Yoga is My Health Insurance
A meaningful silence is always better than A meaningless words��
26/02/2025
https://nutraliv.pk
نٹرالیو پریمیئم سلم اینڈ فٹ فارمولا – صحت مند زندگی کا قدرتی راز!
قدرت نے ہمیں بے شمار ایسی نعمتیں عطا کی ہیں جو ہمارے جسم کو متوازن، توانا اور صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ نٹرالیو پریمیئم سلم اینڈ فٹ فارمولا انہی قدرتی اجزاء پر مشتمل ایک بہترین امتزاج ہے، جو نہ صرف وزن کو متوازن رکھتا ہے بلکہ دل، شوگر، بلڈ پریشر اور فیٹی لیور جیسے مسائل کے لیے بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
قدرتی اجزاء، خالص فوائد
یہ فارمولا خالص اور قدرتی اجزاء سے تیار کیا گیا ہے، جو کسی بھی نقصان دہ کیمیکل سے پاک ہے۔ یہ وزن کم کرنے، جسم میں اضافی چربی کو کم کرنے، نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے اور توانائی میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
صحت کے لیے حیرت انگیز فوائد:
✅ وزن میں کمی اور میٹابولزم کی بہتری – قدرتی طور پر چربی کو جلانے میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم سلم اور فٹ رہتا ہے۔
✅ دل کی صحت کے لیے مفید – یہ قدرتی اجزاء کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں اور دل کو صحت مند بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
✅ شوگر کے مریضوں کے لیے مفید – بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار، تاکہ آپ قدرتی طور پر متوازن اور توانائی سے بھرپور زندگی گزار سکیں۔
✅ بلڈ پریشر کو متوازن رکھے – ہائی بلڈ پریشر کے مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔
✅ فیٹی لیور کے خاتمے میں مددگار – جگر میں جمع ہونے والی غیر ضروری چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور جگر کو صحت مند بناتا ہے۔
✅ نظامِ ہاضمہ کی بہتری – جسم سے زہریلے مادے خارج کرتا ہے، معدے کو مضبوط کرتا ہے اور قبض جیسے مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
✅ توانائی میں اضافہ – دن بھر کی تھکن اور سستی کو دور کر کے جسم کو متحرک اور چاق و چوبند بناتا ہے۔
اگر آپ ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی چاہتے ہیں تو نٹرالیو پریمیئم سلم اینڈ فٹ فارمولا کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں اور قدرتی طور پر ایک متوازن، توانا اور فٹ جسم حاصل کریں!
nutraliv.pk
Allhamdulialah yoga exercise feedback
National yoga federation Multan Pakistan
Officer colony park near chungi no 9 Multan
06/09/2021
29/04/2021
ترپھلا کی چائے
اجزاء :-
ترپھلہ کا سفوف آدھی چمچ
پانی ڈیڑھ کپ
شہد ایک چمچ
ترکہب و خوراک :-
پانی میں ایک چمچ ترپھلہ کا سفوف ڈالکر ابال کر چھان کے شہد ملا کے صبح نہار منہ گھونٹ گھونٹ کر پئیں.
