Entertainment Asi
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Entertainment Asi, Health/Beauty, jalal pur pir walla, Multan.
20/08/2024
*بچیوں کو محفوظ کریں!*
1: اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں۔ بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان، بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی۔
2: جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں، خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو۔ اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں۔
3: بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں، بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں۔ گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں۔
4: بچیوں کو چھوٹے بچوں، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں اور نہ ہی پیشاب وغیرہ کروائیں، حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں۔ بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہئیں۔
5: بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں۔ سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں۔ میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں، پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں۔
6: بالغ لڑکیوں کو یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں۔ اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔
7: بچیاں ہوں یا بچے، ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد، نہ کوئی بڑا انکل، نہ ہی قریبی رشتے دار۔ اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا، گود میں بٹھانا، گدگدی کرنا وغیرہ یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں!
8: بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہئیں۔ بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں۔ بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھ ہونا بالکل غلط ہے، بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے۔
9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے، قریب سے آئے یا دور سے،،
جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں گی۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا۔ اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ۔
10: بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں۔ دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے۔ اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں۔ بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی، اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے، تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے۔
یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں۔ یہ پاکستان ہے یہاں سب سے زیادہ فحش ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں، اور اب تو فحش نگاری کے باقاعدہ مصنفین موجود ہیں جو محرم رشتوں کے آپسی جنسی تعلقات سے متعلق گندی کہانیاں لکھ رہے ہیں اور ویڈیوز بنا رہے ہیں، اور پاکستان کے لوگ سب سے زیادہ ایسی ویڈیوز اور کہانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے یہاں کے لوگ آہستہ آہستہ بھیڑیے بنتے جا رہے ہیں۔ اپنی بچیاں خود بچالیں،
ورنہ یاد رکھیں کسی کو آپ کی بچیوں پر ہونے والی زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی لاش گٹر میں ملے، ندی نالوں میں ملے یا کسی ویرانے میں ملے تو یہ صرف اخبار کی ایک خبر ہے، یا ٹی وی کی نیوز!
انصاف وغیرہ کو بھول جائیں! وہ یہاں نہیں ملتا۔ اس لیے بہتر ہے کہ خود ہی احتیاط کریں!
゚
اسلام علیکم ، یہ کہانی نہیں میرا وہ گناہ ہے جس کا ازالہ میں کبھی نہیں کر سکوں گا 🙂
