Awam Ki Awaz
"عوام کی آواز —
سچ، حق، انصاف اور آگاہی کی آواز۔
پاکستان کی بہتری کے لیے عوام کو بیدار کرنا ہمارا مشن
12/12/2025
تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی
بنکاک۔12دسمبر (اے پی پی):تھائی لینڈ کے وزیراعظم انتھن چارن ویراکُل نے جمعہ کو صرف تین ماہ عہدے پر فائز رہنے کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کر دی،جس کا اعلان شاہی گزٹ میں جاری فرمان کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق پارلیمنٹ کی قبل از وقت تحلیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی متنازع سرحد پر جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں، جن میں اب تک20 افراد ہلاک اور تقریباً 6 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔شاہی گزٹ کے مطابق، جس میں انتھن کی جانب سے موصولہ رپورٹ کا حوالہ دیا کہ حکومت اقلیتی حیثیت رکھتی ہے اور ملک میں سیاسی حالات مختلف چیلنجز سے بھرپور ہیں، جس کے باعث حکومت ریاستی امور کو موثر اور مستحکم انداز میں جاری نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے ایوانِ نمائندگان کی تحلیل اور نئے عام انتخابات کرانا ہی مناسب حل ہے۔
تھائی قانون کے مطابق انتخابات پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے 45 سے 60 دن کے اندر منعقد کیے جائیں گے، جس کے باعث پولنگ جنوری کے آخر یا فروری کے اوائل میں متوقع ہے۔ وزیراعظم انتھن نے جمعرات کو فیس بک پر جاری بیان میں کہا تھا کہ وہ اختیار عوام کو واپس دینا چاہتے ہیں، جسے ملک میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا واضح اشارہ سمجھا جاتا ہے۔انتھن ستمبر میں اس شرط پر وزیراعظم بنے تھے کہ آئندہ عام انتخابات کیلئے پارلیمنٹ تحلیل کی جائے گی۔ وہ گزشتہ دو سال کے دوران ملک کے تیسرے وزیراعظم ہیں۔ اپنے مختصر دورِ اقتدار میں انہیں کمبوڈیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ، میانمار سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے لوگوں کی آمد اور اکتوبر میں سابق ملکہ سیرکت کی وفات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
Awam Ki Awaz
12/12/2025
(TODAY NEWS AWAM KI AWAZ)
وفاقی وزیر عمران شاہ کا بی آئی ایس پی سندھ ہیڈکوارٹر کا دورہ، کارکردگی کا جائزہ
کراچی۔ 12 دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران علی شاہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے سندھ ریجنل ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں خطے کی کارکردگی اور جاری اقدامات پر بریفنگ دی ۔جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی سندھ ریجن عدنان الحسن نے صوبے میں جاری پروگراموں، موجودہ پیش رفت اور مستحقین کے معاونتی نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔وفاقی وزیر نے ڈی جی سندھ کو سروس ڈلیوری اور استفادہ کرنے والوں کی سہولت میں بہتری کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے محدود وسائل کے باوجود علاقائی ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے کمزور طبقات کی مالی مشکلات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تخفیفغربت کے لیے مالی امداد کے ساتھ ساتھ ہنر پر مبنی تربیت بھی ضروری ہے۔ خواتین میں بے پناہ صلاحیت ہے، بس انہیں مواقع اور مہارت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ڈی جی سندھ نے بی آئی ایس پی کے تحت جاری مختلف اقدامات سے متعلق وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر نے طلبہ کی رہنمائی کے لیے کمیونٹی لیول پر آگاہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے والدین سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے اسکول بھیجیں۔