اسکے دو سو سے زائد فوائد ھیں چند درج زیل ھیں :-
*جسم میں زائد رطوبتیں جمع ھونا
*بالوں کا قبل از وقت سفید ھونا
*جسم میں صفراء کا جمع ھونا
*جسم میں گلٹیاں بننا
*جلد کا بگڑنا پھوڑے پھنسیاں زخم بننا
*قبض کا مستقل رہنا
*معدے کا کام نہ کرنا
*آنتوں کی خشکی
*بلغم کیرہ نزلہ
*صفراوی موٹاپا
*کولیسٹرول بڑھنا
*یورک ایسڈ بڑھنا
*داڑھی کے بال سفید ھونا
*منہ پہ جھریاں سیاہیاں کیل مہاسے ھونا
*عضو خاص کی کمزوریاں
*جریان
*لیکیوریا
*رحم کے تمام مسائل
*پیشاب کے تمام امراض
*سوزاک
*آتشک
*گردے مثانے پتے کی پتھریاں
*نظر کی کمزوری
*مثانے کی کمزوری
*پراسٹیٹ گلینڈ کا بڑھنا
*ہائیپر ھونا
*دماغی کمزوری
*سٹریس
*ٹینشن
*جسمانی کمزوری
*پیشاب کی جلن
*عورتوں کے جملہ امراض مخصوصہ
*نقاہت
*چکر آنا
*بیہوشی
*غشی
*جسمانی دردیں
*بلڈ پریشر ھائی لو
*گردوں کی صفائی
*جگر کی مضبوطی
*جسم سے بلغم کا خاتمہ
*کمردرد
*پٹھوں کا درد
*لنگڑی کا درد
*کمردرد
*قوت مدافعت میں کمی
* ترپھلہ کیا ہے ؟
( آملہ + ھریڑ + بہیڑہ )
ترپھلہ ازحد مفید چیز ھے جو طب یونانی کے مایہ ناز نسخوں کا جزواعظم ھے. یہ لفظ " تری پھلہ " سنسکرت کا ھے جسکا مطلب ھے تین پھل ، جب عرب کے اطبا نے اسکو استعمال کرنا شروع کیا تو اسکو معرب کر کے "اطریفل" کا نام دیا. پہلے ھم الگ الگ تینوں کا جائزہ لیں گے پھر اسکے مجرب اور آزمودہ مرکبات پر بات ھوگی.
1. آملہ ( آنولہ ) :-
اعصاب کیلئے مقوی ھے. دل اور دماغ کیلئے مفرح ھے. معدہ کو طاقت دیتا ھے. نظر کو بڑھاتا ھے. مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ھے. بالوں کی سیاھی کو قائم رکھتا ھے اور پیچش کو فائدہ مند ھے. اسکا مضر اثر بہت کم ھے پھر بھی دودھ ، شہد اور روغن بادام اسکی مضرت کو ختم کرنے کیلئے ساتھ استعمال کیئے جاتے ھیں.
2. بہیڑہ ( بلیلہ ) :-اسکا مزاج سرد اور خشک ھے. بلیلہ کو اکیلا بہت کم استعمال کیا جاتا ھے. اسکی مضرت کو ختم کرنے کیلئے شہد اور دیسی گھی استعمال کیا جاتا ھے
3. ھریڑ ( ھرڑ ، ھلیلہ ) :-اسکا مزاج سرد اور خشک ھے. مقوی دماغ، اعصاب، معدہ، مثانہ، سر کے چکر اور آنکھوں کیلئے مفید ھے. جاذب رطوبات ھے. بلغمی اور سوداوی مادوں کو خارج کرتی ھے. مختلف ترکیبوں سے بیسیوں بیماریوں میں فائدہ کرتی ھے.
¤ ترپھلہ ¤آملہ، ھرڑ اور بلیلہ کے برابر وزن سفوف کو جب بھی کسی جگہ استعمال کرنا ھو تو اسکے سفوف کو روغن بادام یا دیسی گھی سے چرب ضرور کر لیا کریں تاکہ اسکی خشکی ختم ھو جائے.
