Health is Wealth
Living a healthy life means making lifestyle choices that support your physical, mental, spiritual,
29/12/2023
25/05/2021
Panadol tablet use, side effects, overdose, details about panadol extra, panadol cf, panadol syrup Panadol(paracetamol) is one of the most common medicine one would take if you have a headache, if you have fever. It reduces fever and you start feeling bett...
20/01/2021
https://szaonline.com/Product?pd=Bfgn9JxpHjuqzdgcM4aPlQ==
Orecare herbal toothpaste ORECARE HERBAL TOOTHPASTE.Orecare Toothpaste goes beyond an ordinar...
10/12/2020
06/12/2020
#
تیزبخار ، کھانسی ، شدید جسم درد ، منہ کا کڑواپن اور سونگھنے ، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں ۔
خدارا اپنی حفاظت کریں
*ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں*
*برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں*
*جوشاندہ پئیں*
*بھاپ لیں*
*انڈے کھائیں*
*انجیر کھائیں*
*بادام کھائیں*
*مٹن سوپ پئیں ، کالی مرچ ادرک ڈال کر*
*دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک ڈال کر*
*کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں*
*پانی کا استعمال زیادہ کریں*
اللہ تعالیٰ آپ کے حامی و ناصر ہوں
اس پیغام کو نظر انداز نہ کریں.
جزاکم اللہ خیراً کثیرا
*السلام علیکم و رحمة الله و بركاته*
*ایک وژنری انسان کے لیے ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے جان ہے تو جہان ہے*
*صحت مندی کا پتہ دو چیزوں سے چلتا ہے*
1⃣ ایٹنگ ھیبٹ
2⃣ سلیپنگ ھیبٹ
*تو اج ایک صحت مند غذابارے جانئیے*
*کالا چنے اور سفید چنے کے طبی فوائد*
*چنا کثیرطبی فوائد رکھتا ہے۔ اس میں فولاد، وٹامن بی 6، میگنیشم، پوٹاشیم اور کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔*
*جبکہ فاسفورس، تانبے اور میگنیز کی بھی خامی مقدار ملتی ہے۔ چنے کے طبی فوائد درج ذیل ہیں۔*
*وزن کم کیجیے*
*چنے میں ریشہ (فائبر) اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیں۔ پھر اس کا گلائسیمک انڈکس بھی کم ہے۔*
*اسی بنا پر چنا وزن کم کرنے کے سلسلے میں بہترین غذا ہے۔*
*کیونکہ عموماً ایک پلیٹ چنے کھا کر آدمی سیر ہوجاتا ہے اور پھر اُسے بھوک نہیں لگتی۔*
*دراصل چنے کا ریشہ دیر تک آنتوں میں رہتا ہے ۔۔۔۔۔لہٰذا انسان کو بھوک نہیں لگتی۔*
*تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو مرد و زن دو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذا رکھیں، وہ اپنا آٹھ پونڈ وزن کم کرلیتے ہیں*
*یاد رہے، ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں*
*نظام ہضم کا معاون*
*چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اُسے نظام ہضم کے لیے بھی مفید بناتی ہے۔ یہ ریشہ آنتوں کے جراثیم (بیکٹریا) کو مختلف مفید تیزاب مہیا کرکے انھیں قوی بناتا ہے۔۔*
*نتیجتاً وہ آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے اور انسان قبض و دیگر تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔*
*ضد تکسیدی مادوں کی فراہمی*
*انسانی جسم میں آزاد ا اصلیے (مضر صحت آکسیجن سالمے) مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں*
*ضد تکسیدی مادے(Antioxidants)انہی سالمات کا توڑ ہیںجو مختلف صحت بخش غذائوں میں ملتے ہیں۔ ان غذائوں میں چنا بھی شامل ہے۔*
