Al-Hikmah

Al-Hikmah

Share

اللہ پاک کی عطاکردہ حکمت و فن سے لوگوں کے دلوں اور بیماریوں کا شافی علاج کیا جاتا ہے۔

18/01/2024

Teaching

18/01/2024

ان سردیوں میں کولڈ الرجی کے خدشات موجود ہوتے ہیں۔احتیاط کریں
علامات۔۔
ہاتھ پاوں سوج جاتے ہیں اور شدید درد ہوتا ہے
احتیاط۔۔۔
دستانے اور جرابیں استعمال کریں۔گرم پانی سے پاوں اور ہاتھ دھوئیں۔سردی میں ہاتھ نہ نکالیں۔

17/12/2023

40 سال سے زائد عمر کے افراد جن کو شوگر نہ ہو رات کو دودھ کے ساتھ دو سے تین چھوارے استعمال کریں فوائد دیکھیں

25/07/2023
25/07/2023

ساون کا مہینہ ہے رات کو آم کا جوس یا ملک شیک پی کر فوراً نہ سوئیں۔شدید ہیضے کا خطرہ ہے۔

02/07/2023

جوڑوں کے درد کے مریض رابطہ کریں۔
0302-5600419

11/06/2023

موسمیاتی تبدیلیاں۔
ایک میں آور آپ ہی نہیں سبھی حیران ہیں۔ جون چڑھ رہا ہے لیکن درجہ حرارت تیس ڈگری سیلسیس سے نیچے گرا ہوا ہے۔ لوگوں نے پنکھوں کی رفتار مدھم کی ہوئی ہے اور بہت سوں نے رات لحاف اوپر اوڑھ کر نیند پوری کی۔ جون تو ہم نے اپنی پوری زندگی میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ چلچلاتی دھوپ، شدید حبس اور جھلسا دینے والی گرمی۔ یہ ہیں جون کے مہنے کی خصوصیات۔ یہ کیسا جون چڑھا ہے کہ لوگ اے سی چلانے کی بجاے رات کو لحاف اوڑھ کر سورہے ہیں؟
بارہ ہزار سال قبل ہماری زمین پر زرعی انقلاب شروع ہوا۔ بارہ ہزار سال قبل تک زمین پر سے برفانی دور ختم ہوچکا تھا اور تب تک انسان نے اپنے قریبی رشتہ داروں نی اینڈرتھلز، ہومو ایریکٹس وغیرہ کا خوراک اور علاقہ کے حصول کی جنگ میں صفایا کردیا تھا اور اب اس کرہ ارض کا واحد مالک و مختار بن چکا تھا۔ شکاری دور کی خصوصیت تھی کہ انسانی جتھوں کے مرد حضرات دن چڑھنے کے بعد گروہ کی شکل میں شکار پر نکل جاتے جبکہ عورتیں اور بچے پیچھے رہ کر جنگلی اناج سبزیاں پھل اور میوے اکٹھے کرنے میں لگے رہتے۔ قبیلہ کے بڑے بوڑھے جو اپنے بڑھاپے کی وجہ سے شکاری مہمات پر جانے کے قابل نہ رہے تھے وہ کسی درخت کے نیچے یا غار میں بیٹھ کر فطرت کے عجوبوں پر غور کیا کرتے۔ ماہرین بشریات کا کہنا ہے کہ عورتوں نے جنگلی اناج میوہ جات سبزیاں اور پھل اکٹھے کرنے کے دوران زمین پر بیچ گرنے اور اس سے پودہ اگنے کا راز جانا اور سمجھا اور اس طرح سے زرعی انقلاب کی بنیاد پڑی۔
زرعی انقلاب کیا تھا؟ انسان نے وہ اناج پھل اور سبزیاں جو وہ جنگل میں ادھر ادھر پھر کر تلاش کیا کرتا تھا انہیں خود سے زمین تیار کرکے اگانا شروع کردیا۔ وہ جانور جنکے پیچھے جنگل میں بھاگ کر شکار کیا کرتا تھا انہیں خود سے پال پوس کر دودھ گوشت اور کھال حاصل کرنا شروع کردیا اور خانہ بدوشی کی زندگی چھوڑ کر ایک جگہ پر چھوٹی چھوٹی آبادیاں بناکر رہنا شروع کردیا۔ زرعی دور کی بنیادی خصوصیت کھیت سے ایک فصل کے حصول کے بعد اسکے بقایا جات کو جلاکر کھیت کو نئے سرے سے تیار کرکے اگلی فصل لگانا ہوتا تھا۔ پچھلے بارہ ہزار سال سے انسان یوں ہی برابر کھیتوں میں آگ لگاتا ہوا چلا آرہا ہے جو کہ فضا میں کاربن کی مقدار کے بتدریج بڑھنے کا سبب بن رہا ہے۔ مزید براں جنگلی زندگی چھوڑ کر کھیتوں کے ارد گرد آبادیوں کی صورت میں زندگی بسر کرنے کے تقاضوں نے انسان کو مستقل طور آگ جلانے کے عمل سے جوڑ رکھا ہے ۔ جنگلی ایندھن اور جانوروں کے فضلہ سے توانائی کے حصول کی ضرورت نے پچھلے بارہ ہزار سالوں میں ہماری زمین کی فضا میں کاربن کی ایک اچھی خاصی مقدار جمع کرڈالی ہے۔
