Tabassum Mubeen Creative Writer

Tabassum Mubeen Creative Writer

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tabassum Mubeen Creative Writer, Makeup artist, Sialkot.

30/05/2022

ہم تیری محبت میں مر مٹے
تبسم مُبین
Episods #03
فا کہہ پریزے کے کمرے میں بیڈ پر کوشن کو آپنےگھٹنو ں پر رکھے بیٹھی عا صم کے خیا لو ں میں کھو ئی ہو ئی مسکرا رہی تھی ۔
تو تویہا ں بیٹھی ہے۔۔۔۔اورنیچے سب لوگ ایک ساتھ بیٹھے تیرے اور بھا ئی کی شادی کی تا ریخ طے کر رہے ہیں ۔۔۔۔کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ وہ کیا ڈیٹ فیکس کریں ۔۔۔۔۔اور دن کو ن ساہو نا چا ہیے چل نہ نیچے سب کے ساتھ چل کر بیٹھتے ہیں۔
پریزے کمرے میں آئی اور فاکہہ کو اکیلے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر بو لتی ہو ئی الماری کے پا س جا کر اُس میں کپڑئے رکھتےالماری بند کر تی ہو ئی اُس کے پا س بیٹھ کر بیڈ سےاُسے اُٹھاتے ہو ئے کہنے لگی
ہا ں چل ۔۔۔۔فاکہہ نے کہا
نیچے ہا ل میں سب گھر والے مشترکہ بیٹھے فاکہہ اورعاصم کی شادی کی تاریخ طے کرنے میں مصروف تھے ۔
میں کیا بتا ؤ آپا آپ اور بھا ئی جا ن جو فیصلہ کریں گئے صیحح کریں گئے صوفے پر بیٹھی شاہینہ نے سنجیدگی سےکہا
نہیں شاہینہ۔۔۔۔آخر تم بھی ایک ما ں ہو فاکہہ کو لے کر تم نے بھی کچھ سوچا ہو گا ۔۔۔۔تمہا رے بھی کچھ ارما ن ہو ں گئے سرتاج صاحب نے کہا
ہا ں شاہینہ بابا ساین بالکل ٹھیک کہا رہے ہیں ۔۔۔۔تم نے کچھ تو سوچا ہو گا سلطا ن صاحب نے کہا کہ اتنے میں فاکہہ اور پریزے سب کے ساتھ ایک سایڈ پر آکر کھڑی ہو جا تیں ہیں ۔
بس خدا میری بچی کو ہمیشہ خوش رکھے ایک ما ں کواور کیا چا ہیے ہو تا ہے شاہینہ بیٹی کو دیکھ کر صوفے سے اُٹھی اور فاکہہ کے پا س جا کر اُس کے سر پر شفقت بھر ہا تھ پھیرتے ہو ئے تھو ڑا جذباتی ہو تے ہو ئے بو لی
شاہینہ تم فکر نہ کرو۔۔۔ یہ یہا ں بہو بن کر نہیں بلکہ ایک بیٹی بن کر رہے گی آصمت بیگم صوفے سے اُٹھ کر اس کے پا س آتی ہو ئی کہنے لگئ
بھا بی کیو ں نہ ہم ایسا کریں ۔۔۔۔نکا ح کے لئے اگلے مہینےکے جمعہ کا دن رکھ لیں اور باقی رسمو ں یعنی مہندی بارات اور والیمے کے لئے کو ئی اور دن طے کر لیتیں ہیں سب کو چائے دیتے ہو ئے کشمالہ چچی نے کہا
یا پھر ایسا کریں کہ جمعہ کے بعد نکا ح کی رسم کر لیتے ہیں اور شام کو مہندی کی ۔۔۔ ہے نا ں اچھا ایڈیا دانیال نے کہا
ہاں ہا ں یہ ٹھیک رہے گا کیو ں با با ساین آپ کو کیا لگتا ہےآصمت بیگم سوچے انداز میں کہتے ہو ئے پا س بیٹھے سرتاج صاحب سے پو چھنے لگی
تو پھراگلے مہینے کی بیس تا ریخ کیسی رہے گی شاہینہ آصمت بیگم نے استفسا ر کیا
ٹھیک ہے تو شاہینہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہا ں میں اثبات سے آپنا سر ہلاتی ہے۔
آج تو کا فی رونک لگی ہے کیا باتیں ہو رہی ہیں مجھے بھی تو پتہ چلے فیضو بابا پلیز جلدی سے کھانا لگا دیں بہت بھوک لگی ہے ۔
آج سب لو گ آپ کی شادی کی تا ریخ طے کر رہے ہیں بھائی عاصم اُفیس سے گھر آیا تو ہا ل میں سب کو ایک ساتھ بیٹھے باتیں کرتا دیکھ کر پو چھتے ہی ساتھ ہی فیضو بابا سے کھانا مانگتے ہو ئے سب کے پیچ میں جا کر بیٹھنے لگتاہے جب پریزئے کہتے ہو ئے آپنی جگہ سے اُٹھی اور عاصم کی بازو کے ساتھ لپک کر اُسے بیٹھنے سے روکتی ہے ۔
میری شادی عاصم حیرات سے کہتے ہو ئے واہیں روک جاتا ہے۔
جی بھا ئی آپ کی شادی ۔۔۔ میں سمجھا تا ہو ں ۔۔۔۔۔اگلے مہینے کی بیس تا ر یخ باروز جہعہ کو فاکہہ بھا بھی کے ساتھ آ پ کا نکا ح ہو نے جا رہا ہے مبارک ہو بھا ئی کیا آپ کو یہ شادی قبول ہے دانیال صوفے سے اُٹھا عاصم کے پا س آیا اور اعلا نیا طریقے سے بو لتا ہو ا عاصم سے ہا تھ ملا تے ہو ئے مخاطب ہو ا
اس کے انداز پر سب مسکرا نے لگےتھے۔
امی جان اتنی بھی کیا جلدی ہے میرا مطلب پہلے مجھے میرے پارو ں پر تو کھڑاہو نے دیں پھر سوچتے ہیں عاصم نے سب کے درمیان میں کھڑے ہو کر آصمت بیگم سے کہا تھا۔
تو پہلے کیا آپ ہوا میں کھڑے ہیں ۔۔۔اپنے پہرؤں پر ہی تو کھڑے ہیں دانیال عا صم کے سامنے آکر آپنے ہا تھ کے اشار ے سے ما پتے ہو ئے مستی میں بو لا
تجھے اس سے کیا ۔۔۔میں آسمان پر کھٹرا ہو ں یا زمین پر عاصم چیڑ تے ہو ئے بو لا
تو سرتاج صاحب اسے دیکھ کر سر ہلاتے ہو ئے مسکرانے لگے توسلطا ن صاحب نے عاصم کو آپنے پا س آکر بیٹھنے کوکہا
عاصم سلطان صاحب اور سرتاج صاحب کے درمیان میں جا کر بیٹھ جا تا ہے ۔
بیٹا عا صم کچھ فرض وقت پر ہی پو رے ہو جا ہیں تو اچھا ہو تا ہے سلطاں صا حب سمجھا تے ہو ئے کہا
صحیح کہا سلطان تم نے ۔۔۔۔صر ف پیسہ ہی رزق نہیں ہوتا بیٹا رشتے ،اُولاد،بیوی بھی رزق ہیں اس لیے رزق کے پیچھے ان کا سودا مت کروانسان کے نصیب کا رزق انسان کو خود تلا ش کرتا ہے سرتاج صاحب نے سنجید گی سے سمجھا تے ہو ئے کہا عاصم پریزے کے ساتھ کھڑی فاکہہ کو آپنی بھنو یں اُٹھا کر مسکرا کر دیکھنے لگا تو فاکہہ پھر سے شرما تی ہو ئی آپنی نظریں جھکا لیتی ہے ۔
چلیے بھا ئی اب آپ بھی خو ش ہو جا ئیے پریزے نے کہا
صبح ہو ئی تو لو گ آپنی روٹین کے مطابق آپنے آپنے کامو ں کی طرف راوں داوں تھے ۔
فاکہہ یہ تخت نما جگہ دیکھ رہی ہے اس تخت پر شاہ جہا ں بیٹھ کر اپنا داربار لگا یا کرتے تھے اور یہا ں سے کچھ ہی فیصلے پر ایک آب شار بھی بنی ہو ئی ہے چل میں تجھے دیکھتی ہو ں پریزے فاکہہ کو شالا مار با غ کی سیر کرواتے ہو ئے اُسے آپنے ساتھ لے جا تے ہو ئے کہتی ہے ۔
یہ جگہ کتنی خوبصورتی سے پینٹ کی گی ہے ۔۔۔۔سنا ہے ۔۔۔۔یہا ں ایک اُورنگزیب عا لمگیر با دشاہ تھا جس کی بیٹی ذابہالنسا ء ۔۔۔جو شاعر تھی اور اکثر اس جگہ پر بیٹھ کر شعر کہا کرتی تھی ۔۔۔۔ارے ایک بہت ہی خاص جگہ تو میں تجھے دیکھنا ہی بھو ل گی پریزے فاکہہ سے آگے چلتے ہو ئے بات کرتے کرتے پیچھے پلٹ کر فاکہہ کا ہا تھ پکڑ کر کہنے لگی
کو ن سی ہے وہ ایسی جگہ جیسے تو دیکھانے کے لئے اتنی بے تاب ہو رہی ہے فاکہہ نے ناک منہ چڑ ہا تے ہو ئے پو چھا
میرے ساتھ چلے گئ تو دیکھا ؤ گئ نا۔۔۔
پریزے فا کہہ کا ہا تھ تھامے اُسے آپنے ساتھ اُس جگہ پر لے جا تے ہو ئے بو لی تھی
فا کہہ ۔۔۔یہ ہے وہ جگہ باریں داریو ں والی جگہ پر پہنچتے ہی وہ فاکہہ کا ہا تھ چھو ڑ کر خو شی سے مسکرائے جھو متے ہو ئے بو لی
اس جگہ میں اتنا کیا خا ص ہے فاکہہ ادھر اُدھر دیکھتے ہو ئے ناپسند ید گی سے بولی
