HafizKashif
ہمارا دواخانہ قیام پاکستان سے پہلے سے مصروف خدمت ہیں ۔?
نامردی اور مردانہ کمزوری کا طریقہ علاج
طریقہ علاج میں سب سے پہلا مرحلہ بیماری کی وجہ کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے تجربے کے متابق ستر فیصد مسلئہ دماغی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی اور بیماری کی وجہ سے کمزوری ہے تو اس بیماری کا علاج کیا جاتا ہے نا کہ مردانہ کمزوری کا۔ اگر کسی دوائی کی وجہ سے مسلئہ ہے تو اس کا بھی تعین کیا جاتا ہے-
اس سب مرحلے سے گزرنے کے بعد عمر اور باقی چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے دوائ
کیا آپ جانتے ہیں کے مردانہ امراض کی دوائی کھانے سے آپ کو مکمل آرام کیوں نہیں آتا۔ دوائی کا اثر کچھ عرصے بعد کیوں ختم ہو جاتا ہے۔ مزید معلومات لے لیے مکمل وڈیو دیکھیں۔ مزید رہنمائی کے لیے 0322-6675350 پر کال کریں۔ یا ہماری ویب سائیٹ وذٹ کریںwww.hakeemkashif.com
سن1920میں قیام عمل میں آنے والا دواخانہ جو کہ ابتک ہزاروں اندرون اور بیرونملک مریضوں کے لیے شفا کا سبب بن چکا ہے Call/whatsapp 03226675350
05/12/2020
05/12/2020
اعصابی کمزوری، مردانہ کمزوری، شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا، لیکوریا۔ بے اولادی، معدہ کے جملہ مسائل،جگر کے امراض، دماغی کمزوری، نیند کا نا آنا یا کم آنا، سستی کاہلی،جریان، بے چینی افسردگی وغیرہ کے مستقل اور بے ضرر علاج اور نسخہ جات حاصل کرنے کے لیے
03/12/2020
جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ دیسی ادویات آج بھی سب سے زیادہ کارگر ہیں ۔بشرطیکہ کوئی مستند اچھا اور خاندانی حکیم مل جائے جو کہ عمدہ جڑی بوٹیوں سے دوائیاں تیار کرے۔ اور اپنے مریض کے ساتھ شفقت محبت اور احترام کے ساتھ پیش آئے ۔نہ کہ صرف مریض کی جیب کی طرف ہی دھیان ہو ۔
اس گہما گہمی کے دور میں اشتہاری حکیموں کے مقابلے میں سچے پکے اور اعلی ظرف حکیم آٹے میں نمک کے برابر ہی رہ گئے ہیں ۔جیسا کہ اوپر میں نے آپ کو بتایا کہ ہمارا دواخانہ انیس سو بیس میں دادا جان نے شروع کیا اس کے بعد میرے والد صاحب نے اور اب میں اور میرے والد صاحب ملکر اس دوا خانے کو چلا رہے ہیں ۔
تقریبا سو سال کے عرصے میں ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہمیں اپنے نسخے پر مکمل یقین ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ بیرون ملک سے بھی ہم سے دوائی لیتے ہیں ۔
اس سو سال کے عرصے میں سب سے زیادہ جن مریضوں سے واسطہ پڑا وہ مردانہ کمزوری کا شکار تھے ۔ہر دس میں سے سات افراد اسی بیماری کا شکار ہیں ۔کچھ کوتو یہ بیماری ہوتی ہی نہیں لیکن ماشاءاللہ پاکستانی حکیموں کے کیا کہنے کے اپنی اشتہاری مہم سے وہ ہر مرد کے ذہن میں یہی بات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ نا مرد ہو تم ہم سے علاج کروا لو ورنہ تمہاری زندگی تباہ ہو جائے گی ۔
اور جب یہ بات ایک دفعہ ذہن میں بیٹھ جاتی ہے تو ایک تندرست انسان بھی مریض بن جاتا ہے ہمارے اشتہاری حکیم مریض کو ڈر اور خوف کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔
میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب پاکستان کی دیواروں پر اور خاص کر یوٹیوب پر عجیب و غریب قسم کے نسخے اور تھمب نیل دیکھتا ہوں ۔
جن کی عبارت اتنی بے ہودہ ہوتی ہے اور اتنی عجیب کے بندہ خود شرما جاتا ہے ۔
