Adnan tanha Adnan tanha

Adnan tanha Adnan tanha

Share

Romantic Bold novel

16/05/2026
16/02/2026

ناول: تشنہ لبوں کی آگ
قسط نمبر: 02

۔۔۔۔۔

صبح کی پہلی کرن کھڑکی کے بھاری ریشمی پردوں کی دراڑوں سے چھن کر جب بیڈروم میں داخل ہوئی، تو کمرے کی فضا اب بھی رات کی وحشت اور حبس کی گواہ تھی۔ سفید چادر اب سلوٹوں سے بھری ہوئی تھی اور اس پر جگہ جگہ پھیلے سرخ دھبے زویا کی قربانی اور فارس کی جارحیت کا اعتراف کر رہے تھے۔

زویا کی آنکھ کھلی تو اسے پورے بدن میں ایک ایسا میٹھا درد محسوس ہوا جیسے اس کی ایک ایک ہڈی کو دوبارہ سے جوڑا گیا ہو۔ فارس اس کے پہلو میں نیم برہنہ لیٹا تھا، اس کے چہرے پر ایک ایسی فاتحانہ آسودگی تھی جو زویا کو مزید شرمندہ کر رہی تھی۔ فارس نے محسوس کیا کہ زویا بیدار ہو چکی ہے، اس نے آنکھیں کھولے بغیر ہی اپنا ایک مضبوط بازو زویا کی کمر کے گرد پھیلا کر اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔

"صبح بخیر، میری وحشت کی شریکِ حیات۔۔۔" فارس کی آواز صبح کی اس خاموشی میں مزید گہری اور مردانہ لگ رہی تھی۔

زویا نے حیا سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنا چہرہ فارس کے چوڑے سینے میں چھپانا چاہا، مگر فارس نے اسے مہلت نہ دی۔ اس نے زویا کو بازوؤں سے اٹھایا اور اسے اپنی گود میں بٹھا دیا۔ زویا کی برہنگی اب صبح کی اجلی روشنی میں فارس کے سامنے بالکل واضح تھی۔ فارس کی نظریں زویا کے بدن پر موجود ان نیلے نشانات کا طواف کرنے لگیں جو اس نے رات کی تاریکی میں اپنے لبوں اور دانتوں سے چھوڑے تھے۔

"فارس۔۔۔ غسل کرنا ہے۔۔۔ مجھے چھوڑیں،" زویا نے بہت دھیمی آواز میں التجا کی، مگر اس کی آواز میں اب وہ پہلے والا خوف نہیں بلکہ ایک عجیب سی سپردگی تھی۔

"غسل ہم ساتھ کریں گے زویا، ابھی میری پیاس کہاں بجھی ہے؟" فارس نے شرارت اور جنون کے ملے جلے انداز میں کہا۔

وہ زویا کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر اٹیچ باتھ روم کی طرف بڑھا۔ باتھ روم کا سائز کسی چھوٹے کمرے جتنا تھا، جہاں وسط میں ایک بڑا سنگِ مرمر کا ٹب (whirlpool bath) موجود تھا۔ فارس نے گرم پانی کا نل کھولا اور اس میں خوشبودار تیل اور جھاگ پیدا کرنے والا لوشن ڈال دیا۔ جب ٹب لبالب بھر گیا، تو وہ زویا کو لے کر اس کے اندر اتر گیا۔

گرم پانی کا لمس جیسے ہی زویا کے زخموں اور مخصوص حصوں سے ٹکرایا، اس کے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔ پانی کی تپش نے اس کے بدن کی اکڑن کو کم کیا، مگر فارس کے ہاتھوں نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کر دیا۔ پانی کے اندر فارس کے ہاتھ زویا کے بدن کے ان حصوں کو ٹٹول رہے تھے جو ابھی بھی رات کے لمس سے تڑپ رہے تھے۔ صابن کی جھاگ ان کے درمیان ایک لغزش پیدا کر رہی تھی۔

فارس نے زویا کو ٹب کی دیوار سے لگایا اور اس کے گیلے بالوں کو پیچھے کر کے اس کی گردن کو چومنا شروع کیا۔ پانی کی چھینٹیں ان کے چہروں پر پڑ رہی تھیں۔ فارس کا ہاتھ پانی کے اندر زویا کی رانوں کے درمیان اس مقام تک جا پہنچا جہاں ابھی بھی رات کے ملاپ کی وجہ سے ایک ہلکا سا ورم اور جلن باقی تھی۔ فارس نے اپنی انگلیوں سے وہاں ایک ایسی حرکت شروع کی جس نے زویا کے اندر دوبارہ سے شہوت کی آگ بھڑکا دی۔

"آہ۔۔۔ فارس۔۔۔ یہاں نہیں۔۔۔" زویا نے ہانپتے ہوئے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیے، مگر اس کا اپنا جسم اب فارس کی طرف کھنچ رہا تھا۔

فارس نے اسے وہیں ٹب کے اندر اپنے اوپر بٹھا لیا۔ پانی کی لہریں ان کے جسموں کے ٹکرانے سے باہر گر رہی تھیں۔ فارس نے زویا کی کمر کو مضبوطی سے تھاما اور ایک بار پھر اس کے وجود میں پیوست ہو گیا۔ پانی کی موجودگی نے اس عمل کو ایک انوکھی لذت اور ہمواری عطا کر دی تھی۔ زویا نے اپنا سر پیچھے کی طرف جھکا دیا اور دیوار کے ٹھنڈے پتھر سے لگا لیا، جبکہ اس کا نچلا دھڑ فارس کی تپش میں پگھل رہا تھا۔

وہ غسل اب محض صفائی نہیں رہا تھا، بلکہ شہوت کا ایک نیا باب بن چکا تھا۔ فارس نے اسے پانی کے اندر ہی کئی بار پوزیشن بدل کر حاصل کیا۔ زویا کے حلق سے نکلنے والی سسکیاں باتھ روم کی ٹائلوں سے ٹکرا کر گونج رہی تھیں۔ جب وہ باہر نکلے، تو دونوں کے جسم سرخ ہو چکے تھے اور آنکھوں میں ایک نئی طرح کی بے باکی آ چکی تھی۔ فارس نے زویا کو تولیے میں لپیٹا، مگر اس کی نظریں بتا رہی تھیں کہ یہ سلسلہ آج رکنے والا نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔

غسل کے بعد زویا نے ایک ہلکے گلابی رنگ کا ریشمی نائٹ گاؤن پہن رکھا تھا، مگر اس کے باوجود اسے لگ رہا تھا کہ فارس کی نظریں اس کے لباس کے پار دیکھ رہی ہیں۔ فارس نے محض ایک ٹراؤزر پہن رکھا تھا اور اس کا چوڑا، کسرتی سینہ اب بھی زویا کے سامنے عیاں تھا، جس پر زویا کے ناخنوں کے خراشیں اب بھی ہلکی سرخی لیے موجود تھیں۔

وہ دونوں کمرے میں ہی لگے چھوٹے سے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے، مگر زویا سے ایک لقمہ بھی نہیں ٹوٹ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار باتھ روم کے وہ مناظر گھوم رہے تھے جہاں فارس نے پانی کی لہروں کے درمیان اسے اپنی وحشت کا نشانہ بنایا تھا۔

"کھانا کھاؤ زویا، تمہیں طاقت کی ضرورت ہے،" فارس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے نہایت شرارت سے کہا۔ اس کی نظریں زویا کے گلے پر موجود ان نیلے نشانوں پر جمی تھیں جو اب مزید گہرے ہو چکے تھے۔

زویا نے شرم سے نظریں جھکا لیں، "آپ بہت بے باک ہو گئے ہیں فارس۔"

"بے باکی تو ابھی شروع ہوئی ہے جانِ من،" فارس نے میز کے نیچے سے اپنا پاؤں زویا کی ننگی پنڈلی پر رکھا۔ اس کا کھردرا لمس زویا کے ریشمی گاؤن کے نیچے اس کی جلد کو چھو رہا تھا، جس سے زویا کے ہاتھ سے چائے کا چمچ چھوٹ کر گر گیا۔

فارس ناشتے کی میز سے اٹھا اور زویا کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے زویا کے بالوں کو ایک طرف کیا اور اس کے کندھے پر اپنے لب رکھ دیے۔ زویا کا پورا وجود ایک بار پھر لرزنے لگا۔ فارس نے گاؤن کی ریشمی بیلٹ کو بہت آہستگی سے اپنی پوروں میں الجھایا اور اسے ایک ہی جھٹکے سے کھول دیا۔

"فارس! ملازم آ سکتے ہیں،" زویا نے گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔

"دروازہ لاک ہے، اور اس گھر میں میری اجازت کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا،" فارس نے اسے کرسی سے اٹھایا اور اسے میز پر ہی بٹھا دیا۔

ناشتے کے برتن ایک طرف ہو گئے اور زویا اب میز پر فارس کے سامنے نیم برہنہ حالت میں تھی۔ فارس نے اس کی رانوں کو میز کے کناروں سے لٹکا کر خود کو اس کے درمیان جگہ دی۔ اس نے زویا کے پاؤں میں وہی پازیب دوبارہ پہنائی جو رات غسل کے وقت اتار دی گئی تھی۔

"مجھے اس پازیب کی آواز کے بغیر مزہ نہیں آتا،" فارس نے سرگوشی کی۔

اس نے زویا کے گاؤن کو مکمل طور پر اس کے وجود سے الگ کر دیا اور اسے میز پر لیٹنے کا اشارہ کیا۔ ٹھنڈی میز اور فارس کے گرم بدن کا تضاد زویا کو پاگل کر رہا تھا۔ فارس نے اب اپنی پوروں سے زویا کے پیٹ پر شہد کی ایک بوند گرائی جو ناشتے کی میز پر رکھا تھا۔ اس نے اپنے لبوں سے اس شہد کو زویا کے وجود سے چاٹنا شروع کیا۔ زویا کی سسکیاں اب ہذیانی پکار میں بدلنے لگی تھیں۔

فارس کی زبان جب اس کے جسم کے حساس حصوں سے ٹکرائی، تو زویا نے میز کے کناروں کو اتنی سختی سے پکڑا کہ اس کی پوریں سفید پڑ گئیں۔ فارس نے اب اسے ایک نئی اور مشکل پوزیشن میں لیا۔ اس نے زویا کو میز پر الٹا لٹایا اور اس کی کمر کے نیچے ایک تکیہ رکھ دیا تاکہ اس کا نچلا دھڑ اوپر کی طرف ابھر آئے۔

وہ وصال کا ایک نیا اور وحشیانہ انداز تھا۔ فارس نے پیچھے سے خود کو زویا کے وجود میں پیوست کیا۔ زویا کا منہ میز پر پڑی چادر میں دب گیا تھا، اس کی پازیب کی چھنکار اور فارس کے جسم کے ٹکرانے کی آوازیں اب پورے کمرے میں ایک نئی آگ بھڑکا رہی تھیں۔ فارس کا ہر جھٹکا زویا کو میز پر آگے کی طرف دھکیل رہا تھا، اور زویا کو لگ رہا تھا کہ وہ اس لذت اور کرب کے بوجھ تلے مر جائے گی۔

گھنٹوں تک وہ ناشتے کی میز پر اس کھیل میں مصروف رہے۔ جب فارس کی پیاس تھوڑی دیر کے لیے بجھی، تو زویا بالکل نڈھال ہو چکی تھی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پر پسینے اور شہد کی آمیزش اسے ایک عجیب وحشیانہ حسن دے رہی تھی۔ فارس نے اسے دوبارہ بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ کی طرف لے گیا، جہاں اب دوپہر کا سورج ان کی اگلی مہم کا انتظار کر رہا تھا۔

۔۔۔۔

ناشتے کی میز پر برپا ہونے والے طوفان کے بعد فارس، زویا کو بیڈ پر لے آیا تھا جہاں دوپہر کی تیز دھوپ پردوں کے پار سے کمرے میں نارنجی تپش بکھیر رہی تھی۔ زویا کا جسم اب تک اس تھکن اور لذت کے زیرِ اثر لرز رہا تھا جو فارس نے اسے ہر بار ایک نئی پوزیشن اور نئے انداز میں عطا کی تھی۔ لیکن فارس، جس کے اعصاب جیسے فولاد سے بنے تھے، ابھی بھی پرسکون نہیں ہوا تھا۔

زویا بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی تھی، اس کی ننگی پیٹھ پر فارس کے لبوں کے نشانات کسی نقشے کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ فارس نے اس کے قریب لیٹ کر اپنے ہاتھ سے اس کی کمر کے مہرے گننے شروع کیے۔ اس کی کھردری انگلیاں جب زویا کے نشیب و فراز سے ٹکراتی تھیں، تو زویا کو اپنے اندر ایک میٹھی کسک محسوس ہوتی تھی۔

"تمہارا بدن کسی لغت کی طرح ہے زویا، جسے میں جتنا پڑھتا ہوں، اتنی ہی پیاس بڑھتی ہے،" فارس نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی اور اس کے کندھے کی ہڈی کو اپنے دانتوں تلے دبا لیا۔

زویا نے مڑ کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں نیند کا خمار اور ادھوری خواہشوں کی جھلک تھی، "فارس۔۔۔ اب بس بھی کریں، میرا پورا وجود دکھ رہا ہے۔"

"محبت میں دکھن ہی تو اصل سکون ہے،" فارس نے شرارت سے کہا اور ایک بار پھر اسے اپنے نیچے دبا لیا۔

اس بار فارس نے ایک نیا طریقہ اپنایا۔ اس نے زویا کے ہاتھوں کو بیڈ کی ریلنگ سے اپنے ایک رومال کے ذریعے باندھ دیا تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکے۔ زویا نے ایک بار پھر سے خود کو اس کے رحم و کرم پر پایا۔ فارس نے زویا کے پیروں کو اونچا کیا اور اس کی پازیب کی آواز کے ساتھ ایک تال پیدا کی۔ اس نے اب زویا کے بدن پر برف کا ایک ٹکڑا پھیرا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے جوس کے گلاس سے بچ گیا تھا۔

ٹھنڈک اور بدن کی تپش کا وہ ملاپ زویا کو پاگل کر دینے کے لیے کافی تھا۔ جہاں جہاں سے برف گزرتی، زویا کا جسم وہاں سے اکڑ جاتا۔ فارس نے اس برف کو اس کے سینے کے ابھاروں سے لے کر اس کی رانوں کے اندرونی حصوں تک پھیرا۔ زویا کی سسکیاں اب ہذیانی پکار بن چکی تھیں۔

"فارس۔۔۔ خدا کے لیے۔۔۔ مجھے چھوڑ دیں یا پھر۔۔۔" زویا کی آواز گلے میں ہی گھٹ گئی۔

فارس نے اس کی پکار سن لی تھی۔ اس نے برف پھینکی اور خود کو ایک بار پھر زویا کے وجود میں پیوست کر دیا۔ یہ ملاپ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور جرات مندانہ تھا۔ فارس نے زویا کو اس کی انتہا تک پہنچایا جہاں اس کی روح نے جیسے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ وہ دونوں اس دوپہر کی تپش میں ایک دوسرے کی سانسیں بن کر رہ گئے۔

جب یہ مرحلہ ختم ہوا، تو زویا فارس کے سینے پر سر رکھے نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ فارس اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا، مگر اس کی نظریں اب بھی کمرے کے بند دروازے کی طرف تھیں، جیسے وہ اگلی رات کے لیے نئے منصوبے بنا رہا ہو۔ اس کے لیے یہ صرف ایک ضرورت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا جنون تھا جس نے زویا کو اس کی اپنی نظروں میں ایک "ملکیت" بنا دیا تھا۔

16/02/2026

ناول: "اعترافِ وحشت"
قسط نمبر 18+19+20
لاسٹ ایپسوڈ

فارم ہاؤس کا وہ وسیع کمرہ جس کی دیواریں مہنگی لکڑی سے بنی تھیں، اب کسی اذیت خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کھڑکی کے باہر بارش کی دبی دبی آواز آ رہی تھی، مگر اندر کی فضا زارون اسفندیار کے غصے اور مناہل کی خاموشی سے بوجھل تھی۔ زارون نے مناہل کو زبردستی وہاں لا کر بیڈ کے چاروں ستونوں سے جکڑ دیا تھا۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں ریشمی مگر مضبوط تسموں سے اس طرح تنے ہوئے تھے کہ اس کے جسم کی ہر جنبش پازیب کی گھنٹیوں کو بجنے پر مجبور کر رہی تھی۔
زارون نے اپنی سیاہ شرٹ کے بٹن کھولے اور اسے ایک طرف پھینک دیا۔ اس کے کسرتی بدن پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں اور آنکھوں میں وہ درندگی تھی جو کسی زخمی شیر کے سامنے اپنا شکار دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ اس نے میز پر رکھا ہوا وہی چمڑے کا باریک ہنٹر اٹھایا، جس کی سرسراہٹ ہی مناہل کے وجود میں کپکپی طاری کرنے کے لیے کافی تھی۔
"تم نے کیا سمجھا تھا مناہل؟ کہ تم اس طرح خاموشی سے میرے حصار سے نکل جاؤ گی؟" زارون کی آواز میں ایک گہری گرج تھی۔ "میں نے تمہیں اس مقام تک پہنچایا ہے جہاں تمہارا ہر مسام صرف میرے لمس کو پہچانتا ہے۔ تم کہیں بھی چلی جاؤ، تم میری ہی رہو گی۔"
اس نے ہنٹر کا ٹھنڈا سرا مناہل کے برہنہ ٹخنے پر رکھا، بالکل اس پازیب کے پاس جو اس کی 'ملکیت' کی سب سے بڑی نشانی تھی۔ مناہل نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، مگر اس کے لب ساکت رہے۔ زارون نے ہنٹر کو آہستہ آہستہ اوپر کی طرف سرکانا شروع کیا۔ وہ ٹھنڈا چمڑا مناہل کی نازک جلد پر رینگ رہا تھا، مگر مناہل کا چہرہ کسی پتھر کے بت کی طرح بے تاثر رہا۔
"بولو! خاموش کیوں ہو؟" زارون نے ہنٹر کو ایک جھٹکے سے مناہل کی ران پر مارا۔ "چیخو! مجھ پر غصہ کرو! میری تذلیل کرو! مگر یہ خاموشی بند کرو!"
درد کی ایک لہر مناہل کے پورے وجود میں دوڑی، اس کا جسم بیڈ پر ایک لمحے کے لیے تڑپا، جس سے پازیب کی آواز "چھن چھن" کر کے پورے کمرے میں بکھر گئی، مگر اس کے لبوں سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ اس نے اپنی پتھرائی ہوئی نظریں چھت پر جمائے رکھیں۔
زارون کا پارہ مزید ہائی ہو گیا۔ اسے وہ مناہل چاہیے تھی جو اس کے ایک وار پر سسکیاں لیتی تھی، جو اس کے پاؤں میں گر کر "بھیک" (Beg) مانگتی تھی کہ اسے چھوڑ دیا جائے یا اسے حاصل کر لیا جائے۔ مگر یہ مناہل تو جیسے روح سے خالی ہو چکی تھی۔
زارون اس کے اوپر کسی وحشی کی طرح ٹوٹ پڑا۔ اس نے مناہل کے ہونٹوں کو اتنی سختی سے اپنے دانتوں کے درمیان بھینچا کہ وہاں سے خون رسنے لگا۔ اس کے ہاتھ مناہل کے بدن کو کسی مٹی کے ڈھیر کی طرح گوندھ رہے تھے۔ اس نے اسے جکڑا، اسے مسلا، اور اپنی پوری مردانہ طاقت سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وہ اسے چھیڑتا رہا، اسے انگلیوں سے اذیت دیتا رہا، اور اس کے ٹخنوں کی پازیب کو بار بار ٹھوکر مار کر بجاتا رہا۔
وہ جنونی سیکس، وہ وحشیانہ ملاپ جس کا زارون عادی تھا، آج اسے کوئی تسکین نہیں دے رہا تھا۔ وہ جتنا گہرائی میں اتر رہا تھا، اسے اتنا ہی محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی جیتی جاگتی عورت کے ساتھ نہیں بلکہ ایک بے جان لاش کے ساتھ اپنی ہوس پوری کر رہا ہے۔ مناہل کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر ان میں نہ لذت تھی، نہ تکلیف، اور نہ ہی زارون کے لیے وہ پرانی چاہت۔
"تم کہاں ہو مناہل؟ مجھے جواب دو!" زارون نے ہانپتے ہوئے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ "تمہارا جسم میرے نیچے تڑپ رہا ہے، مگر تم یہاں نہیں ہو۔ مجھے وہ مناہل چاہیے جو میری ایک پور کے لمس پر پگھل جاتی تھی!"
مناہل نے نہایت سکون سے اپنی نظریں زارون کے تمتماتے چہرے پر جمائیں۔ اس کی آواز میں ایک ایسی سردی تھی جو زارون کے جسم میں آگ لگا دینے والی تپش سے کہیں زیادہ ہولناک تھی۔
"آپ نے میرا جسم تو چھین لیا ہے زارون، مگر وہ 'میں' اب آپ کو کبھی نہیں ملے گی جو آپ کی وحشت پر سجدہ ریز ہوتی تھی۔ آپ نے زبردستی کر کے اس لڑکی کو مار دیا ہے جو آپ سے محبت کرتی تھی۔ اب آپ کے پاس صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اسے جتنا چاہیں جکڑیں، جتنا چاہیں مسلیں، مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
زارون کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے بلندی سے زمین پر پٹخ دیا ہو۔ وہ شخص جو پوری دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچاتا تھا، جو سمجھتا تھا کہ طاقت اور وحشت سے ہر چیز حاصل کی جا سکتی ہے، آج ایک نحیف سی لڑکی کے سامنے شکست کھا چکا تھا۔
اس نے غصے میں میز پر رکھا ہوا شراب کا گلاس دیوار پر دے مارا، جس کے ٹکڑے پورے فرش پر بکھر گئے۔ وہ ہانپتا ہوا کمرے کے وسط میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ مناہل اسی طرح جکڑی ہوئی، بے لباس اور زخموں سے چور پڑی تھی، مگر اس کی خاموشی زارون کے لیے کسی گالی سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
"میں تمہیں توڑ دوں گا مناہل! میں تمہیں مجبور کر دوں گا کہ تم دوبارہ میری وہی تشنہ لب لونڈی بنو!" زارون نے غصے سے چیخ کر کہا، مگر اس کی آواز میں وہ پرانا اعتماد مفقود تھا۔
اس نے کمرے کی لائٹ بند کر دی اور اندھیرے میں سگار سلگا لیا۔ سگار کا وہ دہکتا ہوا سرا اندھیرے میں کسی بھوت کی آنکھ کی طرح چمک رہا تھا۔ وہ پوری رات مناہل کے قدموں میں بیٹھا اسے دیکھتا رہا، مگر مناہل کی طرف سے کوئی جنبش نہیں ہوئی۔ اسے احساس ہونے لگا تھا کہ شکاری اب خود اپنے بچھائے ہوئے جال میں قید ہو چکا ہے۔ اسے مناہل کی جسمانی سپردگی تو مل گئی تھی، مگر اس کی وہ 'توجہ' اور وہ 'تڑپ' اب ایک خواب بن چکی تھی جسے پانے کے لیے وہ اب اپنی انا تک قربان کرنے کے لیے تیار ہونے والا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں موجود وہ گھٹن اب کسی کیمیاوی عمل کی طرح زارون کے اعصاب کو چاٹ رہی تھی۔ زارون، جو ہمیشہ حالات کو اپنی مٹھی میں رکھنے کا عادی تھا، آج پہلی بار ایک ایسے خلا کا سامنا کر رہا تھا جسے اس کی وحشت پر نہیں پا رہی تھی۔ مناہل بیڈ پر اسی طرح جکڑی ہوئی تھی، اس کے سفید بدن پر ہنٹر کے سرخ نشانات کسی جلے ہوئے نقشے کی طرح ابھرے ہوئے تھے، مگر اس کی آنکھوں کی وہ 'مردنی' زارون کو پاگل کر رہی تھی۔

"تمہاری یہ ضد۔۔۔ تمہاری یہ خاموشی۔۔۔ میں اسے پگھلا کر دم لوں گا مناہل!" زارون نے ہذیانی انداز میں کہا۔

اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی پیتل کی کینڈل اسٹینڈ سے ایک لمبی، گہری سرخ رنگ کی موم بتی اٹھائی اور اسے سلگا لیا۔ آگ کا وہ ننھا سا شعلہ ناچ رہا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے زارون کے اندر انتقام اور ہوس کی آگ ناچ رہی تھی۔ وہ بیڈ کے قریب آیا اور مناہل کے اوپر اس طرح جھکا کہ اس کی گرم سانسیں مناہل کے چہرے سے ٹکرانے لگیں۔

موم کا عذاب: تپش اور پکار کا کھیل
زارون نے موم بتی کو تھوڑا سا جھکایا۔ پگھلا ہوا موم سست روی سے اس کی بتی سے جدا ہوا اور ایک دہکتے ہوئے قطرے کی صورت میں مناہل کے ننگے کندھے پر گرا۔

"آہ۔۔۔!"