یہ با ریں داریں دیکھ رہی ہے با دشاہ ان باریں داریو ں میں بیٹھ کر برسات کا نظریہ کیا کرتا تھا۔۔۔۔میں جب بھی یہا ں آتی ہو ں تو یہا ں ضرور آیا کرتی ہو ں اورراقص کیے بغیر یہا ں سے نہیں جا تی تو پھر آج ایک ساتھ ہو جا ئےپریزے ہا تھ کے اشارے سے فاکہہ کو چلنج کرتے ہو ئے بو لی تھی
میں ۔۔۔نہیں نہیں بابا۔۔۔تو تو جا نتی ہے مجھے کہا ں یہ سب آتا ہے فاکہہ ہچکیچاتے ہو ئے کہنے لگی
دیکھ ۔۔۔جیسے جیسے میں کرتی ہو ں تو بھی بالکل ویسے ہی کرنا ٹھیک ہے پریزے فاکہہ کو کہتے ہو ئے اُسے آپنے ساتھ اُن باریدریو ں کے درمیان میں لے آتی ہے ۔۔۔
ریڈی پریزے نے ریڈی ہو تےہو ئےکہا
ریڈی ۔۔۔فاکہہ نے بھی ریڈی ہو تے ہو ئے جواب دیا
اور دونو ں ایک ساتھ کچھ دیر کتھک سٹائل میں راقص کرنے لگتی ہیں ۔
آج پھر وہی بزرگ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لئے پریزے کو مسلسل دیکھ رہا تھا کہ فاکہہ راقص کرکے تھک جا تی ہے اور ہنفتی ہو ئی اسی بزرگ کے ساتھ بینچ پر آبیٹھتی ہے اور پریزے اکیلی راقص کرتی رہتی ہے ۔۔۔کچھ دیر گزری تو فاکہہ راقص کرتی پریزے کو آواز دینے لگی تھی ۔
آرہی ہو ں ۔۔۔وہ فاکہہ کی آواز پر راقص کرتی ایک حسن بھورئے کے انداز میں رُکی اورہنفتی آواز کے ساتھ بو لی
پریزے تو تھکتی نہیں ۔۔۔۔کبھی ہرنی کی طرح ادھر اُدھر دوڑنے لگتی ہے ۔۔۔۔کبھی پریند وں کی طرح کھلی ہو اؤں میں اُڑتی ہے تو کبھی مورنی کی طرح راقص کرنے لگتی ہے فاکہہ آپنی طرف آتی پرئزے سے پو چھتی ہے۔
پریزے فاکہہ کی بات سن کر مسکرانے لگئ پھر دونو ں ایک ساتھ باہر کی طرف چلنے لگیں ۔۔
پریزے ۔۔۔تجھ سے ایک با ت کہو ۔۔۔تو برا تو نہیں ما نے گی چلتے ہو ئے فاکہہ نے اُس کی طرف گردن گھو ما کر پو چھا
نہیں ۔۔۔۔
فاکہہ چونک کر پریزے کے لفظو ں پر غور کرتے ہو ئے اُسے گھو رنے لگی
ایسے گھو ر مت ۔۔مذاق کر رہی تھی ۔۔۔۔پو چ کیا پو چھنا ہے پریزے فاکہہ کے پریشان چہرے کو دیکھ کر ہنستے ہو ئے کہنے لگئ تھی ۔۔
تو نے تو مجھے ڈریا ہی دیا تھا ۔۔۔۔
چل بو ل۔۔۔کیا بات کرنے والی تھی تو ۔۔۔
تیری وہ دوست ہے ناں آئرہ۔۔۔۔
ہمم ۔۔۔۔
میں جانتی ہو ں مجھے اُس کے بارے میں ایسے نہیں بو لنا چاہیے ۔۔۔پ ررررپر ۔۔۔۔۔مجھے وہ کچھ اتنی خا ص نہیں لگی فاکہہ نے مصنو عی خفگی سےکہا
کیو ں تونے اُس میں ایساکیا دیکھ لیا اچھی بہلی تو ہے وہ۔۔۔۔سب سے اچھے سے ملتی بھی ہے پریزے نے چلتے ہو ئے نارملی انداز میں کہا
نہیں پریزے تو سمجھی نہیں ۔۔۔۔با ت سب سے اچھے سے با ت کرنے کی نہیں ہے وہ تو ۔۔
تو پھر کیا با ت ہے ۔۔۔۔پریزے نے بات کاٹ کر کہا
تجھے یا د ہے کل رات اُس کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا کیا تو اُسے جا نتی ہے ۔۔۔
نہیں تو۔۔۔۔
دیکھنے میں تو کا فی شریف اور اچھالگتا ہے ۔۔۔مگر مجھے وہ کچھ ٹھیک نہیں لگا فاکہہ سوچتے ہو ئے انداز میں بولی تھی
تو کچھ زیا دہ نہیں سوچ رہی ۔۔۔۔ ویسے تو کب سے میرے لئے اتنا سوچنے لگی۔۔۔اچھا ۔۔تو اب سمجھی میں ۔۔۔تو ایسا کیو ں کر رہی ہے عا صم بھا ئی نے تجھ سے میر ا دیھا ن رکھنے کو کہا ہے نہ پریزے ناسمجھی میں فاکہہ کو ایک جگہ رک کر کہنے لگی
ارے نہیں پا گلی ۔۔۔۔اچھا چل چھوڑ یہ سب ۔۔۔۔ ایک بات تو بتا ۔۔۔۔۔تیرے وہ کیسے ہو نے چاہیے اور تو اُسے کیسے اور کہا ں ڈوھونڈے گئی جب پریزے فاکہہ کی بات کو ناسمجھ سکی تو اس نے آپنی بات کو رفع دفع کرنے کے لئے پریزے کے کندھے پر تھپتھپاتے ہو ئے آگے کی طرف چلتے ہنستے ہو ئے پو چھا
روک فا کہہ تیری طبعیت تو ٹھیک ہے نا ۔۔۔کیسی اُلٹی سیدھی با تیں کر رہی ہے وہ چلتے ہو ئے ر کی اور فاکہہ کا ما تھا چیک کرتے ہو ئے پو چھنے لگی
چل بتا نا ں تیری نظر میں تیرے وہ کیسے ہو نے چا ہیے ۔۔۔۔آگر اچانک وہ تیرے سامنے آجا ئے ۔۔۔تو تو اُسے کیسے پہچنے گی ردعمل کیا ہو گا آپنے ماتھے سے پریزے کا ہا تھ ہٹ کر پھر سے ساتھ چلتے ہو ئے پو چھنے لگی
ہممم۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں لیکن ہا ں ۔۔۔اتنا ضرور جا نتی ہو ں ۔۔۔وہ جہا ں کہیں بھی ہو گا ایک دن خو د چل کرمیرے گھر ضرور آئے گاپریزےدو قدم آگے کی طرف چلتے ہو ئے ایک پو ل کے پاس بیٹھی آسما ن کی طرف دیکھ کر پہلے لمبا ساسانس لیتی پھر مسکرائےسوچتے ہو ئے انداز میں بولی جیسے وہ فاکہہ سے نہیں بلکہ آسما ن پر بیٹھے اُس رب سے کہا رہی ہو ۔۔
لیکن کیسے ۔۔۔۔وہ کو ئی چیز تو ہے نہیں جیسے خالہ جان بازر سے خرید کر لائیں اور تجھے دے دیں ۔۔۔ہا ے اللہ کیسے ملے گا وہ تجھے۔۔۔۔۔۔
فاکہہ جاننے کے لئے متجسس ہو تے ہو ئے بو لی
تجھے بڑی بے چینی ہو رہی ہے ۔۔۔۔تجھے تیرے والا مل گیا نا ں ۔۔۔۔اب تو اُ س کی فکر کر میرے والے کی چھو ڑ وہ تو سب سے الگ ہے پریزے فاکہہ کو جاننے کا تجسس رکھتادیکھ کر جھٹ سے آپنی کمرے پر ہا تھ رکھے کہتے ہو ئے شرمیلی مسکان چہرے پر لیے کندھے اُچکاکرخود میں سکڑتے کھو ئے انداز میں کہنے لگئ
اچھا جی ۔۔۔وہ کیسے فاکہہ نے پریزے کو اُس کی بازو سے کھنچ کر واپس سے تا لا ب کے کنا رے بیٹھااور اُس سےتفصیل سے پو چھنے لگی
آئرہ ایک بات تو بتا ؤتمہاری وہ دوست ۔۔۔۔کیا نام تھا اُس کا کھانےکی میز پر بیٹھے شہروز نے کھانا کھاتے ہو ئے پو چھا
کو ن سی ۔۔۔واہی جس کے گھر ہم کل رات پا ٹی پر بھی گیے تھے آئر ہ نے بول میں سے کھانا لیتے ہو ئے کہا
ہمم وہی شہروز نے منہ میں نیوالا ڈال کرمدھم آواز میں کہا
کیو ں کچھ کہا کیا آئر ہ نے نظریں شہروز کے چہرے پر لگائے کہا
نہیں وہ ۔۔۔۔اکچیلی تم نے اُسےملوایا نہیں نہ اس لیے پو چھ رہا تھا شہروز نے فوراًآپنی بات کو بدلتے ہو ئے کہا
ہا ں بھا ئی ۔۔۔ایم سور ۔۔۔۔اُس دن تو میں اُسےآپ کے بارے میں بتا نا ہی بھو ل گئ۔۔۔۔ لیکن اس دفعہ آپ کو اُس سے ضرور ملواں گی ۔۔۔۔ویسے بھا ئی آپ اچانک یہ سب کیو ں پو چھنے لگے منہ میں نیوالا ڈالتے ہو ئے آئر ہ نے شک کی نگاہ سے شہروز کی طرف دیکھتے ہو ئے پو چھاتھا
بس ایسے ہی اچھا اب میں چلتا ہو ں ۔۔۔مما پو چھیں تو کہنا میں اُفیس گیا ہو ں شہروز جلدی سےٹیبل سے اُٹھا اور اُفیس کے لئے نکل جا تا ہے اور آئر ہ واپس سے کھانا کھانے میں لگ جا تی ہے ۔
آصمت الماری سے ایک خاندانی ہار نکال کر پاس کھڑی شاہینہ کو دیکھانے لگتی ہے ۔
اور یہ دیکھو شاہینہ یہ میں نے اپنی ہو نے والی بہو کے لئے سنبھال کر رکھا تھا ۔۔۔۔اب میں اسے اپنی بیٹی فاکہہ کو دو ں گی آصمت بیگم الماری کے پا س کھڑےاُس میں سے ایک خا ندانی ہا ر نکال کر پا س کھڑ ی شاہینہ کو دیکھا تے ہو ئے خو شی سے بو لی تھی ۔