*چنوں میں مختلف ضد تکسیدی مادے مثلاً مائریسٹین(Myricetin)، کیمفوریل، کیفک ایسڈ، وینلک ایسڈ اور کلوروجینک ایسڈ وغیرہ ملتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ان کے باعث چنا مجموعی انسانی صحت کے لیے بہت عمدہ غذا ہے*
*کولیسٹرول میں کمی*
*جسم میں کولیسٹرول بڑھ جائے،تو امراض قلب میں مبتلا ہونے اور فالج گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔*
*چنے اپنے مفید غذائی اجزا کی بدولت فطری انداز میں کولیسٹرول کی سطحکم کرتے ہیں*
*ایک تجربے میں ماہرین نے ان مرد و زن کو ایک ماہ تک آدھی پیالی چنے کھلائے جن کے بدن میں کولیسٹرول زیادہ تھا۔*
*ایک ماہ بعد ان کے کولیسٹرول میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔*
*دراصل چنے میں فولیٹ اورمیگنیشم کی خاصی مقدار ملتی ہے۔*
*یہ وٹامن و معدن خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے اور انھیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیں۔ نیز حملہ قلب(ہارٹ اٹیک)اِمکان بھی کم ہوجاتا ہے۔*
*گوشت کا بہترین نعم البدل*
*چنے میں خاطر خواہ پروٹین ملتا ہے۔*
*اگر اسے کسی اناج مثلاً ثابت گندم کی روٹی کے ساتھ کھایا جائے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین حاصل ہوتی ہے اور بڑا فائدہ یہ ملتا ہے کہ نباتی پروٹین زیادہ حرارے یا سیچوریٹیڈفیٹس نہیں رکھتی۔*
*ذیابیطس کی روک تھام*
*چنے اور دیگر دالیں کھانے والے ذیابیطس قسم 2 کا شکار نہیں ہوتے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ غذائیں زیادہ ریشہ اور کم گلائسیمک انڈکس رکھتی ہیں۔*
*اسی باعث ان میں موجود کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث ہمارے خون میں شکر یک دم اوپر نیچے نہیں ہوتی اور متوازن رہتی ہے۔۔*
*یاد رہے، انسان جب کم ریشے والی کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھائے، تو اُس کے خون میں شکر بہت تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہے۔جب یہ عمل معمول بن جائے، تو انسولین نظام گڑبڑا جاتا ہے۔ یوں ذیابیطس قسم 2جنم لیتا ہے۔*
*توانائی میں اضافہ*
*چنے میں شامل فولاد، مینگنیز اور دیگر معدن و حیاتین انسانی قوت بڑھاتے ہیں۔*
*اسی لیے چنا حاملہ خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے بڑی مفید غذا ہے۔ یہ انھیں بیشتر مطلوبہ غذائیت فراہم کرتا ہے۔*
*مزید برآں چنا ساپونینز (Saponins) نامی فائٹو کیمیکل رکھتا ہے۔*
*یہ کیمیائی مادے ضد تکسید کا کام دیتے ہوئے خواتین کو سینے کے سرطان سے بچاتے۔ نیز ہڈیوں کی بوسیدگی کے مرض سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔*
*چنوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اُسے کئی ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کی غذائیت کم نہیں ہوتی۔*
*ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے،تو بہتر ہے۔ یوں وہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔*
*چنوں کو چار تا چھ گھنٹے بھگونا کافی ہے۔*
*بھگونے کے بعد چنے جتنی جلد استعمال کیے جائیں، بہتر ہے۔*
*چنے بھگوتے ہوئے اُن میں تھوڑا سا نمک اور میٹھا سوڈا ڈال لیا جائے، تو وہ جلد گل جاتے ہیں.*
🥀 *کچھ طب کی باتیں*🥀
*1-کھانا*
سب سے زیادہ بیماریاں گلے ہوئے کھانے سے ہوتی ہیں، گلے ہوئے کھانے اور پکے ہوئے کھانے میں فرق ھے.