انہوں نے صوبائی سطح پر جدید سہولیات سے آراستہ ون ونڈو سینٹر قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جہاں استفادہ کرنے والوں کو تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جا سکیں۔سید عمران علی شاہ نے کہا کہ صوبائی سطح پر ہونے والا کام اطمینان بخش اور قومی اہداف کے مطابق ہے۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کا بھی ذکر کیا جس کے تحت بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل والیٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کی بدولت خواتین کو مالی امداد محفوظ طریقے سے اور بغیر قطاروں میں لگے مل سکے گی۔وزیراعظم کے وژن کے مطابق ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کے ڈیجیٹل اکانٹس کھولے جا رہے ہیں اور اب تک 25 فیصد کوریج ڈیجیٹل والیٹ سمز کی فراہمی کے ذریعے مکمل ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ یہ سمز مفت فراہم کی جا رہی ہیں اور صرف بی آئی ایس پی دفاتر سے ہی جاری ہوں گی۔وفاقی وزیر نے ہنر مندی کے فروغ کے حکومتی عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے، ہنر سیکھنے کے بعد ہمارا نوجوان ملک کا نام روشن کرے گا۔ دورے کا اختتام اس یقین دہانی پر ہوا کہ سندھ بھر میں بی آئی ایس پی کے دائرہ کار کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور مستحقین کے لیے معاونتی نظام کو بہتر کیا جائے گا۔
#
12/12/2025
پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں آٹھویں میری ٹائم سکیورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب کا انعقاد
لاہور۔12دسمبر (اے پی پی):پاکستان نیوی کی آٹھویں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب پاکستان نیوی وار کالج، لاہور میں منعقد ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ بحریہ کے ترجمان کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی نے پاکستان کی بلیو اکانومی کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سمندروں کی اہمیت کو اجاگر کیا جو اکیسویں صدی میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ مہمانِ خصوصی نے علاقائی میری ٹائم سکیورٹی یقینی بنانے اور ملکی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لیے پاکستان نیوی کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے قوم میں سمندروں کی اہمیت اور قومی سلامتی سے اس کے گہرے تعلق کے بارے میں آگاہی کے فروغ کے لیے پاک بحریہ کی کاوشوں کی تعریف کی۔ ملک میں بحری شعبے کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے قومی جہاز رانی اور ماہی گیری کے شعبوں کی استعداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملکی معاشی و سماجی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔اس سے قبل چیئرمین سینیٹ کی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ان کا استقبال کیا۔
کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی نے استقبالیہ خطاب میں ورکشاپ کی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا۔میری ٹائم سکیورٹی ورکشاپ پاکستان نیوی کا ایک سالانہ پروگرام ہے جس کا مقصد بحری سلامتی، جیوپولیٹکس اور بحرِ ہند کے اسٹریٹجک تناظر کے بارے میں بہتر فہم پیدا کرنا ہے۔ ورکشاپ کے شرکا میں اراکینِ پارلیمنٹ، پالیسی ساز، بیوروکریٹس، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات، مسلح افواج کے افسران اور میڈیا نمائندگان شریک تھے۔
) Awam ki Awaz
10/12/2025
انسانی حقوق کے عالمی دن پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا پیغام
دینِ اسلام انسانیت کے ہر فرد کے حقوق کا حقیقی علمبردار ہے۔
حضرت محمد ﷺ محسنِ انسانیت اور انسانی حقوق کے سچے داعی تھے۔
آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
فلسطین اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ظلم کو روکنے کے لیے مؤثر اور فوری کردار ادا کرے۔
09/12/2025
نوٹ گرے، کردار کھل گئے
آج قومی اسمبلی میں ایسا سین چلا
کہ چند لمحوں کے لیے لگا شاید کوئی گیم شو چل رہا ہے،
بس حکمتِ عملی کی جگہ سب نے "میرے ہیں! میرے ہیں!" کا بٹن دبا دیا۔
اسپیکر نے چند نوٹ لہرا کر پوچھا:
"بھائیو! یہ کس کے پیسے ہیں؟"
اور منظر ایسا بنا جیسے فری ہالیا کھانا بانٹا جا رہا ہو—
بارہ ایم این اے ہاتھ اٹھا کر فخر سے کھڑے!
لگ رہا تھا جیسے سب کو یقین ہو کہ
شاید ان نوٹوں کے ساتھ پارلیمانی کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی مل جائے گا۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے
ملک سنبھالنے، بجٹ بنانے، پالیسی طے کرنے
اور قوم کا مستقبل لکھنے کے لیے بھیجا تھا؟
چند ہزار روپے گرے کون چھوڑے گا…؟
قومی خزانہ تو بہت بڑا پیکج ہے بھائی!
