Goraya Farms Pvt.Ltd.Pakistan

Goraya Farms Pvt.Ltd.Pakistan

Share

This page is for those who want to eat fresh and 100% pure food products.

we sell Pure hot pepper' Turmeric' black pepper, moringa leaves, moring tea, tulsi tea, wheat oat flour, GANDAM KA DALYA, CHIA SEEDS, BALANGOO SEEDS, QUINOA SEEDS ETC.

24/08/2022
05/08/2022

*بائیولوجیکل وار:* ..copied content
Biological War:
اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
آج ہم ٹیکنالوجی کے دور میں رہتے ہیں۔
پوری دنیا گلوبل ویلج کی مانند ہے۔
اب جنگیں پہلے جیسی نہ ہوتی ہیں اور نہ ہی ہوں گی۔
جنگ کا مطلب ہوتا ہے کہ دوسرے مخالف فریق کو زیر کرنا۔
مطلب اُس کو معاشی طور پر ختم کر کہ اس کے اثاثہ جات پر قبضہ کر لینا۔
یا اُس کو معاشی طور پر کمزور سے کمزور تر کر دینا کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کر سکے۔
اور اپنی موت آپ مر جاۓ، یا ختم ہو جاے۔
آج ٹیکنالوجی کے دور میں یہ کام بہت سارے طریقوں سے کیے جا سکتے ہیں۔
*اور ہمارے ہاں ان میں سے کچھ طریقوں پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہیں۔*
اور ہم بیک وقت (ایک ساتھ) کئی جنگوں کا شکار ہیں۔
جن میں سے ایک جنگ *بائیولوجیکل وار* ہے۔
ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے۔
اور پاکستان کی پانچ میجر (اہم) فصلیں ہیں۔
گندم، کپاس، مکئ، چاول اور
کماد
اور کپاس ہماری پانچ اہم فصلوں میں سے ایک اہم فصل کے ساتھ ساتھ ہماری *معیشت* بھی ہے۔
بنیادی طور پر کپاس کی دو اقسام ہیں۔
1) *دیسی کپاس*
2) *امریکن کپاس*
اگر کپاس کی ان دو قسموں کا موازنہ کیا جاے تو
*دیسی کپاس*
یہ قسم برصغیر (پاک و ہند بننے سے پہلے) ہمارے پاس موجود تھی۔
اور ہم اسی کی کاشت کرتے تھے۔
اس کی پیدوار کم آتی ہے۔اور اس پر نقصان دہ کیڑوں کا حملہ نہ ہونے کہ برابر ہوتا ہے۔
اگر ہم نے اپنی دیسی کپاس کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہوتی تو ہم اس سے بھی شاندار پیدوار لے سکتے تھے *اور اب بھی لے سکتے ہیں* ۔
لیکن
*ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے*
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
اب اگر بات کریں
*امریکن کاٹن کی*
تو یہ ہمیں تقریباً 1970ء کی دھائی میں تحفتاً امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔
"(دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک یا کامیاب لوگ ہیں۔ان کی *کامیابی* کی ایک وجہ ان کی *لمبی پلاننگ* ہوتی ہے۔جو کہ پچاس یا سو سال کے عرصے پر محیط ہوتی ہے۔
اور اسی طرح دنیا کہ ترقی پذیر ممالک اور ناکامیاب لوگوں کی ناکامی کی ایک وجہ لمبی پلاننگ کا نہ ہونا ہے۔)"
اس تحفتاً دئیے گئے *امریکن کپاس* کے بیج کے پیچھے کچھ باتیں کار فرما تھیں۔
پہلی بات کہ ہم *اپنی* دیسی کپاس کی کاشت کم سے کم کر دیں۔
اور آج اس پر تقریباً 99.9فیصد تک عملدرآمد ہو چکا ہے۔
"(وہ ملک، قوم اور لوگ جو اپنی ذاتی چیزوں کو چھوڑ کر دوسرے ممالک، قوم یا لوگوں کی چیزوں کو ترجیح دیں تو اُن کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے)"
اور دوسرے نمبر پر
امریکن کپاس پر بہت زیادہ نقصان دہ کیڑوں کا حملہ ہوتا ہے(چاہے بی ٹی ہو یا نان بی ٹی)۔
اور آج ہمارے ملک پاکستان میں لگ بھگ پندرہ (15) ملٹی نیشنل
(Multi National)
کمپنیز کام کر رہی ہیں۔
امریکن کپاس کا بیج تحفتاً دے کر وہ ہم ہر بزنس بھی کر رہے ہیں۔(پیسے بھی کما رہے ہیں)۔