ترپھلا: ویٹ لاس کے لئے۔
ترپھلا آیورویدک سسٹم کا ایک شاندار مرکب ہے۔ یہ کئ بیماریوں کا علاج ہے۔ لیکن آج صرف وزن کم کرنے کے حوالے سے بات ہوگی۔
ترپھلا میں تین پھل ہوتے ہیں۔
ہریڑ، بہیڑہ اور آملہ
یہ مرکب تینوں باڈی ٹائپ کے لیے یکساں مفید ہے۔
ویٹ لاس کے لئے ان تینوں کی شرح اس طرح سے ہے۔
ہریڑ 100 گرام
بہیڑہ 200 گرام
آملہ 400 گرام
ان سب کو پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔ اور جار میں بند کر کے رکھیں۔ 4 ماہ تک کارآمد ہے۔ اس کے بعد اثر پزیری میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔
خوراک: کیسے اور کس طرح لیا جائے۔
10 گرام (ایک بڑا چمچ) صبح نہار منہ نیم گرم پانی کے ساتھ لیں یا پھر تھوڑا سا گڑ کے ساتھ یا پھر ایک چمچ شہد کے ساتھ لیں۔
ایک بڑا چمچ رات کو نیم گرم پانی کے ساتھ لیں تو قبض اور معدہ اور آنتوں کی تمام بیماریاں ٹھیک ہوں گی۔ زہریلے مادے خارج ہوں گے اور صبح کے ٹائم لیٹرین میں آسانی ہوگی۔
کم سے کم ایک ماہ تک لیں۔
اس فارمولے سے 60 دن میں 15 کلو وزن کم ہوا ہے۔
28/03/2021
اسلام علیکم
کیا آپ اپنے زیادہ وزن کی وجہ سے پریشان ہیں؟ کیا آپ بار بار کوشش کرنے کے باوجود تھک چکے ہیں اور وزن کم نہیں ہورہا۔۔کیا آپ مہنگے کپڑے پہننے کے باوجود بھی اچھے نہیں لگتے تو آج ہی ہمیں جوائن کریں سو فیصد رزلٹ ہفتے میں 2 سے 3 کلو اور مہینے میں 8 سے 10 کلو گرنٹی کے اپنا وزن کم کریں 100 نیچرل ڈائٹ پلان کے ساتھ
رمضان شریف میں جو بھی ہمارے ساتھ ڈائٹ کرنا چاہ رہا ہے وہ آج سے اپنے آپ کو رجسٹر کروا لیں 40 days کا پلان ہو گا انشاءاللہ آج ہی نیچے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کا ایک میسیج کریں اور ڈیٹیل میسج کا جواب دینے کے بعد کسٹمائز پلان لے سکتے ہیں
📲📲📲 +923006394242
Pakistan Yoga day
جوڑوں کے درد ، L4 , L5 کے مسائل گردن ، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کا حل
ایک سابقہ مریض جناب زبیر منصوری صاحب کراچی سے جن کا علاج جناب محترم الیاس بھوجانی صاحب نے کیا اور شفا ملی
تنہائی کاجن
Worth Reading
قریشی صاحب سے دوستی پرانی نہیں ہے۔صر ف دوڈھائی برس پہلے کاذکرہے۔قریشی صاحب ستربرس کے لگ بھگ ہیں لیکن پچاس برس سے زیادہ بالکل معلوم نہیں ہوتے۔ملاقات بھی عجیب طریقے سے ہوئی۔مجھے اسکول کے زمانے سے اب تک تیرنے کاشوق ہے۔گرمیوں میں مقامی کلب اورسردیوں میں سول افسروں کے میس میں گرم پانی کے سوئمنگ پول میں شوق پوراکرتاہوں۔بذات خود تیراکی ایک بہت بڑامضمون ہے۔اس پرکسی اوروقت لکھوں گا۔