مجھے یاد نہیں کہ میں نے فیس بک کب استعمال کرنی شروع کی اور کس نے مجھے فیس بک کے بارے میں بتایا، خیر 2011 کا سال تھا جب میں نے اپنی فیس بک آئ ڈی بنائی شروع میں میں نے اسے کبھی سیریس نہی لیا مگر آہستہ آہستہ اس میں دلچسپی لینے لگ گیا۔
مجھے اندازہ ہونے لگا کہ یہاں تو آپ کچھ بھی بن سکتے ہیں آپ ہر وہ شخصیت بن سکتے ہیں جو آپ اصلی زندگی میں بننا چاہتے ہیں آپ سمارٹ بن سکتے ہیں خوب صورت بن سکتے ہیں امیر بن سکتے ہیں زہین بن سکتے ہیں جو آج کل 18 سے 25 سال کا ہر لڑکا بننا چاہتا ہے۔
بس اسی خواہش نے مجھے بھی مجبور کیا اور میں نے سال 2011 میں ہی اپنی ایک فیک(نقلی) آئ ڈی بنا لی اور اس نقلی آئ ڈی پر میرا نام نقلی تھا میری تصویر نقلی تھی میری تعلیم نقلی تھی میرا نام سٹائلش تھا میری تصویر خوبصورت تھی میری تعلیم اچھی تھی۔
اور یہ سب کچھ کرنے کی وجہ صرف اور صرف سب کو خاص کر کہ لڑکیوں کو امپرس کرنا تھی میں نے پوسٹنگ کرنا شروع کی اور میرے دوست بننا شروع ہوے اور میرا فیس بک کو استعمال کرنے کا جنون اور زیادہ بڑھنے لگا۔لڑکیاں میری آئ ڈی میں ایڈ ہونا شروع ہوئیں مجھے گروپس میں ایڈ کیا جانے لگا اور یہں سے مکافات عمل کی پہیلی کا آغاز ہونا شروع ہوا ۔
گروپس کو جوائن کرنے کے بعد میری فرینڈز لسٹ میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور ہوتا بھی کیوں نہ میری اس اپنی بنائی دنیا میں میں ایک ایسا لڑکا تھا جو امیر ہے خوب صورت ہے زہین ہے شرارتی ہے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا ک کب میری بات چیت لڑکیوں سے ہونا شروع ہو گئ بہت سی لڑکیاں میری دوست بنی اور بنا کسی تحقیق کہ میری اس نقلی دنیا کو اصلی سمجھنے لگ گئیں ۔
فیس بک پر میری پہلی گرل فرینڈ بنی اور مجھے بنا دیکھے بنا کسی تحقیق کے مجھ پر بھروسہ کرنے لگ گئی 2011 میں سمارٹ فونز اتنے عام نہیں تھے ک کسی کو بھی وٹس ایپ یا وڈیو کال کر لو بس ایس ایم ایس یا فیس بک یا آڈیو کال۔
وہ میری 2 یا 2 سال سے کچھ عرصہ زیادہ تک میری گرل فرینڈ رہی اور اس دوران میں اس سے اس حد تک بیزار ہو چکا تھا کہ میں نے اسی 2 سال کے عرصہ میں 2 گرل فرینڈز اور بنا لی اور بل آخر میں اس کی سب امیدوں سب خواہشات کا قتل یہ کہ کر کیا کہ ہماری شادی نہیں ہو گی گھر والے نہیں مان رہے ۔ اور اسی طرح سے باقی دونوں کے ساتھ کیا۔
اس بات کا اندازہ کیے بغیر کہ یہ گناہ ہے۔ خیر ان سب تینوں لڑکیوں نے اپنی ہر وہ کوشش کی جو ان سے کی جا سکتی تھی مجھ سے شادی کرنے کے لیے اور میں نے بھی اپنی ہر کوشش کی جان چھڑانے کے لیے اور آخر میں کامیاب ہو گیا ان کے جزبات احساسات خوابوں اور خواہشوں کا قتل کرنے میں۔
اور ایک بار پھر سے ایک گرل فرینڈ بنا لی میں اپنی ہر گرل فرینڈ کو الگ الگ مختلف لڑکوں کی تصویر بھیجتا تھا ایسا نہیں کہ میں خود کو اتنا ہینڈ سم نہیں سمجھتا تھا بس اس لیے کہ مجھ میں اپنی اصلی دنیا کو سامنے لانے کی ہمت نہیں تھی۔
اور لڑکیاں اس حد تک مجھ پر بھروسہ کر لیتی تھی کہ نیوڈز یا سمی نیوڈز تصاویر بھی بھیج دیتی تھیں۔ خیر اس گرل فرینڈ کے ساتھ بھی میں سریس نہیں تھا پر کچھ عرصہ بعد وہ بھی سیریس نہی رہی خدا جانے وجہ کیا تھی پر وہ خود ہی مجھ سے بات کرنا چھوڑ گئی اور میں بھی یہی چاہتا تھا۔
پھر میری اس نقلی سی دنیا میں ایک ایسی لڑکی آئی کہ جس کے وسیلے سے مجھے میرے اس گناہ کا احساس ہونا شروع ہوا یہ آخری لڑکی تھی جس سے میری اپنی اس نقلی آئی ڈی پر بات چیت ہوئی ۔
سال 2012 کے آخر پر اس لڑکی سے جان پہچان ہوئی کسی گروپ میں اور آہستہ آہستہ دوستی ہو گئی وہ لڑکی مجھ سے 2 سال بڑی تھی اور بینک میں کام کرتی تھی خوب صورت سادہ مزاج تھی اسے پہلے میری طرح کے کسی نے دھوکا دیا ہوا تھا فرق بس اتنا تھا ک اس لڑکی کی دوستی اس لڑکے سے یو فون کی کسی سروس کے زریعے سے ہوئی تھی اس سروس پر آپ اجنبی لوگوں سے بات کرتے اور دوست بناتے تھے خیر اس لڑکے نے 2 سال اس کے ساتھ رلیشن رکھا اس دوران دونوں بہت بار ملے بھی مگر اس لڑکے نے اسے میرے بہانوں جیسا بہانہ دے کر اسے چھوڑ دیا۔