(جس طرح ایک سیب پکا ہوا ہوتا ھے، اور ایک گلا ہوا، گلا ہوا سیب آپ آرام سے چمچ کے ساتھ بھی کھا سکتے ہیں اور اسے چبانا بھی نہیں پڑے گا۔
*1- مٹی کے برتن:*
مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ھے، اس کے برعکس سِلور، سٹیل، پریشر کُکر یا نان سٹِک میں کھانا گلتا ھے، تو سب سے پہلے اپنے برتن بدلیں۔
یقین جانیں!
جن لوگوں نے برتن بدل لیے *اُن کی زِندگی بدل جاۓ گی۔*
*2- کُوکِنگ آئل:*
کوکنگ آئل استعمال کریں، جو کبھی جَمے نہ، دُنیا کا سب سے بہترین تیل جو جمتا نہیں،
وہ زیتون کا تیل ھے، لیکن یہ مہنگا ھے، *ہمارے جیسے غریب لوگوں کے لیے سرسوں کا تیل ھے.* یہ بھی جمتا نہیں، سرسوں کا تیل واحد تیل ھے، جو ساری عُمر نہیں جمتا، اور اگر جم جائے تو سرسوں نہیں ھے، *ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات* بھی اسی لیے کی جاتی ھے.
کیونکہ یہ ممکن نہیں ھے، سرسوں کے تیل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈال دیں گے، اس کو جمنے نہیں دیتا.
*اس کی زِندہ مِثال اچار ھے* جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ھے، اس کو جالا نہیں لگتا.
جب یہ سرسوں کا تیل آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج، مِرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا، آپ کے گُردے فیل نہیں ہوں گے، پوری زندگی آپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے۔ (اِن شاء الله)
کیونکہ سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتا ھے، جب نالیاں صاف ہو جاٸیں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا، سرسوں کے تیل کے فاٸدے ہی فاٸدے ہیں،
ہمارے دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں، آج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ھے۔
*3- نمک: (نمک بدلیں)*
نمک ہوتا کیا ھے؟ نمک اِنسان کا کِردار بناتا ھے،
ہم کہتے ہیں بندہ بڑا نمک حلال ھے یا پھر بندہ بڑا نمک حرام ھے۔
نمک انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ھے، ہمیں نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے آیا ہو، اور وہ نمک آج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گُلابی نمک ھے.
پِنک ہمالین نمک 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 4000 روپے کا نوے گرام اور چالیس ہزار روپے کا 900 گرام بِکتا ھے، اور ہمارے یہاں دس تا بِیس روپے کلو ھے.
*بدقسمتی دیکھیں!*
ہم گھر میں آیوڈین مِلا نمک لاتے ہیں، جس نمک نے ہمارا کردار بنانا تھا، وہ ہم نے کھانا چھوڑ دیا۔
اس لٸے میری آپ سے گذارش ھے کہ ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کریں.
*4- مِیٹھا:*
ہم سب کے دماغ کو چلانے کے لٸے میٹھا چاہیٸے، اور میٹھا الله کریم نے مٹی میں رکھا ھے یعنی گَنّا اور گُڑ، اور ہم نے گُڑ چھوڑ کر چِینی کھانا شروع کر دی، خدارہ گُڑ استعمال کریں.
*5- پانی:*
انسان کے لٸے سب سے ضروری چیز پانی ھے،
جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں، پانی بھی ہمیں مٹی سے نِکلا ہُوا ہی پینا چاہیٸے، پوری دنیا میں *آبِ زم زم* سب سے بہترین پانی ھے، اور اس کے بعد پنچاب کا پانی ھے، اس کے بعد مٹی سے نکلنے والی گندم استعمال کریں.
لیکن گندم کو کبھی بھی چھان کر استعمال نہ کریں، گندم جس حالت میں آتی ھے، اُسے ویسے ہی استعمال کریں، یعنی سُوجی، میدہ اور چھان وغیرہ نکالے بغیر۔
کیونکہ!