بہت خوبصورت ہے آپا ۔۔۔۔لیکن آپا ۔۔۔۔اتنا سب دینے کی کیا ضرورت تھی اُس کے پاس پہلے سے ہی بہت کچھ ہے شاہینہ ہار کو اپنے ہا تھ میں لے کر تعریف کرتے ہو ئے کہنے لگی
نہیں شاہینہ ۔۔۔۔یہ سب میں اُسے نہیں دے رہی ۔۔۔۔بلکہ یہ سب اُ سے اُس کی قسمت نے دیا ہے ۔۔
تو شاہینہ جذباتی ہو نے لگئ ۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں کیسی ہو نی چاہیےفاکہہ نے متجس رکھتے ہو ئے پو چھا
اُس کی آنکھو ں میں ایک الگ ہی چمک ہو ۔۔۔۔مطلب اُس کی آنکھو ں میں ایک سچائی ہو۔۔۔جو ایک نظر دیکھتے ہی آنکھو ں سے دل کا حال جان سکے ،جو ہو نٹو ں سے زیادہ آنکھو ں کی زبان پڑنا جا نتا ہو جس کی آنکھو ں کے راستے پانی کی طرح اُس کے دل میں اُتر سکو ں پریزے بھی سب لڑکیو ں کی طرح آپنی آنکھو ں میں سنہرے خو اب سجا ئے آنے والے خو بصورت وقت کے بارے میں سوچتے ہو ئے بو ل رہی تھی ۔
تیرا مطلب اُس کی آنکھیں خو بصورت ہو نی چا ہیے فاکہہ ہنستے ہو ئے اپنے ہا تھ کے اشارے سے بو لی
پتا نہیں ۔۔۔۔۔دیکھنے میں خوبصورت ہو گا کہ نہیں مجھے اس سے کو ئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔۔لیکن اُس کا میچور ہو نا بہت ضروری ہے ۔۔۔جو اپنے سے نیچلے تبقے کے لو گو ں کی عز ت کرے اُن سے تمیز سے با ت کریں ۔۔۔۔یعنی اپنے گھر کے نو کریو ں کو عزت دیتا ہو ۔۔۔۔جوعورتوں کی عزت کرنا جا نتا ہو ۔۔۔میچور ۔کیرنگی،سمجھدار ۔۔۔اُس کی باتو ں میں گہری ہو نی چاہیے ۔۔۔۔۔جو اپنی ذمہ داریو ں کے ساتھ ساتھ اصول پسند بھی ہو ۔۔۔ پیا ر کا مطلب جا نتا ہوجو مجھ سے زیادہ میری رو ح کو سمجھے ۔۔۔ اپنے رشتے کو دوسروں کےرشتو ں میں نہ تو لتا ہو۔۔۔۔۔ جو مجھے اپنے اعتماد میں لے کر مجھے سپورٹ کرے اُس کے خیالو ں میں کھو ئے ہو ئے انداز میں پریز ے نے کہا
وا ااااااااااہ پریزئے ۔۔۔تونے تو اُس کے لئے پو ری داستا ن ہی لکھ ڈالی ۔۔۔۔فاکہہ اپنا ہا تھ اُ ٹھا کر عجیب سے چہرے سے کہنے لگی
فا کہہ کے بات کرنے کے دوران پریزے اچا نک سے چو نک کر آپنے پیچھے گردن گھو متے ہو ئے جھٹ سے اُٹھ کھڑی ہو تی ہے اور حیرانی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگتی ہے۔۔۔۔ جیسے اُس نے کسی انجان قدمو ں کی آہٹ کو محسوس کیا ہو ۔۔۔فاکہہ نے جب اسے اس طر ح ادھر اُدھر گھوم کر دیکھتے دیکھا تو اس کے کندھے پر ہا تھ رکھ کر آپنی بھنویں اُچھکا کر پو چھنے لگی
ہیں ۔۔۔پریزے چونکتی ہو ئی پیچھے مڑی
کیا ہوا ۔۔۔کسے ڈھو نڈرہی ہے فاکہہ سرد آنکھو ں سے پو چھنے لگی
نہیں کچھ نہیں ۔۔۔چل گھر چلتے ہیں ۔۔۔امی جا ن انتظا ر کر رہی ہو ں گئوہ عجیب سی کشمکش میں کہنے لگی
اور دونو ں باغ سے باہر کی طرف آپنے قد م لیتیں ہو ئی چلنے لگئں تھیں۔۔۔
پرئزے کے چلنے میں بھی کشمکش تھی جس سے وہ مصنو عی نظروں سے بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔
ہمیں کسی سے اُمیدیں صرف اُتنی ہی لگا نی چا ہیے جن پر ہم پو را اُتر سکیں ۔۔۔۔کیوں اُمید صرف اتنی روشنی رکھتی ہےکہ راہ دیکھا ئی دیتی رہے مگر تو قع ایسا الاؤسلگا تی ہےکہ آنکھیں چندھیا جا تی ہیں پیچھے سے مردان آواز آئی اُس بزرگ نے تحمل سے کہا تھا ۔
پریزے اور فاکہہ اس آواز پر رکیں اوران الفاظو ں پر غور کرتے ہو ئے دونو ں حیرات سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتیں ہو ئیں ایک ساتھ آپنی گردن گھو ما کر پیچھے مڑ کر دیکھتیں ہیں تو ایک سفید پوش بزرگ ہا تھ میں تسبیح پکڑ ئے کھڑا انہیں دیکھ کر مسکرا تا ہو اکہتا ہے یہ وہی بزرگ تھا جو روز پریزے کو اس باغ میں آتا دیکھتا تھا مگر پریزے نے آج اسے پہلی بار دیکھا تھا اس لئے وہ اُسے پہچان نہیں پا ئی تھی ۔
اُمید یں صر ف کس اورسے ہی نہیں ۔۔۔بلکہ خود سے بھی لگا ئی جا تی ہیں میرے داداجان اکثر کہا کرتے ہیں ۔۔۔۔اپنی منزل تک پہچنے کے لئے ہمیشہ دل میں جذبہ ،ہمت اور خدا پر یقین ہو نا چاہیے۔۔۔۔۔تو آپ اپنی منزل تک پہنچ ہی جا تے ہو اور پھر کو ئی بھی سفر لا حا صل نہیں ہوتا ہمیں منزل نہ بھی ملے ۔۔۔توبھی وہ راستےہمیں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں ۔۔۔۔پھر منزلیں تو سب اللہ کی ہیں پیار ،محبت ، غم ،آزمائش پھر یہ تو ہما ری زندگی کے سفر کا حصہ ہیں۔۔۔۔پریزےنے بڑے اطمینان اور نرم لہجے میں اس بزرگ کی بات کا جواب دیا
خدا تمہیں وہ محبت دے جس کی تم طلب گار ہو اور خدا پر تمہا را یقین اسی طرح بنا رہے اے میرے رب ایک ایسے انسان کو اس کا مقدار بنا نا جس کی یہ خواہش مند ہے۔۔۔۔زندگی کی ہر آزمائش کو اس کے لئے آسان فرما۔۔۔۔آمین
پریزے کی یہ با ت سن کر وہ بزرگ مسکراتے ہو ئے اُس کے پیچھے سے اُس کے لئے دعا کرنے لگا
*****************
میرے پیارے میمبران پلیز جلدی سے اچھے اچھے کو مینٹ کر کے بتا ئیے یہ ناول آپ سب کو کیسا لگا ۔۔۔۔۔۔۔

27/05/2022

ہم تیری محبت میں مر مٹے
تبسم مُبین
Episoda #02
جی نہیں عاصم بھائی آمی جان سب سے زیادہ پیا ر مجھے ہی کر تی ہیں۔۔۔
آپنی ما ں کے پیچھے جا کر اُن کے کندھو ں کو آپنے دونو ں ہاتھوں سے جکڑتے ہو ئے عاصم کی طرف دیکھ کر پیار سے انہیں حگ کرتے ہو ئے بولی تھی ۔
پیچھےتو پھر میں ہی رہ جا تا ہو ں ناں ویسے بھی یہ بات تو سچ ہے کہ چھو ٹے بھا ئی بہن آنے کے بعد بڑے بیٹے سےattentionہٹ ہی جا تی ہے عا صم آپنی طرف اشارہ کرتے ہو ئے عجیب سامنہ بنا کر جلیسی میں بو لا تھا۔
بالکل نہیں۔۔۔ میرے لئے میرے تینو ں بچے ایک جیسے ہیں آصمت بیگم پاس کھڑ ے پریزے دانیال اور عاصم کے چہرو ں پر پیار کرتے مسکراتے انھیں سینے سے لگتے ہو ئے کہنے لگیں تھیں ۔۔سلطان صاحب کی طر ف دانیال کی پشت تھی۔۔
"چلو بھئی اب ہم سے بھی مل لو ۔۔"سلطان صاحب بیٹے کو دیکھ کر کھلتے چہرے سے آپنے با زو ں پھیلا ئے کھڑئے کہنے لگے ۔
دانیال کھلتے چہرے کے ساتھ جا کر سلطان صاحب کے گلے سے جا لگتا ہے آصمت بیگم اور سلطان صاحب سے ملنے کے بعد دانیال آنگن میں موجو دہر افراد سے ملنے لگااور فیضو بابا آپ کیسے ہیں ۔۔"دانیال نےاُس بو ڑھے شخص سے پو چھاتھا جو اس وقت سلطان صاحب کے پیچھے آپنے چہرے پر خوشی کی مسکرا ہٹ لیے احترام میں آگے ہا تھ باندھے کھڑا سب کو ایک ساتھ اکھٹا دیکھ کر خو ش ہو رہا تھا "
