Mix Publish Times

Mix Publish Times

Share

Non-profit Organization that is Voice of the best Thinkers I am self-motivated or willpower also. Our Mission is Persisting Until You Reach Your Goals

we matter
we make good intentions
we make change
for ourselves
for others
for our society
for our country
for our region
for our world

I would like to state here that i have Self-discipline business, the ability to push myself and yourself(others) forward, stay motivated, and take action, regardless of how we are feeling, physically or emotionally. We are showing it when we intentionally ch

24/09/2021

جب چاہ کر بھی #انسان چند آوازیں، چند تلخ جملے #دل و #دماغ سے نہ نکال پائے۔۔۔۔
جب #بےجا تنقید ذات کے پرخچے اڑا ڈالے۔۔۔۔۔
جب صحیح ہوتے ہوئے بھی غلط گردانا جائے ۔۔۔۔۔
جب آس پاس جھوٹ ، دھوکہ دہی دیکھتے ہوئے بھی #گونگا بننا پڑجائے ۔۔۔۔
جب کسی کی اصلیت آشکار ہونے کے باوجود #قفل لگانا پڑ جائے ۔۔۔۔
جب اچھے بھلے دل و دماغ کے حامل انسان کو محض اپنی شہرت و دولت کی بنیاد پر دیوار سے لگا دیا جائے۔
۔
جب اچھے بھلے انسان کو #تضحیک کا نشانہ بنایا جائے ۔۔۔۔
جب کسی کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے ۔۔۔۔
جب منہ پر آپ سے پیار ، محبت جتایا جائے اور پیٹھ پیچھے آپ کی شخصیت کی دھجیاں اڑائی جائیں۔۔۔۔۔۔
ایسے میں کسی کے بھی کہے گئے چند نیگیٹو جملے نہیں بلکہ چند #الفاظ ہی انسان کو خود کشی جیسے #حرام فعل پر مجبور کر دیتے ہیں۔

۔۔۔۔
اور وہی #الفاظ اگر #پازیٹو ہوں تو مرتا ہوا انسان بھی جی جاتا ہے۔

۔۔۔۔
حالات و واقعات نہیں انسان کو انسانی #رویئے موت کے گھاٹ اتارتے ہیں ۔۔
ورنہ انسان میں اتنی قوت مدافعت تو یقیناً پائی جاتی ہے کہ وہ برے سے برے حالات میں بھی اپنے حواس #بحال رکھتا ہے لیکن ان حالات میں انسانی #روئیے بہت بڑا رول ادا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
ہر انسان کی زندگی میں اک شخص اک #دوست ایسا ہونا اشد ضروری ہے جسے دل و دماغ میں جاری جنگ سے آگاہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہو۔
۔۔۔۔
اور ایسا شخص #خونی رشتوں میں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے کہ اپنے خونی رشتے بعض اوقات بہن بھائی بھی #ذہنی #کیفیت کو سمجھنے کی بجائے اپنی #دانست میں سمجھاتے ہوئے ہی کچھ ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔
#والدین کبھی غلط بات نہیں کرتے نہ کہہ سکتے ہیں لیکن بعض حالات میں ماں باپ کی کہی سچی باتیں بھی #طنز محسوس ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔
ایسے میں فقط اک دوست ہی ہوتا ہے ایسا #دوست جو آپ کو اچھے سے سمجھتا ہو ۔۔۔۔
بن کہے آپ کے دل کا حال جانتا ہو۔۔۔۔۔
بنا #غرض و #غایت آپ کا بھلا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے الفاظ و روئیے سے آپ کے اندر کی #کشمکش ، آپ کے دل و دماغ میں چھڑی #جنگ سے یقیناً آپ کو نجات دلا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔
فی زمانہ ایسے دوست نایاب ضرور ہیں لیکن ہیں ضرور ۔
۔۔۔۔
اگر آپ کے پاس ایسے #نایاب دوست ہیں تو یقین جانیئے آپ #خوش قسمت اور امیر ترین انسان ہیں ۔۔۔⁦⁩۔۔
بہت لکی ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں ایسے دوست مل جائیں۔۔۔۔۔
#الحمدللہ میں خوش قسمت ہوں۔۔۔۔۔۔
اپنے آس پاس جائزہ لیجئیے کیا آپ بھی خوش قسمت ہیں؟
بعض اوقات ہم سے محبت کرنے والے ، ہمیں دل سے چاہنے والے دوست ہماری اک نظر کرم کے منتظر ہوتے ہیں اور ہم خوش آمدی "دوستوں" میں گھرے انہیں یکسر نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں ۔
۔۔۔
بعض دوست سچ میں اینٹی ڈپریشن ہوتے ہیں۔۔۔۔ جو حرام موت کے بارے میں سوچنے کی مہلت بھی نہیں دیتے بلکہ ان سے ملنے کے بعد تو جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔۔
ایسے دوستوں کی #صحبت چاہتے ہیں تو خالص بن کر ملئیے۔۔۔۔
مخلص دوست پانے کے لیے آپ کا مخلص ہونا شرط اولین ہے۔۔۔۔