اٹھاروں صدی کے آغاز تک صنعتی انقلاب جو انگلستان سے شروع ہوا تھا پورے یورپ میں پھیل چکا تھا۔ صنعتی انقلاب کی بنیاد بھاپ سے چلنے والے انجن کی ایجاد کو قرار دیا جاتا ہے۔ بھاپ کے انجن کی ایجاد سے قبل توانائی اور کام کا حصول زیادہ تر صورتوں میں انسانی بازووں اور جانوروں جیسے گھوڑوں اوربیلوں کے مضبوط پٹھوں کا رہین منت ہوا کرتا تھا لیکن بھاپ کے انجن کی ایجاد اور اسکے کان کنی، بحری جہاز، ریلوے انجن اور موٹر گاڑی میں استعمال نے ایک انقلاب برپا کرکے رکھ دیا۔ ایک ایجاد نے دوسری ایجاد کی ضرورت کو جنم دیا اور یوں چند ہی دہائیوں میں پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رہ گیا۔
بڑی بڑی فیکٹریاں اور صنعتیں قایم ہوئیں تو ان کو چلانے کیلیے کویلے کی بڑی مقدار صرف ہونے لگی۔ تیل اور گیس کی دریافت نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا اور سمندروں، فضاوں اور سڑکوں پر ہوائی جہاز اڑانے، بحری جہازچلانے اور موٹر گاڑیاں رواں رکھنے کیلیے اس ایندھن کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا جو ہنوز جاری و ساری ہے۔ پچھلے تین سو سالوں میں ہم نے صنعتی انقلاب کی بدولت اتنی ترقی اور آسایش تو حاصل کرلی ہے لیکن توانائی کے حصول کیلیے ایک بہت بڑی مقدار میں فوسل فیول کا استعمال کرکے فضا میں اتنی بڑی مقدار میں کاربن جمع کرلی ہے کہ آج ہمارا سیارہ زمین ہماری بے جا مداخلت کے سبب موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہوکر بتدریج ہمارے رہنے کے قابل ماحول سے دستبردار ہوتا جارہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے مراد موسموں کے قدرتی طریقوں پر چلنے میں خلل پڑنا اور دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں کا شدید موسموں سے سامنا ہونا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب آج ہماری دنیا کو انتہائی مخدوش حالات کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے ہمارا پیارا ملک پاکستان ان ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر بیان کیا جارہا ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسموں سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ طویل عرصہ کے سوکھوں، بے موسموں کی بارشوں اور بار بار کی ژالہ باری نے ہماری فصلوں اور اس سے حاصل ہونے والی خوراک کیلیے شدید خطرات پیدا کردیے ہیں اور ہر گزرتے دن کیساتھ موسموں کی خراب ہوتی صورت حال فصلوں کے بڑے پیمانے پر ناکام ہونے کے خدشات کو بڑھاتی چلی جارہی ہے اورپاکستان سمیت پوری دنیا کو قحط کے وسوسوں نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
فضا میں بتدریج بڑھتی کاربن کی مقدار کو قابو نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ زمین کے دونوں قطبوں کی برفیں پگھل جائیں گی۔ سمندروں کی سطح بلند ہوجاے گی اور دنیا کے اکثر و بیشتر ساحلی شہر بشمول کراچی کے زیرآب چلے جائیں گے۔ قطبوں کی برف پگھلنے کی وجہ سے سورج کی روشنی کا وہ حصہ جو برف سے منعکس ہوکر وآپس خلا میں چلاجایا کرتا تھا زمین میں جزب ہوکر درجہ حرارت میں مزید اضافہ کا باعث بنے گا۔ پہاڑوں پر لاکھوں برسوں سے جمے گلیشئیرز پگھل جائیں گے اور دریا میدانوں میں پھیل کر وہ تباہی مچائیں گے کہ خدا کی پناہ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا حل فوسل فیول کے استعمال کو ترک کرکے توانائی کے قابل تجدید اور متبادل ذرایع کے

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Muzaffargarh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

P/o Mehar Pur T/D Muzaffargarh
Muzaffargarh
5400