ہمارے *آقا کریم حضرت محمدﷺ* بغیر چھانے أٹا کھاتے تھے، تو پھر طے یہ ہوا کہ ہمیں یہ درج ذیل پانچ کام کرنے چاہٸیں۔
*1- مٹی کے برتن۔*
*2- سرسوں کا تیل۔*
*3- گُڑ۔*
*4- پتھر والا نمک۔*
*5- زمین کے اندر والا پانی۔*
زمین کے اندر والا پانی، مٹی کے برتن میں ڈال کر، مٹی کے گلاس میں پئیں اور ان ساری چیزوں کے ساتھ گندم کا آٹا۔
*اب سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہم یہ ساری چیزیں کیوں لیں؟*
یہ ساری چیزیں ہم نے اس لٸے لینی ہیں کہ اسی میں صحت ہے *اور الله پاک نے ہمیں مٹی سے پیدا کیا ھے۔* اور ہم نے واپس بھی مٹی میں ہی جانا ھے.
ساون بھادوں میں نمکیات کی کمی اور ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لئے اک گولڈن رمیڈی ہے لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی اس سے زیادہ فائدے مند کوئی دوا نہیں ہو سکتی میرا دعویٰ ہے الحمدللہ لیموں کی سکنجبین بنائیں اور اس میں بارہ پتے پودینہ دیسی تازہ کے گرائنڈ کر کے پی جائیں ۔۔۔۔
نوٹ خاص کر وہ مریض جو ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو کر بیہوش ہو جاتے ہیں۔۔۔ ان کے لئے یہ آب حیات کا کام دے گی ان شاءاللہ
*💐آپ صرف عادتیں بدل لیں🌷*
*🌹زندگی بدل دینے والی تحریر*
*تلخیص و ترمیم: غلام مصطفیٰ مہر*
*🌀میں ایک بزرگ دانشور کے پاس حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا میں کام یاب انسان بننا چاہتا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے*
*👈وہ مسکرائے اور میٹھی آواز میں بولے ”پھر کام یاب لوگوں کی صحبت اختیار کرو“*
*♻️بزرگ دانشور کا کہناتھا ”انسان ہمیشہ صحبت سے متاثر ہوتا ہے‘*
*👈آپ دولت مند لوگوں میں بیٹھتے ہیں تو آپ بھی دولت مند ہو جاتے ہیں‘*
*👈آپ دانشوروں میں بیٹھتے ہیں تو دانشور‘ عالم اور فاضل ہو جاتے ہیں*
*👈آپ کام یاب لوگوں کی کمپنی میں بیٹھتے ہیں تو آپ بھی آہستہ آہستہ کام یاب ہونے لگتے ہیں*
*🌀بزرگ دانشور کا کہنا تھا ”انسان کا طرز عمل اگر اس کے برعکس ہو تواس پر بری صحبت بھی ضرور اثر کرتی ہے*
*💧مثلاً وہ کام یاب لوگ جو اپنا زیادہ وقت ناکام لوگوں میں گزارتے ہیں*
*👈وہ دانشور جن کا زیادہ وقت جاہلوں میں گزرتا ہے*
*👈وہ بچے جو غیر صحت مندانہ عادات کے شکار بچوں میں وقت گزارتے ہیں وہ بھی بہت جلد ان لوگوں جیسے ہو جاتے ہیں*
*🌀بزرگ دانشور کا کہنا تھا ”تم اگر کام یاب ہونا چاہتے ہو تو اپنا زیادہ وقت کام یاب لوگوں کے درمیان گزارنا شروع کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی کامیابی کا اثر آہستہ آہستہ تمہارے اوپر بھی ظاہر ہونے لگے گا*
*🌾کراچی کے ایک بزنس مین سے میری ملاقات ہوئی۔۔۔۔۔ یہ ایک سیلف میڈ (اللہ میڈ) بزنس مین ہیں۔۔۔۔۔۔*
*✨یہ انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ انہوں نے ٹیوشن پڑھا پڑھا کر تعلیم مکمل کی*
*🌸ایک پرائیویٹ کمپنی میں منشی کی نوکری کی*
*🌼کمپنی کا مالک ایک وژنری انسان تھا...... یہ اس سے متاثر ہوئے...... انہوں نے مالک کی شخصیت کا مطالعہ کیا.......*
