشتہ نبھانا بہت مشکل ہے کیونکہ محبت ایک جذبہ ہے اور جذبات جلدی ختم ہو جاتے ہیں، جب کہ رحمت ایک رویہ ہے اور رویہ ایک مرتبہ پختہ ہو جائے تو ختم نہیں ہوتا۔

ضروری نہیں ہے کہ ہر دل محبت کی شدت سے دھڑکے، بعض احترام اور قدر سے بھی دھڑکتے ہیں، کتنے ہی گھر ایسے ہیں جو عشق کی آگ پر تعمیر ہوئے لیکن رحمت نہ ہونے کی وجہ سے جلد راکھ بن گئے اور کتنے ہی گھر ہیں جن کی ابتدا میں جذبات سرد مہری کا شکار تھے لیکن رویوں میں رحمت نے انہیں پوری زندگی کےلیے آباد کر دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول کہ اکثر گھروں کی بنیاد محبت پر نہیں ہوتی، ان سب کے لیے تسلی ہے جنہیں لگتا ہے کہ وہ محبت کی کمی کا شکار ہیں، کیونکہ یہ جملہ بتاتا ہے کہ اصل پائیداری محبت میں نہیں ہے بلکہ سلامتی اخلاق، صبر، برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ نرم رویہ رکھنے میں ہے۔ ربِ محبت ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی توفیق بخشے اور ایسے جملوں سے بچائے جن سے گھر کا سکون چند لمحوں میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔

محمد اکبر
13 نومبر 2025ء

11/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! جان جان, Mirha Faisal, Lee Roi Certifie, Jami Khurram Shaleem