24/09/2021

آج کل کے بڑے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ'' لوگ کیا کہیں گے''
میں کہتی ہوں، چھوڑیئے لوگوں کو ان کا تو کام ہی کہنا آپ جو مرضی کر لیں، لوگوں کو خوش کرنے کے لیئے اپنی گردن بھی کٹا دیں تب بھی بعض لوگ یہی کہیں گے۔'' صفائی سے نہیں کٹی'' سو۔۔۔۔'' کچھ تو لوگ کہیں گے لوگوں کا تو کام ہے کہنا''
چار دن کی زندگی ہے اس میں بھی سب کو خوش کرنے میں اپنا آپ ہلکان کر ڈالیں اور نتیجہ صفر کا صفر تو کیا ضرورت پڑی ہے۔
خود پر توجہ دیجیئے۔۔۔ اپنا خیال خود رکھنا سیکھیئے۔ ہماری ذات بہت سے معاملات میں ہماری توجہ چاہتی ہے اور ہم اپنی توجہ یونہی ایرے غیرے نتھو خیرے قسم کے لوگوں پر مرکوز کر کے اپنی ذات کو مسائل کے ملبے تلے دبا کر اس سے آنکھیں چرائے دوسروں کی ذات میں خوشیاں بکھیرنے کی لاحاصل کوششوں میں مصروف رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری اپنی شخصیت شکست و ریخت کا شکار ہوکر ایک دن نیست و نابود ہو جاتی ہے۔

سو لوگوں کو خوش کرنے یا ان کی چمچہ گیری کرنے سے بہتر ہے اپنی ذات پر توجہ دیجئے اسے پالش کیجئے لوگ خود آپ کی طرف بڑھیں گے۔ ہاں باتیں بنانا پھر بھی نہیں چھوڑیں گے۔لیکن کم از کم ہمیں ان سے کوئی شکایت تو نہ ہوگی؟۔۔ ہماری ذات پر تنقید کریں گے تو بھی ہمارا فائدہ۔ہمیں مزید اپنی خامیوں کے بارے میں آگاہی ہوگی۔ ہماری تعریف کریں گے تو بھی ہمارا فائدہ کہ کچھ تو ہے ہم میں۔
لوگوں کو ان کے کہنے کو ہرگز خود پر سوار مت کریں۔۔ بلکہ لوگوں کے دل و دماغ میں رہنا سیکھیئے۔۔۔۔ جو آپ کو سراہ رہا ہے یقیناً آپ اس کے دل میں ہیں۔ جو آپ پر کڑی تنقید کر رہا ہے یقیناً آپ اس کے دل و دماغ میں بس رہے ہیں۔۔۔ایسے لوگوں کی باتوں پر قطعاً دھیان مت دیجیئے۔ سب کے دکھ، سکھ میں شریک ہوں لیکن یاد رکھیئے سب کو خوش کرنے کا ٹھیکہ آپ نے نہیں لیا ہوا۔ اور نہ ہی آپ کے ایسا کچھ کرنے سے کسی نے خوش ہوجانا ہے۔۔۔ پھر فائدہ ناحق اپنا وقت برباد کرنے سے؟۔
دوسروں کو خوش رکھیئے ضرور رکھیئے لیکن اس سے پہلے خود خوش رہیے۔ اپنے لبوں پر مسکان سجایئے۔۔زندہ دلی سے جینا سیکھیئے، ہنسیئے۔ کھلکھلائے بنا اس بات کی پرواہ کیئے کہ
” لوگ کیا کہیں گے“

