Islamic Information

Islamic Information

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic Information, Health/Beauty, Bhutta Muhabat, Okara.

29/05/2025

*بھینسے کی قربانی جائز ہے*

1. امام محمد بن حسن الشیبانیؒ (132ھ–189ھ) – کتاب الأصل:

امام محمد، جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد رشید ہیں، اپنی کتاب الأصل میں فرماتے ہیں:

> "الجاموس من البقر"
ترجمہ: بھینس، گائے کی قسم سے ہے۔

ماخذ:
الأصل لمحمد بن الحسن الشيباني، كتاب الذبائح، باب الأنعام.

2. امام سرخسیؒ (المتوفی 483ھ) – المبسوط:

امام سرخسی، حنفی فقہ کے بڑے امام، اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں:

> "الجاموس من جنس البقر فيجوز فيه ما يجوز في البقر"
ترجمہ: بھینس گائے کی جنس سے ہے، تو اس میں وہی احکام جاری ہوں گے جو گائے پر لاگو ہوتے ہیں۔

ماخذ:
المبسوط، للإمام السرخسي، ج 12، ص 12

3. امام کاسانیؒ (المتوفی 587ھ) – بدائع الصنائع:

> "والبقر يَدخل فيه الجواميس، لأن الجاموس من جنس البقر"

ترجمہ: "بقر" (گائے) میں "جاموس" (بھینس) شامل ہے، کیونکہ وہ اسی جنس سے ہے۔

ماخذ:
بدائع الصنائع، ج 5، ص 69

---

4. امام نوویؒ (شافعی) – شرح صحیح مسلم:

امام نوویؒ لکھتے ہیں:

> "الجاموس نوع من أنواع البقر"
ترجمہ: بھینس، گائے کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔

ماخذ:
المنهاج شرح صحيح مسلم، للنووي، ج 13، ص 117

---

خلاصہ:

تمام بڑے ائمہ – خواہ وہ امام محمد، سرخسی، کاسانی، یا نوویؒ ہوں – بھینس کو "بقر" (گائے) کی قسم قرار دیتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن و سنت اور اجماع امت سے گائے کی قربانی جائز ہے، لہٰذا بھینسے کی قربانی متفق علیہ طور پر جائز ہے۔

✒️نعمان علی حنفی

14/01/2025

خلیفۂ چہارم،امیرُ المؤمنین حضرت سیّدُنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم عامُ الفیل کے تیس برس بعد جبکہ حضورِاکرم صلَّیاللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے اعلانِ نَبُوَّت فرمانے سے دس سال قبل پیدا ہوئے۔(تاریخ ابن عساکر، ج41، ص361) حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے،بہن بھائیوں میں سے حضرت عقیل اورحضرت جعفر، حضرت امِّ ہانی اور حضرت جُمانہ علیہِمُ الرِّضْوَان دولتِ ایمان سے سرفراز ہوئے۔ (سبل الہدیٰ و الرشاد ج11، ص88،ریاض النضرہ، ج2، ص104، مصنف عبد الرزاق، ج7، ص134، حدیث: 12700) پرورش، لقب و کنیت حضرت مولیٰ علی رضی اللہُ عنہ نے حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے کنارِ اقدس میں پرورش پائی، حضورِ اکرم صلَّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھلتے ہی محمّد رّسولُ اللہ صلَّیاللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا جمالِ جہاں آراء دیکھا، حضورِانور ہی کی باتیں سنیں، عادتیں سیکھیں، ہرگز ہرگزبتوں کی نجاست سے آپ کا دامنِ پاک کبھی آلودہ نہ ہوا۔ اسی لئے لقبِ کریم کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہ ملا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج28، ص436 بتغیر) آپ رضیَ اللہُ عنہ کی کنیت ابو الحسن اور ابو تُراب ہے۔ نکاح آپ رضیَاللہُ عنہ اور حضرت سیّدَتُنابی بی فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا کا بابرکت نکاح 2 ہجری ماہِ صفر، رجب یا رمضان میں ہوا۔ (اتحاف السائل للمناوی، ص:2 ) جہیزو رہائش حضرت بی بی فاطمہ رضیَاللہُ عنہَا کے جہیز میں ایک چادر، کھجور کی چھال سے بھرا ہوا ایک تکیہ، ایک پیالہ، دو مٹکے اور آٹا پیسنے کی دو چکّیاں تھیں۔ (مسند احمد،ج1، ص223،حدیث، 819، معجم کبیر، ج24، ص137، حدیث: 365)

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Okara?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Bhutta Muhabat
Okara