اور ہمارے ملک کی تعمیر وترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
(ملٹی نیشنل کمپنی سے مراد وہ کمپنیاں جو ایک سے زیادہ ملکوں میں کام کر رہی ہوں۔ اور نہایت افسوس کےساتھ ہم پچھلے پجتھر (75) سالوں میں اس قابل بھی نہیں ہو سکے کہ ایک (1) ملٹی نیشنل لیول کی کمپنی بنا سکیں)۔
امریکن کپاس پر نقصان دہ کیڑوں کا بہت زیادہ حملہ ہوتا ہے۔
جس کی وجہ سے
1)فارمرز کا بے تحاشا معاشی نقصان ہوتا ہے۔
(جب تک فارمرز خوشحال نہیں ہوں گے تب تک ہمارا ملک بھی خوشحال نہیں ہو گا)
2)نقصان دہ کیڑوں کے حملے کی وجہ سے پیدوار بھی کم آتی ہے۔
3)ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
4)ملٹی نیشنل اور نیشنل کمپنیز کا بزنس عروج پر چلتا ہے (امپورٹ بڑھتی ہے اور ایکسپورٹ کم ہوتی ہے)۔
5) اور ساتھ میں دوسرے ممالک کے نقصان دہ کیڑے بھی *(تحفے کے طور پر)* بیج میں شامل ہوتے ہیں جو کہ پیدوار میں اضافے کی بجاے کمی کا سبب بنتے ہیں۔
یہ تو ہماری ایک فصل کا حال ہے۔
دیگر فصلوں کے حالات بھی اسی سے ملتے جلتے ہیں۔
ہماری گندم کی فصل پچھلے دو سال کے عرصے سے *موسمیاتی جنگ* کے زیر اثر ہے۔
مکئ کی فصل کا ہائبرڈ بیج ہم دوسرے ممالک سے امپورٹ کرتے ہیں۔
اور ساتھ میں ہمیں *فال آرمی ورم کا تحفہ بھی ملتا ہے۔*
(پہلے ہائبرڈ سیڈ منگوائیں دوسرے ممالک سے اور پھر فال آرمی ورم کے لیے پیسٹی سائیڈ بھی)
چاول اور کماد کی فصل پانی کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔
زرعی ملک ہونے کے باوجود ڈیمز کی طرف توجہ نہ دینا بھی ہمارے لیے *لمحہ فکریہ* ہے۔
اگر ہم ڈیم بنا کر صرف بارشوں کا پانی ہی سٹور کر لیں تو بہت بڑی حد تک پانی کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
*لمبی پلاننگ سے کیا مراد ہے؟*
*یا ہم حالت جنگ میں کیسے ہیں؟*
اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔
کہ آج سے بیس سے پچیس سال پہلے گاوں کےہر گھر میں پاکستان نسل کی گاٸیاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔
ساہیوال اور چولستانی وغیرہ۔
مگر آج ہم کو گاٶں کے ہر گھر میں فریزن اور جرسی قسم کی نسلیں دیکھنے کو ملیں گٸ۔
مطلب کے باہر کے ممالک کی گاٸیوں کی نسلیں۔۔
آج ہم کو اصلی ساہیوال یا چولستانی وغیرہ نسل کی گاۓ شاٸد ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔۔
جتنی توجہ ہم فریزن یا جرسی وغیرہ نسل کو دیتے ہیں۔اگر اس سے آدھی توجہ بھی ہم نے اپنی لوکل نسل کی گاٸیوں کو دی ہوتی تو ہم دوسرے ممالک سے گاٸیاں خریدنے کی بجاۓ اُن کو اپنی ساہیوال اور چولستانی نسل کی گاٸیاں فروخت (ایکسپورٹ) کر رہے ہوتے۔۔
مگر افسوس۔۔
(وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گۓ مگر ہم لوگ سمجھ نہ سکے)
انہوں نے صرف ایک *سوچ* سوچی تھی *لمبی پلاننگ کی* اور صرف *ایک بیج بویا تھا۔*
وہ بیج آج تناور درخت بن چکا ہے۔
اور مملکت خداداد (پاکستان) کی بنیادیں ہلانے کے لیےکافی ہے۔
*ایک اور بیج بھی بویا ہوا ہے۔*
آج یہی کام ہمارے (سیڈ) بیج کے ساتھ ہو رہا ہے۔
اب ہم دوسرے ممالک سے سبزیوں اور دوسری فصلوں کا ہاٸبریڈ بیج خریدتے ہیں۔
اگر یہ ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے دیسی بیجوں سے بھی محروم ہو جاٸیں گۓ۔
پھر کیا ہو گا۔
پھر یہ ہو گاکہ ہم اُن کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
جب اُن کا دل چاہے فصلوں یا جانوروں کی کوئی نئی بیماری تحفتاً ہمیں دے دیں۔