24/09/2021

آج کل ادباء اور شعراء میں ایک عجیب بات دیکھنے کو مل رہی ہے جو کہ دل دہلا دینے والی ہے کہ ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے. ہر ایک کی یہی کوشش ہے کہ اسے دوسرے سے اعلیٰ و ارفع سمجھا جائے. اپنی جھوٹی انا کو تسکین دینے کے لیے ہر کوئی دوسرے پر تنقید کر رہا ہے. کبھی کسی شاعر کے شعر پر تو کبھی کسی ادیب کے نثر پارے پر. کبھی مشاعروں پر جانے والوں کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی افسانہ لکھنے والوں کی مٹی پلید کی جاتی ہے.
حیرانگی اس بات کی ہے کہ اب ادب میں بھی دھڑا دھڑ گروپ بن رہے ہیں اور ایک گروپ دوسرے سے ملاقات تو درکنار چہرہ دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔

ایک دوسرے کی عزتِ نفس اچھالنے کے لیے کرائے کے دانشور اور تجزیہ نگار رکھے گیے ہیں جو ایک ڈبی سگریٹ اور ایک کوکا کولا پر کسی بھی قابل شاعر یا ادیب کی عزت کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں.... ادب کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے سب نے...
اور انتہائی غیر سنجیدہ زبان کا استعمال اب عام ہو چکا ہے.... ادب میں ایسی صورتحال ہم سب کے لیے لمحہء فکریہ ہے...
سچ تو یہ ہے کہ ادب کسی کے باپ کی جاگیر نہیں اور نا ہی انسان کسی کا غلام ہے. ہر ایک کو حق ہے کہ وہ اپنی آراء سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے... اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ اس کے کہے گئے بول اور لکھے گئے الفاظ سے کسی کی دل آزاری نہ ہو.
باقی جو بھی، جیسے بھی، جہاں بھی، جس طرح بھی اور جس صورتحال میں بھی ادب کا کام کر رہا ہے تو اسے کرنے دیا جائے.... اگر حوصلہ نہیں بڑھا سکتے تو کم از کم غیر ضروری تنقید سے گریز کیا جائے........ ادب میں بھلا کیسا مقابلہ.... مومن کے ایک شعر پر غالب اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار ہو گیے تھے.....؟؟
فرض کی ادائیگی میں مقابلے نہیں ہوتے..... نتیجے کی پروا کیے بغیر....
بس ادائیگی ہوتی ہے..... اور شاعر یا ادیب چھوٹا بڑا نہیں ہوتا.... بلکہ شاعر، شاعر اور ادیب، ادیب ہوتا ہے........ اور کوئی بھی اپنی مرضی سے ادیب یا شاعر نہیں بنتا بلکہ یہ فیصلے پہلے سے کر دیے جاتے ہیں..... غزلیں اور نظمیں اپنے شاعروں کو اور کہانیاں اپنے ادیبوں کو خود ڈھونڈ لیتی ہیں...
وہ تمام احباب جو کسی بھی حوالے سے ادب کے ساتھ وابستہ ہیں ان کی مثال سورج، چاند اور ستاروں جیسی ہے..
ہر ایک کا اپنا مقام، اپنا درجہ، اپنا رتبہ اور اپنی جگہ ہے.. سورج چاند کہ جگہ لے گا تو مسائل پیدا ہوں گے..... ستارے سورج کی جگہ آئیں گے تو خرابیاں پیدا ہوں گی......
چنانچہ جو ادب کے سورج اور چاند ہیں، ان سے التماس ہے کہ وہ ستاروں کو بھی اپنی قابلیت آزمانے کا موقع دیں اور ستارے بھی احسان فراموشی نہ کریں بلکہ ہمیشہ سورج اور چاند کے متمنی رہیں.....
کہ آج ہم لوگ جس نہج پر ہیں وہ اپنے سینئرز کی وجہ سے ہی ہیں....ہمارا اپنے سینئرز سے کوئی مقابلہ نہیں....... ہم کوئی مقابلے کرنے تھوڑی آئے ہیں.... ہم تو سیکھنے آئے ہیں..... ہم جانتے ہیں کہ پھل ہمیشہ جھکے درخت کو ہی لگتا ہے...
ہم جونیئرز کو اپنے سینئرز سے پیار اور حوصلہ بھری تھپکیوں کی ضرورت ہے.... نا کہ عزتِ نفس کو مجروح کرنے والی تنقید اور قابلیت کو دبانے والی بے عزتی کی.... اور ہمارے سینئرز بھی ہم سے ڈھیروں ڈھیر ادب اور عزت کی توقع رکھتے ہیں...... اور ایسا ہونا بھی چاہیے...... کیونکہ جو ادب ہمیں ادب نہیں سکھاتا...... وہ ادب ادب نہیں بلکہ بہت بڑا فتنہ ہے..... اور فتنہ تو قتل سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے....... (ادب کے دائرے میں رہ کر سوچیے)