ایک دم جو ان ۔۔"اُس بو ڑھے شخص نے اپنے با زو پھیلا کر شارُوخ انداز میں مسکرا تے ہو ئے کہا تو سب اس انداز پر ہنسنے لگے۔۔۔۔"
اس وقت سب ٹی وی لون میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب عاصم کے ساتھ صوفے پر بیٹھی پریزے نے دانیال سے آپنی دی ہو ئی لیسٹ کے مطابق ساری چیزیں لا نے کے بارے میں پو چھا تھا۔
"میر ی بہن جو چیز مانگے اور وہ میں نا ں لاؤ بہلا یہ کس کتاب میں لکھا ہے" دانیال گفٹ کو اپنے پیچھے چھپائے اس کے سامنے والے صوفے سے اُٹھتے ہو ئےمسکرا ئے پریزےکے پا س آتے ہو ئے کہنے لگا
بہت اچھا کیا دانیال جو تم اس کی بتا ئی ہو ئی چیزیں لے کر آگے اگر تم یہ سب نا ں لے کر آئے ہو تے تووہ تم سے کبھی بات نہ کرتی میر ی چوٹکی نا راض نہیں ہو نی چاہیے ۔۔۔"عاصم نے مسکراتے ہوئے سامنے کھڑئے دانیال سے کہا تھا"
کیا بھائی آپ بھی ۔۔۔کیا وہ میر ی کچھ نہیں لگتی یہ میری بھی تو پرنسیسز ہے بھلا میں اس کی کہی چیز یں کیسے بھو ل سکتا ہو ں آپ کو ہمیشہ ایسا کیو ں لگتا ہے ۔۔۔"دانیال نے پریزے کو گفٹ دیتے ہو ئے عاصم کی بات کا جواب دیا"ا
"اچھا اچھا اب بحث مت کر وکھا نا تیا ر ہے چل کے پہلے کھانا کھا لو۔۔" کشما لہ چچی نے ٹی وی لا ن میں داخل ہو تے ہو ئے دانیال وغیرہ سے کہا تھا "
"میں گھر میں سب کی ہی لڈ لی ہو ں "عاصم اور دانیال کے درمیان میں چلتے ڈایئنگ ہا ل کی طرف جا تے ہو ئے پریزےنے اطراتے ہو ئے انداز میں کہا
"ہاں ہا ں ہم سب جا نتے ہیں اب تو اتنا بہا ؤ مت کھا ۔۔"دانیال ڈایننگ ٹیبل کی کرسی کو پیچھے کی طرف گھسیٹتا ہو ا بولاتھا ۔۔۔
آہستہ آہستہ سبھی لو گ کھانے کی میز پر بیٹھتے ہیں اور کھانا شروع کرتے ہیں ۔
کھانا اچھے اور خوشگوار ماحول میں شروع کیا جا تا ہے ۔
کھانے میں کیا بنا ہے ۔۔۔۔خوشبو تو بہت اچھی آرہی ہے لگتا ہے کچھ بہت خا ص بنا ہے ۔۔۔۔وااااااو مٹر قیمہ ۔۔۔یہ تو میرا فیورٹ ہے کس نے بنا یا ہے ۔۔"دانیا ل کرسی پر بیٹھتے ہی آپنے ہا تھو ں کو مسلتے ہو ئے کہتا پھر آپنی کرسی سے تھوڑاسا اُٹھ کر ٹیبل پر پڑے سالن کےبولا کا ڈھکنا اُٹھا کر آگے کی طرف جھک کر اُس میں جھنکتے ہو ئے ایک گہری سانس بھر کر اُس کی خوشبو لیتے ہو ئے کہنے لگا"
دانیال بھائی یہ سارا کھانا کشما لہ چچی نے آپ کے آنے کی خو ش میں خاص آپنے ہا تھو ں سے بنا ہے ۔۔"اس کے ساتھ بیٹھی پرئزے نے کہا ۔۔"
"آئی لو یو ۔۔۔"چچی آج مجھے آپ کے بنائے ہو ئے سالن ۔۔اور۔۔ ہا تھو ں سے پیار ہو گیا ہے ۔۔"دانیال پسند کا سالن بنا ہو ا دیکھ کر جھٹ سے آپنی کرسی کو پیچھے کی طرف گھسیٹتا ہو ااُٹھا اور کشما لہ چچی کے پا س جا کر اُن کے قدمو ں میں بیٹھ کر اُن کے ہاتھوں کو آپنے ہا تھو ںمیں لے کر رومینٹک اندا زمیں کہنے لگا۔۔"
کشما لہ چچی شرمانے لگیں ۔۔۔
پاس بیٹھے سبھی اسے ایسے انداز میں دیکھ کر حیرانی سے ہنسے ۔۔۔
"بس بس اب زیادہ مسکے مت لگا چوپ چاپ کھانا کھا" کشما لہ چچی ہنستے ہو ئے بولی
سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے تھے۔۔۔
"بابا جان میں کیا سوچ رہا ہو ں ۔۔۔"عا صم کھانا کھاتے ہو ئے سلطا ن صاحب کی طرف رُوخ کرتے ہو ئے بولا ۔۔
کیا ۔۔"سلطان صاحب متوجہ ہو تے ہو ئے "
"کیو ں نا ں ہم دانیال کے آنے کی خو شی میں ایک گیٹ ٹو گیدر پا رٹی رکھیں کچھ زیادہ لو گ نہیں ہو ں گے یہی بس گھر کے لو گ ہی ہو ں گئے" عاصم نے کہا
عا صم بیٹا ایسا کرنا اپنی خالہ کو بھی فون کرکے بولا لینا اس طرح اُن کا دانیال سے ملنا بھی ہو جائے گا اور اسی بہانے تمہا ری خا لہ سے مل کرہم تمہا ری اور فا کہہ کی شادی کی تا ریخ بھی طے کر لیں گے ۔۔۔کیو ں بابا ساین سلطان صاحب کیسا رہے گا یہ ۔۔۔"آصمت بیگم نے چائے کی پیالی آپنے منہ کو لگاتے ہو ئے پو چھا"
"نیکی اور پو چ پوچ ایک دم ٹھیک کہا تم نے آصمت بہو "احترام والی کرسی پر بیٹھے سرتاج صاحب نے خو شی سے کہا
"اور اسی طرح ایک وقت میں ایک ساتھ دو کام بھی ہو جا یئں گئے"سلطان صاحب خو شی سے بو لے "
"اوے ہو ے دانیال بھائی چہرہ تو دیکھے ذار عاصم بھا ئی کا ۔۔۔فا کہہ کا نام سنتے ہی کیسے کھل اُٹھا ہے شرم کے مارے گال تو کیا دانت بھی کیسے لال ٹماٹر کی طرح ہو گے ہیں ۔۔۔۔۔
پریزے اور دانیال جو کھانے کی میز پر عاصم کے دائیں بائیں والی کرسی پر بیٹھے تھے بڑے بھائی کی شادی کا سنتے ہی اُسے چیڑہانے لگتے ہیں ۔
عا صم بھا ئی ۔۔۔۔فو ن کرکے۔۔۔ ذار پو چھے تو صیححی فا کہہ بھا بھی تو آرہی ہیں یا پھر اُ ن کے بن ن ن ہی "دانیال کھانا کھاتے ہو ئے پریزے کی بات پر پہلے ہلکا سا مسکرا یا پھر عا صم کے کان کے قریب ہو کر مدھم آواز میں سرگو شی میں کہنے لگا
"کیا یا ر دانیال آرام سے کھانا تو کھانے دے" عاصم چیڑتے ہو ئے آپنے دونو ں سایڈوں پر دیکھتے ہو ئے بو لا ۔۔۔
"کھائے کھائے بھائی کھانے سے منع کون کر رہا ہے۔۔۔ اگر آپ کہا ں تو میں اپنے ہاتھو ں سے آپ کو کھلا دو ں "دانیال کرسی سے اُٹھ کر عاصم کے پیچھے سے کا ن کے قریب آکر چیڑ ہا تے ہو ئے پھر مستی میں بو لا
روک تو ایسے باز نہیں آئے گا میں ابھی تجھے بتا تا ہو ں عاصم چیڑتے ہو ئے ٹیبل پر آپنے دونو ں ہا تھوں کے زور پر کرسی سےاُٹھا کردانیال کے پیچھے اُسے مارنے کے لئے بھگتا ہےبچو ں کی ہسی ٹیٹولی دیکھ کر کھانے کی میز پر بیٹھے سب بڑے ہنسنے لگتے ہیں ۔
میں ابھی شاہینا کو فو ن کر کے آتی ہو ں ۔۔۔فیضو بابا آپ یہا ں کا دیکھ لیں ۔۔"آصمت بیگم بھی میز سے اُٹھتے ہو ئے بو لی"
رات ہو تے ہی سب مہمان آنا شروع ہوجا تے ہیں پو رے با غیچے کوبڑے عالیشان طریقے سے سجا یا گیا تھا اتنی بڑی حویلی میں رنقوں کا سماں تھا عاصم آپنی نظر یں فاکہہ کے انتظا ر میں لگا ئے سجاوٹ میں مصروف تھا کہ اس کے پیچھے کھڑے پریزے اور دانیال نے جب عاصم کو یو ں دیکھا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا نے لگے پھر ایک دوسرے کو سر سے اُس کے پا س جا نے کا اشار کرتے ہو ئے اُس کی دونو ں سایڈوں پر آکر کھڑے ہوتے ہو ئے کہنے لگے ۔۔۔
"ہمم۔۔۔ تو لگتا ہے کوئی پلکے بچھائے کسی خاآآآص مہمان کے آنے کا انتظار کر رہا ہے"دانیا ل گھوما کر عاصم کے کندھے پر آپنی باو ز رکھتے ہو ئےکھنچتےالفاظوں کے ساتھ سامنے دیکھتے اُنہیں تنگ کرتے ہو ئے کہنے لگا
"دانیال بھائی ۔۔۔مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے عاصم بھائی آپ کہیں تو فون کر کے پو چھوں ۔۔۔کہاں رہ گئ "دوسری طرف سےپریزے عاصم کی بازو میں آپنی بازو ڈالتے تنگ کرتے ہو ئے بولی