اور ہم ان نئی بیماریوں کے علاج کے لیے پھر اُن سے ہی دوائیاں خریدیں۔
چاہے تو ہمیں قحط سالی کا شکار کر دیں۔
اور وہ بیٹھے بٹھائے ہم پر حکومت کریں۔
اور ہم معاشی اور ذہنی طور پر اُن کے غلام بن جائیں۔
اگر وہ ہماری کوئی ایک فصل یا ڈیری سیکٹر کسی بھی وجہ سے تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
اور ہمیں اٹھائیس کڑور عوام کے لیے کوئی ایک چیز بھی مکمل طور پر امپورٹ کرنی پڑ گئ
*تو پھر ہم اور ہماری معیشت کہاں ہو گی۔*
اور ہاں
*تالی کھبی بھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔*
ہم سب (عوام سمیت) اس میں برابر کے شریک ہیں۔
*اس سب کا خمیازہ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بڑے بُرے طریقے سے بُھگتنا ہو گا۔*
فصلوں کے بیج بھی اُن سے
فصلوں کی دواٸیاں اور کھادیں بھی اُن سے۔
دودھ کے لیے گائیاں بھی اُن سے
کھانے کے لیے گندم، چینی، کوکنگ آٸل، دالیں اور دوسری چیزیں بھی اُن سے۔۔
تو پھر ہم پچھلے 75 سال سے کیا کر رہے ہیں۔
یہ سوال ایک زرعی ملک کے لیے سوالیہ نشان ہے؟؟؟؟؟
جس کی تقریباً 70 فیصد آبادی کا تعلق زراعت سے ہو۔
اور اُس ملک کے ایگری گریجویٹ کے منہ پر طمانچہ ہے(جس کا اثر کٸی نسلوں کو بُھگتنا ہو گا)جو کہ پچھلے 75 سالوں میں اپنی خوراک اور زراعت میں ہی خود کفیل نہیں ہو سکے۔
اور ایسے ملک اور ایسی قوم کو بھلا *دیوالیہ اور محکوم* ہونے سے کون بچا سکتا ہے *جو اپنے وطن اور خاص کر اپنے آپ سے ہی مخلص نہ ہو۔*
دوسرے ممالک بشمول انڈیا نے سیڈ بنک
(Seed Bank)
بناۓ ہوۓ ہوٸے ہیں۔
کہ اگر کسی آسمانی آفت، جنگ یا کسی اور وجہ سے اُس ملک کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
تو وہ ملک سیڈ بنک سے (اپنے ملک کے رکھے ہوے دیسی) سیڈ لے کر دوبارہ فصلیں اُگا سکیں تاکہ دوسرے ممالک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
*سیڈ بنک:*
سیڈ بنک پہاڑوں میں ایسی جگہ پر بنایا جاتا ہے جہاں درجہ حرارت اور کوٸی آسمانی آفت یا جنگ وغیرہ کے اثرات نہ ہوں یا کم سے کم ہوں۔
(گوگل پر سرچ کیا جا سکتا ہے)
مگر ہم لوگ پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتے ہیں۔
یا ہماری ترجیحات پتہ نہیں کیا ہیں۔
شاٸد علامہ اقبال نے یہ شعر ہمارے لیے ہی لکھا تھا کہ۔
*خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی*
*نہ ہو خیال جس کو اپنی حالت بدلنے کا*
یہ حقیت ہے
*اور حقیت ہمیشہ سخت ہوتی ہے۔*
وہ کہتے ہیں نہ کہ
*لمحوں نے خطا کی*
*تو صدیوں نے سزا پائی*
ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے۔ابھی بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔
ورنہ
پھر یہ کہنے اور سننے کو ملے گا۔
*اب پچھتائے کیا ہُوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت* اور ابھی اس سب میں ہمیں کیا کرنا ہے۔
یا کیا کرنا چاہیے۔
یا کیا کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں ایک *زندہ اور غیرت مند قوم* بننا ہوگا۔
اپنی *سوچ اور سوچنے کے انداز کو بدلنا* ہو گا۔
*لمبی پلاننگز کرنی ہوں گی۔*
دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے کی بجاے ان کو سپورٹ کرنا ہوگا۔
تاکہ ہم سب معاشی طور پر خوشحال ہو سکیں۔
جب ہم خوشحال ہوں گے تب ہمارا ملک خودبخود ہی کامیابی کے سفر پر گامزن ہو جاۓ گا۔
(اصلاحات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے)
```Revolution with Agriculture
```