06/11/2025

Copied
کیا ہارمونز ہم پر حاکم ہیں؟

آج کی عورت کو یہ احساس پوری طرح دلا دیا گیا ہے کہ ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے اس کا اپنے رویے، موڈ، جسم یا سوچ پر کوئی اختیار ہے ہی نہیں، گویا وہ اپنے ہی وجود کی غلام بن چکی ہے۔ بےشک ہارمونز کا کردار انسانی جسم میں نہایت اہم ہے، مگر کیا اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنا کمزور پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی کیفیات پر قابو ہی نہ پا سکے؟
اگر انسان کو اپنے نفس پر اختیار نہیں، تو پھر تقویٰ، صبر، ضبطِ نفس اور عملِ صالح کا حکم کیوں دیا گیا؟
پھر انسان اور جانور میں فرق کیا رہ گیا؟
صرف اپنے جسم کی بات سننا تو جانوروں کا عمل ہے کہ بھوک لگی تو کھا لیا، جسم تھک گیا تو سو گئے، کسی کو بھی سینگ مار دی، بغیر کسی وجہ کے پاس کھڑے بندے کو لات مار دی، کسی کو کاٹ لیا تو کسی پر چڑھ دوڑے۔۔۔۔ یہ بےقابو کیفیت ہی انسان اور جانور میں فرق کرتی یے۔۔۔
دراصل یہ بیانیے کھڑے کر دیے گئے ہیں کہ عورت گویا کوئی ایسی مخلوق ہے جسے خود پر قابو نہیں اور عورت نے ان پر سرِ تسلیم خم کر دیا ہے۔ گویا وہ ایک ذہنی محتاج مخلوق ہے، جو آنکھیں بند کیے پائڈ پائپر کے پیچھے چلنے والے چوہوں کی مانند ہر مغربی نظریے کو فالو کر رہی ہے۔ یہ سوچ دراصل عورت کے شعور، عقل اور روحانی قوت کی توہین ہے۔ وہ قوت جو اللہ نے اسے امانت دار خلیفہ بنا کر دی ہے۔
اب تو بات یہاں تک آ گئی ہے کہ عورت کو غصے کے بھیانک دورے پڑیں تو کہا جانے لگا ہے کہ
“وہ ماہانہ ایام سے گزر رہی ہے، اس لیے نارمل ہے!”
ارے تو کیا ہر غلط عمل کو نارمل کر دیا جائے؟
وہ کچھ بھی کہہ دے، کسی کو کچھ بھی سنا دے، بڑوں سے بدتمیزی کرے بلاوجہ جھگڑے کرے، سب نظر انداز کر دیا جائے کیونکہ وہ ہارمونل تبدیلی سے گزر رہی ہے؟ اسلام عذر کو مانتا ہے مگر حدود سے باہر جانے کا من چاہا من گھڑت جواز تسلیم نہیں کرتا۔ پھر ایک باشعور عورت کیسے اپنی ہر کیفیت کو “ہارمونز” کے حوالے کر دے؟
آج کی عورت ذہنی امراض و پیچیدگیوں کی علامات تو جاننا چاہتی ہے، مگر وجوہات نہیں اور اگر وجوہات ڈھونڈے بھی تو صرف وہ جن میں کوئی دوسرا یا معاشرہ قصوروار ٹھہرے۔۔۔۔ بس کسی طرح خود کو بری الذمہ کر لیا جائے۔ یہی رویہ نفس کی پہچان سے فرار سیکھاتا یے، ہارمونز کے اثرات سے انکار نہیں، مگر شعور، ایمان اور صبر ہی وہ ڈھال ہیں جو انسان کو ان اثرات سے بلند کرتے ہیں۔
پھر کیوں ہر غلط سوچ، ہر غلط عمل کا جواز ہارمونل تبدیلی میں ڈھونڈا جائے؟
یہ درست ہے کہ بہت سے ذہنی کیفیات بھی میڈیکل کنڈیشنز بن جاتی ہیں،
لیکن کیا اسلام علاج کا منکر ہے؟ کیا دعا، صبر، توازنِ فکر اور علاج سب ایک ساتھ ممکن نہیں؟
ہارمونل تبدیلی کا نام لے کر عورت کے منفی رویوں اور کیفیات کو جواز بنا لینا،اس کی شفا کے راستے بند کر دیتا ہے، یہ اسے ذمہ داری سے فرار سکھاتا ہے۔
خود پر کام کرنے سے جو مسائل حل ہو سکتے ہیں، ان کی ذمہ داری سب سے پہلے خود اسی فرد پر عائد ہوتی ہے۔ جسمانی ہارمونز کی تبدیلی، جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ عورت اپنی بہتری کی ذمہ داری خود لے۔ ماحول اور ساتھ رہنے والے یقیناً اثرانداز ہوتے ہیں، ان کے رویے اثر انداز ہوتے ہیں اور اسی بات کہ پیش نظر کہ لوگ ایک دوسرے کے شر سے محفوظ رہیں، اسلام میں صلہ رحمی کا درس دیا گیا یے۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ
“بہتر مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا محفوظ رہے۔” لیکن اس وقت حال یہ ہے پورا معاشرہ ہی اس اہم ترین اصول کو نظر انداز کیے ہوئے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اگر ماحول بگڑ جائے تو ہم بھی اپنی ذمہ داری چھوڑ دیں؟
انسان سے اس کے جسم، عمل اور ارادے کے بارے میں سوال ہوگا، جو دوسروں نے کیا ان سے ان کا سوال ہوگا اور جو میرے اختیار میں ہے، اس کا جواب مجھے دینا ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف عورت خود مختاری کی بات کرتی ہے،
اور دوسری طرف ایسی مظلومیت اوڑھ لیتی ہے
کہ اپنے کرنے کے کام سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ گویا اب یہ ذمہ داری کسی اور کی ہے
مرد خوش رکھے گا تو میں ٹھیک رہوں گی،
ورنہ میں یا تو زہریلی مخلوق بن جاؤں گی یا مظلوم دیوداسی!
تو اب کہاں گیا وہ اختیار؟
اللہ نے کسی انسان کو سب سے بڑا اختیار اگر کوئی دیا ہے تو وہ یہ کہ وہ اپنے نفس کے شر سے خود کو بچا سکے۔
یہی ایمان کا سب سے پہلا سبق ہے۔
ہارمونز جسم کا حصہ ہیں، لیکن ایمان ان پر بھی حاکم ہے۔ انسان کے پاس عقل، ارادہ اور تقویٰ ہے۔
یہی اوصاف اُسے جانور سے ممتاز کرتے ہیں۔
ہارمونز اثر ڈال سکتے ہیں، مگر فیصلہ انسان کا ایمان اور شعور کرتا ہے۔ آپ کس وقت کیسا برتاو کرتی ہیں اس بارے میں مشاہدہ کریں اپنی ذات کا، اپنے پیٹرنز کو نوٹ کریں، ان کو بہتر کرنے کی کوشش کریں، اپنا خیال رکھیں، اپنا روٹین، عادات و اطوار، رہن سہن، کھانا پینا بہتر کریں، اپنے بارے میں اپنی گفتگو بہتر کریں، اپنے اوپر رحم کریں تاکہ ایسی تبدیلیوں کے دوران اپنا توازن برقرار رکھ سکیں۔ بہت سی تبدیلیاں ہم روک نہیں سکتے وہ جسم کا ردعمل ہوتا ہے مگر ان کے اثرات سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکتے ہیں۔
عورت کو کمزور ہارمونز نے نہیں،
کمزور بیانیوں نے بنایا ہے۔
جو عورت خود کو پہچان لے،
وہ اپنے اصلاحی سفر کی شریک بن جاتی ہے۔
دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں رہتی۔