آج کے اس منظر نے واضح کر دیا:
ہمارے نمائندے کسی قانون پر ہاتھ کھڑا کریں نہ کریں،
لیکن گرے ہوئے نوٹوں کے لیے ہاتھ فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ایوان کے فرش پر گرے ہوئے پیسے
اصل میں اراکین کے گری ہوئی سوچ کا ثبوت بن گئے۔
چند نوٹوں سے اتنی محبت؟
قوم کے ووٹ سے بھی زیادہ!
اگر نوٹوں پر اتنی عقیدت ہے
تو بجٹ کی کتابیں یقیناً ان کے لیے کسی "ہمالیہ" سے کم نہیں ہوں گی۔
یہ سب کچھ دیکھ کر دل نے کہا:
"یہ 24 کروڑ عوام کے نمائندے نہیں لگتے،
بلکہ گرے ہوئے نوٹوں کے برادرانِ یتیم زیادہ لگتے ہیں۔"
ایوان بھی سوچ رہا ہوگا:
"میں نے ایسے ایسے لوگ دیکھے ہیں
جو قانون نہیں سمجھتے،
بحث نہیں کر سکتے،
آئین نہیں پڑھتے…
لیکن گرے ہوئے پیسوں کو فوراً پہچان لیتے ہیں!"
آج کی اس ویڈیو نے قوم کو ایک زبردست پیغام دے دیا ہے:
یہ چند ہزار روپے نہیں تھے…
یہ کردار، ترجیحات اور نیت کا میٹر تھا—
جو تیزی سے "نیچے" گر کر ٹوٹ گیا۔
بس ایک بات یاد رکھیں:
نوٹ گرتے ہیں تو اٹھائے جا سکتے ہیں،
لیکن کردار گر جائے…
تو پھر کوئی ایوان، کوئی اسپیکر
اور کوئی ووٹ
اسے واپس نہیں اٹھا سکتا۔
07/12/2025
"میرے عزیز پاکستانیوں،
آج ایک ایسا واقعہ ہمارے سامنے آیا ہے جس نے ہر باشعور شہری کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
DG ISPR کے بیان میں KP کے Chief Minister Sohail Khan Afridi کے حوالے سے کچھ ایسے الفاظ استعمال ہوئے
جو نہ آئینی ہیں، نہ قومی جذبے کے مطابق۔
ہم سب جانتے ہیں کہ Pashtoon قوم نے اس ملک کی حفاظت اور ترقی میں ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔
اور ہمارے صوبائی رہنما، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کی عزت کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے، کیونکہ یہ آئین اور ریاست کے اصولوں کی حفاظت کا حصہ ہے۔
اختلافِ رائے سیاست میں لازمی ہے،
لیکن توہین، ذاتی حملہ یا غیر اخلاقی زبان استعمال کرنا کسی بھی ادارے کے شایانِ شان نہیں۔
آئیے، ہم سب مل کر یہ پیغام دیں:
عوامی نمائندوں کی عزت ضروری ہے
اختلاف کو احترام کے ساتھ پیش کریں
قومی اداروں کا بھی احترام کریں
پاکستان ایک مضبوط ملک تب ہی ہوگا جب ہر قوم، ہر زبان اور ہر علاقے کے لوگوں کی عزت کی جائے گی۔
Awam Ki Awaaz کہتی ہے:
ہم سچ بولیں گے، عوام کو بیدار کریں گے،
لیکن نفرت یا توہین کے بغیر۔
یہی ہے ہمارا پیغام، یہی ہے ہمارا فرض۔
اور آخر میں…
ہم یہ امید کرتے ہیں کہ DG ISPR صاحب
اپنی پریس کانفرنس میں استعمال ہونے والے غیر مناسب الفاظ پر
قوم کے سامنے وضاحت اور بہتری کی یقین دہانی دیں،
تاکہ اداروں اور عوام کے درمیان بھروسہ مزید مضبوط ہو۔"**
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
59300