24/07/2022
22/07/2022

اسلام و علیکم!
اپنے ناقص علم کے مطابق کچھ معلومات دیتا ہوں،کیونکہ علم سیکھنے سکھانے کا نام ہے،

//////ٹماٹر کی قلمیں بھی لگ جاتی ہیں،

/////یاد رہے کہ کالی مرچ کی بیل ہوتی ہے پودا یا درخت نہیں،

/////یاد رہے کہ سبز الائچی کا ادرک کے پودے سے مشابہ پودا ہوتا ہے جھاڑی نما، جبکہ اسکا درخت ہرگز نہیں ہوتا۔

/////نرسری سے ملنے والا سبز الائچی کا پودا دراصل کچھ اور ہے اسے انگریزی میں (Myrtus Communis) کہلاتا ہے یاد رکھیں اس بات کو۔

/////نرسری سے ملنے والا کالی مرچ کا پودا دراصل کچھ اور ہے اسے انگریزی میں ( Schinus Terebenthifolious)اور ایک اور نام (Brazilian Pepper) بھی کہتے ہیں یاد رکھیں اس بات کو۔

/////درختوں کے تنوں میں چونے کا پیسٹ یا بورڈ پیسٹ لگانا انکی زندگی بڑھا دیتا ہے۔

/////شاخ تراشی باغبانی کی دنیا میں سب سے مفید عمل ہے۔

/////زہریلی سپرے پر آرگینک سپرے کو ترجیع دینی چاہیے

/////ملپ یا کیچوے یا گنڈوۓ یا مچھلی کے شکار والے زمینی کیڑے زمین کو زرخیز اور مفید بنادیتے ہیں۔

/////ملچنگ گرمی یا سردی دونوں موسموں میں مفید ہے۔

/////جڑی بوٹیوں کو ساتھ ساتھ ہی جڑ سے اکھاڑ کر ختم کرتے رہنا ایک اچھے باغبان کی نشانی ہے،