نوٹ: اس تحریر کا مقصد ہارمونل تبدیلیوں کا انکار نہیں بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ ہارمونل تبدیلیوں کے دوران بھی مسلمان عورت مسلمان ہی رہے گی۔ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوجاتی کہ جیسا چاہے رد عمل ظاہر کرے۔ یا ہارمونل تبدیلی کو ہر غلط عمل کا جواز بنا لے۔ جسمانی و ذہنی صحت پر کام کر کے اس تبدیلی کو بہتر بنایا جاسکتا یے۔ ساتھ اگر روحانیت کو بھی شامل کیا جائے تو ہارمونز فہم و شعور والی بایمان عورت کو ہر بار اپنی انگلیوں پر نہیں نچا سکتے۔ ہاں ایک بات جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ دیگر گھر والوں کو ان ادوار میں جب عورت Harmonal fluctuation سے گزر رہی ہو تو رحم و حلم کا معاملہ کرنا چاہیے۔ جیسے کہ ماہانہ ایام و حمل اور دیگر ہلتھ کنڈیشنز وغیرہ۔ اگر بطور مسلمان ہم اپنی ذبان اور ہاتھ سے مسلمان بھائی کو ایذا نہ دیں تو معاشرے میں بہت کچھ بہتر ہوجائے۔ ہمارے ریوں کی بدصورتی ہی معاشرے میں بگاڑ کا باعث ہے۔ ہم سب کو اپنے کرنے کا کام کرنا ہے۔
نہ ہی عورت معاشرے کی برائی کا سہارا لے کر غلط روش اختیار کر سکتی یے اور نہ ہی معاشرے کے دیگر لوگ اپنے برتاو کی زمہ داری سے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں خیر و شر میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا یے ساتھ نتائج بھی بتا دئیے گئے ہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔
نہ ہی ہارمونز اور نہ ہی کوئی اور ذہنی و جسمانی طاقت ہم پر حکمران ہوسکتی ہے۔ ہمارا حاکم ہمارا دین ہے اور ہمیں ذہنی و قلبی و جسمانی تمام معاملات اس کے سانچے میں ڈھالنے ہیں۔
ہر مشکل وقت میں خالق حقیقی سے جڑا جائے اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے تو انسان کے لیے اپنے رویے اور اپنے نفس کے شر سے بچنا ناممکن نہ رہے۔

فیض عالم

05/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Carumba Laquibla Zilddarnybordz, Joga Ram, Urooj Mirza Consultancy, Om Prakash Kumar, Saeed Akbar

03/11/2025

جن لوگوں کے پاس پرانی گاڑیاں ہوتی ہیں وہ اپنی گاڑی میں بیٹری وائر رکھتے ہیں تاکہ اگر بیٹری کمزور پڑ جائے تو وہ کسی سے مدد لے کر گاڑی اسٹارٹ کر لیں۔

