Mian Amir
kabi juoot last bolo
22/05/2026
کچے کے ڈاکوؤں کے قبضے میں صرف یہ 11 سال کی بچی نہیں بلکہ ہم سب قید ہیں۔
اس کی ماں کی باتیں سننے کے بعد تو پاوں تلے سے زمین کھسک گئی ۔
سوال اٹھ رہے ہیں کہ ہماری حکومت ' ہمارے مشران اور ہم سب کیا کر رہے ہیں ؟
کیا یہ ڈاکو سندھ حکومت سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ؟
#شبیربونیری
*حدیث نمبر 107*
1. _سند مختصر_
راوی: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ
محدثین: امام ابن ماجہ، امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
*حوالہ:* سنن ابن ماجہ 4102، سنن الترمذی 2313، امام البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
2. _عربی متن بمع اعراب_
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ.
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ".
3. _اردو ترجمہ_
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی رہنمائی فرمائیے کہ اگر میں وہ کروں تو اللہ مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دنیا کی محبت سے بے رغبتی، لاپرواہی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس جو کچھ (مال و دولت، منصب، عہدہ، شہرت) ہے اس سے بے رغبتی، لاپرواہی، غفلت اختیار کرو، لوگ تم سے محبت کریں گے"۔
4. _تشریح_
اس حدیث میں دو طرح کی "زُہد" کا ذکر ہے:
1. *زُہد فی الدنیا*: دل کو دنیا کی محبت، مال و دولت کی محبت، شہرت، منصب، عہدوں کی محبت، کوٹھیوں، بنگلوں، قیمتی گاڑیوں، قیمتی کپڑوں کی محبت، شہرت اور لذات سے خالی کرنا۔ جس کا دل دنیا سے وابستہ نہ ہو، اللہ اسے دوست بنا لیتا ہے کیونکہ وہ بندہ صرف اللہ کی رضا کا طلبگار ہوتا ہے۔
2. *زُہد فیما عند الناس*: لوگوں کے مال و دولت، لوگوں کی قیمتی گاڑیوں، قیمتی کپڑوں، قیمتی کھانے پینے، قیمتی گھروں، بنگلوں، کوٹھیوں، عالی شان عمارتوں اور بلڈنگ پر نظر نہ رکھنا، اس کی حرص و لالچ و طمع نہ کرنا، مال و دولت کی غرض سے لوگوں سے تعلقات مت بنانا، لوگوں کے عہدوں، منصب، شہرت، نعمتوں پر نظر نہ رکھنا، نہ ان سے حرص و طمع و لالچ رکھنا۔ جب انسان دوسروں کے مال و مرتبے کی لالچ چھوڑ دیتا ہے تو لوگ بھی اس سے بے غرض ہو کر محبت کرنے لگتے ہیں۔ کوئی طمع والا شخص عام طور پر لوگوں کو ناپسند ہوتا ہے۔
*خلاصہ*: حقیقی عزت اور محبت کا راز دل کی بے نیازی میں ہے۔ جب بندہ مخلوق سے بے نیاز ہو کر خالق سے جڑ جاتا ہے، تو خالق بھی اسے محبوب بنا دیتا ہے اور مخلوق کے دل بھی اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
---
_آیت کا اضافہ:_
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ*
_سورۃ طٰہٰ، آیت 131_
*ترجمہ:*
اور تم ہرگز اپنی آنکھیں نہ اٹھا کر دیکھو اس طرف جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھا ہے، تاکہ ہم انہیں اس میں آزمائیں، اور تمہارے رب کا دیا ہوا رزق بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔
*تشریح:*
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور امت کو دنیا داروں ، سرمایہ داروں ، مالداروں کی ظاہری شان و شوکت پر حسرت بھری نظر ڈالنے سے اور حرص ولالچ وطمع سےمنع فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ سب آزمائش ہے اور فانی ہے۔ مومن کا مطمع نظر آخرت کا رزق ہونا چاہیے جو دائمی ہے۔ یہی مضمون حدیث کے "ازهد فيما عند الناس" کی تائید کرتا ہے۔
---
_تنبیہ:_
*وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ* [العادیات: 8]
یعنی انسان مال کی محبت میں سخت ہے۔
مال کی محبت اور مال کی حرص و لالچ منع ہے، اور مال میں اتنی مشغولیت و مصروفیت منع ہے جو ہمیں آخرت کی تیاری سے اور نیک اعمال سے غافل کر دیں۔
*1. سورۃ التکاثر، آیات 1-2*
*أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ*
*ترجمہ:*
کثرت کی طلب نے تمہیں غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبریں جا پہنچے۔
*تشریح:*
دنیا کا مال، اولاد، منصب، شہرت بڑھانے کی دوڑ میں انسان اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ موت آ جاتی ہے اور وہ آخرت کی تیاری سے غافل رہ جاتا ہے۔ یہ آیت دنیا کی محبت میں حد سے بڑھنے سے خبردار کرتی ہے۔