بہرحال اس گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ خدارا خود کو مریض سمجھنا چھوڑ دیں اور ساتھ ہی ساتھ ان اشتہاری حکیموں کو بھی جن کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا ہے ۔اگر آپ بیمار ہے تو حوصلہ رکھیں اور اطمینان کے ساتھ کسی اچھے حکیم سے علاج کروائیں ۔
اوپر بیان کئے گئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے سوچا کہ لوگوں کی صحیح انداز میں رہنمائی کی جائے ۔جو اصل میں مریض ہے ان کا بہترین انداز میں علاج کیا جائے اور جو خود ساختہ مریض ہے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو حتی الامکان دوائیوں سے بچنے کا مشورہ دیا جائے ۔
میں سچ بتاؤ تو مردانہ کمزوری اصل میں کوئی بیماری ہی نہیں ہے یہ صرف مختلف عوامل کا مجموعہ ہے ۔جس سے مرد اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتا ہے ۔میری یہ بات آپ کو عجیب لگی ہوگی خاص کر ان کو جن کو مایوسی والے اشتہار پڑھنے کی عادت ہو چکی ہے ۔
الحمداللہ ہم ایسے مریضوں کا بھی کامیابی سے علاج کر چکے ہیں جو کہ شادی کے پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کر پائے تھے ۔ایسے مریضوں کا علاج کرنا سچ میں ایسا لگتا ہے کہ ہماری وجہ سے کسی کو نئی زندگی مل گئی ہو ۔
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی طرح سے بھی مردانہ کمزوری کا شکار ہے تو آج سے اس بیماری کو بھول جائیں ہمیں خدا پر مکمل یقین ہے اور اپنی دوا پر مکمل بھروسہ ہے جو ہم نے انتہائی محنت اور خالص جڑی بوٹیوں سے تیار کی ہے ۔شرط یہ ہے کہ مریض جلد باز نہ ہو کہ یہ سوچے کہ میں آج دوائی کھاؤ اور بس ٹھیک ہو جاؤ ۔
ہمارے تمام نسخہ جات انتہائی قیمتی اور علاج جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ہے
ہماری تیار کی ہوئی دوائی سے آپ کو پانچ سے دس دن کے اندر ہی تبدیلی محسوس ہونا شروع ہو جائے گی لیکن کم سے کم ایک مہینہ دوائی ضرور استعمال کریں ۔اور مکمل اور دیرپا علاج کے لیے تین ماہ تک استعمال کریں ۔۔
28/11/2020
28/11/2020
سن1920میں قیام عمل میں آنے والا دواخانہ جو کہ اب تک ہزاروں اندرون اور بیرون ملک مریضوں کے لیے شفا کا سبب بن چکا ہے۔
23/11/2020
بلڈ پریشر کیا ہے؟
یہ وہ قوت ہے جو آپ کے خون کو پورے جسم میں رواں دواں رکھتی ہے اور اس طرح جسم کے تمام خلیات (سیلز) کو غذا اور اوکسیجن فراہم کرتی ہے۔ یہ قوت آپ کے قلب کے پمپ کرنے کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ تمام انسانوں کا بلڈ پریشر بھی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ آپ پر جب بھی ذہنی یا جسمانی دباؤ بڑھتا ہے تو خون کے دباؤ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
جوش و خروش اور ورزش سے بھی یہ بڑھ جاتا ہے۔ آپ جب آرام کی حالت میں ہوتے ہیں یا نیند آجاتی ہے تو یہ کم ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات آپ کا بلڈ پریشر آپ کی عمر کے لحاظ سے اپنی معمول کی سطح پر رہتا ہے۔ عام طور پر عمر جتنی کم ہوتی ہے،بلڈ پریشر بھی اتنا ہی کم ہونا چاہیے۔
جب آپ کا بلڈ پریشر بلند ہو کر ہر وقت بڑھتا رہتا ہے تو اسے ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) یا ہائپر ٹینشن (بیش طنابی) کہتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟
اس کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ دس فیصد صورتوں میں یہ کسی اندرونی مرض،جیسے گردے کی تکلیف و مرض کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تین باتوں کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے:
(1)جب پانی اور نمک کی کثرت سے خون کی مقدار یا حجم بڑھ جاتا ہے۔
(2)جب قلب سے جسم کے تمام حصوں کو خون لے جانے والی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں۔
(3)جب قلب بہت تیزی اور سختی سے خون پمپ کرتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کی فکر کیوں کی جائے یہ محسوس تو ہوتا نہیں
آپ اسے محسوس نہ کرتے ہوں،مگر اس کی وجہ سے جسم کے اعضاء کو اندر ہی اندر دھیرے دھیرے نقصان پہنچتا رہتا ہے،اس لئے ہائی بلڈ پریشر کو ”خاموش قاتل“ کہتے ہیں۔ اسے قابو میں نہ لایا جائے تو سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
پیچیدگیاں
ہائی بلڈ پریشر سے شریانیں سخت ہونے لگتی ہیں۔ ان کے اندر کی دیواروں یا استر پر چربیلے اجزاء کے جمع ہونے سے ان میں سختی آتی جاتی ہے۔ ذیل میں دئیے گئے اسباب ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔
موروثی اثرات
مشاہدات سے اندازہ ہوتا ہے کہ موروثی اثرات اس کا سبب ہوتے ہیں۔
اگر والدین،بھائی یا بہن کو ہائی بلڈ پریشر ہو تو آپ بھی اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
زیادہ نمک کھانا
نمک میں شامل سوڈیئم خون میں پانی زیادہ جمع کرکے خون کے حجم میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اس سے کئی لوگ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلاہو جاتے ہیں۔
زیادہ وزن
آپ موٹے ہوں گے تو چلنے پھرنے کے دوران قلب کو زیادہ زور لگانا پڑے گا۔
زیادہ چربی آپ کی شریانوں کے اندر جم کر انھیں سخت اور تنگ کر دے گی۔
زیادہ ذہنی دباؤ
غصے،جوش اور ذہنی دباؤ کی حالت میں بلڈ پریشر وقتی طور پر بڑھ جاتا ہے،اس لئے روزانہ ان کیفیات سے دو چار افراد رفتہ رفتہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض بن سکتے ہیں۔
کیا میں ہائی بلڈ پریشر میں مبتلاہوں؟
چونکہ اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں،اس لئے اس کا کھوج چیک کرکے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
بلڈ پریشر کا ٹیسٹ آسان بھی ہے اور بغیر کسی تکلیف اور دشواری کے یہ ٹیسٹ بہت جلد ہو جاتا ہے۔ اوپر کا بلڈ پریشر (انقباضی Systolic=) وہ ہے کہ جب قلب دھڑک رہا ہو۔نیچے کا بلڈ پریشر (انبساطی Diastolic=) وہ ہے کہ جب قلب دھڑکنوں کے دوران آرام کر رہا ہو۔
بلڈ پریشر کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے
انقباضی 120
انبساطی 80
اسے 120ماورائے 80پڑھتے ہیں۔
بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ
آپ کے بازو کے اطراف ربڑ کی ایک پٹی لپیٹ کر اس میں ہوا بھری جاتی ہے،یہاں تک کہ اس کے دباؤ سے بازو میں خون کا دوران رُ ک جاتا ہے۔ جب یہ ہوا دھیرے دھیرے چھوڑی جاتی ہے تو اس دوران قلب کی جو پہلی آواز آتی ہے ،وہ آپ کا انقباضی، یعنی بڑھا ہوا بلڈ پریشر ہوتا ہے۔ جب ہوا کا زیادہ دباؤ خارج ہوتا ہے تو خون کا دوران نارمل ہو جاتا ہے اور آواز بند ہو جاتی ہے، یہ آپ کا انبساطی، یعنی کم دباؤ ہوتا ہے۔
کیا ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، رہن سہن اور کھانے پینے کے انداز تبدیل کرکے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ موروثی اثرات کا علاج تو آپ نہیں کر سکتے ،لیکن ایسی صورت میں احتیاط سے ضرور کام لے سکتے ہیں۔