ایک صاحب نے بھی اپنی گاڑی میں اسی طرح سیاہ و سرخ، مائنس پلس، دو وائر رکھے ہوئے تھے۔ امارات میں ایک انڈین عالم دین احمد سراج صاحب کافی وقت یہاں رہ کر گئے ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ جب اس شخص سے ملاقات ہوئی تو مجھے کہنے لگے کہ بیٹری تو ٹھیک ہے مگر میں نے احتیاطاً وائر رکھ لیا ہے کہ کہیں مجھے اس کی ضرورت نہ پڑ جائے۔
مولانا احمد سراج صاحب نے کہا، آپ کو ایک ترکیب نہ بتا دوں جس سے یہ وائر جب تک آپ کی گاڑی میں پڑا رہے گا، آپ کو ثواب ملتا رہے گا؟

پوچھا، وہ کیا؟
مولانا نے جواب دیا، بجائے اس نیت کے کہ کبھی "آپ" کو ضرورت پڑ سکتی ہے یہ نیت کر لیں کہ ہو سکتا ہے کہ کسی "دوسرے" کو اس کی ضرورت پڑ جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ وائر تو آپ بھی استعمال کریں گے مگر کسی دوسرے کی مدد کی نیت کی وجہ سے آپ کے کھاتے میں ثواب اس وقت تک لکھا جاتا رہے گا جب تک یہ وائر آپ کی گاڑی میں موجود رہے گا۔

مدینہ طیبہ میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمرے میں روشن دان بنوایا۔ ایک دوسرے صحابی کے پوچھنے پر بتایا کہ تازہ ہوا اور روشنی کی خاطر بنوایا ہے۔ انہوں نے فرمایا، اگر نیت یہ کر لیں کہ یہاں سے آذان کی آواز آئے گی تو ثواب ملتا رہے گا۔ رہی تازہ ہوا اور روشنی، تو وہ تو ویسے بھی آتی رہیں گی۔

ابھی دو تین روز قبل امارات کی ایک خاتون جواہرہ کی اسٹوری میں نے شیئر کی تھی جس نے ایک ٹرک ڈرائیور کی جان بچائی تھی جو حادثہ کے بعد آگ میں جل رہا تھا۔ جواہرہ کو چند گھنٹوں میں وہ شہرت ملی جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ اعزازات، انٹرویوز اور ویڈیو کلپس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ان کا تعلق عجمان ریاست سے ہے۔ پرسوں عجمان کے بادشاہ نے ان کو شرف ملاقات بخشا۔

جواب میں جواہرہ نے کہا کہ انہوں نے یہ سب صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ کہتیں کہ "یہ سب میں نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیا ہے"۔ انسانی ہمدردی والا مدعا تو اس سے بھی واضح ہو جاتا۔ یاد رہے کہ ٹرک ڈرائیور غیرمسلم تھا اور "اللہ کی خاطر" جیسے الفاظ سن کر وہ کم از کم ایک بار تو سوچنے پر مجبور ہوتا کہ مسلمان یہ سب کچھ اللہ، اپنے رب کی خاطر کیا کرتے ہیں۔

جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ ہم مسلمانوں سے بہت غیرمحسوس انداز میں ہمارا ربّ چھین لیا گیا ہے۔ وہ رب جس کی بدولت ہم سب کچھ ہیں مگر ہم اس کو کچھ بھی دینا نہیں چاہتے۔ بلکہ شاید دنیا کے سامنے اس کا نام لیتے بھی شرماتے ہیں کہ کہیں لوگ ہمیں دقیانوس نہ سمجھ لیں۔
کسی کھلاڑی، کسی فوجی، کسی مالدار، کسی آرٹسٹ، کسی سائنسدان، کسی مصور سے پوچھ کر دیکھ لیں، اس کی زبان پر یہی الفاظ ہوں گے کہ جو کچھ کارنامہ اس نے سرانجام دیا، اپنے وطن کے لیے، انسانیت کی خدمت کے لیے اور فلاں اور فلاں کے لیے دیا۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تو ہر کام اللہ کی رضاجوئی کی خاطر کرتا ہے۔ اللہ تو ہمارا مرکزِمحبت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وَالذِّینَ آمنوآ اّشّدُ حُباً لِلہ۔ "اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں"۔
اللہ نے خود اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا:
"اے نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ ربّ العٰلمین کے لیے ہے۔