یہ لڑکی اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرتی تھی ہم بہت اچھے دوست بن گئے تھے ہم ان لائن 8 بال پول نام کی ایک گیم کھیلتے رہتے تھے ایک دوسرے سے ہسی مزاق کرتے رہتے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہم بہت اچھے دوست بن گئے تھے بنا ایک دوسرے کو دیکھے بنا ملے۔
پھر آہستہ آہستہ وہ مجھے پسند کرنے لگ گئی اور ایک دن اس نے مجھے اپنی تصویر بھیج دی اور چاہتی تھی کہ میں بھی اپنی تصویر بھیجوں۔ میں نے ہر بار کی طرح اسے کسی اور کی تصویر بھیج دی اور ہر بار اسے اسی انسان کی تصویریں بھیجنے لگ گیا جس کو میں جانتا بھی نہیں تھا بس کسی فیس بک ڈی پی پیج سے اس کی پروفائل نکالی تھی۔
سال 2013 کے آخر پر اس لڑکی نے مجھے اپنی خواہش بتائی کہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے اور میں بھی اس بات پر خوش ہوا مگر مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ وہ مجھے نہیں جانتی کسی بہروپیے کو جانتی ہے جو میں نہیں ہوں۔
اس لیے میں اسے اسی وقت کہ دیا کہ یہ ممکن نہیں اور بہت بہانے بھی دیے کہ میرے گھر والوں نے میرے لیے کوئی ڈھونڈ رکھی ہے۔
لیکن وہ زد پر تھی اور میں نےبھی اس کی اس زد کا فائدہ اٹھاتے ہوے کہ دیا کہ ٹھیک ہے ہم کوشش کریں گے باقی جو قسمت۔ اور یہ سلسلہ شروع ہو گیا، ہم بہت اچھے دوست بھی تھے اس لیے میں نے کبھی بھی اس سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی تصویر نہیں مانگی جبکہ وہ مجھے کبھی کبھی اپنی ایک سادہ سی تصویر بھیجا کرتی تھی جب کبھی کسی شادی یا فنکشن پر جاتی، اس کی عمر مجھ سے 2 سال زیادہ تھی اور لڑکیوں کے رشتے بھی جلدی آتے ہیں تو وہ مجھے بتایا کرتی تھی کہ اس کے لیے رشتہ آیا تھا اس نے انکار کر دیا۔ مجھے اس لڑکی کی عادت سی ہو گئی تھی میں بس اتنا چاہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسے ہی رہے یہ جانتے ہوے بھی کہ یہ میں غلط کر رہا ہوں۔
وقت گزرتا رہا اور وہ کسی نہ کسی طرح اپنے لیے آئے ہوے رشتوں کو منع کرتی رہی اور آخر کار اس نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ باہر کے ایک
Copy
ملازم: سر آج میرا موڈ اچھا نہیں آج میں
آفس نہیں آوں گا۔😌😌
باس: جب میرا موڈ آف ہوتا ہے تو میں اپنی
بیوی کو دیکھتا ہوں جس سے میرا موڈ ٹھیک
ہو جاتا ہے۔تم بھی ایسا کرو۔
دو گھنٹے بعد ملازم بولا:
سر میرا موڈ ٹھیک ہو گیا،
آپ کی بیوی
تو
واقعی کمال ہے 😉😅😅
مجھے حیرت ہے اس معاشرے کی المیہ پر۔ !!!
ایک عورت جسے خاوند غصے میں طلاق دے اور پھر بھی اسے اپنے پاس رکھے !!
کچھ نمبرز کے لئے لڑکی پروفیسر کے بستر پر چلی جائے !!
کالجوں کی صفائی والوں کو کاغذ کے ٹکڑوں کے بجائے روزانہ جگہ جگہ سے کنڈوم ملیں !!
گرلز ہاسٹل میں ہم جنس پرستی میں مبتلا لڑکیاں !!
مدراس میں معصوم بچوں کا ریپ !!
نقاب اوڑھے جاتی لڑکی پر اس کے باپ کی عمر کا بندہ ہاتھ صاف کرے !!
طلاق دیکر پھر غلطی کا اعتراف کر کے کسی شریف عورت کو حلالہ کے نام پر کسی اور کے بستر پر بھیجنا !!
دو چار چھ چھ سال کی کم سن بچیوں کے ریپ !!
سگے رشتوں سے عورت کا محفوظ نہ رہنا !!
روحانی باپ کا اپنی بیٹی سے شادی کرنا (مطلب استاد اور شاگرد )
شادی شدہ عورتوں کے بچوں کی عمر کے لڑکوں سے تعلقات !!
شادی شدہ مردوں کے اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکیوں سے تعلقات !!
پارکوں میں سکولز کالجز کے لڑکوں کا ڈیٹ پہ جانا !!
یونیورسٹی میں دوست کی مدد کرنے کےلئے جسم کی فرمائشی کرنا !!
مغرب کی تہذیب اور ثقافت دیکھ کر ٹائٹ پنٹ شرٹ پہنا بال کھول کر کالج اور یونیورسٹی جانا !!
کسی لڑکی کو پیار کے جال میں پھنسا کے اسے بلیک میل کر کے اپنے دوستوں کے سامنے پیش کرنا !!!
اپنے جسم کی نمائش کرنا اور اپنے سے امیر لڑکے کی تلاش کرنا ، اس کے ساتھ گاڑیوں میں نازیبا حرکات کرنا !!
بیٹے کی شادی اس وجہ سے نہيں کروانا کے وہ کام نہیں کرتا !!
بیٹی کے لیئے پڑا لکھا امیر لڑکا ڈھونڈنا !!
جب جسم کی بھوک لگتی ہے ناں ، تو لڑکی اور لڑکے کو پھر کسی کی عزت کا خیال نہیں رہتا!!
