Dr Qaim Khan Yosufzai

Dr Qaim Khan Yosufzai

Share

1973

17/03/2026

👇👇 ❤💯❤️
💯



The history of
began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projection, the second is the discovery that some substances are visibly altered by exposure to light[2]. There are no artifacts or descriptions that indicate any attempt to capture images with light sensitive materials prior to the 18th century.
View from the Window at Le Gras 1826 or 1827, believed to be the earliest surviving camera photograph.[1] Original (left) and colorized reoriented enhancement (right).
Around 1717, Johann Heinrich Schulze used a light-sensitive slurry to capture images of cut-out letters on a bottle. However, he did not pursue making these results permanent. Around 1800, Thomas Wedgwood made the first reliably documented, although unsuccessful attempt at capturing camera images in permanent form. His experiments did produce detailed photograms, but Wedgwood and his associate Humphry Davy found no way to fix these images.
In 1826, Nicéphore Niépce first managed to fix an image that was captured with a camera, but at least eight hours or even several days of exposure in the camera were required and the earliest results were very crude. Niépce's associate Louis Daguerre went on to develop the daguerreotype process, the first publicly announced and commercially viable photographic process. The daguerreotype required only minutes of exposure in the camera, and produced clear, finely detailed results. On August 2, 1839 Daguerre demonstrated the details of the process to the Chamber of Peers in Paris. On August 19 the technical details were made public in a meeting of the Academy of Sciences and the Academy of Fine Arts in the Palace of Institute. (For granting the rights of the inventions to the public, Daguerre and Niépce were awarded generous annuities for life.)[3][4][5] When the metal based daguerreotype process was demonstrated formally to the public, the competitor approach of paper-based calotype negative and sal

17/03/2026

ملک ایران دنیا کا دوسرا یہودی ملک ہے جس کواسلامی ملک یااسلامی انقلاب کہنا اسلام کی توہین کرناہےحقیقت ملاحظہ فرمائیں 👇➖➖➖➖➖➖➖➖➖
ایک رپورٹ کے مطابق چین جیسے اشتراکیت نواز ملک کی راجدھانی پکین میں 68 مساجد ہیں۔
امریکہ میں مساجد کی کل تعداد 2106 بتائی جاتی ہے، جن میں 257 مسجدیں صرف نیو یورک شہر میں۔
فرانس میں کل 2260 مسجدیں، جن میں 26 صرف شہر پیرس میں۔
"مسجدوں کے دار السلطنت" کے لقب سے مشہور برطانیہ کے شہر لندن میں 400 مساجد ہیں۔
روس کی راجدھانی ماسکو میں 4 مساجد، جن میں ایک تو اتنی شاندار، عالیشان، وسیع اور بھاری بھرکم ہے کہ بیک وقت 10000 نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔
ساؤتھ افریقہ کے مشہور شہر کیپ ٹاؤن میں 10 مسجدیں ہیں، جہاں مسلمانوں کا تناسب 3% سے بھی کم ہے۔
ان سب کے بالمقابل رافضی، صفوی اور مجوسی نام نہاد جمہوری ملک" ایران" کے طہران، اصبہان، اور کرمان نیز دیگر ان سارے بڑے شہروں میں- جہاں جہاں بھی شیعی اکثریت ہے- جبکہ وہاں اہلسنت کی صرف چند مساجد ہیں ۔ جو ایرانی انقلاب سے پہلے کی ہیں ۔اور چند باقی ہیں اکثر شہید کروا دی گئی تھی ۔اور جو چند باقی ہیں ان مساجد پر بھی پابندی عائد ہے اور وہاں اہلسنت علماء کو اپنی سر عام دعوت وغیرہ دینے کی اجازت نہیں ہے ۔
بلکہ ان پر ظلم ہوتا ہے ۔۔
ذمہ دار ایرانی اتھارٹیاں اور متعلقہ ادارے گزشتہ کئی دہائیوں سے کسی بھی جگہ اہلسنت کو مساجد کی تعمیر کی اجازت بالکل نہیں دیتے، اور جمعہ وعیدین تک پر سخت پابندی ہے، حتی کہ پاکستانی سفارتخانہ کی زیر نگرانی چلنے والے سکول تک میں نماز جمعہ کے نام پر اکٹھا ہونے کی قطعا اجازت نہیں۔
اس کے بر خلاف دوسری طرف انہیں ایرانی شہروں میں یہود ونصاری کو مکمل آزادی ہے، ان کی کسی بھی مذہبی عبادت پر کوئی پابندی نہیں، انہیں اپنے ہر طرح کے دینی تہوار منانے کی پوری چھوٹ حاصل ہے، اور جس کیلئے پورے ایران میں 151 کی بڑی تعداد میں ان کی اپنی عبادت گاہیں چرچ اور کلیسا کی شکل میں موجود ہیں، جن میں بیشتر اسی راجدھانی شہر طہران میں ہیں، کہ جہاں مسلمانوں کی ایک بھی مسجد نہیں۔
ان تلخ حقائق کی روشنی میں آخر وہ کون سا اسلام ہے، کہ جس کی دہائی یہ "سیاہ عمامہ پوش پارسی مجرمین"- کہ جن کے دل ان کی پگڑیوں سے بھی زیادہ سیاہ ہیں- دیتے، اور جس کا نعرہ الاپتے رہتے ہیں؟
نیز ہمیشہ اپنے انہیں کھوکھلے نعروں کی بنیاد پر عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی سعی لا حاصل کرتے، اور ناکام کوشش اور جد وجہد میں سرگرداں رہتے ہیں کہ اسلام کے سچے نمائندہ اور علمبردار ہم ہی ہیں، لہذا پورے عرب کی سنی برادری پر سرداری وبرتری، نیز خطہ کی قیادت وسیادت کا حق ہمیں ہی ملنا چاہیئے، صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر- جو ایک المیہ ہی ہے - حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات کی دیکھ ریکھ، انتظام وانصرام اور تحفظ ونگہداشت کی باگ ڈور سنبھالنے کا حسین خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔
اللہ ان کے رو سیاہ کرے، ان کا بھلا نہ کرے، نیز ان پر اپنی وہ مار نازل فرمائے، جس کے یہ اپنے کالے کرتوت اور مجرمانہ افعال واعمال کی پاداش میں کما حقہ مستحق اور سزاوار ہیں۔ آمین۔
ہمارے بہت سے مسلمان بھائی اس خبیث، بد طینت اور مجرم مجوسی حکومت کی اس سیاہ اور ناپاک حقیقت سے اتنے غافل ہیں، کہ "شیعہ سنی، بھائی بھائی" کا دلفریب نعرہ تک لگانے میں کوئی دریغ یا حرج اور قباحت محسوس نہیں کرتے، جس کے پیش نظر دنیا کو ان مجوسی رافضیوں کی اصل حقیقت سے آگاہی اور روشناسی واجب سمجھتے ہوئے یہ چند سطور لکھنا ضروری قرار پایا۔
اللہ رب العزت ان مجرموں کے شرفساد و مکر و فریب سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔۔آمین

02/03/2026

Baitul Elam School System

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Mardan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Malakand Road Tableeghi Markaz Mardan Near GHS Jehangir Abad
Mardan