/////پودوں کو پانی بے دریغ اور وقت بے وقت دینا عقلمندی نہیں۔

////شجر کاری کیلۓ بڑے درخت لگانے زیادہ مناسب ہیں بجاۓ چھوٹے لگانے کے۔

/////شجرکاری کیلۓگھر کے باہر کھلے ماحول میں اگر درخت لگانے ہوں تو اینٹوں/بلاک/لوہے کا جنگلہ/ یا تار کی کم سے کم 6 فٹ اونچی جالی سے گھیراؤ ضروری ہے،بصورت دیگر پودے درخت 95٪ خطرات میں گھرے رہتے ہیں۔

////نرسری سے پودے درخت خریدتے وقت تمام معلومات طلب کریں ہوسکے تو نوٹ کرلیں،

/////شجر کاری کیلۓ ہر کسی کو آگاہی دیتے رہیں زیادہ سے زیادہ۔

/////زمین پہلے سے گیلی ہو تو ہرگز پانی دینے کی ضرورت نہیں،پودوں کی شکل و صورت وحالت کا بغور جائزہ لے کر پانی دینا زیادہ مناسب ہے۔ اگر پودہ سرسبز،صحت مند، پتوں میں اکڑاؤ، چمک پہلے سے موجود ہے تو پانی مت دیں،دوسری صورت میں دیں جب آپ محسوس کریں کہ اب اسے پانی کی ضرورت ہے۔

/////پودوں کو پانی دیتے وقت مکمل پودوں کے اوپر بھی پانی کے چھینٹے دینا یا فوارہ بنا کے نہلانا مفید عمل ہے، اسطرح ہوا سے نائٹروجن،اور دوسے عناصر پانی کے ساتھ مکس ہوکے پودوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

/////اکثر باغ میں یا گردوپیش جھاڑیوں میں آگ لگ جاتی ہے جس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے لہذا آگ بجھانے والا آلہ ڈی پی سی والا ضرور خرید کر تیار رکھیں۔

//////پھل دار پودے اور درخت اگر حد سے زیادہ گھنے ہیں تو اسکا مطلب ہوتا ہے کم پیداوار، اور بیماریوں کا گھر لہذا اس طرح شاخ تراشی کریں کہ بیچ بیچ میں سے آسمان دکھائ دے اور ہوا کا گزر ہو تب ہی پھل زیادہ ہونگے

/////پھل پکانے کیلۓ کار بائٹ نہیں ایتھلین رائپنر استعمال کریں

/////کھیتوں کے چاروں طرف اونچے درخت والے باڑ لگانا مفید عمل ہے اسطرح آندھی طوفان سے باغ کے پودے محفوظ رہتے ہیں درخت آندھی کا زور اپنے اوپر لے لیتے ہیں، اور سیلاب بارش وغیرہ سے زمین کے کنارے کٹاؤ سے محفوظ رہتے ہیں۔

/////گوڈی کرتے رہنے سے جڑوں کو آکسیجن ملتی رہتی ہے انہیں سانس لینے میں دقت نہیں ہوتی جڑی بوٹیوں کی صفائ بھی ہوجاتی ہے۔ پودا صحت مند ہوجاتا ہے،

/////پودوں اور درختوں کے تنوں کو پانی لگنے سے بچاۓ رکھنا مفید عمل ہے تنے فنگس سے محفوظ رہتے ہیں۔اس لئے تنوں میں مٹی چڑھا کر اونیچی کردینی چاہیے۔تاکہ پانی دیتے وقت تنوں کو پانی نہ ٹچ کرے۔

/////درختوں پودوں کو پانی دینے کیلۓ تنوں سے دور ہٹا کہ دائرے میں پانی دینے کیلۓ گڑھا تیار کریں پانی پینے والی جڑیں ہمیشہ تنوں سے کافی دور ہوتی ہیں،

/////پودوں میں لگے جالے وغیرہ وقت پر صاف نہ کرنے سے پودے وائرس، و بیکٹیریا کے حملے کا شکار ہوجاتے ہیں اور پودوں کی سانس بند ہوجاتی ہے۔