*2. سورۃ المنافقون، آیت 9*
*يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ*
*ترجمہ:*
اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جو ایسا کرے گا وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
*تشریح:*
مال اور اولاد نعمت بھی ہیں اور آزمائش بھی۔ اگر یہ اللہ کی یاد، نماز، زکوٰۃ، اور نیک اعمال سے روک دیں تو یہی چیزیں خسارے کا سبب بن جاتی ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے بھی دل اللہ سے جڑا رہے۔
لیکن مال و دولت کے حصول کے لیے ذاتی طور پر، از خود محنت و کوشش کرنا، حلال رزق کمانا، حلال رزق و حلال مال و دولت کے لیے خود کوشش کرنا، پیشہ اختیار کرنا، تجارت و کاروبار کرنا، ملازمت کرنا، مزدوری کرنا، رزقِ حلال کے حصول کے لیے کوئی بھی حلال ذریعہ معاش اختیار کرنا فرض ہے۔
صرف مال و دولت کی حرص و لالچ و طمع منع ہے، مذموم ہے، مال و دولت کی محبت منع ہے۔
مال و دولت کو چالاکی، چالبازی، دجل و فریب، دھوکہ، خیانت، جھوٹ، چوری سے حاصل کرنا حرام و ناجائز ہے۔
10/05/2026
نــــــن ئـــــی بـــل جـــانـــان شـــھیــد کــوو😭😭
8/4/2026 بـروز جـمــعــۃ المـبارک
😢😢شـــ۔۔۔۔ ھـــ۔۔ یـ۔۔۔ ــد مولانا عبد الخالق دومڑ صاب😢
24/04/2026
💑 *ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا، تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نے اسے ایک بیٹا دیا، اور وہ اپنی زندگی اسی بیٹے کے ساتھ گزارے گا*
جیسے ہی بیٹا بڑا ہوا، اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کے سپرد کر دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا کسی دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا
بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے گھر کا مکمل انتظام اپنی بہو کے سپرد کر دیا۔
بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا دفتر سے آیا۔ وہ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے
کھانا کھانے کے بعد والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا
حیرت انگیز خبر:
کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!" والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟"
بیٹے نے جواب دیا، "بابا، میں آپ کے لیے اپنی ماں کو واپس نہیں لا رہا، نہ ہی اپنی بیوی کے لیے ایک ساس۔ میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا، تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔"
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین ہمارے لیے اے ٹی ایم کارڈز نہیں بلکہ اصل میں ہمارے دلوں کی دولت ہیں۔ وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ ہم ان کی خدمت اور احترام کے ذریعے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دنیا کے تمام والدین کو زندہ باد! ہر گھر میں ایسے مثالی رویے اپنائے جانے چاہئیں
21/11/2022
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️
17/11/2022
.
06/11/2022
صرف ایک رات کرتے ہی ناممکن حاجت بھی ممکن ہوجائے گی کُن فَیَکُون کا وظیفہ حضور ﷺ نے فرمایا ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن پاک کا دل سورہ یاسین ہے ۔احادیث میں سورہ یاسین کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں اور اسی سورت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کرن....
05/11/2022
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ;حدیث سے ثابت ہے، جیسے کہ اہل علم نے اسے ذکر کیا ہے۔ چنانچہ ابان بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرم...
05/11/2022
اے اللہ مجھے دین کی سمجھ عطا فرما گہری سمجھ عطا کر دیتا ہے- مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ اللہ تعاليٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی گہری سمجھ عطا کر دیتا ہے ....
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Swat