24/09/2021

ہمارے معاشرے میں وقت کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے خاص کر نوجوان طبقے میں مطالعہ کا رجحان کم ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں لاعلمی اور ذہنی الجھاؤ بڑھ رہا ہے۔ مطالعہ کتب ہمیشہ سے انسان کی ضرورت رہی ہے۔ با شعور انسان کے لیے یہ غذا کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب کو تنہائی کا بہترین ساتھی کہا جاتا ہے۔ مطالعہ کتب غیر محسوس انداز سے انسان کی ذہنی نشوونما اور کردار میں مثبت تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
شرط یہ کہ انسان مثبت کتب سے اپنا رشتہ استوار رکھے۔
دنیا میں جتنے بھی عظیم رہنما اور لوگ گزرے ہیں۔ ان میں ایک قدر مشترک رہی ہے کہ انہوں نے مطالعہ کتب کو اپنی عادت بنایا۔ نیلسن منڈیلا ایک نامور اور جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خاتمے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

اس جدوجہد کے دوران انہوں نے زندگی کے ستائیس سال پر محیط لمبا عرعہ قید میں گزار دیا۔

قید میں رہنا کسی قسم کی ذہنی اذیت سے کم نہیں ہے۔ تکلیف دہ حالات میں انسان کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔ اس کو کچھ حد تک وہ لوگ محسوس کر سکتے ہیں جو کرونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں محدود ہیں اور اپنے سوشل سرکل کو کم کر چکے ہیں۔ لیکن اپنی قوت اراردی کو اس مشکل میں مضبوط رکھنے کے لیے اس قید کے دوران نیلسن منڈیلا نے بھی اپنا تعلق مطالعہ اور کتب کے ساتھ بڑھا لیا اور اپنے جذبے، ایمان اور زندگی کے نصب العین کے حصول کی جدو جہد کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔
اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مطالعہ کتب زندگی کی تاریکیوں میں روشنی کی کرن کی مانند ہے۔ جو انسان کو ہارنے نہیں دیتی۔
آج کی نوجوان نسل میں مطالعہ کی اہمیت اور قدر کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مطالعہ کے لیے مسلمان کی زندگی کا سب سے زیادہ وقت کا حقدار دین کا علم ہے۔ اس لیے قرآن و حدیث کےمطالعہ کا رجحان نوجوان نسل میں پیدا کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ دین الٰہی کے درست فہم کے ذریعے ہی انسان اور خاص کر کے مسلمان اپنے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی سمیٹ سکتے ہیں۔ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللّٰہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر ین تعلق استوار کرنے کے لیے مستند کتب کا مطالعہ بے حد سود مند ہے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lakki Marwat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Lakki Marwat
28420

Opening Hours

Tuesday 06:00 - 09:00
17:00 - 21:00
Friday 06:00 - 09:00
19:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00