SAEED JANI
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SAEED JANI, Health/Beauty, Quetta sinjavi, Quetta.
“یہ پیج اُن لوگوں کے لیے ہے جو زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
یہاں آپ کو ملیں گی سچی باتیں، عملی تجربات، تعلیمی رہنمائی اور موٹیویشنل پیغامات — ایک استاد اور موٹیویشنل اسپیکر کی آواز میں۔
اگر آپ سوچ بدلنا، خود کو بہتر بنانا اور سیکھتے رہنا چاہتے ہیں۔فالو۔
اکثر لوگ کہتے ہیں:
"میں صبح جلدی نہیں اٹھ سکتا…"
اور پھر کچھ لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ
"اگر صبح نہیں اٹھ سکتے تو شام کو پڑھ لیا کریں، کام کر لیا کریں۔"
دیکھیں! اصل بات یہ ہے کہ کامیابی کسی خاص وقت کی پابند نہیں ہوتی۔
یہ ضروری نہیں کہ آپ صبح 5 بجے ہی اٹھیں تو کامیاب ہوں گے۔
ہر انسان کا جسم، اس کی روٹین، اور اس کی طبیعت مختلف ہوتی ہے۔
کچھ لوگ صبح کے وقت زیادہ فوکس کرتے ہیں،
اور کچھ لوگ رات یا شام کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ آپ کب اٹھتے ہیں…
اصل سوال یہ ہے کہ
آپ اپنے مقصد کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں؟
اگر آپ صبح نہیں اٹھ سکتے،
تو خود کو برا مت کہیں۔
لیکن پھر شام کو اپنا وقت ضائع بھی مت کریں۔
اگر صبح نیند پوری کرتے ہیں،
تو شام کو محنت پوری کریں۔
کامیاب لوگ وقت کا انتخاب نہیں کرتے،
وہ وقت کو قیمتی بناتے ہیں۔
یاد رکھیں:
کامیابی صبح 5 بجے نہیں ملتی،
کامیابی مستقل مزاجی سے ملتی ہے۔
چاہے آپ صبح پڑھیں یا شام کو،
ضروری یہ ہے کہ آپ روز پڑھیں۔
چاہے آپ دن میں کام کریں یا رات میں،
ضروری یہ ہے کہ آپ دیانت داری سے کام کریں۔
لہٰذا بہانے مت بنائیں۔
اپنا بہترین وقت تلاش کریں…
اور اس وقت کو اپنی کامیابی کے لیے وقف کر دیں۔
کیونکہ وقت اہم نہیں،
استعمال اہم ہے۔
شکریہ!
السلام علیکم دوستو!
آج میں آپ سے ایک بہت سادہ لیکن گہری بات شیئر کرنا چاہتا ہوں…
زندگی ایک آئینہ ہے۔
آپ اس کو جو دکھاتے ہیں، وہی آپ کو واپس دکھاتی ہے۔
یاد رکھیں!
You will get in the result what you give.
آپ جو دیں گے، وہی لوٹ کر آپ کے پاس آئے گا۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی عزت کریں،
تو پہلے آپ دوسروں کی عزت کرنا سیکھیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ محبت سے پیش آئیں،
تو پہلے آپ محبت بانٹنا شروع کریں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں خوشیاں آئیں،
تو دوسروں کی زندگی میں خوشیاں شامل کریں۔
اکثر ہم شکایت کرتے ہیں کہ
“لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے”
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ
ہم خود دوسروں کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں؟
دوستو!