*🌷مالک کی اچھی عادتوں کی فہرست بنائی اور وہ عادتیں اپنائیں*
*♦️نوکری چھوڑی‘ دس ہزار روپے سے چھوٹا سا کاروبار شروع کیا اور بیس سال میں ارب پتی بن گئے۔*
*👈یہ کامیابی اور امارت کا ایک بڑا سٹڈی کیس تھا*
*🟢 میں نے ان سے کامیابی کا فارمولا پوچھاتو میرے اس سوال نے نئے زاویوں کا ایک نیا دروازہ کھول دیا.......*
*🟩 ان صاحب کا کہنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں 35 برس پہلے ایک سیٹھ کے پاس منشی تھا ایک دن سیٹھ اپنی بڑی اور مہنگی کار سے اترا‘ سیٹھ کے ذاتی خادم اس کی طرف دوڑپڑے‘ کسی نے اس کا دروازہ کھولا‘ کسی نے اس کا بریف کیس نکالا اور کسی نے اس کا چشمہ‘ اس کی گھڑی اور اس کی فائلیں اٹھا لیں‘ میں شیشے کے اندر سے یہ منظر دیکھ رہا تھا*
*🔴میں نے اس وقت سوچا اس سیٹھ اور مجھ میں کیا فرق ہے؟*
*♦️میرے دماغ میں روشنی کا ایک کوندا سا لہرایا اور مجھے محسوس ہوا مجھ میں اور اس میں صرف چند عادتوں کا فرق ہے*
*💫میری ساری عادتیں غریبوں جیسی ہیں جب کہ سیٹھ نے امیروں کی عادتیں اپنا رکھی ہیں*
*✅ غریب لوگ سست ہوتے ہیں..... یہ اپنا زیادہ تر وقت فضول کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں جب کہ امیر لوگ چست ہوتے ہیں اور یہ اپنا ایک ایک لمحہ تعمیری اور مثبت کاموں میں خرچ کرتے ہیں*
*👈غریب لوگ سیکھنایعنی ”لرن“ کرنا چھوڑ دیتے ہیں جب کہ امیر لوگ پوری زندگی نئی سے نئی چیز سیکھتے رہتے ہیں‘*
*👈غریب لوگ کمیٹی نکلنے....... لاٹری لکنے۔۔۔۔۔۔اور چھپڑ پھٹنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔جب کہ امیر لوگ اپنا چھپڑ بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اپنی لاٹری ایجاد کرتے ہیں اور لوگوں کو اکٹھا کر کے ان کی کمیٹی بناتے ہیں اورلوگوں کا منافع اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں*
*👈غریب لوگ رسک لینےچیلنج قبول کرنے سے گھبراتے ہیں جب کہ امیر لوگوں کی پوری زندگی چیلنجز اور رسک کے گرد گھومتی ہے۔*
*👈غریب لوگ کم پر راضی ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ سر ڈھانپ کر پاؤں ننگے چھوڑ دیتے ہیں جب کہ امیر لوگ کم پر راضی نہیں ہوتے یہ سر بھی ڈھانپتے ہیں اور پاؤں چھپانے کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔*
*👈غریب آدمی جلد مایوس ہوجاتا ہے یہ چھوٹی سی ناکامی پر دل ہار بیٹھتا ہے جب کہ امیر شخص آخری سانس تک سٹرگل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ایک جگہ ناکام ہوتا ہے تو کسی دوسرے شہر‘ کسی دوسرے ملک میں جا کر کام شروع کر دیتا ہے*
*👈غریب آدمی اکثر اوقات کام چوری سے کام لیتا ہے جب کہ امیر لوگ کام کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ اپنے کام میں کبھی ڈنڈی نہیں مارتے اور غریب لوگ جلدی غصے میں آ جاتے ہیں۔*