مناہل کے لبوں سے ایک دبی ہوئی، غیر ارادی سسکی نکلی۔ تپتا ہوا موم اس کی جلد پر گرتے ہی اسے جلا گیا، مگر اگلے ہی لمحے وہ وہیں جم کر ایک سخت تہہ بن گیا۔ زارون کے چہرے پر ایک درندہ صفت مسکراہٹ آئی۔ اسے لگا کہ شاید وہ 'راستہ' مل گیا ہے جہاں سے وہ مناہل کے اندر دوبارہ داخل ہو سکتا ہے۔

"پسند آیا؟ یہ تپش تمہارے وجود کو یاد دلائے گی کہ تم کس کے حصار میں ہو،" زارون نے سرگوشی کی۔

وہ رکا نہیں۔ اس نے باری باری وہ دہکتے ہوئے قطرے مناہل کے سینے، اس کے پیٹ کے نشیب و فراز اور اس کی رانوں کے اندرونی حصوں پر گرانا شروع کیے۔ ہر قطرے کے ساتھ مناہل کا جسم ایک جھٹکا لیتا، اس کے ہاتھوں اور پیروں کے تسمے بیڈ کی لکڑی سے رگڑ کھاتے اور پازیب کی آواز "چھن چھن" کر کے کمرے کی خاموشی کو چیر دیتی۔

"زارون۔۔۔ بس کر دیں۔۔۔" مناہل کی آواز بہت نحیف تھی، مگر اس میں وہ تڑپ نہیں تھی جو زارون سننا چاہتا تھا۔

"بس؟ ابھی تو تماشہ شروع ہوا ہے،" زارون نے غصے سے موم بتی ایک طرف پھینک دی اور اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں سے ان جمے ہوئے قطروں کو مسلنا شروع کیا۔

وہ موم جب اس کی جلد کے ساتھ رگڑ کھا کر اکھڑتا، تو وہ جگہ سرخ انگارے کی طرح دہک اٹھتی۔ زارون نے اسے کسی کپڑے کی طرح مروڑا، اس کے بدن کو اپنے ناخنوں سے نوچا، اور اسے اس انتہا تک لے آیا جہاں ایک عورت کا صبر جواب دے جاتا ہے۔ وہ اسے بار بار چھیڑتا، اسے انگلیوں سے وہ 'اذیت ناک لذت' دیتا جو انسان کو ہوش سے بیگانہ کر دیتی ہے، مگر مناہل نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنے ہونٹ اس قدر سختی سے بھینچ لیے کہ ان سے خون رسنے لگا۔

زبردستی کی انتہا: روح اور بدن کا تصادم
زارون کا جنون اب اپنی حدیں پار کر چکا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے خود کو مناہل کے اندر پیوست کر دیا۔ یہ ملاپ محبت نہیں تھی، یہ وصال نہیں تھا، یہ صرف ایک 'فتح' کا اعلان تھا۔ وہ اسے کسی بے جان لکڑی کی طرح استعمال کر رہا تھا۔ اس کی ہر ضرب کے ساتھ مناہل کا سر بیڈ کی پشت سے ٹکراتا، اس کی پازیب دیوانہ وار بجتی، مگر مناہل کی طرف سے کوئی جواب (Response) نہیں ملا۔

وہ اس کے اوپر ہانپ رہا تھا، اس کا پسینہ مناہل کے بدن پر گرے ہوئے موم کے نشانات پر گر رہا تھا، مگر اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی ریگستان میں پانی ڈھونڈ رہا ہو۔ اسے وہ مناہل نہیں مل رہی تھی جو اس کی ایک جنبش پر اپنی روح تک نکال کر اس کے قدموں میں رکھ دیتی تھی۔

"تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتیں؟ تم مجھے پکارتی کیوں نہیں؟" زارون نے ہانپتے ہوئے اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور دیوار کے ساتھ لگے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا۔

اس نے اسے پیچھے سے جکڑا ہوا تھا، اس کی برہنگی آئینے میں صاف نظر آ رہی تھی، زارون کے ہاتھوں کے نشان اس کے دودھیا بدن پر کسی بددعا کی طرح سجے تھے۔

"دیکھو خود کو! دیکھو کہ میں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے! بولو کہ تم میری ہو!" زارون نے دھاڑا۔

مناہل نے اپنی نیم وا آنکھوں سے آئینے میں اپنا عکس دیکھا، پھر زارون کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کی نظروں میں ایک ایسی 'ترس' تھی جس نے زارون کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

"آپ نے میرا جسم تو کچل دیا ہے زارون۔۔۔ مگر اس آئینے میں آپ کو وہ 'خلا' نظر نہیں آ رہا جو آپ نے خود پیدا کیا ہے؟ آپ جیت کر بھی اتنے 'بھکاری' کیوں لگ رہے ہیں؟" مناہل کی آواز میں ایک عجیب سا اطمینان تھا۔

زارون کے ہاتھ ایک دم ڈھیلے پڑ گئے۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اس عورت کو جتنا جکڑ رہا ہے، وہ روح کے کسی ایسے کونے میں روپوش ہو گئی ہے جہاں زارون کی وحشت نہیں پہنچ سکتی۔ اسے اپنی اس فتح پر 'گھن' آنے لگی۔ وہ شخص جو پوری دنیا کو فتح کرنے کا دعویٰ کرتا تھا، آج اپنے ہی بیڈروم میں ایک نہتی لڑکی کے سامنے خود کو 'ہارا ہوا' محسوس کر رہا تھا۔

شکاری کی خاموش شکست
زارون نے اسے بیڈ پر دوبارہ پٹخ دیا، مگر اس بار اس نے اسے جکڑا نہیں۔ اس نے تسمے کھول دیے اور خود نڈھال ہو کر فرش پر بیٹھ گیا۔ کمرے میں صرف ان دونوں کی اکھڑی ہوئی سانسوں کا شور تھا اور مناہل کی پازیب کی وہ آخری چھنکار جو اب تھم چکی تھی۔

زارون نے اپنے سر کو اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا۔ اسے وہ مناہل یاد آ رہی تھی جو آفس میں اسے دیکھ کر مسکراتی تھی، جو اس کے ایک غصے پر سہم جاتی تھی مگر پھر اسی محبت سے اسے مناتی بھی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اسے مناہل کے اس 'برہنہ جسم' سے زیادہ اس کی 'توجہ' اور اس کی 'تڑپ' کی ضرورت تھی، جو اس نے اپنے ہاتھوں سے مارد دی تھی۔

وہ پوری رات اسی طرح فرش پر بیٹھا رہا۔ اندھیرے میں اسے ایسا لگا جیسے وہ پازیب نہیں، بلکہ اس کا اپنا ضمیر بج رہا ہے۔ وہ شکاری جس نے جال بچھایا تھا، اب خود اس جال میں ایسی قید کا شکار ہو چکا تھا جس کی کوئی چابی نہیں تھی۔ اسے اب مناہل کے جسم کی ہوس نہیں تھی، اسے اس کی ایک 'نظرِ کرم' کی پیاس تھی، جس کے لیے وہ اب اپنی انا کی ہر دیوار گرانے کے لیے تیار ہونے والا تھا۔

کمرے کی فضا اب صرف حبس زدہ نہیں تھی، بلکہ وہاں ایک ایسی خاموشی چھا گئی تھی جو کسی طوفان کے گزر جانے کے بعد ہوتی ہے۔ زارون فرش پر بیٹھا تھا، اس کے بکھرے ہوئے بال اور سرخ آنکھیں اس کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی گواہی دے رہی تھیں۔ بیڈ پر مناہل اسی طرح نیم دراز تھی، اس کے جسم پر جگہ جگہ موم کے جمے ہوئے قطرے اور زارون کے وحشیانہ لمس کے نشانات کسی دردناک مصوری کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔

زارون نے سر اٹھا کر مناہل کو دیکھا۔ وہ بالکل ساکت تھی، جیسے اس کا اس دنیا سے اب کوئی تعلق ہی نہ رہا ہو۔ اس کی وہ پازیب، جو کبھی زارون کے لیے اشتعال کا باعث ہوتی تھی، اب ایک بوجھل خاموشی کے ساتھ اس کے ٹخنے میں پڑی تھی۔

توجہ کی پیاس: ایک نیا عذاب
زارون گھٹنوں کے بل چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے مناہل کا ہاتھ چھوا۔ وہ ہاتھ جو کبھی زارون کی گرفت میں لرزتا تھا، آج برف کی طرح ٹھنڈا اور بے حس تھا۔

"مناہل۔۔۔" زارون کی آواز گلے میں پھنس کر رہ گئی۔ "مجھ سے بات کرو۔ مجھے گالیاں دو، مجھ پر چلاؤ، مگر اس طرح خاموش مت رہو۔"

مناہل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنی نظریں دیوار پر جمائے رکھیں، جیسے وہاں کوئی بہت گہرا راز چھپا ہو۔

زارون نے تڑپ کر اس کے پاؤں کی پازیب کو اپنے ہاتھوں میں بھینچ لیا۔ "تمہیں پتہ ہے مناہل، میں نے پوری دنیا کو فتح کیا ہے، ہر وہ چیز حاصل کی جسے میں نے چاہا، مگر آج پہلی بار مجھے لگ رہا ہے کہ میں سب کچھ ہار گیا ہوں۔ میں نے تمہارے جسم کو جکڑا، مگر تم نے اپنی روح کو مجھ سے چھپا لیا۔"