آپ لوگ مجھے سچ لکھنے کا کہہ رہے ہو دماغ خراب ہوگیا ھے آپ لوگوں کا۔۔۔؟
جاؤ تم حقیقت سے دور رومانی ناول کہانیاں پڑھو سچ سننے اور پڑھنے کا تم لوگوں میں کہاں حوصلہ ، سچ تو کڑوا ہوتا ہے
thzeeb zindabad
پرکھاں دی ہر گل نوں ٹالن لگ پئے آں
اپنے ہتھیں جیون گالن۔۔۔۔۔... لگ پئے آں
دھر کے ہانڈی اتے ۔۔۔۔۔۔کوڑھ اناواں دی
چلھے دے وچ قدراں بالن۔۔۔۔ لگ پئے آں
مشیر نےدریا پر اپنے ترازو سے پانی کا وزن کرنا شروع کر دیا۔ کشتی بانوں نے اس کا سبب دریافت کیا تو مشیر نے ان کو بتایا کہ بادشاہ سلامت نے اس کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ جو کشتی بان زیادہ سواریاں کشتی میں سوار کرتے ہیں اور اس طرح لوگوں کی جانوں کو خطرےم یں ڈالتے ہیں، ان کے بارے میں آگاہ کرے تا کہ انہیں سخت سزا دی جائے۔ چونکہ تم سب زیادہ سواریاں اٹھاتے ہوں اس لیے سزا کے لیے تیار رہنا۔
تمام کشتی بان یہ جان کر فوراً مشیر سے معافی مانگنے لگے۔ معاملہ اس بات پر طے ہوا کہ وہ ماہ کے آخر تک دو ہزار سکے دیں گے اور آیندہ زیادہ سواریاں نہیں اٹھائیں گے۔ ماہ کے آخر تک کشتی باتوں نے دو ہزار سکے سوداگر کو ادا کر دیے جو اس نے خزانہ سرکار میں جمع کروا دیے۔
دو ماہ کے بعد مشیر کو بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا، مشیر اس دفعہ بہت خوش تھا کہ اُس نے اپنی عقل اور دانش سے بادشاہ کے 2 ہزار سونے کے سکے ادا کر دیے ہیں اور ضرور اُس کو خوش ہوکر مشیر سے ترقی دے کر وزیر بنا دیا جائے گا۔
بادشاہ کو جب پتہ چلا کہ مشیر اس دفعہ بھی کام یاب ہوگیا ہے تو وہ دل ہی دل میں غُصہ کرنے لگا کہ یہ مشیر اب اُسے دربار میں شرمندہ کرنے پھر آگیا ہے۔ اس لیے اُس نے اپنے ایک خوشامدی وزیر جو مشیر سے نفرت بھی کرتا تھا کو اشارہ کیا کہ وہ اُس کے قریب آئے اور جب خوشامدی بادشاہ کے قریب آیا تو بادشاہ نے اُس کے کان میں کہا ” اس مشیر کو فصیل سے دھکا دے دو تاکہ اس کی صورت ہم دوبارہ نہ دیکھیں۔
وزیر انتہائی خوش ہوا اور مشیر کو انعام دینے کا کہہ کر فصیل پر لے گیا، جب مشیر فصیل پر پہنچا تو اُس نے وزیر سے کہا میری عقل اور دانش مجھے دکھا رہی ہے کہ تُم مجھے اس فصیل سے دھکا دینے والے ہو لیکن ایک بات یاد رکھنا جب کوئی بادشاہ اہلِ علم کو اپنے دربار سے یوں رسوا کر کے نکالتا ہے تب اُس کے تاج کے دن گنے جا چکے ہوتے ہیں۔
وزیر نے مشیر کو بات ختم کرنے سے پہلے ہی فصیل دے دھکا دیا اور واپس چلا گیا۔ ٹھیک سات دن بعد بادشاہ کی سلطنت پر اُس کے طاقتور پڑوسی ملک نے حملہ کیا، بادشاہ دربار میں موجود تمام دانشوروں کو چُن چُن کر ختم کر چکا تھا جو ہمیشہ اُسے اپنی ذہانت سے طاقتور پڑوسی سے جنگ سے بچا لیا کرتے تھے۔ اس نے خوشامدی اکٹھے کر رکھے تھے۔ وہ اُسے اس جنگ سے کیسے بچاتے۔ بادشاہ بُری طرح جنگ ہارا اور جب پکڑا گیا تو پڑوسی ملک کے بادشاہ نے اُسے اُسی فصیل پر کھڑا کر کے جہاں سے مشیر کو دھکا دیا گیا تھا نیچے دھکا دے دیا۔ ختم شده
معاشی استحکام غربت سے نجات کیسے ملی۔
مجھے گھر سے نکال دیا گیا تھا اور میرے پاس بس چند لاکھ اکاؤنٹ میں تھے۔ اور مجھے معاشی استحکام چاہئے تھا