بیج اگر آم کا لگائیں گے تو آم ہی اگے گا،
کانٹے بوئیں گے تو پھول نہیں اگیں گے۔
یہ دنیا ایک گونج (Echo) کی طرح ہے۔
آپ جو آواز لگاتے ہیں، وہی آواز واپس آتی ہے۔
اگر آپ نفرت دیں گے، نفرت ملے گی۔
اگر آپ مسکراہٹ دیں گے، مسکراہٹ واپس آئے گی۔
اگر آپ حوصلہ دیں گے، اللہ آپ کے لیے حوصلے کے دروازے کھول دے گا۔
یاد رکھیں،
کامیاب لوگ وہ نہیں جو صرف لینا جانتے ہیں،
بلکہ وہ ہیں جو دینا جانتے ہیں —
عزت دینا، وقت دینا، خلوص دینا، اور مثبت توانائی دینا۔
آج سے فیصلہ کریں:
میں شکایت نہیں کروں گا،
میں شکوہ نہیں کروں گا،
میں پہلے خود وہ بنوں گا جو میں دوسروں میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
کیونکہ اصول بہت واضح ہے:
جیسا دو گے ویسا پاؤ گے۔
اللہ ہمیں اچھا دینے والا بنائے تاکہ ہمیں بھی بہترین ملے۔
آمین۔
اگر آپ کو یہ بات اچھی لگی ہو تو اس ویڈیو کو شیئر کریں تاکہ ہم سب مل کر مثبت سوچ کو عام کر سکیں
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں
لیکن کم ہی یہ سوچتے ہیں کہ ہم کیسے کہہ رہے ہیں۔
یاد رکھیے،
الفاظ صرف آواز نہیں ہوتے،
یہ دل تک پہنچنے والے پیغام ہوتے ہیں۔
ایک ہی بات
سخت الفاظ میں کہی جائے تو رشتہ توڑ دیتی ہے،
اور وہی بات
نرم لہجے میں کہی جائے تو دل جیت لیتی ہے۔
آپ کا لفظوں کا چناؤ
یہ بتاتا ہے کہ آپ کیسے انسان ہیں،
آپ کا لہجہ
یہ بتاتا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے کتنی قدر رکھتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
الفاظ سوچ سمجھ کر بولیے،
کیونکہ کچھ لفظ معاف تو ہو جاتے ہیں
لیکن بھلائے نہیں جاتے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات سنیں،
آپ کی عزت کریں،
اور آپ سے جُڑیں
تو اپنے لفظوں پر کام کیجیے۔
کیونکہ
اچھے الفاظ…
عام انسان کو بھی خاص بنا دیتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
کہ ہم جو سوچتے ہیں…
اصل میں وہی ہماری زندگی بننے لگتا ہے۔
آپ نے کبھی غور کیا؟
جب ہم بار بار نیگیٹو سوچتے ہیں
تو ہمارا دل بوجھل ہو جاتا ہے،
حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے،
اور کام کرنے کا دل نہیں کرتا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ
آپ کا سب کانشس مائنڈ
اچھا یا بُرا نہیں دیکھتا،
وہ صرف آپ کی سوچ کو حکم سمجھتا ہے۔
اگر آپ کہتے ہیں:
“مجھ سے نہیں ہوگا”
تو سب کانشس کہتا ہے: ٹھیک ہے۔
اور اگر آپ کہتے ہیں:
“میں سیکھ سکتا ہوں، میں بہتر کر سکتا ہوں”
تو سب کانشس کہتا ہے: یہ بھی ٹھیک ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ
نیگیٹو سوچ آتی کیوں ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ
ہم اس سوچ کو روک کیوں نہیں رہے؟
پوزیٹو سوچ کوئی جادو نہیں،
یہ ایک عادت ہے۔
اور عادت روز کی مشق سے بنتی ہے۔
آج سے بس ایک کام کریں:
جب بھی نیگیٹو خیال آئے
تو فوراً خود سے کہیں:
“میں اس سوچ کو قبول نہیں کرتا”
یقین مانیں،
آہستہ آہستہ
آپ کی سوچ بدلے گی
اور سوچ کے ساتھ
آپ کی زندگی بھی بدلنے لگے گی۔
ہم اکثر سنتے ہیں…
لوگوں کو معاف کرو،
درگزر کرو،
بھول جاؤ جو ہو گیا۔
لیکن ایک سوال…
کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا کہ
کیا ہم نے خود کو معاف کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ
جو انسان خود کو معاف نہیں کر پاتا،
وہ دوسروں کو بھی دل سے معاف نہیں کر سکتا۔
ہم اپنی غلطیوں کو،
اپنی ناکامیوں کو،
اپنے فیصلوں کو
بار بار یاد کر کے
خود کو سزا دیتے رہتے ہیں۔
اور پھر کہتے ہیں
کہ ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا؟
یاد رکھیں،
خود کو معاف کرنا کمزوری نہیں
بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔
جب آپ اپنے ماضی کو قبول کر لیتے ہیں،
اپنی غلطیوں سے سیکھ لیتے ہیں،
اور خود سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ
"میں انسان ہوں، میں سے غلطی ہو سکتی ہے"،
تب جا کر دل ہلکا ہوتا ہے۔
اور جب دل ہلکا ہو جائے،
تب ہی انسان دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھتا ہے۔
اس لیے
لوگوں کو معاف کرنے سے پہلے
ایک کام ضرور کریں…
آج خود کو معاف کریں۔
کیونکہ
خود سے صلح
دنیا سے صلح کی پہلی سیڑھی ہے۔
28/01/2026
اہلِ علاقہ کے لیے ایک بڑی خوشخبری!