اس نے ایک ریشمی رومال اٹھایا اور بہت پیار سے مناہل کے بدن پر جمے ہوئے موم کے قطروں کو صاف کرنا شروع کیا۔ وہ شخص جو تھوڑی دیر پہلے کسی درندے کی طرح اسے مسل رہا تھا، اب ایک پرستار کی طرح اس کے زخموں کو سہلا رہا تھا۔

"دیکھو، میں تمہارے لیے تمہارا پسندیدہ عطر لایا ہوں،" اس نے ایک چھوٹی سی شیشی کھولی اور اس کی خوشبو مناہل کی گردن پر ملنے لگا۔ "تمہیں یاد ہے؟ جب تم پہلی بار میرے آفس آئی تھی، تو اسی خوشبو نے مجھے تمہارا اسیر بنا لیا تھا۔"

مناہل نے آہستگی سے اپنا رخ موڑا اور زارون کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان آنکھوں میں اب وہ پرانا زارون اسفندیار نہیں تھا جس کی ایک نظر سے لوگ کانپ جاتے تھے، بلکہ وہاں ایک ہارا ہوا جواری تھا جو اپنی آخری بازی ہار چکا تھا۔

"آپ کو میری خوشبو یاد ہے زارون؟" مناہل کی آواز بہت دھیمی اور تھکی ہوئی تھی۔ "مگر آپ نے تو اس خوشبو کو اپنی وحشت کے دھوئیں میں گم کر دیا ہے۔ آپ کو میرا جسم چاہیے تھا، وہ آپ کے پاس ہے۔ اب آپ کو مجھ سے کیا چاہیے؟"

انا کا زوال: شکاری کی التجا
"مجھے تم چاہیے ہو مناہل! مجھے وہ تڑپ چاہیے، وہ پکار چاہیے جو صرف میرے لیے تھی۔ مجھے وہ 'میں' چاہیے جو تمہاری آنکھوں میں نظر آتی تھی،" زارون نے اپنا سر مناہل کی گود میں رکھ دیا۔ اس کے آنسو مناہل کی ننگی جلد پر گر رہے تھے۔

یہ ایک ایسا منظر تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ زارون اسفندیار، جو 'سنگدلی' کی علامت تھا، آج ایک لڑکی کی توجہ کے لیے بھیک مانگ رہا تھا۔

"آپ نے مجھے 'ملکیت' سمجھ کر حاصل کیا زارون۔ اور ملکیتوں کی کوئی زبان نہیں ہوتی، کوئی احساس نہیں ہوتا۔ آپ نے مجھے جکڑا، مجھے بے لباس کیا، میری پازیب کو اپنی انا کا نشان بنایا۔۔۔ مگر آپ یہ بھول گئے کہ عورت صرف جسم سے نہیں، دل سے فتح کی جاتی ہے،" مناہل نے اس کے بالوں میں اپنی پوریں پھیری، مگر اس کے لمس میں اب وہ پرانی گرمجوشی نہیں تھی۔

زارون نے تڑپ کر اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔ "میں بدل جاؤں گا مناہل۔ میں وہ سب کروں گا جو تم کہو گی۔ میں اس حویلی کی تمام زنجیریں توڑ دوں گا، یہ تمام بیڑیاں پگھلا دوں گا۔ بس مجھے ایک بار وہ پرانی نظر دے دو۔"

زارون اب مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ وہ مناہل کی 'توجہ' کے بغیر ایک مردہ وجود ہے۔ اس کی وحشت، اس کا جنون، اس کا ہوس بھرا کھیل۔۔۔ سب ادھورا تھا اگر مناہل کی روح اس کے ساتھ نہیں تھی۔

آخری کوشش: شدت اور سپردگی کا تصادم
زارون نے اسی رات ایک بار پھر اسے حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اس بار طریقہ مختلف تھا۔ اس نے اسے جکڑا نہیں، اسے اذیت نہیں دی۔ اس نے مناہل کو کسی دیوی کی طرح پیار کیا۔ اس کا لمس اب بے رحم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی پیاس کا عکاس تھا جو صدیوں پرانی ہو۔

وہ اسے بار بار چومتا، اسے اپنی بانہوں میں اس طرح سمیٹتا جیسے وہ کوئی نازک کلی ہو جو ذرا سی سختی سے ٹوٹ جائے گی۔ اس کی ہر ضرب میں اب ایک التجا تھی، ایک پکار تھی کہ مناہل اسے دوبارہ قبول کر لے۔

"مناہل۔۔۔ پکارو میرا نام۔۔۔ ایک بار کہہ دو کہ تم میری ہو،" زارون نے ملاپ کی اس شدت کے دوران اس کے کان میں سرگوشی کی۔

مناہل نے اسے محسوس تو کیا، مگر اس کے لب اب بھی خاموش رہے۔ اس نے زارون کو اپنے اندر جذب تو ہونے دیا، مگر وہ 'دیوانگی' غائب تھی۔ زارون کو ایسا لگا جیسے وہ کسی گہری کھائی میں گر رہا ہو جہاں صرف اندھیرا ہے۔

جب وہ نڈھال ہو کر ایک دوسرے کے پہلو میں گرے، تو زارون کو سمجھ آ گیا کہ اب اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا ہے۔ وہ راستہ جو اسے اپنی انا کی آخری دیوار گرانے پر مجبور کر دے گا۔

"کل صبح، مناہل۔۔۔ کل صبح ہم اس رشتے کو وہ نام دیں گے جس کی تم تشنہ لب تھی،" زارون نے اندھیرے میں سگار سلگاتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں اب ایک عجیب سا عزم تھا۔ "میں تمہیں اپنی 'غلام' نہیں، اپنی 'عزت' بناؤں گا۔"

مناہل نے اندھیرے میں اپنی پازیب کی مدھم سی آواز سنی۔ کیا زارون واقعی بدل گیا تھا؟ یا یہ اس کی وحشت کا ایک نیا روپ تھا؟

رات کا آخری پہر تھا، مگر زارون کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ وہ بیڈ کے پائے سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھا تھا اور سامنے بیڈ پر پڑی مناہل کو دیکھ رہا تھا۔ وہ مناہل، جو اب آزاد تھی، جس کے ہاتھ اب جکڑے ہوئے نہیں تھے، مگر وہ اب بھی اسی پوزیشن میں ساکت پڑی تھی جیسے ابھی بھی اس کے وجود پر پوشیدہ زنجیروں کا بوجھ ہو۔ زارون کو رہ رہ کر اپنا وہ وحشیانہ روپ یاد آ رہا تھا جب اس نے موم کے تپتے قطروں اور ہنٹر کی ضربوں سے اس معصوم بدن کو نیلا کر دیا تھا۔
"میں نے کیا کر دیا۔۔۔" زارون نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔
وہ شخص جو کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا تھا، آج اپنے ہی وجود سے گھن کھا رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ مناہل کی خاموشی دراصل اس کی جیت نہیں بلکہ زارون کی وہ اخلاقی موت ہے جس کا ماتم اسے عمر بھر کرنا ہوگا۔

کفارے کی پہلی صبح: زوالِ انا
جیسے ہی پو پھٹی، زارون نے کمرے سے باہر نکل کر اپنے خاص ملازم کو بلایا۔ "شہر کے سب سے بڑے قاضی کو یہاں لاؤ، اور اس سے کہو کہ نکاح کے تمام کاغذات تیار ہونے چاہئیں۔ اور سنو! شہر کے سب سے مہنگے بوتیک سے وہ سرخ جوڑا لے کر آؤ جو میں نے کل رات منتخب کیا تھا۔"
زارون واپس کمرے میں آیا۔ مناہل بیدار ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی گردن موڑ کر زارون کو دیکھا۔ اس کی نظروں میں نہ نفرت تھی، نہ غصہ، صرف ایک تھکا دینے والی لاتعلقی تھی۔
"مناہل، آج سب بدل جائے گا،" زارون اس کے قریب بیڈ پر بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھامنا چاہا، مگر مناہل نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ زارون کے دل پر جیسے کسی نے آری چلا دی۔
"آج ہمارا نکاح ہے۔ میں تمہیں وہ عزت دے رہا ہوں جس کی تم حقدار ہو۔"
مناہل نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔ "عزت؟ زارون، عزت وہ ہوتی ہے جو دی جائے، وہ نہیں جو سب کچھ چھین لینے کے بعد خیرات میں دی جائے۔ آپ نکاح اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ آپ میری خاموشی سے ڈر گئے ہیں۔ آپ کو اب میرا جسم نہیں، میری وہ 'توجہ' چاہیے جو میں نے دفن کر دی ہے۔"
زارون کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور الماری سے ایک ریشمی تولیہ نکال کر لایا۔ اس نے گرم پانی کا ٹب تیار کیا اور خود مناہل کو اس میں بٹھایا۔ وہ اس کے زخموں کو بہت پیار سے صاف کر رہا تھا، جہاں جہاں اس نے کاٹا تھا، جہاں جہاں موم کے نشانات تھے، وہاں وہ اپنی پوروں سے مرہم لگا رہا تھا۔ یہ زارون کا 'اعترافِ گناہ' تھا۔

نکاح کی گھڑی: ایک نیا جبر یا نئی زندگی؟
دوپہر کے وقت فارم ہاؤس کے بڑے ہال میں قاضی صاحب پہنچ چکے تھے۔ مناہل سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس تھی، مگر اس کا چہرہ کسی سوگوار بیوہ جیسا زرد تھا۔ زارون نے اسے سونے کا ایک بھاری سیٹ پہنایا، اور اس کے پیروں میں وہی پازیب دوبارہ پہنائی، مگر اس بار پازیب پہناتے وقت اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔
"قبول ہے؟" قاضی صاحب کی آواز ہال میں گونجی۔
مناہل نے ایک طویل خاموشی کے بعد زارون کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں ایک بھکاری کھڑا تھا۔ اس نے بہت بوجھل آواز میں کہا، "قبول ہے۔"
جیسے ہی نکاح نامے پر دستخط ہوئے، زارون کو لگا جیسے اس کے سینے سے منوں وزنی پتھر ہٹ گیا ہو۔ اس نے قاضی صاحب کو رخصت کیا اور مناہل کو اٹھا کر دوبارہ اسی بیڈروم میں لے آیا۔ مگر آج اس کمرے کی فضا بدل چکی تھی۔

حلالِ وحشت: پہلی رات کی بے باک شدت
دروازہ بند ہوتے ہی زارون نے مناہل کو دیوار سے لگا لیا۔ آج کوئی زنجیر نہیں تھی، کوئی ہنٹر نہیں تھا، مگر زارون کی آنکھوں میں وہی پرانی پیاس تھی جو اب 'حق' میں بدل چکی تھی۔
"اب تم میری بیوی ہو مناہل۔ اب میں تمہیں تڑپاؤں گا نہیں، تمہیں اپنا بناؤں گا،" زارون نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، مگر اس کا لمس جلد ہی بے باک ہونے لگا۔
اس نے مناہل کے سرخ جوڑے کے بند کھولنا شروع کیے۔ مناہل ساکت کھڑی رہی، مگر اس بار اس کی آنکھوں میں وہ مردنی نہیں تھی بلکہ ایک چیلنج تھا۔ زارون نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر جھک گیا۔ اس کا لمس اب بھی وحشیانہ تھا، اس کے بوسے اب بھی تپتے ہوئے تھے، مگر ان میں ایک ایسی اپنائیت تھی جو مناہل کے مردہ جذبوں کو دوبارہ زندگی دے رہی تھی۔
زارون نے اس کی پازیب کو مٹھی میں بھر لیا اور اسے آہستہ سے کھینچا۔ "چیخو مناہل! پکارو میرا نام! اب تمہارا حق ہے مجھ پر!"
مناہل نے زارون کی کمر میں اپنے ناخن گاڑ دیے۔ اس کے حلق سے ایک ایسی آواز نکلی جس نے زارون کے اندر کی وحشت کو آگ لگا دی۔ وہ دونوں ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے۔ ملاپ کی وہ شدت ایسی تھی کہ بیڈروم کی دیواریں لرز اٹھیں۔ زارون نے اسے مسلا، اسے اپنی بانہوں میں جکڑا، اسے بار بار اس انتہا تک پہنچایا جہاں لذت اور درد کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں۔
مناہل کی پازیب پوری رات ایک فاتحانہ دھن بجاتی رہی۔ وہ شرمندہ نہیں تھی، وہ ذلیل محسوس نہیں کر رہی تھی، کیونکہ اب وہ زارون اسفندیار کی 'ملکیت' نہیں، اس کی 'شریکِ حیات' تھی۔ زارون نے اس رات اسے وہ تمام شدت دی جس کا اس نے تصور کیا تھا، مگر اس بار ہر ضرب میں 'محبت' کا اعتراف تھا۔
جب صبح کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی، تو زارون نڈھال ہو کر مناہل کے پہلو میں گرا تھا۔ مناہل نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا اور پہلی بار سکون کی سانس لی۔
"آپ جیت گئے زارون،" مناہل نے سرگوشی کی۔
"نہیں مناہل،" زارون نے اس کے بالوں کو چومتے ہوئے کہا۔ "آج زارون اسفندیار ہار گیا، اور ایک شوہر جیت گیا۔"
---ختم شد---

حرفِ آخر: عبرت کا تازیانہ
مناہل اور زارون کی یہ کہانی بظاہر ایک نکاح پر ختم ہوئی، لیکن حقیقت کی دنیا میں ایسی داستانوں کا انجام اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ناول ہمیں انسانی نفسیات کے اس تاریک پہلو کی طرف لے جاتا ہے جہاں "ہوس" کو "شدت" کا اور "تذلیل" کو "سپردگی" کا نام دے دیا جاتا ہے۔
1. لذت کا فریب اور ابدی رسوائی
وہ لڑکیاں جو مناہل کی طرح کسی "زارون" کی وحشت میں لذت تلاش کرتی ہیں، وہ دراصل ایک ایسے سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہیں جس کا اختتام صرف پچھتاوے پر ہوتا ہے۔ گناہ کی لذت وقتی ہوتی ہے، لیکن اس کے بعد ملنے والی ذلت عمر بھر کا مقدر بن جاتی ہے۔ ایسی عورتیں معاشرے کی نظروں میں اپنی توقیر کھو دیتی ہیں اور خود اپنی نظروں میں بھی ایک "استعمال شدہ شے" بن کر رہ جاتی ہیں۔
2. نکاح: ایک خوش نصیبی یا محض استثنا؟
اس کہانی میں مناہل کو نکاح مل گیا، مگر حقیقت میں ہر مرد "زارون" نہیں ہوتا جو اپنی انا توڑ کر قدموں میں آ گرے۔ اکثر معاملات میں، جب مرد کی ہوس کی آگ ٹھنڈی ہو جاتی ہے، تو وہ اسی "تڑپتی ہوئی عورت" کو کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔ ہر عورت اتنی خوش نصیب نہیں ہوتی کہ اسے گناہ کے بعد عزت کا راستہ مل جائے۔ اکثر کے حصے میں صرف ابدی تنہائی اور گمنام بدنامی آتی ہے۔
3. آخرت کا زیاں
سب سے بڑا نقصان اس "روح" کا ہے جو ان تاریک راتوں کے بدلے اپنی آخرت داؤ پر لگا دیتی ہے۔ اللہ کے حضور جوابدہی کا خوف جب دل سے نکل جاتا ہے اور انسان اپنے نفس کا بندہ بن جاتا ہے، تو وہ نہ صرف دنیا میں خوار ہوتا ہے بلکہ ابدی زندگی میں بھی خسارے کا سودا کر لیتا ہے۔ صبر کا دامن چھوڑ کر حرام راستوں پر لذت ڈھونڈنا دراصل شیطان کی وہ چال ہے جو انسان کو معراج سے گرا کر پستی میں پھینک دیتی ہے۔
4. نصیحت
یہ کہانی ایک انتباہ ہے کہ خود کو "ملکیت" بننے سے بچائیں۔ عزت اور وقار وہ زیور ہیں جو ایک بار چھن جائیں تو دوبارہ کبھی اپنی اصل صورت میں واپس نہیں آتے۔ حلال رشتے کا سکون اور حرام کی وحشت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایسی لذت جو ضمیر کو ملامت کرنے پر مجبور کر دے، وہ دراصل روح کی خودکشی ہے۔

13/02/2026

Like aur comments karay
Mainay konsa aap k ghar reshta bhaijana hai 😂😂😂

13/02/2026

Aagay episodes like aur comments k hisab sai donga

13/02/2026

ناول: تشنہ لبوں کی آگ
قسط نمبر: 01

۔۔۔۔۔۔

ولیمے کی رونقیں اور مہمانوں کی قہقہے اب ایک دھندلی یاد بن چکے تھے۔ حویلی کے اس شاہانہ بیڈروم میں خاموشی اتنی گہری تھی کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی کسی ہتھوڑے کی طرح زویا کے اعصاب پر ضرب لگا رہی تھی۔ پورے کمرے کو سرخ گلابوں کی پتیوں اور سفید چنبیلی کے گجروں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ صندل کی سلگتی ہوئی اگربتیوں کا دھواں کمرے میں ایک سحر انگیز اور بوجھل فضا پیدا کر رہا تھا۔

زویا، جو زندگی کی بیس بہاریں دیکھ چکی تھی، آج اپنے سرخ زرق برق عروسی لباس میں ملبوس بیڈ کے عین وسط میں بیٹھی تھی۔ اس کے سر پر موجود بھاری کامدار دوپٹے نے اس کا چہرہ چھپا رکھا تھا، مگر اس کے سینے کی تیز ہوتی دھڑکنیں اس کے ریشمی لباس کے اتار چڑھاؤ سے صاف ظاہر ہو رہی تھیں۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں پر لگی گہری مہندی کی مہک اس کے حواسوں کو مغلوب کر رہی تھی۔ اسے بار بار اپنی ماں کی نصیحتیں یاد آ رہی تھیں، مگر اس وقت اس کا ذہن صرف ایک ہی نام کے گرد گھوم رہا تھا—فارس اسفندیار۔

دروازے کے ہینڈل کے گھومنے کی آواز آئی اور زویا کا دل جیسے حلق میں آ گیا۔ فارس اندر داخل ہوا اور دروازہ لاک کرنے کی آواز اس خاموش رات میں کسی فیصلے کی طرح گونجی۔ فارس، جو اپنے خاندان کا سب سے وجیہہ اور بارعب مرد مانا جاتا تھا، آج اس کی چال میں ایک عجیب سی فاتحانہ وحشت تھی۔ اس نے اپنا سیاہ شیروانی کا کوٹ اتار کر ایک طرف پھینکا اور آہستہ آہستہ بیڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے ہر قدم کی چاپ قالین میں دب رہی تھی، مگر زویا کو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہو۔

"زویا۔۔۔" فارس کی آواز ایک دبی ہوئی گرج کی طرح ابھری۔

وہ بیڈ پر اس کے بالکل پیچھے آ کر بیٹھ گیا۔ زویا کو اس کے گرم سانسوں کی تپش اپنی گردن کے پچھلے حصے پر محسوس ہوئی، جہاں سے دوپٹہ تھوڑا سرکا ہوا تھا۔ فارس نے اپنا مضبوط ہاتھ زویا کے شانے پر رکھا۔ اس کا لمس اتنا گرم تھا کہ زویا کو لگا جیسے اس کی جلد جھلس جائے گی۔ فارس نے بہت آہستگی سے اس کا گھونگھٹ اٹھایا۔ زویا کی جھکی ہوئی پلکیں، جن پر کاجل کا گہرا ڈورا تھا، اور شرم سے دہکتے ہوئے عارضی گلابی رخسار دیکھ کر فارس کی آنکھوں میں ایک ایسی پیاس بھڑک اٹھی جو برسوں کی تشنہ لبی کا نتیجہ تھی۔

"آج اس گھونگھٹ اور تمہارے درمیان کوئی دیوار باقی نہیں رہے گی،" فارس نے اس کے کان کی لو کو چھوتے ہوئے سرگوشی کی۔

اس نے زویا کے چہرے کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے پیالے میں بھرا اور اسے اپنی طرف موڑا۔ زویا نے ایک بار نظر اٹھا کر فارس کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں ہوس اور محبت کا ایک تلاطم خیز سمندر موجزن تھا۔ فارس نے اپنے لب زویا کے ماتھے پر رکھے اور پھر آہستہ آہستہ نیچے اترتے ہوئے اس کی ناک کی نتھلی کو اپنے لبوں سے چھوا۔ زویا کی سانسیں اب بے ترتیب ہو چکی تھیں۔ فارس نے زویا کے بھاری زیورات کو اتارنا شروع کیا۔ وہ بہت صبر کے ساتھ ایک ایک کانٹا، ایک ایک جھمکا اور وہ بھاری مالا اتار رہا تھا جو زویا کے نازک وجود پر بوجھ بنی ہوئی تھی۔

اب باری تھی اس کے ریشمی لباس کی۔ فارس کے ہاتھ زویا کی قمیض کے پیچھے لگے ان گنت بندوں تک پہنچے۔ وہ نہایت سست رفتاری سے ایک ایک بند کو اپنی پوروں سے آزاد کر رہا تھا۔ زویا کو محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے جیسے ریشم کے بند کھل رہے ہیں، اس کی روح پر سے معاشرتی پابندیوں کے غلاف بھی اتر رہے ہیں۔ فارس نے زویا کے شانوں سے لباس کو نیچے سرکایا۔ سفید شفاف جلد پر فارس کی نظریں کسی دہکتے ہوئے انگارے کی طرح جم گئیں۔

فارس نے اسے بیڈ پر لٹایا، مگر ابھی وصال کا ارادہ نہیں تھا۔ اسے زویا کے بدن کے ہر نقش کو اپنی پوجا کا حصہ بنانا تھا۔ اس نے اپنے لب زویا کے گلے کے اس نشیب میں رکھے جہاں زندگی کی نبض دیوانہ وار دھڑک رہی تھی۔ فارس کا لمس اب بے باک ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھ زویا کی کمر کے نشیب و فراز کو ناپ رہے تھے۔ اس نے زویا کو اپنے کسرتی بدن کے نیچے اس طرح دبا لیا کہ ہوا کا گزر بھی مشکل ہو گیا۔

وہ پوری رات کا پہلا پہر تھا، جو صرف تمہید میں گزر رہا تھا۔ فارس نے زویا کے تلووں سے لے کر اس کے ماتھے تک، بدن کے ہر چپے کو اپنے لمس سے آشنا کیا۔ وہ اسے کبھی نرمی سے سہلاتا تو کبھی اپنی گرفت کی سختی سے اسے سسکنے پر مجبور کر دیتا۔ زویا کے ٹخنوں میں بندھی پازیب اب مسلسل بج رہی تھی، جو اس کمرے کی خاموشی میں ایک وحشیانہ موسیقی پیدا کر رہی تھی۔ فارس نے زویا کے وجود کو اس انتہا تک پگھلا دیا تھا کہ اب وہ خود فارس کے لمس کی پیاسی ہو رہی تھی۔ یہ رات ابھی بہت لمبی تھی اور پیاس ابھی اپنے عروج پر پہنچنا باقی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

رات اپنے دوسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی، مگر فارس کے بیڈروم کے اندر وقت جیسے تھم گیا تھا۔ زویا، جو اب اپنے عروسی لباس کے بوجھ سے آزاد ہو کر صرف فارس کے حصار میں تھی، ایک ایسے طوفان کا سامنا کر رہی تھی جس کی لہریں اسے بہا لے جانے کو تلی تھیں۔ فارس کا جنون اب تمہید کی حدیں پار کر چکا تھا۔ اس کی نظروں میں موجود وحشت بتا رہی تھی کہ اب وہ ایک ایک مسام کو اپنی ملکیت بنانے کا حتمی ارادہ کر چکا ہے۔

فارس نے زویا کے دونوں ہاتھوں کو اس کے سر کے اوپر ایک ہی مضبوط ہتھیلی میں جکڑ لیا۔ اس کی کسرتی بانہوں کے تناؤ اور جسم کے بھاری پن نے زویا کو اپنی نازکی کا شدت سے احساس دلایا۔ فارس کے پسینے کی ایک بوند زویا کے سینے کے ابھار پر گری اور وہاں سے پھسلتی ہوئی نیچے گئی، جس نے زویا کے وجود میں ایک ایسی سنسنی پیدا کی کہ وہ بے اختیاری میں تڑپ اٹھی۔

"فارس۔۔۔ رحم کریں۔۔۔" زویا کی آواز میں ایک ایسی لرزش تھی جو فارس کی پیاس کو مزید بھڑکا رہی تھی۔

"رحم کی گنجائش تو اب باقی ہی نہیں رہی، زویا،" فارس نے اس کے کان کی لو کو اپنے دانتوں کے درمیان دباتے ہوئے نہایت بھاری آواز میں کہا۔

اس نے زویا کے لبوں کو دوبارہ اپنے بوسے کے حصار میں لیا۔ یہ بوسہ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور وحشیانہ تھا۔ زویا کو محسوس ہوا جیسے اس کا دم نکل جائے گا، مگر فارس نے اسے مہلت نہ دی۔ اس کے لب اب نیچے اترتے ہوئے زویا کی شہہ رگ سے ٹکرائے، جہاں اس نے ایک ایسی "نشانی" چھوڑی جو صبح تک سیاہ پڑ جانی تھی۔ زویا کے حلق سے نکلنے والی گھٹی ہوئی سسکیاں کمرے میں موجود صندل کی مہک کے ساتھ مل کر ایک عجیب سحر انگیز فضا بنا رہی تھیں۔

فارس نے اب پوزیشن بدلی اور زویا کی رانوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا۔ زویا نے خوف سے اپنی آنکھیں میچ لیں اور بیڈ کی چادر کو اپنے آزاد ہاتھ سے مٹھی میں بھر لیا۔ فارس نے بہت آہستگی مگر ایک ایسی قوت کے ساتھ پیش قدمی کی جو ناقابلِ تسخیر تھی۔ جب وہ پہلی بار اس حساس مقام سے ٹکرایا، تو زویا کے پورے بدن میں درد کی ایک تیز لہر دوڑی۔ یہ درد اتنا غیر متوقع اور شدید تھا کہ زویا کی ایک چیخ نکل گئی جو فارس کے لبوں میں جذب ہو کر رہ گئی۔

"آہ۔۔۔! فارس، پلیز۔۔۔ رک جائیں۔۔۔ بہت درد ہو رہا ہے!" زویا کی آنکھوں سے گرم آنسو نکل کر کنپٹیوں کی طرف بہنے لگے۔

فارس کا بدن تشنہ لبی سے دہک رہا تھا، مگر اس نے زویا کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے کچھ لمحوں کے لیے اپنی حرکت کو روکا۔ وہ اس کے اوپر ہانپ رہا تھا، اس کی گرم سانسیں زویا کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں۔ اس نے بہت پیار سے زویا کے آنسو چومے اور اس کے بالوں کو سہلایا، مگر اس کا نچلا دھڑ ابھی بھی اسی مقام پر پیوست تھا جہاں درد اپنی جڑیں جما چکا تھا۔

"صرف ایک لمحہ اور زویا، یہ کرب ہی تمہیں میری ابدی لذت تک لے جائے گا،" فارس نے سرگوشی کی۔

اور پھر، ایک ہی بھرپور اور وحشیانہ جھٹکے کے ساتھ فارس نے اس آخری دیوار کو بھی گرا دیا جو زویا کے کنوارے پن کی محافظ تھی۔ زویا کو ایسا لگا جیسے اس کا وجود دو حصوں میں چیر دیا گیا ہو۔ اس کا جسم اکڑ گیا، انگلیاں مڑ گئیں اور اس کے منہ سے ایک ایسی آواز نکلی جو درد اور سپردگی کا آخری اعتراف تھی۔ بیڈ کی سفید چادر پر وہ "سرخ مہر" لگ چکی تھی جس کا انتظار فارس برسوں سے کر رہا تھا۔

کچھ دیر تک دونوں بالکل ساکت رہے، صرف ان کی اکھڑی ہوئی سانسوں کا شور تھا جو خاموش کمرے میں گونج رہا تھا۔ زویا نڈھال ہو چکی تھی، مگر فارس کا جنون ابھی تسکین کے آخری درجے تک نہیں پہنچا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ زویا کا جسم اب آہستہ آہستہ اس درد کو قبول کر رہا ہے، اور وہ کرب اب ایک مدہوش کر دینے والی لہر میں بدل رہا ہے۔

فارس نے دوبارہ اپنی حرکت شروع کی، مگر اس بار اس میں ایک ایسی تال تھی جو زویا کے اعصاب کو سن کر رہی تھی۔ ہر ضرب کے ساتھ زویا کے ٹخنوں کی پازیب "چھن چھن" کر کے بجتی، جیسے اس وصال کی گواہی دے رہی ہو۔ وہ رات اب اپنی انتہا کی طرف بڑھ رہی تھی، جہاں درد ختم ہونا تھا اور صرف وہ آگ باقی رہ جانی تھی جو دو جسموں کو ایک روح میں ڈھال دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

رات کا سناٹا اب گہرا ہو چکا تھا، مگر فارس کے کمرے میں موجود حبس اور تپش کسی آتش فشاں کے پھٹنے جیسی تھی۔ زویا، جو پہلے صدمے اور درد سے نڈھال تھی، اب ایک ایسی بے خودی کی کیفیت میں تھی جہاں درد کی لکیر لذت کے سمندر میں مدغم ہو رہی تھی۔ فارس کا جنون اب اپنے عروج پر تھا؛ وہ زویا کو محض ایک جسم نہیں بلکہ اپنی پیاس بجھانے والا وہ چشمہ سمجھ رہا تھا جسے وہ آج کی رات مکمل طور پر خشک کر دینا چاہتا تھا۔

فارس نے زویا کی ٹانگوں کو اس کے شانوں تک لا کر اسے ایک ایسی بے باک پوزیشن میں کر دیا کہ زویا کی برہنگی کا ایک ایک گوشہ فارس کی تپتی ہوئی نظروں کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ فارس نے اپنا نچلا دھڑ ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ حرکت میں لایا۔ زویا کے حلق سے ایک لمبی، گہری اور ہذیانی سسکی نکلی۔ اب درد کی جگہ ایک ایسی برقی لہر نے لے لی تھی جو اس کی ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی اس کے دماغ کے آخری کونے تک کو سن کر رہی تھی۔

"فارس۔۔۔ اوہ خدایا۔۔۔" زویا کی آواز اب ایک ایسی پکار بن گئی تھی جس میں سپردگی کی انتہا تھی۔

فارس نے اس کی کمر کے نیچے اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر اسے بیڈ سے تھوڑا اوپر اٹھایا اور اس کے اندر ایک وحشیانہ تسلسل کے ساتھ اترنے لگا۔ ہر ضرب کے ساتھ فارس کے کسرتی بدن کے پٹھے تن جاتے اور اس کے پسینے کی بوندیں زویا کے پیٹ اور رانوں پر بارش کے قطروں کی طرح گرتیں۔ زویا نے دیوانہ وار فارس کے کندھوں پر اپنے ناخن گاڑ دیے، جہاں سے سرخی ابھر آئی تھی، مگر فارس کو جیسے کسی درد کا احساس نہ تھا۔ وہ اس وقت صرف ایک شکاری تھا جو اپنے شکار کے بدن کے ایک ایک خلیے کو فتح کر رہا تھا۔

فارس نے زویا کے دونوں سینوں کو اپنے ہاتھوں کی سختی میں بھینچا، جیسے وہ انہیں مسل دینا چاہتا ہو۔ اس کے لب اب دوبارہ زویا کے لبوں پر پیوست ہوئے، مگر اس بار یہ بوسہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی ہوس بھری گرفت تھی جس نے زویا کا سانس روک دیا۔ زویا کا جسم فارس کے ہر جھٹکے کے ساتھ بیڈ پر اوپر نیچے ہو رہا تھا، اور اس کے پاؤں کی پازیب ایک پاگل کر دینے والی موسیقی پیدا کر رہی تھی۔ وہ خاموش کمرہ اب صرف ان دونوں کے جسموں کے ٹکرانے کی آوازوں اور اکھڑی ہوئی سانسوں کے شور سے بھرا ہوا تھا۔

"تمہاری یہ تڑپ۔۔۔ یہ مجھے پاگل کر رہی ہے زویا!" فارس نے ہانپتے ہوئے اس کے کان میں دھاڑا اور اپنی رفتار کو دگنا کر دیا۔

اب وہ مقام آ چکا تھا جہاں ضبط کے تمام بندھن ٹوٹنے والے تھے۔ فارس کی حرکت میں اب وہ وحشیانہ تیزی آگئی تھی جو وصال کے آخری لمحے کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ زویا نے اپنا سر پیچھے کی طرف جھکا دیا، اس کی آنکھیں پتھرا گئیں اور اس کا پورا وجود لرزنے لگا۔ فارس نے اپنی گرفت کو آخری حد تک سخت کیا اور ایک زوردار، طویل جھٹکے کے ساتھ اپنی تمام تر تپش زویا کے وجود کے اندر انڈیل دی۔

زویا کے منہ سے ایک ایسی آواز نکلی جیسے اس کی روح اس کے جسم سے جدا ہو رہی ہو۔ وہ کئی لمحوں تک اسی طرح ایک دوسرے میں پیوست رہے، دونوں کے دل ایک دوسرے کی پسلیوں سے ٹکرا رہے تھے۔ فارس نڈھال ہو کر زویا کے اوپر ہی ڈھیر ہو گیا، اس کا بھاری بھرکم جسم زویا کی نازک ہڈیوں کو دبا رہا تھا، مگر زویا کو اس بوجھ میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔

سفید چادر پر پھیلا ہوا لہو اور پسینہ ان کے اس پہلے وحشیانہ ملاپ کا گواہ تھا۔ رات اب ختم ہونے کو تھی، مگر زویا کے جسم پر موجود نیلے نشانات اور اس کے بدن کی لرزش بتا رہی تھی کہ فارس اسفندیار نے اسے صرف حاصل نہیں کیا، بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے اپنی وحشت کا اسیر بنا لیا ہے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Peshawar Swabi
Peshawar
PESHAWARSWABI