دوبرس پہلے تیراکی سے فارغ ہوکر باہرکرسی پربیٹھا تھا۔ساتھ ہی صحت مند بزرگ تشریف فرماتھے۔انھیں کئی مہینوں سے دیکھ رہاتھامگرکبھی بات نہیں ہوئی تھی۔اس دن سلسلہ شروع ہوا۔مجھے قریشی کہتے ہیں۔ یوںابتدائی تعارف ہوا ۔خیرتھوڑے سے عرصے میں دوستی ہوگئی۔ پچاس منٹ تیرنے کے بعدقریشی صاحب،کافی کاایک کپ پیتے تھے۔ یہ بات چیت کابہترین وقت ہوتاتھا۔تعجب ہواجب انھوں نے اپنی اصلی عمربتائی۔تاریخ پیدائش ملک بننے سے پہلے کی تھی۔
بڑھاپے میں اتنی پھرتی،اتنی بھرپورصحت بہت عرصے بعددیکھنے کوملی تھی۔ایک دن ہم دونوں سوئمنگ پول کے باہربیٹھے ہوئے تھے۔کافی کاایک کپ پینے کے بعددوبارہ کافی منگوائی۔پہلی مرتبہ ہواتھاکہ انھوں نے کافی کے دوکپ منگوائے ہوں۔چہرے پرسوال دیکھ کرکہنے لگے،آج میری ’’برتھ ڈے‘‘ہے اور اسے صرف اپنے ساتھ منارہا ہوں۔ دوسری کافی میرابرتھ ڈے گفٹ ہے۔قریشی صاحب ترنگ میںتھے۔ان سے وہ سوال کیاجوتقریباًایک سال سے میرے دماغ میں تھا۔آپکی اچھی زندگی اورصحت کاکیا راز ہے۔کہنے لگے،ڈاکٹر!بڑی مشکل بات پوچھ لی ہے۔
اب جواب غورسے سنو۔پچاس برس کی عمرتک بہت اچھی زندگی گزاری۔کاروبارکیا۔ پیسے کمائے۔ہروقت ذہن میں یہی دھن سنواررہتی تھی کہ بچوں کوسیٹل کرناہے۔خیرانکوبھی کاروبارکرواکردیدیا۔وہ بھی دولت میں کھیلنے لگے۔پھر بڑے بیٹے کے ذہن میں بھوت سوارہواکہ بہترزندگی کے لیے کینیڈا منتقل ہوناہے۔کیونکہ اب تمام فیصلے خودکرتاتھا۔لہذامیں نے انکارنہیں کیا۔بیٹاصرف ایک ہے۔باقی بیٹیاں ہیں۔ خیراسے کینیڈامنتقل ہونے میں دوسال کاعرصہ لگا۔پراس دوسال میں مجھے یہ فکرلاحق ہوگئی کہ گھرتوخالی ہوجائیگا۔ بیٹیاں بیاہی جاچکی ہیں۔اب بیٹابھی چلاجائیگا تو پھر کیا ہوگا۔ہاں،ایک بات بتانابھول گیا۔بیوی کاانتقال اس وقت ہواجب سرمد چھوٹا سا تھا۔
سرمد،قریشی صاحب کے بیٹے کانام ہے۔دوسری شادی نہیں کی۔صرف اس لیے کہ مرد جب دوسری شادی کرتا ہے، تو وہ اپنی اولادکے لیے اجنبی سا تیسراانسان بن جاتا ہے۔ خیرسوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ بیٹا بڑے آرام سے کینیڈا منتقل ہوگیا۔ گھرمیں اکیلارہ گیا۔اس وقت عمرتقریباً ساٹھ برس ہوچکی تھی۔گھر،اس قدرخالی ہوچکا تھاکہ ہول آتا تھا۔ روزفیکٹری جانابھی عجیب سالگتا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنے آپ کوبسترسے خودہی زبردستی نکالتا تھا۔ پھرلاؤنج میں گھنٹوں بیٹھااخبارپڑھتارہتاتھا۔پرانے دوستوں سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی تواکثرکہتے کہ چلوکسی عورت کو سہارا دینے کے لیے شادی کرلو۔کم ازکم کوئی بات کرنے والا توموجودہوگا۔مگرمجھے یہ تجویزپسندنہیں آتی تھی۔
اسی طرح پوراایک سال گزرگیا۔ایک دن،ٹی وی پر جانوروں کاچینلAnimal Planetدیکھ رہا تھا۔ دیکھاکہ ہاتھیوں کاایک جھنڈشدیدخشک سالی میں بھی اکٹھا رہتاہے۔کوئی بھی دوسرے جانورکواکیلانہیں چھوڑتا۔دماغ میں پتہ نہیں کیاخیال آیا۔تحقیق کرنے لگاکہ جنگلی جانوروںکی اکثریت کیسے رہتی ہے۔جواب بے حدآسان تھا۔ اکثر جانور،گروہ کی صورت میں رہتے ہیں۔ضمنی سوال اُٹھاکہ اگر اکیلے رہ جائیں توکیاہوتاہے۔تجزیے کانتیجہ خوفناک تھا۔ اکیلاجانوربہت تھوڑے سے عرصے کے بعدکسی نہ کسی وجہ سے مرجاتاہے۔جب اسی معاملے کوانسانوں میں دیکھا تو نتائج حیران کن حدتک یکساں تھے۔پختہ عمرکے اکثر لوگ، تنہائی کے بوجھ کوبرداشت نہیں کرسکتے۔