کیا آپ اپنے بچوں کے لیے
✔ مضبوط تعلیمی بنیاد
✔ ریاضی، انگلش اور سائنس میں خصوصی توجہ
✔ اور جنرل ٹیوشن کی معیاری سہولت تلاش کر رہے ہیں
اب خوشخبری یہ ہے کہ
میٹھ، انگلش اور سائنس کی اسپیشل کلاسز
جنرل ٹیوشن ون (1) سے ٹینتھ (10) کلاس تک
تجربہ کار اور توجہ دینے والے اساتذہ کی نگرانی میں فراہم کی جا رہی ہیں۔
یکم فروری سے باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہوگا
محدود نشستیں — پہلے آئیں، پہلے پائیں
پتہ: حاجی سید گل کالونی، پنجابی مسجد کے پیچھے
زیرِ نگرانی: سعید الرحمن صاحب
📞 مزید معلومات اور داخلے کے لیے ابھی رابطہ کریں:
0335-4685461
اگر آپ واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں
تو صرف گول بنانے پر نہ رک جائیے…
کیونکہ گول تو ہر انسان بنا لیتا ہے،
لیکن کامیاب وہی ہوتا ہے
جو ان نظاموں پر کام کرتا ہے
جو اُسے روزانہ آگے بڑھاتے ہیں۔
گول کہنا آسان ہے:
“میں کامیاب ہونا چاہتا ہوں”
لیکن سوال یہ ہے:
کیا آپ کے پاس ایسا نظام ہے
جو آپ کو روز اس گول کے قریب لے جا رہا ہو؟
اگر آپ طالب علم ہیں
تو گول اچھے نمبروں کا نہیں،
نظام روزانہ پڑھنے کا ہونا چاہیے۔
اگر آپ استاد ہیں
تو گول مشہور ہونے کا نہیں،
نظام مسلسل سیکھنے اور سکھانے کا ہونا چاہیے۔
اگر آپ کاروبار میں ہیں
تو گول پیسے کمانے کا نہیں،
نظام ویلیو دینے، وقت کی پابندی
اور مستقل محنت کا ہونا چاہیے۔
گول صرف منزل دکھاتا ہے
لیکن نظام آپ کو
ہر دن چلنا سکھاتا ہے۔
یاد رکھیں:
گول وقتی جوش دیتا ہے،
اور نظام مستقل کامیابی۔
اس لیے آج فیصلہ کریں،
گول کے پیچھے بھاگنا چھوڑیں،
اور ایسا نظام بنائیں
جو خود آپ کو کامیابی تک لے جائے۔
“بات وہی اثر رکھتی ہے جو دل سے نکلے، کیونکہ جو دل سے نکلتی ہے وہی دل میں اترتی ہے۔
اگر ہم خود سچے نہیں، خود ایماندار نہیں، اور خود عمل کرنے والے نہیں، تو ہماری باتیں صرف الفاظ بن کر رہ جاتی ہیں۔
لوگوں کو نصیحت کرنا آسان ہے، لیکن خود کو بدلنا مشکل۔
مگر یاد رکھیں! جب تک آپ خود اپنے قول و فعل کو درست نہیں کریں گے،
تب تک آپ کی بات نہ کسی پر اثر کرے گی، نہ کسی کے کام آئے گی۔
اگر چراغ خود روشن نہ ہو، تو وہ دوسروں کو روشنی کیسے دے سکتا ہے؟
اس لیے پہلے خود کو بہتر بنائیں،
کیونکہ عمل کی طاقت ہزار الفاظ سے زیادہ ہوتی ہے۔”
ہم میں سے اکثر لوگ ایک بات بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں:
“آپ غلط ہیں۔”
لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ
جس انسان کو ہم غلط کہہ رہے ہیں،
وہ اپنی زندگی کے کن حالات سے گزر کر
اس سوچ تک پہنچا ہے۔
ہر انسان
ایک الگ ماحول میں پلا بڑھا،
الگ حالات دیکھے،