کتنا پیسہ زندگی میں چاہئے اس کا جواب ہر بندے کے پاس الگ الگ ہوگا، یہاں پر وہ پیدل چلنے والے کی بائیک کی خواہش اور بائیک والے کی گاڑی کے حصول کی خواہش والی مثال ری کال کر لیجیے ۔
تو یہ کیوں کہ میری کہانی ہے تو میں کم از کم اتنا پیسہ چاہتا تھا جتنا کہ میرے خاندان والوں کے پاس تھا کہ میں کم از کم لانگ ہاول پر صرف بزنس میں سفر کروں، اور فائیو سٹار سے کم میں نہ رہوں، میں پہلے کہیں بتا چکا کے میرے خاندان والے زمیندار اور گدی نشین قسم کے حرام کمانے والے لوگ ہیں ، میری حرکات اور پسند کی شادی وہ بھی ایک بدنام لڑکی سے کرنے کی وجہ سے مجھے گھر سے نکال دیا گیا تھا. نکال دیا گیا ، ایسے سمجھیں کے مجھے ایک شہر والا گھر دے دیا گیا تھا اور واپس گاوں جانے پر پابندی لگ گئی تھی ۔
اسی ڈیپریشن کے عالم میں میں کرمانی صاحب کے پاس گیا اب کرمانی صاحب کا تعارف یہ تھا کہ یہ میرے دادے کے دوست تھے کچھ روحانی سلسلہ چلا رکھا تھا اور مجھ سے خاص شفقت رکھتے تھے ، میں نے ان سے اپنی حالت بیان کی اور کچھ صلح صفائی کروانے کا کہا اور ساتھ یہ بھی کہ میں اب بس اب کچھ اپنا کرنا چاہتا ہوں تا کہ خاندانی وسائل پر ڈیپینڈنٹ نہ رہوں۔ کرمانی صاحب نے صلح صفائی کے سلسلہ میں جو اقدامات کئے وہ ایک الگ داستان ہے مگر جو کاروباری سلسلہ میں کچھ ٹپس دیں جو میں اپ سے شئیر کروں گا۔۔ان ٹپس کے دو حصے ہیں ایک حصہ روحانی ہے اور ایک حصہ مادی۔۔۔تو پہلے مادی حصہ کی بات کرتے ہیں۔
1. کاروبار ایمانداری سے ہوتا ہے، اگر اس میں بد عنوانی ہو تو وہ کاروبار نہیں فراڈ بن جاتا ہے
2. اپنے ملازمین کی تنخواہیں دوسروں سے زیادہ اور ہر صورت پہلی تاریخ کو ادا کی جائیں
3 ۔ کسی کی پیمنٹ اگر دینی ہو تو اس کے مانگنے سے پہلے اس کو پیمنٹ ٹرانسفر کر دینی ہوگی
4. نقصان ہو جائے چاہئے فائدہ جب زبان دے دی تو اس پر عمل کرنا ہوگا
5.کاروبار کی خاطر اپنی صحت برباد نہیں کرنی کبھی گھر میں کام مت لاو، پورا آرام اور پورا کام ۔
یہ کوئی انوکھے اصول نہیں ہی۔ ہر ایک مہزب انسان ان پر عمل کرتا ہے اور کرے گا سوائے ہمارے چند ڈاڑھی پوش فراڈیوں کے۔
اس کے علاوہ روحانی ٹپس جو تھیں وہ کچھ اس قسم کی ہیں، ہر مہینے کسی ایک مستحق کی اتنی مدد کرنی ہے کہ اس کے سٹینڈرڈ کے مطابق اس کے گھر کا راشن اجائے۔ مگر وہ پیشہ ور گداگر نہ ہو ، کبھی گالی نہیں دینی ، کبھی قسمت کو نہیں کوسنا ، ایک آیت کا ورد تھا ، اور ایک تعویز جو بٹوے میں رکھنا تھا
اب میں نے پہلی باتوں پر تو عمل کر لیا تھا ، مستحق کی مدد والا پوائنٹ بھی سمجھ لیا تھا ،گالی کبھی دی نہیں تھی، اور قسمت پر یقین ہوتا تو اس کو کوستا۔۔۔اور باقی وظیفے اور تعویذ وں کی وجہ سے ہی تو گھر والوں سے نفرت تھی تو اس پر عمل نہ کیا۔
ہو سکتا ہے اپ کو یہ ٹپس کچھ اشفاق احمد قسم کی لگیں ، مگر شاید یہ اتفاقات تھے یا ٹپس کے میں نے اپنا من چاہا گول اچیو کر لیا ۔
اپ کی کیا رائے ہے، کیا واقعی میں یہ ٹپس کار آمد تھیں، خاص کر روحانی ٹپس۔ یا بس یہ نفسیاتی تسلی تھی
مرید
16/05/2024
شیخ چلی کا نام سب نے سنا ہو گا۔ ایک دن اس کے ہمسائیوں نے ایک پیالے میں سالن ڈال کر ان کے گھر بھیجا۔ یہ سالن شیخ چلی نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ماں سے پوچھا ”یہ کیا ہے“
ماں نے جواب دیا ”اسے بڑیاں کہتے ہیں“