"تم لوگ اپنی حرکتو ں سے باز آ جا ؤ ورنہ میں "عاصم آپنے دونو ں سایڈیو ں پر کھڑ ئے ان دونو ں کی طرف چیڑتے چہرے سے دیکھتے ہو ئے کہنے لگا
"ورنہ کیا "دانیال آپنی مستی میں مسکرا ئے آپنی بھنو یں اُچکا کر پو چھنے لگا۔۔
پریزے "پیچھے سے آواز آئی۔۔۔ "
"آئی آمی جان "پریزے نے پیچھے گردن گھو ما کر آواز لگا تے ہو ئے کہا
"جی آمی جان "آصمت بیگم اورکشمالہ چچی کچھ عورتو ں کے ساتھ ایک سایڈ پر کھڑئیں مسکرا کر باتیں کر رہی تھیں جب پریزے ان کے پا س آکر بولی
"یہ میری بیٹی پریزے" آصمت بیگم نے پا س کھڑی کچھ عورتو ں سے پرئزے کو ملواتے ہو ئےکہا
"اور ہم سب کی لا ڈ لی ہمارے گھر کی رونک "ساتھ کھڑی کشمالہ چچی نے خوشی سےکہا
آئرہ اپنے بھائی اور والدین کے ساتھ پریزے کے گھر دعوت پر آتی ہے ۔۔۔
"ہائے پریزے" آصمت بیگم اور کشما لہ چچی سے باتیں کرتی پریزے کی نظرجب لو گو ں کے ہجو م آپنی فیملی کے ساتھ ہا تھ ہلا تی آئرہ پر پڑ ی تو مسکرا ئے اُس کی طرف ہو لی ۔۔
"آمی جان میں ابھی آئی "پریزے آئرہ کو دیکھ کر کہتے ہو ئے اُس کے پا س آئی
"ہا ئے اسلام وعلیکم آنٹی اسلام وعلیکم آنکل کیسے ہیں آپ لو گ "پریزے نے مسکرا تے ہو ئے پو چھا
"ہم بالکل ٹھیک ہیں تم بتا ؤبیٹا تم کیسی ہو "سلمی بیگم نے مسکرا تے ہو ئے پو چھا
سلمی آئر ہ کی والدہ کا نام ہے جو دیکھنے میں کافی موڈرن ہیں ۔۔۔۔
"الحمدو اللہ ۔۔۔آنٹی میں بالکل ٹھیک آپ لو گ کھڑے کیو ں ہیں آئے نا پلیزبیٹھے "پریزے مسکرا ئے آپنی دوست آئرہ کی فیملی کو بیٹھنے کا کہتی ہے کہ سلمی کے پا س کھڑا ایک لڑکا جو بنا آپنی پلیکیں جھپکے چہرے پر ہلکی سی مسکرا ہٹ لیے بس پریزے کو ہی دیکھے جا رہا تھا جہا ں جہا ں پریزے جا تی اس کی نظریں بھی اُس کے ساتھ جا تیں
اردگر د سبھی لو گ ٹو لیو ں کی صور ت میں کھڑے باتیں کر رہے تھے جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ مسکرا تی اس فنگشن میں شامل ہو ئی تھی اوردروازے میں ہی کھڑی ادھر اُدھر آپنی نظریں گھو ما کر پریزے کو تلا ش کرنے لگی پھر ایک دم اس کی نظر کچھ لڑکیوں کے درمیان میں کھڑی پریزے پر پڑتی ہے ۔تو واہیں سے اسے آواز دیتی ہے
کچھ فاصلے کی دوری پر کھڑی پریزے اس آواز پر دیکھنے لگی پریزے اُسے دیکھتے ہی کھل اُٹھی اور خوشی سے مسکراتی ہو ئی اُس کا نام لیتے ہو ئے اُس کی طرف بھگنے لگی پا س آتے ہی دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر جھومنے لگیں۔۔۔
"تو کب آئی "ملتے ہی پریزے نے پہلا سوال یہی کیا
"بس ابھی جب تو اپنی اُس نئی دوست سے کھڑی با تیں کر رہی تھی "ملو ائے گی نہیں اُس نے مسکرا کر کہا
کیو ں نہیں چل "پریزے کہتے ہی اُسے آپنے ساتھ لے جا تی ہے ۔"
آئرہ یہ ہے میری کزن فاکہہ میر ی خالہ کی بیٹی اور اب بہت جلد میر ی بھا بی بھی بنے والی ہےمگر میں تب بھی اسے اس کے نام سے ہی پکارو گی اور فا کہہ یہ ہے آئر ہ ۔۔۔۔کچھ دن پہلے ہی ہما ری ملا قا ت ایک با غ میں ہو ئی تھی پریزے نے آئرہ کا تعاروف کرواتے ہو ئے فاکہہ سے کہا
"ہا ئے ۔۔۔۔کیسی ہیں آپ فاکہہ نے ہا تھ ملا تے ہو ئے پو چھا
"ہا ں اور اتفاق سے ہم ایک ہی یو نی میں پڑتی بھی ہیں "آئرہ نے ہا تھ ملاتے ہو ئے کہا
یہ تو اور بھی اچھا ہو گیا ۔۔۔کیا بات ہے پریزے آج تو تو بہت پیا ری لگ رہی ہے با لکل سیمپل اور ایک دم الگ پیجابی سٹائل میں فاکہہ بات کرتے ہو ئے پریزے کو اُوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتے ہو ئے اُس کی تعریف کرتے ہو ئےبولی تھی ۔۔۔
شکریہ ویسے فاکہہ یہcompaliment مجھے دینے کی بجا ئے تو کسی اور کو بھی جا کر دے سکتی ہے پریزے فاکہہ کے کان کے قریب جا کر مدھم آواز میں اُسے بھی چڑہا نے لگئ ۔۔۔
پریزے ےے۔۔تو بھی نافاکہہ پریزے کا ہا تھ پکڑ کر سامنے کھڑی آئرہ کو دیکھ کر شرماتے ہو ئے چوپ کرواتی ہے اور شرماتے ہو ئے آپنی نظریں نیچے کر لیتی ہے ۔اُس کا چہر ا شرم سے گلا بی ہو نے لگا تھا۔
"پریزے بھا بی تمہیں بو لا رہی ہیں "کشمالہ چچی نے آکر کہا
تم دونو ں با تیں کرو میں ابھی خالہ سے مل کر آئی جا تے ہو ئے پریزے نے کہا
ہمم چل ٹھیک ہے ۔۔۔فاکہہ نے مسکرا تےہو ئے کہا
پریزے کے جاتے ہی فاکہہ اور آئرہ باتو ں میں لگ جا تی ہیں۔
آصمت بیگم ،شاہینہ دونو ں بہنیں باہر با غیچے میں بیٹھیں باتیں کر رہی ہو تی ہیں ۔
اسلام وعلیکم خالہ جان کیسی ہیں آپ اس دفعہ آپ نے آنے میں بہت دیر کردی ۔آ پ کو میر ی یا د نہیں آتی کیاپریزے شاہینا کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہو ئے نارضگی میں بولی
"یہ تم کہا رہی ہو پریزے جو خود تو کبھی میرے پا س آتی نہیں "شاہینا نے کہا
"نہیں نہیں خالہ جان ۔۔۔ایسی کو ئی بات نہیں ہے وہ ۔۔۔۔ اگزم ہو نے والے ہیں نا ں تو بس اسی کی تیا ری میں کب وقت گزار جا تا ہے پتہ ہی نہیں چلتا "پریزے آصمت بیگم کی طرف دیکھتے ہو ئے شاہینا کا ہاتھ آپنے ہا تھ میں لیتے ہو ئے بو لی
وہ باورچی خا نے میں آئی اور کھڑی ادھر اُدھر دیکھ کر چائے کے لئے برتن ڈھو نڈنے لگی پھر شلف کے پا س جا کر جھک کر شلف کے نیچے سے ایک کیبن کھو لا اور اُس میں سے ایک نون سٹیک کا پین نکال کر اُسے چو لہے پر رکھتی پھر فریج کے پا س جا تی فریج کھو ل کر اُس میں سے دودھ کا ایک بو ل نکلا اور فریج کو بند کر کے چولہے کے پا س آکر دودھ کو پین میں ڈالتی اور قریب پڑےلیٹر سے چولہے کو جلا تی اس میں ایک سے تین چمچ چینی کے ڈال کر اسے پکنے کے لئے چھو ڑ دیتی ۔چائے کے بنتے ہی وہ فالیم بند کرتی اور پیچھے والے شلف کے پاس جا کر اُوپر والے کیبن میں سے ایک کیبن کھو لتی اور اُس میں سے کچھ کپ نکال کر شلف پر پڑئی ٹرے میں رکھتی اور اُس میں چائے ڈالنے لگتی کہ اتنے میں وہا ں میڈ آجا تی ہے ۔
تم یہ چائے کی ٹرے باہر لے جا ؤ میں یہ پلیٹس لے کر آتی ہو ں وہ میڈ کے ہا تھ میں چائے کی ٹرے تھماتے ہو ئے بو لی
جی وہ فاکہہ کے ہاتھ سے چائے کی ٹرے لے کر کچن سے باہر چلی جا تی ہے عاصم میڈ کو چائے کی ٹرے ہا تھ میں لیے کچن سے باہر جا تے دیکھ کر مسکرا یا اور اپنے آگے ہا تھ باندھےکچن کے باہر والے دروازے سے ٹیک لگائے آپنی طرف پشت کیے کھڑی شلف سے پلیٹس اُٹھا تی فاکہہ کومسکرائے کھڑے دیکھنے لگا۔۔
دل سے تو ہم پہلے ہی اُن پر مر میٹے تھےپااااااااار۔۔۔اب لگتا ہے آج تواُن کا ہمیں جا ن سے ہی مارنے کا ارادہ ہے عاصم مسکراتابالو ں میں ہا تھ پھیرتا آپنے قدم کچن میں کھڑی فاکہہ کی جانب لیتے ہو ئےبولا اوراُس کے سامنے شلف سے ٹیک لگا ئے آگے ہا تھ باندھے کھڑ ے اُس کی آنکھو ں میں جھنکنے لگا۔۔