زندگی کے تجربات کویکسانیت کابھالابناکر روح میں اُتارلیتے ہیں۔تلخیوں کو کریدکریدکرزندہ رکھتے ہیں۔سوچ کواس قدرمنفی کرلیتے ہیں کہ اولاد،رشتہ داراوردوست ملنے سے بھی کتراتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کوبھول کر،صرف اورصرف زندگی کے حوادث کواوڑنابچھونابنادیتے ہیں۔چندسال میں ہی،کسی مہلک بیماری کوتمغے کی طرح سینے پرسجائے،قبرمیں اُترجاتے ہیں۔ایک چیزجوجانورہروقت یادرکھتے ہیں کہ جنگل میں گروہ کی صورت میں رہناہے۔ہرگزہرگزتنہانہیں رہنا۔یہ دانااوربزرگ لوگ یکسراس اہم نکتے کوبھول جاتے ہیں۔ قریشی نے کافی کی چسکی لگاتے ہوئے کہا،یہی نکتہ گرہ سے باندھ لیا۔ اپنے آپکولوگوں سے جوڑنے کانایاب فن سیکھ لیا۔
میراسوال تھا،مگرکیسے۔قریشی نے ہنسناشروع کردیا۔ کہنے لگا، دن میں ساری نمازیں دفتریااپنے کمرے میں بیٹھ کرپڑھتاتھا۔وجہ یہ کہ گھٹنوں کے بل بیٹھ نہیں سکتا تھا۔ سب سے پہلے گاڑی کی ڈگی میں ایک فولڈنگ چیئر رکھوائی۔فجرکی نماز،نزدیک مسجدمیں پڑھنے چلاگیا۔کرسی نکال کرکونے میں رکھی اورجب جماعت ہوئی توصف کے آخرمیں کرسی پربیٹھ کرنمازپڑھنے لگ گیا۔ دن میں جتنی بھی نمازیں ہوتیں۔ نزدیک ترین مسجدمیں پڑھناشروع کر دیں۔ پہلی مثبت بات یہ ہوئی کہ اپنے علاقے کے لوگوں سے شناساہوگیا۔ڈیفینس میں محلہ کاکوئی وجودنہیں تھا۔مگرمیں نے نزدیک ترین لوگوں سے ملناشروع کردیا۔معلوم ہواکہ یہاں توہرکوئی اکیلا ہے۔
اپنی اس سوچ کولوگوں سے ’’شیئر‘‘ کرناشروع کردیا۔ صبح کا وقت بے حدخوش گوارگزرنے لگا، پھر ہفتے میں تین دن گھرکے نزدیک پارک میں جاناشروع کردیا۔پہلی بارپتہ چلاکہ اس پارک میں، ایک ’’یوگا گروپ‘‘ بناہواہے۔سترکے قریب مرد،بچے،بوڑھے،خواتین،ایک گروپ کی صورت میں ورزش کرتے ہیں۔ان کے لیے یوگا کا ایک ماہر،مفت ورزش کراتاہے۔میں بھی گروہ میں شامل ہوگیا۔ایک ماہ تک میں تقریباًساٹھ ستر دوست بنا چکا تھا۔
یوگامیں جب استادنے سرکے بل کھڑے ہونے کے لیے کہا، تو تقریباًبیہوش ہونے والاہوگیا۔کیسے کرونگا۔تین بارکوشش کی مگرہربارگرجاتا تھا۔ میری حالت دیکھ کرساتھ والا نوجوان اُٹھا۔ ٹانگوں کوسہارا دیا اورمیں تیس سیکنڈکے لیے سرکے بل کھڑا ہوگیا۔ اس مضحکہ خیز حالت میں،بے ساختہ ہنسناشروع کر دیا۔نوجوان نے میری طرف دیکھا۔وہ بھی سرکے بل کھڑا ہوکرقہقہے لگانے لگا۔ہمیں اس حالت میں دیکھ کرگروپ کے اکثرلوگوں نے مسکراناشروع کردیا۔خیراب میرے پاس فیکٹری جانے سے پہلے بھرپور مصروفیت تھی۔یوگاگروپ میں تجویزدی کہ ہفتہ میں ایک شام سارے لوگ اپنے اپنے گھرسے ایک کھانا بنواکرلائیں گے۔کاغذکی پلیٹوں میں سب ملکرکھاناکھائینگے اورمل کر دوگھنٹے بھرپور طریقے سے گزاریں گے۔عمرکی کوئی قید نہیں ہوگی۔طے ہوگیا کہ جمعہ کی شام کوہم سارے،یہاں ملکرکھانا کھایا کرینگے۔اب میرے پاس سات دنوں میں ایک مسکراہٹوں والی شام بھی آگئی، تین چارگھنٹے آرام سے گزرجاتے تھے۔