/////بہت سے پودے براہ راست بیج سے صحیح النسل،اصلی آبائ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں جبکہ بہت سے پودے درخت بیج سے لگانے کے بعد پیوند کرنا ناگزیر،ضروری ہوتا ہے مثال کے طور پر اعلی نسل کے سیب کے بیج لگا کر سالوں کے بعد جب پھل آئگا تو جنگلی، دیسی سیب پیدا ہوگا۔

////پیوند والے پودے جب بھی خرید کر لائیں تو پیوند والی جگہ کو خوب اچھی طرح پہچان لیں تاکہ پیوند سے نیچے سے جو بھی شاخ نکلتے جاۓ اسے توڑتے یا ختم کرتے جائیں اور پیوند کے اوپر سے جو شاخ نکلے اسے چھوڑ دیں پرورش کیلۓ،

////پھل دار درختوں کا یہ بھی اصول بنالیں کہ زمین سے لیکر اوپر تین فٹ تک سنگل سٹم بہت خوبصورت اور بہتر رہتا ہے، پودوں کی چھتری بھی اچھی بنتی ہے، تنے میں چونا لگانا بھی آسان ہوجاتا ہے،

/////ہر سال ایک بار دسمبر میں جب اکثر پودے درخت Dormant یا خوابیدگی حالت میں ہوتے ہیں انہیں گوبر کی بلیک یا کالے رنگت والی کھاد / کمپوسٹ/یا فارم یارڈ مینور ڈی کمپوز ہوچکی ہوئ ہو ضرور ڈالیں،

/////کچی گوبر کی کھاد پودوں درختوں کیلۓ نقصان دہ ہے ہمیشہ ڈی کمپوز گوبر کی کھاد(سال پرانی کالے رنگ کی) کھاد استعمال کریں،

/////زبانی یاد کرلیں کہ بہت سے پودے درخت بیج سے براہ رات صحیح النسل یعنی آبائ خصوصیات میں اگتے اور پھل دیتے ہیں اور بہت سے پودوں درختوں کو پیوند کرنا پڑتا ہے پیوندی پودوں کو ہائبرڈ کہتے ہیں۔صرف ایک مثال دیتے ہیں( اعلی نسل کے سیب کے بیج شوق سے لگا کر بڑا کیا اور جب پھل آۓ تو جنگلی یا دیسی سیب لگے گا) لیکن اسکے الٹ ایک اور مثال( جامن،امرود،انار
کٹھل،کے بیج لگا کر پیوند کی قطعی ضرورت نہیں لیکن بالفرض ان کو پیوند کر بھی دی جاۓ تو ممکن ہے کہ جلدی اور بہتر پھل ممکن ہو سکے۔

/////پودوں کی شاخوں سے نیا پودا تیار کرنے کو ائیر لئرنگ کہتے ہیں ائر لئرنگ Air Layering ہوائ داب
کوئ مناسب شاخ منتخب کرنے کے بعد تیز چاقو سے تنے کے گرد گول دائرے میں کٹ لگائیں ایسے ہی دوسرا کٹ لگائیں تنے کااوپری چھال Cambium اچھی طرح ہٹا دیں، دونوں کٹوں کا فاصلہ ایک سے دو انچ ہونا چاہیے تنے کی جو ہڈی نظر آۓ اسے خوب کھرچ کر صاف کریں اب مٹی اور گوبر کی کھاد کا آمیزہ بنا کر تیار رکھیں ایک دودھ دہی کی جو پولیتھین بیگ ہوتی ہے اس میں آمیزہ بھر لیں اوپر سے منہ باندھ دیں اب اس بھرے ہوۓ پولیتھین بیگ کی جو پیکٹ بنی ہے کے درمیان میں چاقو سے لمبائ میں 4 سے پانچ انچ کا چیرا لگائیں اسکا مقصد یہ ہے کہ اس چیرے والی جگہ پہ مطلوبہ ائر لئیرنگ والی ٹہنی کو اچھی طرح فٹ کریں ٹہنی کی کٹ والی جگہ اچھی طرح مٹی میں چھپ جاۓ کیونکہ اسی کٹ سے جڑیں نکلنی ہے اسلیۓ اوپر سے اچھی طرح دھاگہ وغیرہ باندھیں، وقفے وقفے سے چیک کریں پانی کا خیال کریں، 20 سے 50 دن کے بعد جڑیں جب خوب اچھی طرح بن جائیں درخت سے کاٹ لیں اور جہاں مناسب لگے وہاں لگا لیں