شیخ چلی نے گول گول تیرتے ٹکڑوں میں سے ایک کو اٹھایا اور پھر پوچھا ”یہ کیا ہے“
ماں نے مختصر جواب دیا ”بڑی“
شیخ چلی نے خوب پیٹ بھر کھایا۔ اسے یہ کھانا بہت پسند آیا۔ ”یہ تو بہت مزیدار ہے“
اگلے ہفتے شیخ چلی ماں سے ضد کرنے لگا ”ماں میں تو وہی کھانا کھاؤں گا جو ساتھ والوں کے گھر سے آیا تھا“
ماں نے کہا ”اس میں بہت محنت اور وقت لگتا ہے۔ نہ تو میرے اندر دال پیسنے کی ہمت ہے نہ ہی طاقت۔ اگر تو اتنا ہی اتاولا (بے چین) ہو رہا ہے تو بہو کو لانے کے بہانے اپنے سسرال چلا جا۔ وہی تیرے نخرے اٹھائیں گے۔ ان سے فرمائش کر لینا“
شیخ چلی خوش ہو گیا ماں سے پوچھا ”اس سالن کا کیا نام تھا“
ماں نے کہا ”بڑیاں کہہ دینا یا بڑی کہہ دینا وہ سمجھ جائیں گے“
شیخ چلی جانے کی تیاری کرنے لگا۔ جب تیار ہوا تو پھر سالن کا نام بھول گیا اور اپنی ماں سے پوچھا ”ماں میں اس کا نام بھول گیا پھر سے بتانا“
ماں پھر بتایا ”بڑیاں“
شیخ چلی نے کہا ”اگر میں وہاں جا کر بھول گیا تو کون یاد دلائے گا“
ماں نے کہا تو اس طرح کر کہ سارے راستے بڑیاں بڑیاں کہتے چلے جانا ”
شیخ چلی روانہ ہوا وہ کہتا جاتا تھا ”بڑیاں۔ بڑیاں۔ بڑیاں۔“
راستے میں چڑی ماروں نے جال لگایا تھا جب انہوں نے سنا بڑیاں (بڑنا یعنی داخل ہونا گھس جانا، بڑیاں یعنی داخل ہو گئیں) وہ سمجھے چڑیاں جال میں آ گئی ہیں۔ انہوں نے جال کھینچ لیا مگر وہ تو خالی تھا۔ انہوں نے شیخ چلی کو خوب پیٹا۔
شیخ چلی نے پوچھا ”مجھے کیوں مارتے ہو“
وہ کہنے لگے ”تو جو کہہ رہا تھا بڑیاں بڑیاں“
شیخ چلی نے پوچھا ”تو پھر کیا کہوں“
انہوں نے کہا ”تو کہہ آتے جاؤ پھنستے جاؤ“
اب شیخ چلی کہتا روانہ ہوا ”آتے جاؤ پھنستے جاؤ۔ آتے جاؤ پھنستے جاؤ۔“
آگے جنگل میں کچھ چور اپنی چوری کا مال دبا رہے تھے انہوں نے جب سنا ”آتے جاؤ پھنستے جاؤ“ وہ ڈر گئے کہ کوئی سنتری ہے اس نے دیکھ لیا ہے۔ وہ ڈر کر ایک درخت کے پیچھے چھپ گئے مگر جب دیکھا کہ ایک منحنی سا شخص اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا ہے تو انہوں نے اسے پکڑ لیا اور خوب پیٹا۔
شیخ چلی نے پوچھا ”مجھے کیوں مارتے ہو“
انہوں نے کہا ”تو جو کہتا ہے آتے جاؤ پھنستے جاؤ“
شیخ چلی نے پوچھا ”پھر کیا کہوں“
انہوں کہا ”تو کہہ لاتے جاؤ دباتے جاؤ“
اب شیخ چلی کہتا روانہ ہوا ”لاتے جاؤ دباتے جاؤ۔ لاتے جاؤ دباتے جاؤ۔“
آگے ایک جنازہ آ رہا تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ لاتے جاؤ دباتے جاؤ۔ انہوں شیخ چلی کو پکڑ لیا اور خوب پیٹا۔ ”ہمارا جوان بچہ مر گیا اور تو کہہ رہا ہے کہ لاتے جاؤ دباتے جاؤ“
شیخ چلی نے روتے ہوئے پوچھا ”پھر میں کیا کہوں“
”تو کہہ ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے“ شیخ چلی کو جواب ملا۔
شیخ چلی کہتا روانہ ہوا ”ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے۔ ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے۔“
شیخ چلی کو راستے میں ایک بارات ملی انہوں نے جو شیخ چلی کی گردان سنی تو اسے بہت پیٹا۔
شیخ چلی نے پوچھا ”مجھے کیوں مارتے ہو“
انہوں نے جواب دیا ”ہمارا خوشی کا موقع ہے اور تو کہتا ہے ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے“
شیخ چلی نے پوچھا ”پھر کیا کہوں“