سیکھو ہم لڑکیو ں سے کچھ ۔۔۔ہم لڑکیں یہ ہنر بھی جانتی ہیں فاکہہ پلیٹس سے آپنی نظریں ہٹا تی پا س کھڑے عاصم کو دیکھتے ہو ئے کہنے لگئ ۔۔
آج تم بہت اچھی لگ رہی تھی شلف سے ٹیک لگا ئے عاصم فاکہہ کی بات کو نظر انداز کیےاُس کی طرف آپنا روخ کرتے ہو ئے اُس کے نزدیک جاکر اُس کی آنکھو ں کا طوائف کرتے ہو ئے کہنے لگا
بس آج ہی وہ تو پھر میں جا نتی ہو ں کچھ نیا بو لیے فاکہہ اتراتے ہو ئے اُس کی آنکھو ں میں خو د کی تصور دیکھتے ہو ئے بولی تھی۔
پر عاصم اُسی طرح شلف سے ٹیک لگائے آگے ہا کھڑا ہلکا مسا مسکرائے فاکہہ کی آنکھو ں میں ڈوبتے ہو ئے آہستہ آہستہ اُس کے اور قریب آنے لگا
فاکہہ ہا تھ میں پلیٹس اُٹھائے اس کی ان نظروں سے بچنے کے لئے آپنی نظریں جھکا لیتی ہے ۔
عاصم کو وہ شرماتے ہوئے اور بھی اچھی لگنے لگی ۔۔۔
دیکھتے دیکھتے دونو ں ایک دوسرے میں اتنا کھو جا تےکہ آپنی ظاہری دُنیا کو ہی بھو ل جا تےوہ ہو ش کی دنیا میں تب واپس لو ٹے جب اچانک دانیال کچن میں آتا ہے اور ان دونو ں کو دیکھ کر وہ آپنے منہ کے آگے ہا تھ رکھ کر کھانسنے لگا
و۔و۔و۔۔۔۔وہ م م میں عاصم چونک کر جلدی سے شلف سے ٹیک چھو ڑ کر ادھر اُدھر دیکھتے ہو ئے لڑ کھڑاتا ہو ا بولا
وہ وہ کیا بتا ئے نہ عا صم بھا ئی دانیا ل چہڑہانے لگا
ہا ں وہ میں بس یہا ں ایک ہا تھ جیب میں ڈالے دوسرے سے بالو ں میں ہا تھ پھیرتے ہو ئے شرما نے لگا
میں چلتی ہو ں فاکہہ ہا تھ میں پلیٹس اُٹھا ئے شرما تی ہو ئی کچن سے باہر چلی جا تی ہے
ہام ۔۔۔تو پھر کیسا رہا بھائی آج آپ کا کچن ڈیٹ دانیا ل عاصم کے کندھے پر ہا تھ رکھتے ہو ئے دوستنا انداز میں پو چھنے لگا
تو پہلے مجھے یہ بتا یا ۔۔۔آج اتنے سارے مہما نو ں میں ایک میں ہی تجھے نظر رکھنے کے لئے ملا ہو ں عاصم دانیا ل کا ہا تھ آپنے کندے سے پیچھے ہٹاتے ہو ئے بو لا
اتنے سارے مہما نو ں میں شادی بھی تو آپ ہی کی ہو نی ہے بھائی دانیال نے کہا
عاصم شرماتے ہو ئے کچن سے باہر چلا جا تا ہے اور دانیال واہیں کھڑا مسکرانے لگتا ہے۔
*******************
کو مینٹ کر کے بتائیے ۔۔۔کیسی لگئ آپ کو اس ناول کی دوسری قسط ۔۔۔۔لا ئک لا ززززززززززززمی کرے گا ہم تیری محبت میں مر مٹے
تبسم مُبین
Episoda #02
جی نہیں عاصم بھائی آمی جان سب سے زیادہ پیا ر مجھے ہی کر تی ہیں۔۔۔
آپنی ما ں کے پیچھے جا کر اُن کے کندھو ں کو آپنے دونو ں ہاتھوں سے جکڑتے ہو ئے عاصم کی طرف دیکھ کر پیار سے انہیں حگ کرتے ہو ئے بولی تھی ۔
پیچھےتو پھر میں ہی رہ جا تا ہو ں ناں ویسے بھی یہ بات تو سچ ہے کہ چھو ٹے بھا ئی بہن آنے کے بعد بڑے بیٹے سےattentionہٹ ہی جا تی ہے عا صم آپنی طرف اشارہ کرتے ہو ئے عجیب سامنہ بنا کر جلیسی میں بو لا تھا۔
بالکل نہیں۔۔۔ میرے لئے میرے تینو ں بچے ایک جیسے ہیں آصمت بیگم پاس کھڑ ے پریزے دانیال اور عاصم کے چہرو ں پر پیار کرتے مسکراتے انھیں سینے سے لگتے ہو ئے کہنے لگیں تھیں ۔۔سلطان صاحب کی طر ف دانیال کی پشت تھی۔۔
"چلو بھئی اب ہم سے بھی مل لو ۔۔"سلطان صاحب بیٹے کو دیکھ کر کھلتے چہرے سے آپنے با زو ں پھیلا ئے کھڑئے کہنے لگے ۔
دانیال کھلتے چہرے کے ساتھ جا کر سلطان صاحب کے گلے سے جا لگتا ہے آصمت بیگم اور سلطان صاحب سے ملنے کے بعد دانیال آنگن میں موجو دہر افراد سے ملنے لگااور فیضو بابا آپ کیسے ہیں ۔۔"دانیال نےاُس بو ڑھے شخص سے پو چھاتھا جو اس وقت سلطان صاحب کے پیچھے آپنے چہرے پر خوشی کی مسکرا ہٹ لیے احترام میں آگے ہا تھ باندھے کھڑا سب کو ایک ساتھ اکھٹا دیکھ کر خو ش ہو رہا تھا "
ایک دم جو ان ۔۔"اُس بو ڑھے شخص نے اپنے با زو پھیلا کر شارُوخ انداز میں مسکرا تے ہو ئے کہا تو سب اس انداز پر ہنسنے لگے۔۔۔۔"
اس وقت سب ٹی وی لون میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب عاصم کے ساتھ صوفے پر بیٹھی پریزے نے دانیال سے آپنی دی ہو ئی لیسٹ کے مطابق ساری چیزیں لا نے کے بارے میں پو چھا تھا۔
"میر ی بہن جو چیز مانگے اور وہ میں نا ں لاؤ بہلا یہ کس کتاب میں لکھا ہے" دانیال گفٹ کو اپنے پیچھے چھپائے اس کے سامنے والے صوفے سے اُٹھتے ہو ئےمسکرا ئے پریزےکے پا س آتے ہو ئے کہنے لگا
بہت اچھا کیا دانیال جو تم اس کی بتا ئی ہو ئی چیزیں لے کر آگے اگر تم یہ سب نا ں لے کر آئے ہو تے تووہ تم سے کبھی بات نہ کرتی میر ی چوٹکی نا راض نہیں ہو نی چاہیے ۔۔۔"عاصم نے مسکراتے ہوئے سامنے کھڑئے دانیال سے کہا تھا"
کیا بھائی آپ بھی ۔۔۔کیا وہ میر ی کچھ نہیں لگتی یہ میری بھی تو پرنسیسز ہے بھلا میں اس کی کہی چیز یں کیسے بھو ل سکتا ہو ں آپ کو ہمیشہ ایسا کیو ں لگتا ہے ۔۔۔"دانیال نے پریزے کو گفٹ دیتے ہو ئے عاصم کی بات کا جواب دیا"ا
"اچھا اچھا اب بحث مت کر وکھا نا تیا ر ہے چل کے پہلے کھانا کھا لو۔۔" کشما لہ چچی نے ٹی وی لا ن میں داخل ہو تے ہو ئے دانیال وغیرہ سے کہا تھا "
"میں گھر میں سب کی ہی لڈ لی ہو ں "عاصم اور دانیال کے درمیان میں چلتے ڈایئنگ ہا ل کی طرف جا تے ہو ئے پریزےنے اطراتے ہو ئے انداز میں کہا
"ہاں ہا ں ہم سب جا نتے ہیں اب تو اتنا بہا ؤ مت کھا ۔۔"دانیال ڈایننگ ٹیبل کی کرسی کو پیچھے کی طرف گھسیٹتا ہو ا بولاتھا ۔۔۔
آہستہ آہستہ سبھی لو گ کھانے کی میز پر بیٹھتے ہیں اور کھانا شروع کرتے ہیں ۔
کھانا اچھے اور خوشگوار ماحول میں شروع کیا جا تا ہے ۔
کھانے میں کیا بنا ہے ۔۔۔۔خوشبو تو بہت اچھی آرہی ہے لگتا ہے کچھ بہت خا ص بنا ہے ۔۔۔۔وااااااو مٹر قیمہ ۔۔۔یہ تو میرا فیورٹ ہے کس نے بنا یا ہے ۔۔"دانیا ل کرسی پر بیٹھتے ہی آپنے ہا تھو ں کو مسلتے ہو ئے کہتا پھر آپنی کرسی سے تھوڑاسا اُٹھ کر ٹیبل پر پڑے سالن کےبولا کا ڈھکنا اُٹھا کر آگے کی طرف جھک کر اُس میں جھنکتے ہو ئے ایک گہری سانس بھر کر اُس کی خوشبو لیتے ہو ئے کہنے لگا"
دانیال بھائی یہ سارا کھانا کشما لہ چچی نے آپ کے آنے کی خو ش میں خاص آپنے ہا تھو ں سے بنا ہے ۔۔"اس کے ساتھ بیٹھی پرئزے نے کہا ۔۔"
"آئی لو یو ۔۔۔"چچی آج مجھے آپ کے بنائے ہو ئے سالن ۔۔اور۔۔ ہا تھو ں سے پیار ہو گیا ہے ۔۔"دانیال پسند کا سالن بنا ہو ا دیکھ کر جھٹ سے آپنی کرسی کو پیچھے کی طرف گھسیٹتا ہو ااُٹھا اور کشما لہ چچی کے پا س جا کر اُن کے قدمو ں میں بیٹھ کر اُن کے ہاتھوں کو آپنے ہا تھو ںمیں لے کر رومینٹک اندا زمیں کہنے لگا۔۔"