تحریر رشید احمد

19/07/2022

کسان اس سہولت سے فی الفور فائدہ اٹھائیں

08/06/2022

پُرانے وقتوں میں استعمال ہونے والا حیرت انگیز نسخہ، جانیئے ترپھلہ کیا ہے؟ اس کے ایسے فوائد جو جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

ترپھلہ جڑی بوٹیوں سے بنی ایک دوا کا نام ہے جس کو صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، بنیادی طور پر یہ خشک میوہ جات کا ایک مرکب ہے یہ سفوف تین اجزاء آملہ، ہڑڑ اور بہیڑہ پر مشتمل ہے، ترپھلہ لمبی عمر کو فروغ دینے اور دائمی بیماریوں کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
صرف یہ ہی نہیں ترپھلہ حیرت انگیز طور پر جسم کی اضافی چربی پگھلانے اور وزن کم کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، اس سے وزن کیسے کم کیا جا سکتا ہے آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

• ترپھلہ کے فوائد
ترپھلہ جسم سے زہریلے مادوں کا نکال کر چھوٹی آنت اور بڑی آنت کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتا ہے، یہ کولون ٹونر کے طور پر کام کرتا ہے اور بڑی آنت کے ٹشوز کو مضبوط اور ٹون کرنے میں مدد کرتا ہے، یہ وزن کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، یہ جڑی بوٹی قبض اور ہاضمے کی سوزش سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، یہ کولیسٹرول کی سطح کو بھی نمایاں طور پر کم کرتا ہے اور جسم کی اضافی چربی کو ختم کر کے وزن کو مزید بڑھنے سے روکتا ہے۔

• ترپھلہ میں موجود تین جڑی بوٹیاں
• آملہ
اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور آملہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے آملہ لبلبے کی صحت کو کنٹرول کرتا ہے، کولیسٹرول کی سطح کو منظم کرتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے۔

• ہرڑ (سیاہ میروبالن)
ہرڑ کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ پٹھوں اور ہڈیوں کو صحت مند اور مضبوط بناتا ہے۔

• بہیڑہ
یہ دیکھنے میں بادام کے سائز کا ہوتا ہے اس کا استعمال انسانی جسم کے لئے بےحد فائدے مند ہے، بہیڑہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں اینٹی سوزش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، یہ گلے کی سوزش، آواز کی خرابی، آنکھوں کی بینائی، معدے کے مسائل، قبض، بدہضمی اور صحت سے جُڑے کئی مسائل کے حل کے لئے بہترین فوائد رکھتا ہے۔

وزن کم کرنے کے لئے ترپھلہ کا استعمال کیسے کیا جائے؟
ترپھلہ کو وزن کم کرنے کے لئے 4 مندرجہ ذیل طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

• ایک گلاس پانی میں ترپھلہ پاؤڈر کے 2 چائے کے چمچ شامل کریں اور رات بھر کے لئے چھوڑ دیں، اب صبح نہار منہ یہ پانی پی لیں اس سے تیزی سے وزن کم ہوگا۔
• ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ ترپھلہ پاؤڈر ڈالیں اب اس میں ایک دارچینی کا ٹکڑا ڈال کر اسے رات بھر کے لئے چھوڑ دیں، صبح اس پانی میں ایک چائے کا چمچ شہد شامل کریں اور پی لیں، روزانہ اس کے استعمال سے وزن تیزی سے کم ہوگا۔

06/01/2022
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Rahimyar Khan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Zafar Colony Street No 1
Rahimyar Khan
64200