الگ دکھ، الگ خوشیاں،
الگ تعلیم اور الگ تجربات حاصل کیے۔
اب سوال یہ ہے:
کیا ہم واقعی یہ حق رکھتے ہیں
کہ کسی کو صرف اس لیے غلط قرار دے دیں
کہ وہ ہم جیسا نہیں سوچتا؟
اصل مسئلہ یہ نہیں
کہ دوسرا انسان غلط ہے،
اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے
کہ ہم خود کو ہر حال میں صحیح ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
ہم اختلافِ رائے کو
غلطی سمجھ بیٹھتے ہیں،
اور مختلف سوچ کو
خطرہ سمجھ لیتے ہیں۔
ہم دوسروں کی بات پر
کراس کا نشان لگا دیتے ہیں
اور پھر دنیا کو دکھاتے ہیں
کہ دیکھو!
میں صحیح ہوں،
اور باقی سب غلط ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ
ہر انسان اپنی جگہ پر درست ہوتا ہے،
اپنی سوچ کے دائرے میں،
اپنے تجربے کی حد تک۔
اگر دو لوگ ایک ہی واقعہ دیکھیں
تو دونوں کی کہانی ایک جیسی نہیں ہوتی،
کیونکہ دیکھنے والی آنکھیں الگ ہوتی ہیں
اور محسوس کرنے والا دل بھی الگ۔
یاد رکھیں!
اختلاف دشمنی نہیں ہوتا،
اور
خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔
دانائی اس میں نہیں
کہ ہم فوراً فیصلہ سنا دیں،
دانائی اس میں ہے
کہ ہم پہلے سنیں،
سمجھیں،
اور پھر بولیں۔
شاید تب ہمیں احساس ہو
کہ ہر انسان کا سچ
اس کی اپنی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔
اور جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں،
تو ہم نہ صرف
دوسروں کو عزت دینا سیکھتے ہیں
بلکہ
خود بھی بڑے انسان بن جاتے ہیں۔
کامیابی ہر کوئی چاہتا ہے،
لیکن سوال یہ ہے کہ
کیا ہر کوئی اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے؟
بہت سارے لوگ صرف یہ کہتے ہیں:
“ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں”
لیکن حقیقت یہ ہے کہ
وہ اپنی جگہ سے ہلنا بھی نہیں چاہتے۔
ایک بات یاد رکھیں،
کامیابی آرام کے زون میں نہیں ملتی۔
اگر آپ واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں
تو آپ کو پہلے Uncomfortable ہونا پڑے گا۔
آپ کو زیادہ محنت کرنی ہوگی،
آپ کو تکلیف برداشت کرنی ہوگی،
آپ کو مسائل کا سامنا کرنا ہوگا،
اور آپ کو خود کو بدلنا ہوگا۔
جو شخص مشکل سے بھاگتا ہے
وہ کامیابی تک کبھی نہیں پہنچتا۔
اور جو شخص مشکل کو گلے لگا لیتا ہے
کامیابی خود اس کے قدم چومتی ہے۔
اگر آپ آج بھی صرف بیٹھے ہیں،
صرف سوچ رہے ہیں،
صرف خواب دیکھ رہے ہیں،
تو یاد رکھیں
کامیابی صرف خواب دیکھنے والوں کو نہیں
بلکہ عمل کرنے والوں کو ملتی ہے۔
آج فیصلہ کریں،
آج خود کو تکلیف دیں،
تاکہ کل کی زندگی آسان ہو سکے۔
کیونکہ
No Pain, No Gain!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Quetta
