Raza shia

Raza shia

Share

السلام علیکم تحفہ یا علیٔ مدد

02/10/2025

ایڈوکیٹ ماجد کاظمی بھائی کاانتقال ہو گیا ہے

Ya ali a.s madad 24/08/2025

یا علی مدد

Ya ali a.s madad Matam he matam

18/08/2025

I got over 100 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

Photos from Raza shia's post 17/08/2025

واقعہ کربلا – حضرت علی اکبرؑ کی شہادت

کربلا کے میدان میں جب امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں نے ایک ایک کر کے جامِ شہادت نوش کر لیا، تو نوبت امام کے جوان بیٹے حضرت علی اکبر علیہ السلام کی آئی۔ وہ شکل و صورت، اخلاق و گفتار میں رسولِ خدا ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ امام حسینؑ جب کبھی نانا رسولِ خدا ﷺ کو یاد کرتے، تو علی اکبرؑ کو دیکھتے اور تسلی پاتے۔

حضرت علی اکبرؑ نے اپنے والد امام حسینؑ سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام نے بیٹے کو سینے سے لگایا، اور فرمایا:

> "بیٹا! جا، خدا تمہیں اپنی امان میں رکھے۔"

جب علی اکبرؑ میدان میں گئے تو دشمنوں نے کہا:
"یہ ایسا نوجوان ہے جو محمدؐ کی مانند نظر آتا ہے، اس کی زبان بھی ویسی ہی شیریں ہے!"

انہوں نے بڑی دلیری سے جنگ کی اور کئی دشمنوں کو واصل جہنم کیا۔ لیکن دشمن کی تعداد زیادہ تھی۔ آخر کار، کئی زخم کھا کر علی اکبرؑ زمین پر گر پڑے اور پکارا:

> "یا أبتاه! علیک السلام، ہذا جدی رسول اللہ یقرئک السلام۔"
(اے بابا! آپ پر میرا سلام، یہ میرے نانا رسول اللہ ﷺ ہیں، وہ بھی آپ کو سلام کہہ رہے ہیں۔)

امام حسینؑ یہ آواز سن کر دوڑتے ہوئے میدان کی طرف گئے، اور اپنے بیٹے کے لاشے پر پہنچے۔ اٹھاتے وقت فرمایا:

> "علی اکبرؑ! میرے لال! دنیا تمہارے بعد سونی لگتی ہے۔"

پھر انہیں خیمے میں لے کر آئے، اور بی بیوں کی فریاد بلند ہوئی۔ یہ لمحہ کربلا کے سب سے کربناک لمحات میں سے تھا۔

Salar syed Ali shah 17/08/2025

Syed Ali shah husaini

Salar syed Ali shah Matam hi matam

16/08/2025

محمّد آل محمّد کے علاوہ کوئی نہیں ہے ہمارا ہماری جان مال اولاد ماں باپ
اور خود ہم قربان یا حسینٔ اپ کے ہر دشمن پر لعنت بیشمار

10/08/2025

Plz plz plz

10/08/2025

I got over 50 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

08/08/2025

Plz plz dosto my Help me

06/08/2025

حضرت عباسؑ کو امام حسینؑ نے خیموں کے بچوں کے لیے پانی لانے کے لیے بھیجا۔وہ دشمن کے محاصرے کو چیرتے ہوئے نہر فرات تک پہنچے۔پانی لے کر مشکیزہ بھرا، لیکن خود پانی نہ پیا۔

کیوں نہ پیا؟

جب حضرت عباسؑ نے پانی کا پیالہ لبوں تک لایا، تو امام حسینؑ اور اہلِ بیت کی پیاس یاد آگئی۔ انہوں نے کہا:

"لبوں پہ پانی آیا، مگر حسین کی پیاس یاد آئی"

اور پانی واپس رکھ دیا، خود پیاسے ہی مشکیزہ لے کر لوٹے۔

واپسی پر دشمنوں نے حملہ کیا، بازو قلم کیے گئے، مشکیزہ چھلنی کر دیا گیا، اور حضرت عباسؑ شہید ہو گئے۔

یہ واقعہ وفاداری، ایثار، اور عظیم قربانی کی بے مثال مثال ہے۔ حضرت عباسؑ کی اس وفا کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے، کہ پانی تک پہنچ کر بھی اپنے بھائی اور دین کی خاطر خود نہ پیا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس واقعے پر ایک نظم، مرثیہ یا تفصیلی بیان بھی فراہم کر سکتا ہوں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lahore