یہی حضورصہ کی وہ تربیت ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب رسول کے جملے کچھ اس طرح کے ہوتے تھے:
میں تم سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں۔
میں نے اسے اللہ کی خاطر معاف کیا
میں نے فلاں کی اللہ کی رضا کی خاطر مدد کی۔
میں صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے فلاں کام سے باز آگیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

کبھی کسی نے غور کیا کہ مسلمانوں کی زبانوں سے اس طرح کے فقرے کیوں کر غائب ہوگئے؟ اگر نہیں معلوم تو سن لیجیے کہ اس سے قبل جتنے بھی دوسرے نظریات اسلام کے مدمقابل لائے گئے وہ سب ایک ایک کر کے پسپا ہوگئے۔ اب بازی گروں نے مسلمانوں کے منہ میں "انسانیت سب سے بڑا مذہب" کا نعرہ ڈال دیا ہے.

اور وہ اسی میں خوش ہے کہ اسلام کو پسِ پشت ڈال کر فرعونِ وقت کے مذہب کا غیر محسوس پیروکار بن کر وہ طاغوتِ زمانہ کو خوش کر لے گا۔
ہر انسان جان لے کہ اگر اسے اللہ کی حاجت نہیں تو اللہ کو بھی اس کی حاجت نہیں۔ وہ تو ہے ہی بے پروا و بے نیاز۔
اسے کیا پڑی کہ بندوں کے پیچھے بھاگے جب کہ بندوں نے ایک دن بھاگ کر اسی کے قدموں میں پڑنا ہے!

03/11/2025

Winter collection Viscose fabric

Price Rs.2999 only.

For details or order comment below or inbox. Thanks.

03/11/2025

اسلام علیکم
آ پ کیا بیجتے ہیں؟ کمنٹ میں تصویر بھیجئے ۔ شاید کوئی آ پ سے خریدنا چاہے ۔🙂

02/11/2025

Indeed 💯🔥

يہ بات خوب ياد رکھو!

کسي کو اس کے بچوں کي تربيت پر الزام مت دو۔
اگر تم ديکھو کہ اس کے بچے اس کي طرح نہيں ہيں تو اس پر ہنسو مت اور نہ اس کي غيبت کرو۔

يہ حقيقت قرآن و سنت سے سبق لیتی ہے:

حضرت آدم علیہ السلام نے بھي اپنے بيٹوں کي تربيت ميں کوئي کوتاہي نہيں کي، مگر پھر بھي ایک بیٹے نے دوسرے کو قتل کر دیا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے بھي اپنے بيٹے کي تربيت ميں کوئي کمي نہيں کي، مگر ان کا ایک بیٹا کافر ہو کر ہلاک ہو گیا۔

حضرت يعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے بھي اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے ساتھ حسد کیا اور انہیں کنوئی میں پھینک دیا۔

اصل حقيقت يہ ہے کہ:
لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ
یعنی تم جسے چاہو ہدايت نہیں دے سکتے، ہدايت دینے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

اگر اللہ نے تمہیں نیك اور صالح اولاد عطا کی ہے، تو اس کا شکر ادا کرو۔
یہ تمہاری بڑي تربيت کا نتيجہ نہیں بلکہ اللہ کا فضل ہے۔

یاد رکھو، سب سے بہتر انسان حضرت محمد ﷺ ہیں۔
ان کی پرورش ان کے دادا اور چچا نے کی، جو اس وقت ایمان نہ لائے تھے، مگر اللہ نے خود ان کی تعریف کی:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
یعنی تم بلند اخلاق والے ہو۔

یہ اللہ کی تربیت تھی جس نے اپنے نبی کو پوری انسانیت کے لیے ہادی بنایا۔

لہذا، اپنے بچے کی نیکی کو اپنا کمال مت سمجھو۔
یہ اللہ کی توفیق ہے، اور اگر تمہارا بچہ تمہاری محنت کے باوجود گمراہ ہے، تو خود کو ملامت مت کرو۔
بس دعا کرتے رہو، کیونکہ ہدايت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے دیتا ہے جب وہ چاہتا ہے۔

دعا:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
آمين يا رب العالمين

Copied

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Lahore, Punjab
Lahore