انہوں نے کہا ”کہنا کیا ہے چپ چاپ چلا جا“
چیخ چلی روانہ ہوا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنے سسرال پہنچ گیا۔ وہاں اس کا بہت زوردار استقبال ہوا۔ اس کے آگے انواع و اقسام کے کھانے رکھے گئے۔ مگر شیخ چلی نے کسی کھانے کو ہاتھ نہ لگایا۔ سسرال والے پریشان ہو گئے۔
انہوں نے پوچھا ”کیا کھانا پسند نہیں آیا۔ آپ بتائیں کیا کھائیں گے“
شیخ چلی کھانے کا نام بھول چکا تھا بولا ”ہم تو وہی کھانا کھائیں گے“
انہوں نے پوچھا ”کون سا کھانا“
شیخ چلی بولا ”ہم تو وہی کھانا کھائیں گے“
اب انہوں نے مختلف کھانوں کے نام لینے شروع کر دیے۔ مگر شیخ چلی کا ہر دفعہ وہی جواب ہوتا ”ہم تو وہی کھانا کھائیں گے“
سسرال والے تنگ آ گئے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ رات کو شیخ چلی کو بھوک لگی تو سب سو چکے تھے۔ وہ چپکے چپکے باورچی خانے میں گیا اور چیزیں ٹٹولنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں ایک انڈا آیا۔ ابھی وہ اس کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک ڈبہ دھڑ سے نیچے گرا۔ گھر والے سمجھے بلی آئی ہے وہ باورچی خانے کی طرف دوڑے۔ شیخ چکی کو انڈا چھپانے کی کوئی جگہ نہ ملی اس نے جھٹ انڈا منہ میں رکھ لیا۔
ساس نے آ کر دیکھا داماد کہ منہ میں پھوڑا نکلا ہے۔ ”ہائے ہائے اس کے منہ میں پھوڑا نکلا ہے اسی لیے رات بھی کھانا نہ کھایا“
آدھی رات کو حکیم صاحب کو جگا کر گھر بلایا گیا حکیم صاحب نے آ کر معائنہ کیا۔ جب انہوں نے شیخ چلی کا گال ایک طرف سے دبایا تو اس نے انڈا دوسری طرف کر لیا اب حکیم صاحب جس طرف سے گال دباتے شیخ چلی انڈا دوسری طرف کر لیتا۔ کافی دیر یہ عمل جاری رہا۔
آخر حکیم صاحب تھک کر بولے ”یہ تو بڑی خطرناک بیماری ہے“
جونہی شیخ چلی نے بڑی کا لفظ سنا اسے یاد آ گیا منہ سے انڈا نکال کر چلانے لگا ”ہم تو بڑی کھانا کھائیں گے ہم تو بڑی کھانا کھائیں گے“
شیخ چلی کی مشکل آسان ہوئی اور اس کے سسرال والوں کی بھی۔
Thnxx for reading...😅😅
آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ
جب ایک کمپنی اپنی ایک گاڑی کی قیمت اچانک سے 15 لاکھ روپے کم کر دیتی ہے تو اس کا پرافٹ مارجن کیا ہوگا۔۔۔۔
کم از کم 30 لاکھ روپے یا شاید اس سے بھی زیادہ۔۔۔
اور اس کی تیاری پر کتنے لاکھ لگے ہوں گے۔۔۔
اسی طرح 75 ہزار روپے میں ملنے والا سولر پینل
جب 25 ہزار روپے سے بھی کم قیمت پر ملنا شروع ہو جائے
تو اس کا مطلب ایک ہی پینل پر 50 ہزار روپے سے بھی زیادہ کا پرافٹ لیا جا رہا تھا۔۔۔
اور اس کا مطلب 25 ہزار روپے میں بیچ کر بھی کچھ نہ کچھ منافع تو ہو ہی رہا ہے۔۔۔!!!
یہاں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مہنگائی کی عمومی وجہ کیا ہے؟
چیک اینڈ بیلنس
جی ہاں، جب کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا بلکہ پوچھنے والوں میں سے اکثر اس منافع خوری میں ملوث ہوں گے تو کہاں کا چیک اور کدھر کا بیلنس۔۔۔!!!
پھر ہر کسی کا اپنا اپنا ریٹ اور خود سے طے شدہ قیمتیں ہونگی۔۔۔۔
عوام کو ان کی معمولی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے اور وڈے سائیں، ان کے سائیں اور سائیں کے سائیں کی پانچوں انگلیاں گھی میں۔۔۔!!!