کشما لہ چچی شرمانے لگیں ۔۔۔
پاس بیٹھے سبھی اسے ایسے انداز میں دیکھ کر حیرانی سے ہنسے ۔۔۔
"بس بس اب زیادہ مسکے مت لگا چوپ چاپ کھانا کھا" کشما لہ چچی ہنستے ہو ئے بولی
سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے تھے۔۔۔
"بابا جان میں کیا سوچ رہا ہو ں ۔۔۔"عا صم کھانا کھاتے ہو ئے سلطا ن صاحب کی طرف رُوخ کرتے ہو ئے بولا ۔۔
کیا ۔۔"سلطان صاحب متوجہ ہو تے ہو ئے "
"کیو ں نا ں ہم دانیال کے آنے کی خو شی میں ایک گیٹ ٹو گیدر پا رٹی رکھیں کچھ زیادہ لو گ نہیں ہو ں گے یہی بس گھر کے لو گ ہی ہو ں گئے" عاصم نے کہا
عا صم بیٹا ایسا کرنا اپنی خالہ کو بھی فون کرکے بولا لینا اس طرح اُن کا دانیال سے ملنا بھی ہو جائے گا اور اسی بہانے تمہا ری خا لہ سے مل کرہم تمہا ری اور فا کہہ کی شادی کی تا ریخ بھی طے کر لیں گے ۔۔۔کیو ں بابا ساین سلطان صاحب کیسا رہے گا یہ ۔۔۔"آصمت بیگم نے چائے کی پیالی آپنے منہ کو لگاتے ہو ئے پو چھا"
"نیکی اور پو چ پوچ ایک دم ٹھیک کہا تم نے آصمت بہو "احترام والی کرسی پر بیٹھے سرتاج صاحب نے خو شی سے کہا
"اور اسی طرح ایک وقت میں ایک ساتھ دو کام بھی ہو جا یئں گئے"سلطان صاحب خو شی سے بو لے "
"اوے ہو ے دانیال بھائی چہرہ تو دیکھے ذار عاصم بھا ئی کا ۔۔۔فا کہہ کا نام سنتے ہی کیسے کھل اُٹھا ہے شرم کے مارے گال تو کیا دانت بھی کیسے لال ٹماٹر کی طرح ہو گے ہیں ۔۔۔۔۔
پریزے اور دانیال جو کھانے کی میز پر عاصم کے دائیں بائیں والی کرسی پر بیٹھے تھے بڑے بھائی کی شادی کا سنتے ہی اُسے چیڑہانے لگتے ہیں ۔
عا صم بھا ئی ۔۔۔۔فو ن کرکے۔۔۔ ذار پو چھے تو صیححی فا کہہ بھا بھی تو آرہی ہیں یا پھر اُ ن کے بن ن ن ہی "دانیال کھانا کھاتے ہو ئے پریزے کی بات پر پہلے ہلکا سا مسکرا یا پھر عا صم کے کان کے قریب ہو کر مدھم آواز میں سرگو شی میں کہنے لگا
"کیا یا ر دانیال آرام سے کھانا تو کھانے دے" عاصم چیڑتے ہو ئے آپنے دونو ں سایڈوں پر دیکھتے ہو ئے بو لا ۔۔۔
"کھائے کھائے بھائی کھانے سے منع کون کر رہا ہے۔۔۔ اگر آپ کہا ں تو میں اپنے ہاتھو ں سے آپ کو کھلا دو ں "دانیال کرسی سے اُٹھ کر عاصم کے پیچھے سے کا ن کے قریب آکر چیڑ ہا تے ہو ئے پھر مستی میں بو لا
روک تو ایسے باز نہیں آئے گا میں ابھی تجھے بتا تا ہو ں عاصم چیڑتے ہو ئے ٹیبل پر آپنے دونو ں ہا تھوں کے زور پر کرسی سےاُٹھا کردانیال کے پیچھے اُسے مارنے کے لئے بھگتا ہےبچو ں کی ہسی ٹیٹولی دیکھ کر کھانے کی میز پر بیٹھے سب بڑے ہنسنے لگتے ہیں ۔
میں ابھی شاہینا کو فو ن کر کے آتی ہو ں ۔۔۔فیضو بابا آپ یہا ں کا دیکھ لیں ۔۔"آصمت بیگم بھی میز سے اُٹھتے ہو ئے بو لی"
رات ہو تے ہی سب مہمان آنا شروع ہوجا تے ہیں پو رے با غیچے کوبڑے عالیشان طریقے سے سجا یا گیا تھا اتنی بڑی حویلی میں رنقوں کا سماں تھا عاصم آپنی نظر یں فاکہہ کے انتظا ر میں لگا ئے سجاوٹ میں مصروف تھا کہ اس کے پیچھے کھڑے پریزے اور دانیال نے جب عاصم کو یو ں دیکھا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا نے لگے پھر ایک دوسرے کو سر سے اُس کے پا س جا نے کا اشار کرتے ہو ئے اُس کی دونو ں سایڈوں پر آکر کھڑے ہوتے ہو ئے کہنے لگے ۔۔۔
"ہمم۔۔۔ تو لگتا ہے کوئی پلکے بچھائے کسی خاآآآص مہمان کے آنے کا انتظار کر رہا ہے"دانیا ل گھوما کر عاصم کے کندھے پر آپنی باو ز رکھتے ہو ئےکھنچتےالفاظوں کے ساتھ سامنے دیکھتے اُنہیں تنگ کرتے ہو ئے کہنے لگا
"دانیال بھائی ۔۔۔مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے عاصم بھائی آپ کہیں تو فون کر کے پو چھوں ۔۔۔کہاں رہ گئ "دوسری طرف سےپریزے عاصم کی بازو میں آپنی بازو ڈالتے تنگ کرتے ہو ئے بولی
"تم لوگ اپنی حرکتو ں سے باز آ جا ؤ ورنہ میں "عاصم آپنے دونو ں سایڈیو ں پر کھڑ ئے ان دونو ں کی طرف چیڑتے چہرے سے دیکھتے ہو ئے کہنے لگا
"ورنہ کیا "دانیال آپنی مستی میں مسکرا ئے آپنی بھنو یں اُچکا کر پو چھنے لگا۔۔
پریزے "پیچھے سے آواز آئی۔۔۔ "
"آئی آمی جان "پریزے نے پیچھے گردن گھو ما کر آواز لگا تے ہو ئے کہا
"جی آمی جان "آصمت بیگم اورکشمالہ چچی کچھ عورتو ں کے ساتھ ایک سایڈ پر کھڑئیں مسکرا کر باتیں کر رہی تھیں جب پریزے ان کے پا س آکر بولی
"یہ میری بیٹی پریزے" آصمت بیگم نے پا س کھڑی کچھ عورتو ں سے پرئزے کو ملواتے ہو ئےکہا
"اور ہم سب کی لا ڈ لی ہمارے گھر کی رونک "ساتھ کھڑی کشمالہ چچی نے خوشی سےکہا
آئرہ اپنے بھائی اور والدین کے ساتھ پریزے کے گھر دعوت پر آتی ہے ۔۔۔
"ہائے پریزے" آصمت بیگم اور کشما لہ چچی سے باتیں کرتی پریزے کی نظرجب لو گو ں کے ہجو م آپنی فیملی کے ساتھ ہا تھ ہلا تی آئرہ پر پڑ ی تو مسکرا ئے اُس کی طرف ہو لی ۔۔
"آمی جان میں ابھی آئی "پریزے آئرہ کو دیکھ کر کہتے ہو ئے اُس کے پا س آئی
"ہا ئے اسلام وعلیکم آنٹی اسلام وعلیکم آنکل کیسے ہیں آپ لو گ "پریزے نے مسکرا تے ہو ئے پو چھا
"ہم بالکل ٹھیک ہیں تم بتا ؤبیٹا تم کیسی ہو "سلمی بیگم نے مسکرا تے ہو ئے پو چھا
سلمی آئر ہ کی والدہ کا نام ہے جو دیکھنے میں کافی موڈرن ہیں ۔۔۔۔
"الحمدو اللہ ۔۔۔آنٹی میں بالکل ٹھیک آپ لو گ کھڑے کیو ں ہیں آئے نا پلیزبیٹھے "پریزے مسکرا ئے آپنی دوست آئرہ کی فیملی کو بیٹھنے کا کہتی ہے کہ سلمی کے پا س کھڑا ایک لڑکا جو بنا آپنی پلیکیں جھپکے چہرے پر ہلکی سی مسکرا ہٹ لیے بس پریزے کو ہی دیکھے جا رہا تھا جہا ں جہا ں پریزے جا تی اس کی نظریں بھی اُس کے ساتھ جا تیں
اردگر د سبھی لو گ ٹو لیو ں کی صور ت میں کھڑے باتیں کر رہے تھے جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ مسکرا تی اس فنگشن میں شامل ہو ئی تھی اوردروازے میں ہی کھڑی ادھر اُدھر آپنی نظریں گھو ما کر پریزے کو تلا ش کرنے لگی پھر ایک دم اس کی نظر کچھ لڑکیوں کے درمیان میں کھڑی پریزے پر پڑتی ہے ۔تو واہیں سے اسے آواز دیتی ہے
کچھ فاصلے کی دوری پر کھڑی پریزے اس آواز پر دیکھنے لگی پریزے اُسے دیکھتے ہی کھل اُٹھی اور خوشی سے مسکراتی ہو ئی اُس کا نام لیتے ہو ئے اُس کی طرف بھگنے لگی پا س آتے ہی دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر جھومنے لگیں۔۔۔
"تو کب آئی "ملتے ہی پریزے نے پہلا سوال یہی کیا
"بس ابھی جب تو اپنی اُس نئی دوست سے کھڑی با تیں کر رہی تھی "ملو ائے گی نہیں اُس نے مسکرا کر کہا
کیو ں نہیں چل "پریزے کہتے ہی اُسے آپنے ساتھ لے جا تی ہے ۔"
آئرہ یہ ہے میری کزن فاکہہ میر ی خالہ کی بیٹی اور اب بہت جلد میر ی بھا بی بھی بنے والی ہےمگر میں تب بھی اسے اس کے نام سے ہی پکارو گی اور فا کہہ یہ ہے آئر ہ ۔۔۔۔کچھ دن پہلے ہی ہما ری ملا قا ت ایک با غ میں ہو ئی تھی پریزے نے آئرہ کا تعاروف کرواتے ہو ئے فاکہہ سے کہا
"ہا ئے ۔۔۔۔کیسی ہیں آپ فاکہہ نے ہا تھ ملا تے ہو ئے پو چھا
"ہا ں اور اتفاق سے ہم ایک ہی یو نی میں پڑتی بھی ہیں "آئرہ نے ہا تھ ملاتے ہو ئے کہا
یہ تو اور بھی اچھا ہو گیا ۔۔۔کیا بات ہے پریزے آج تو تو بہت پیا ری لگ رہی ہے با لکل سیمپل اور ایک دم الگ پیجابی سٹائل میں فاکہہ بات کرتے ہو ئے پریزے کو اُوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتے ہو ئے اُس کی تعریف کرتے ہو ئےبولی تھی ۔۔۔
شکریہ ویسے فاکہہ یہcompaliment مجھے دینے کی بجا ئے تو کسی اور کو بھی جا کر دے سکتی ہے پریزے فاکہہ کے کان کے قریب جا کر مدھم آواز میں اُسے بھی چڑہا نے لگئ ۔۔۔
پریزے ےے۔۔تو بھی نافاکہہ پریزے کا ہا تھ پکڑ کر سامنے کھڑی آئرہ کو دیکھ کر شرماتے ہو ئے چوپ کرواتی ہے اور شرماتے ہو ئے آپنی نظریں نیچے کر لیتی ہے ۔اُس کا چہر ا شرم سے گلا بی ہو نے لگا تھا۔
"پریزے بھا بی تمہیں بو لا رہی ہیں "کشمالہ چچی نے آکر کہا
تم دونو ں با تیں کرو میں ابھی خالہ سے مل کر آئی جا تے ہو ئے پریزے نے کہا
ہمم چل ٹھیک ہے ۔۔۔فاکہہ نے مسکرا تےہو ئے کہا
پریزے کے جاتے ہی فاکہہ اور آئرہ باتو ں میں لگ جا تی ہیں۔
آصمت بیگم ،شاہینہ دونو ں بہنیں باہر با غیچے میں بیٹھیں باتیں کر رہی ہو تی ہیں ۔
اسلام وعلیکم خالہ جان کیسی ہیں آپ اس دفعہ آپ نے آنے میں بہت دیر کردی ۔آ پ کو میر ی یا د نہیں آتی کیاپریزے شاہینا کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہو ئے نارضگی میں بولی
"یہ تم کہا رہی ہو پریزے جو خود تو کبھی میرے پا س آتی نہیں "شاہینا نے کہا
"نہیں نہیں خالہ جان ۔۔۔ایسی کو ئی بات نہیں ہے وہ ۔۔۔۔ اگزم ہو نے والے ہیں نا ں تو بس اسی کی تیا ری میں کب وقت گزار جا تا ہے پتہ ہی نہیں چلتا "پریزے آصمت بیگم کی طرف دیکھتے ہو ئے شاہینا کا ہاتھ آپنے ہا تھ میں لیتے ہو ئے بو لی
وہ باورچی خا نے میں آئی اور کھڑی ادھر اُدھر دیکھ کر چائے کے لئے برتن ڈھو نڈنے لگی پھر شلف کے پا س جا کر جھک کر شلف کے نیچے سے ایک کیبن کھو لا اور اُس میں سے ایک نون سٹیک کا پین نکال کر اُسے چو لہے پر رکھتی پھر فریج کے پا س جا تی فریج کھو ل کر اُس میں سے دودھ کا ایک بو ل نکلا اور فریج کو بند کر کے چولہے کے پا س آکر دودھ کو پین میں ڈالتی اور قریب پڑےلیٹر سے چولہے کو جلا تی اس میں ایک سے تین چمچ چینی کے ڈال کر اسے پکنے کے لئے چھو ڑ دیتی ۔چائے کے بنتے ہی وہ فالیم بند کرتی اور پیچھے والے شلف کے پاس جا کر اُوپر والے کیبن میں سے ایک کیبن کھو لتی اور اُس میں سے کچھ کپ نکال کر شلف پر پڑئی ٹرے میں رکھتی اور اُس میں چائے ڈالنے لگتی کہ اتنے میں وہا ں میڈ آجا تی ہے ۔
تم یہ چائے کی ٹرے باہر لے جا ؤ میں یہ پلیٹس لے کر آتی ہو ں وہ میڈ کے ہا تھ میں چائے کی ٹرے تھماتے ہو ئے بو لی
جی وہ فاکہہ کے ہاتھ سے چائے کی ٹرے لے کر کچن سے باہر چلی جا تی ہے عاصم میڈ کو چائے کی ٹرے ہا تھ میں لیے کچن سے باہر جا تے دیکھ کر مسکرا یا اور اپنے آگے ہا تھ باندھےکچن کے باہر والے دروازے سے ٹیک لگائے آپنی طرف پشت کیے کھڑی شلف سے پلیٹس اُٹھا تی فاکہہ کومسکرائے کھڑے دیکھنے لگا۔۔
دل سے تو ہم پہلے ہی اُن پر مر میٹے تھےپااااااااار۔۔۔اب لگتا ہے آج تواُن کا ہمیں جا ن سے ہی مارنے کا ارادہ ہے عاصم مسکراتابالو ں میں ہا تھ پھیرتا آپنے قدم کچن میں کھڑی فاکہہ کی جانب لیتے ہو ئےبولا اوراُس کے سامنے شلف سے ٹیک لگا ئے آگے ہا تھ باندھے کھڑ ے اُس کی آنکھو ں میں جھنکنے لگا۔۔
سیکھو ہم لڑکیو ں سے کچھ ۔۔۔ہم لڑکیں یہ ہنر بھی جانتی ہیں فاکہہ پلیٹس سے آپنی نظریں ہٹا تی پا س کھڑے عاصم کو دیکھتے ہو ئے کہنے لگئ ۔۔
آج تم بہت اچھی لگ رہی تھی شلف سے ٹیک لگا ئے عاصم فاکہہ کی بات کو نظر انداز کیےاُس کی طرف آپنا روخ کرتے ہو ئے اُس کے نزدیک جاکر اُس کی آنکھو ں کا طوائف کرتے ہو ئے کہنے لگا
بس آج ہی وہ تو پھر میں جا نتی ہو ں کچھ نیا بو لیے فاکہہ اتراتے ہو ئے اُس کی آنکھو ں میں خو د کی تصور دیکھتے ہو ئے بولی تھی۔
پر عاصم اُسی طرح شلف سے ٹیک لگائے آگے ہا کھڑا ہلکا مسا مسکرائے فاکہہ کی آنکھو ں میں ڈوبتے ہو ئے آہستہ آہستہ اُس کے اور قریب آنے لگا
فاکہہ ہا تھ میں پلیٹس اُٹھائے اس کی ان نظروں سے بچنے کے لئے آپنی نظریں جھکا لیتی ہے ۔
عاصم کو وہ شرماتے ہوئے اور بھی اچھی لگنے لگی ۔۔۔
دیکھتے دیکھتے دونو ں ایک دوسرے میں اتنا کھو جا تےکہ آپنی ظاہری دُنیا کو ہی بھو ل جا تےوہ ہو ش کی دنیا میں تب واپس لو ٹے جب اچانک دانیال کچن میں آتا ہے اور ان دونو ں کو دیکھ کر وہ آپنے منہ کے آگے ہا تھ رکھ کر کھانسنے لگا
و۔و۔و۔۔۔۔وہ م م میں عاصم چونک کر جلدی سے شلف سے ٹیک چھو ڑ کر ادھر اُدھر دیکھتے ہو ئے لڑ کھڑاتا ہو ا بولا
وہ وہ کیا بتا ئے نہ عا صم بھا ئی دانیا ل چہڑہانے لگا
ہا ں وہ میں بس یہا ں ایک ہا تھ جیب میں ڈالے دوسرے سے بالو ں میں ہا تھ پھیرتے ہو ئے شرما نے لگا
میں چلتی ہو ں فاکہہ ہا تھ میں پلیٹس اُٹھا ئے شرما تی ہو ئی کچن سے باہر چلی جا تی ہے
ہام ۔۔۔تو پھر کیسا رہا بھائی آج آپ کا کچن ڈیٹ دانیا ل عاصم کے کندھے پر ہا تھ رکھتے ہو ئے دوستنا انداز میں پو چھنے لگا
تو پہلے مجھے یہ بتا یا ۔۔۔آج اتنے سارے مہما نو ں میں ایک میں ہی تجھے نظر رکھنے کے لئے ملا ہو ں عاصم دانیا ل کا ہا تھ آپنے کندے سے پیچھے ہٹاتے ہو ئے بو لا
اتنے سارے مہما نو ں میں شادی بھی تو آپ ہی کی ہو نی ہے بھائی دانیال نے کہا
عاصم شرماتے ہو ئے کچن سے باہر چلا جا تا ہے اور دانیال واہیں کھڑا مسکرانے لگتا ہے۔
*******************
کو مینٹ کر کے بتا ئیے کیسی لگئی آپ کو میرے ناول کی دوسری قسط ۔۔میں اُمید کرتی ہو ں آپ کو پسند آئی ہو گئ لا ئک لاززززززززززمی کرئیے گا

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sialkot?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Culinary Team

Attire

Website

Address

Sialkot
54500