فیکٹری سے چھٹی کرناچھوڑدیا۔ساتھ ساتھ دفترمیں بھی بیٹھناتقریباًختم ہوگیا۔دن میں تین دفعہ پوری فیکٹری کاچکرلگاتا تھا۔ہرورکرکے پاس جاکرکام دیکھتا تھا۔ معیار جانچتا تھا۔سب سے بڑی بات،اپنے مزدورکی ہمت بڑھاتا تھا۔ ان کی مشکلات کواپنی مشکل بناناشروع کردیا۔یہ حالت ہوگئی کہ اسٹاف اورعملے نے کئی بار اتوارکوبھی چھٹی کرنے سے انکارکردیا۔فیکٹری اس درجہ بہترہوگئی کہ آرڈر آنے تقریباًدوگنے ہوگئے۔منافع کودوحصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ،پہلے کی طرح اپنے لیے اوردوسراحصہ،اپنے ورکروں کی بھلائی کے لیے۔ان کی اولادکی بہترتعلیم کے لیے،ان کی بیماریوں کے علاج کے لیے۔صرف دوسال میں میں نے دوسری فیکٹری لگالی۔صرف اسلیے کہ میرے ورکر،اب مجھے اپنا سمجھنے لگ گئے تھے۔بالواسطہ طورپرمنافع میں بھی شرکت دارتھے۔سیٹھ اورمزدورکاتعلق کب کاختم ہوگیا۔
سرمد،کینیڈاسے سالانہ چھٹیوں پروطن آیا۔تومیری روٹین دیکھ کرحیران ہوگیا۔فیکٹری گیاتوششدررہ گیا۔ جس طرح میراعملہ کام کرتاتھا اس لگن سے تویورپ میں بھی کام نہیں ہوتاتھا۔سرمد،میرے پاس آیا،بیٹھے بیٹھے کہنے لگا کہ بابا،آپ نے توکمال کردیا ہے۔ آپکو تو تنہائی “راس” آگئی ہے۔میراجواب تھاکہ تنہائی نہیں،مجھے دوستی اور شناسائی راس آچکی ہے۔خیرایک اورنکتہ، پانی سے ہمیشہ ڈرلگتا تھا۔ خواب میں بھی پانی نظرآتاتھاتوخوف سے اُٹھ بیٹھتاتھا۔ اپنے دیرینہ خوف کوفتح کرنے کافیصلہ کیا۔پینسٹھ برس کی عمرمیں ایک انسٹرکسٹرسے تیرناسیکھنے لگا۔پہلے لوگ میرے اوپرہنستے تھے،کہ یہ بابااس عمرمیں کیاکررہا ہے۔ مگر صرف دومہینے میں تیراک بن گیا۔اب میں ہفتہ میں تین چاردن، بھرپور سوئمنگ کرتاہوں۔پانی میرے لیے مذاق بن گیا ہے۔ میں نے اپنے بچپن کے خوف پربھی قابو پا لیا ہے۔
قریشی نے بڑے آرام سے اپنی زندگی کے اَن دیکھے گوشے بیان کیے۔پچھترسال کے بوڑھے کے چہرے پر، بچوں جیساسکون اورمسکراہٹ تھی۔اُٹھتے ہوئے کہنے لگا، ڈاکٹر،ہم لوگ اتنے کندذہن ہیں،کہ جانوروں تک سے سبق نہیں سیکھتے۔میں نے دوبارہ زندہ رہنا،انھی جانوروں سے سیکھاہے۔تنہائی کے جن کوبوتل میں بندکرکے زمین میں دفن کردیاہے۔اب لوگوں کے ساتھ جڑکر، زندہ رہنے کاقدرتی فن سیکھ چکاہوں۔ہم لوگ،اپنی بزرگی کے زعم میں،اچھے طریقے سے زندگی گزارنے کوفراموش کردیتے ہیں۔سمجھتے نہیں،کہ اصل قاتل توتنہائی اور اکیلاپن ہے۔ باقی توسب کچھ بہانے ہیں!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