crupt politicians
05/02/2024
Hacker Movies💻🛜
- Blackhat
- The Matrix Reloaded
- Who Am I
- The Net
- Nerve
- WarGames
- The Takeover
- M:I-4
- The Throwaways
- Tron:Legacy
- The Girl in the Spider's Web
- Snowden
- Independence Day
- Criminal
- Cam
- Hackers
- The Fate of the Furious
- Hot Seat
- Anon
- Eagle Eye
- Johnny English Strikes Again
- Sneakers
- Ghost in the Shell
- Live Free or Die Hard
- Skyfall
- Trancendence
- Undersiege:Dark Territory
- Mercury Rising
- Catch Me if You Can
- Minority Report
- The Zero Theorem
- The Italian Job
- Inception
- The Great Hack
- Terminator:Judgement Day
- 21
- Ocean's 8
- The Imitation Game
- Entrapment
- The Thirteen Floor
- The Social Network
- Real Genius
- Disclosure
- Citizenfour
- The Social Dilemma
14/01/2024
بہت سے بھاٸی نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ٹی20 میچز کی سیریز کا شیڈیول پوچھ رہے تھے،یہ لو بھاٸیوں اسکو اپنی ٹاٸم لاٸن پر شٸیر کرلو تاکہ آپکو آسانی سے پتا چل سکے:
پہلا ٹی20:
12 جنوری:صبح 11 بج کر 10 منٹ پر،آکلینڈ
دوسرا ٹی20:
14 جنوری:صبح 11 بج کر 10 منٹ پر،ہملٹن
تیسرا ٹی20:
17 جنوری:صبح 5 بجے،ڈیونڈن
چوتھا ٹی20
19 جنوری:صبح 11 بج کر 10 منٹ پر،کراٸسسٹ چرچ
پانچواں ٹی20
21 جنوری:صبح 5 بجے،کراٸسسٹ چرچ
13/01/2024
ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔
سیو مارٹ سٹور سے 22431 بائیس ہزار چار سو اکتیس روپے کا راشن سامان لیا۔
ٹوٹل سامان میں سے انہوں نے کل ملا کے 221 دو سو اکیس روپے کا ڈسکاؤنٹ دیا۔
جب کہ ٹیکس کی مد میں 2194 اکیس سو چورانوے روپے وصول کئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سے سامان لینے کا کیا فائدہ ہوا۔
ہم لوگ ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور سے سامان لینے اس لئے جاتے ہیں کہ عام بازار سے سستا ملے گا اور معیاری ہوگا۔
مگر اس طرح ان ڈیپارٹمنٹل سٹور سے سامان لینے کا سراسر نقصان ہے کہ سامان پر منافع بھی لیتے ہیں اور ٹیکس بھی کسٹمر سے وصول کرتے ہیں۔
سیو مارٹ، امتیاز سٹور، گیلانی مارٹ، اٹالین مال، پنجاب کیش اینڈ کیری، مدینہ کیش اینڈ کیری وغیرہ اور ان جیسے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور بڑے ہوٹلز ریسٹورینٹ اپنا منافع بھی لیتے ہیں اور ٹیکس کی رقم بھی کسٹمرز سے لیتے ہیں۔
آپ چاہے ہزاروں روپے کا سامان لیں مگر ان کی ایڈورٹائزمنٹ والا بیگ لینا ضروری ہے یہ ایک الگ بدمعاشی ہے۔
ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا یہ کیا قاعدہ کلیہ بنتا ہے مثلاً ہر چیز پر ان کا ڈسکاؤنٹ دو چار روپے ہی ہوتا ہے مگر دوسری طرف سے ٹیکس لگا کر ڈسکاؤنٹ سے کہیں زیادہ نکال لیتے ہیں۔
اصولاً ٹیکس مالک کو ادا کرنا ہوتا ہے کیوں کہ وہ بزنس میں سے اپنا منافع وصول کرتا ہے لیکن یہاں ٹیکس کسٹمر سے نکالا جاتا ہے سارا نظام ہی کرپٹ ہے اور ہر بڑے مگرمچھ کے گناہوں اور عیاشیوں کا بوجھ عام عوام پر ہی لادا جاتا ہے۔
ہم جب ہر پروڈکٹ کا ٹیکس پہلے ہی ادا کر لیتے ہیں ہر چیز پر سیل ٹیکس لگ کر ہی قیمت لگائی جاتی ہے اور ہم ٹیکس کے بعد ہی رقم ادا کرتے ہیں تو پھر ہہ ڈیپارٹمنٹل سٹورز الگ سے سیل ٹیکس کس بات کا لیتے ہیں آپ کوئی بھی چیز خریدتے ہیں تو اس پر ریٹیل پرائس سے پہلے سیل ٹیکس اور جنرل ٹیکس وغیرہ ڈال کر رقم لکھی ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ہر چیز میں سے جب ریٹیل منافع لیتے ہیں تو پھر سیل ٹیکس یہاں کیوں لے رہے ہیں ہول سیل ڈیلر جب ریٹیل سٹور کو ہر چیز میں سے منافع دیتے ہیں اور ریٹیل سٹور آگے کسٹمرز سے ہر چیز میں جب منافع لے رہے ہیں تو پھر اس سیل ٹیکس کا کیا مقصد ہوا یہ تو سراسر بدمعاشی ہے سمجھ نہیں آتی بندہ کرے تو کیا کرے عام دکان سے سامان لو تو معیاری چیز نہیں ملتی ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا رخ کرو تو یہ شاپنگ بیگ سے لے کر ٹیکسس وغیرہ کی مد میں خون نکال لیتے ہیں۔
By ASI Malang
, , , , , , video 😅😂🤣🙏🙏 er mark, , , , , , ,
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
59250