*🎈غریب لوگ ہر وقت شکوہ کرتے ہیں ان کے ہونٹوں پر اکثر اوقات کسی نہ کسی کی شکایت ہوتی ہے اور یہ ضدی ہوتے ہیں جب کہ امیر لوگ دھیمے مزاج کے انسان ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ان کے پاس شکایت اور شکوے کیلئے وقت نہیں ہوتا اور یہ اکثر اوقات ضد اور ہٹ دھرمی سے پرہیز کرتے ہیں*
*📝میں نے اسی وقت اپنی اور اپنے سیٹھ کی عادتوں کی فہرست بنائی*
*سیٹھ اور مجھ میں صرف عادتوں کا فرق ہے........*
*🌸میں آج اگر امیر لوگوں جیسی عادتیں اپنا لوں تو میں بھی امیر ہو سکتا ہوں*
*💐چناں چہ میں نے فوراً غریب لوگوں کی عادتیں ترک کیں اور سیٹھ کی عادتیں اپنا لیں*
*🌈لہٰذا دولت میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور میں بیس سال بعد سیٹھ سے کہیں آگے کھڑا تھا*
*👈یاد رکھی کام یاب انسان اور ناکام انسان میں صرف عادتوں کا فرق ہوتا ہے*
*👈یہ صرف عادت ہے جو ہمیں اچھا یا برا‘ کام یاب یا ناکام اور بھکاری یا سیٹھ بناتی ہے*
*💫ہم اگر اپنی عادت بدل لیں تو ہماری کلاس تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی*
*♻️میں نے انہیں ٹوکا اور ان سے پوچھا ”لیکن میں نے بے شمار غریب لوگ دیکھے ہیں جن میں امیروں جیسی عادتیں ہوتی ہیں اور میں اکثر ایسے امیر لوگ بھی دیکھتا ہوں جن کی ساری عادتیں غریبوں جیسی ہوتی ہیں*
*👈وہ مسکرائے اور پورے یقین سے بولے ۔۔۔۔۔آپ کی بات درست ہے لیکن آپ آج سے ایک نیا مطالعہ شروع کردیں۔*
*👈آپ ان غریب لوگوں کو واچ کریں۔۔۔۔۔ جن میں امیر لوگوں کی عادتیں ہیں۔۔۔۔۔۔آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے یہ لوگ زیادہ دیر تک غریب نہیں رہیں گے*
*👈وہ تمام لوگ جو غربت میں امیر لوگوں کی عادتیں اپنا لیتے ہیں چناں چہ اللہ ان پر کرم کرتا ہے اور یہ لوگ غربت کی دلدل سے نکل آتے ہیں*
*👈اس طرح غریبوں کی عادتوں والے امیر لوگ زیادہ دیر تک امیر نہیں رہتے*
*💫اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہے ۔۔۔۔ دنیا کے غریب سے غریب ترین شخص کو بھی زندگی میں اپنے حالات تبدیل کرنے کا ایک آدھ موقع ضرورملتا ہے جب کہ امیر سے امیر لوگ بھی زندگی کے کسی حصے میں سانپ اور سیڑھی کے کھیل کا ضرور نشانہ بنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن عادتوں کی وجہ سے امیر بہت جلد دوبارہ امیر اور غریب مستقل غریب ہو جاتے ہیں*
*👈یہ تاریخ ہے دنیا کے تمام امیر لوگ زندگی میں ایک آدھ بار شدید نقصان ضرور اٹھاتے ہیں......یہ ایک آدھ بار غریب ضرور ہوتے ہیں لیکن ان کی عادتیں ان کی سکلز انہیں دوبارہ واپس ان کے مقام پر لے آتی ہیں*
*😒جب کہ غریب اپنی غریب عادتوں کی وجہ سے امیر ہونے کا ہر موقع ضائع کرتے رہتے ہیں لہٰذا فرق صرف عادتوں کا ہے*
*🎯یہ کامیابی کا ایسا گُر ہے۔۔۔۔۔۔۔جو آپ کو اندر اور باہر دونوں سائیڈز سے تبدیل کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ بس عمل کریں اور پھر تبدیلی دیکھی*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
66000
Opening Hours
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |
