only PTM
امن �
غواڑم �
مینہ لرم لہ پشتون سرہ �
پہ خفلہ خاورہ خفل اختیار �
لیڈر منظور پشتون (PTM). �
30/03/2026
افسوسناک خبر:
ہرنائی میں ایف سی کی مبینہ شیلنگ، ایک نوجوان شہید، دوسرا شدید زخمی
ہرنائی کے علاقے زردآلو، کمال کچھ سے ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش اطلاع موصول ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسجد کے امام، مولوی عبدالرحیم صاحب کے دو بیٹوں پر ایف سی (FC) کی جانب سے مبینہ طور پر مارٹر گولے فائر کیے گئے ہیں۔
اس اندوہناک واقعے کے نتیجے میں:
ضیاء اللہ ولد مولوی عبدالرحیم موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
وسعت اللہ ولد مولوی عبدالرحیم شدید زخمی ہوئے ہیں۔
اس وحشیانہ کارروائی کے خلاف زردآلو پل پر مقامی سطح پر شدید احتجاج جاری ہے اور ٹریفک کی روانی معطل کر دی گئی ہے۔
عوامِ علاقہ، تمام سیاسی و سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں اور احتجاج میں بھرپور شرکت کر کے مظلوم خاندان کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
Only PTM
30/03/2026
علی وزیر کی رہائی کے بعد جو صورتحال سامنے آ رہی ہے۔
وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ، جو پہلے ہی برسوں سے قید و بند اور مقدمات کا سامنا کرتا آیا ہو، اس قسم کا رویہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
اطلاعات کے مطابق
سکھر جیل سے رہائی کے فوراً بعد انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور دو دن تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا۔ اس دوران نہ اہل خانہ کو کوئی اطلاع دی گئی اور نہ ہی قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ بعد ازاں انہیں سندھ کے ضلع دادو کی جیل منتقل کیا گیا، جہاں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ
علی وزیر کو ایسے قیدیوں کے ساتھ ایک ہی سیل میں رکھا گیا ہے جو منشیات کے عادی ہیں، جو کہ نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کی عزتِ نفس کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ایک ایسے شخص کے لیے جو گردوں اور شوگر جیسے سنگین امراض میں مبتلا ہو، اس قسم کا ماحول جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ انہیں بروقت ادویات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔
16 مارچ 2026 کو سکھر جیل سے رہائی کے بعد، انہیں ایک بار پھر گرفتار کر کے مختلف مقدمات میں الجھایا گیا۔ دادو میں ان کے خلاف دو نئی ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، اور بظاہر یہ تمام اقدامات ان پر دباؤ ڈالنے اور ان کے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ انصاف، قانون اور انسانی وقار کا ہے۔ اگر ایک منتخب نمائندہ اور عوامی رہنما بھی اس طرح کے سلوک سے محفوظ نہیں، تو عام شہری کے لیے انصاف کی امید کیسے باقی رہ سکتی ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں، علی وزیر کو ان کے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں، اور انہیں مناسب طبی سہولیات، منصفانہ قانونی عمل اور محفوظ ماحول مہیا کیا جائے۔ یہی ایک انصاف پسند معاشرے کی پہچان ہے۔
Only PTM
30/03/2026
پٹواری
مشر منظور جان ته يو سور سلام
👋
او دا پي ټی ايم ملګرو ته هم سلام 👋🥀
ميلي مشر منظور پشتون سره ثومره مينه لري
فرما له زانه زيات ګراندى
🌹😘🌹
آپریشن نا منظور
شک تر خفل مشر قربان سم
اللہ تعالیٰ دی راتہ ژوندی لری
تیرا کی آپریشن نا منظور
منظور احمد پشتین ❤️
ايمل ولي يو انقلابي ليډر دي
Good Night 💤
Click here to claim your Sponsored Listing.