وزن کم کیجیے
اپنے معیاری وزن کا کھوج لگا کر اپنی غذا میں اعتدال اور ورزش سے وزن کم کیجیے۔
چکنائیاں کم کھائیے
تمام جمنے والی چکنائیاں اور زیادہ کولیسٹرول والی غذائیں کم سے کم کھائیے۔ اس طرح آپ اپنا وزن قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ شریانوں میں زیادہ چربی کے جمنے کے خطرے سے بھی محفوظ رہیں گے۔
باقاعدہ ورزش کیجیے
ورزش سے وزن کم ہوتا ہے اور قلب بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ورزش سے نہ صرف راحت و سکون ملتا ہے، بلکہ دباؤ اور کشیدگی بھی دور ہوتی ہے۔
نمک کم کھائیے
کھانا پکانے کے دوران نمک اور چینی کم شامل کیجیے۔ مزے اور ذائقے کے لئے لیموں،املی،ادرک،مرچ،تل کا تیل اور خوشبو کے لئے دھنیا ،پودینہ اور مصالحے شامل کیجیے۔ دسترخوان پر کھانے میں اوپر سے نمک نہ ڈالیے۔ یاد رکھیے، ٹماٹر ساس اور چٹنی اچار وغیرہ میں بھی نمک بہت ہوتا ہے۔ ڈبا بند، یعنی پکے پکائے تیار کھانوں سے اجتناب کیجیے، ان میں بھی نمک بہت ہوتا ہے۔
ہمیشہ گھر کے کھانے کھائیے۔ اس طرح آپ تازہ کھانا کھائیں گے اور نمک کی مقدار پر بھی قابو پا سکیں گے۔
نیند پوری لیجیے
روزانہ سکون بخشنے والے،یعنی نیکی و بھلائی کے کچھ کام ضرور کیجیے۔ پوری نیند لیجیے، اس طرح آپ تازہ دم رہیں گے۔ اپنا بلڈ پریشر چھے ماہ میں کم از کم ایک بار ضرور چیک کرائے۔ اس کا کھوج جتنی جلد لگے گا،مناسب تدبیر اور علاج سے اسے قابو میں کرنا اتنا ہی آسان ہو گا۔
17/11/2020
اللہ تعالیٰ نے صحت برقرار رکھنے کے لئے غذائیت سے بھرپور بے شمار اشیاء پیدا کی ہیں،جن سے ہمیں وہ تمام ضروری غذائی اجزاء حاصل ہو جاتے ہیں،جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔مچھلی بھی غذائیت کا منبع ہے،جس میں پروٹین(لحمیہ)اور وٹامنز(حیاتین)کے علاوہ منرلز(معدنیات)کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔اس اہم غذا کو کھانے سے ہمیں کئی ضروری غذائی اجزاء فوراً حاصل ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ غذائی ماہرین مچھلی کو مفید ترین غذا قرار دیتے ہیں۔مچھلی کا گوشت بہت فائدہ مند ہے،کیونکہ اس میں پروٹین کی کثیر مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ جسم کی نشوونما میں بہترین کردار ادا کرتاہے۔ماہرین غذا کی رائے بھی یہی ہے کہ مچھلی ہر اعتبار سے گوشت سے بہتر ہے۔
اس کے باوجود لوگ گوشت زیادہ کھاتے ہیں اور مچھلی کم۔اس کا ایک سبب ہماری ثقافتی عادات اور گھریلو رواج ہیں۔
اچھی صحت،جسمانی،چستی اور امراض سے موٴثر دفاع کے لئے ہر فرد کو ہفتے میں دو تین دن مچھلی کھانی چاہیے۔
مچھلی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے جسم کا دفاعی نظام مستحکم رہتا ہے۔اس میں شامل اجزاء،مثلاً پروٹین اور وٹامنز اے اور ڈی اس سلسلے میں بہت موٴثر کام کرتے ہیں۔سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ مچھلی کھانے سے چربی کی مضرتوں کا خطرہ نہیں ہوتا۔
تازہ مچھلی کھانے سے شریانوں میں فربہی کے مضر اثرات اور خون میں کولیسٹرول کی زائد مقدار بڑی تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔اُن لوگوں کے لئے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہوں،مچھلی ایک موٴثر غذا مانی جاتی ہے۔نسوانی امراض جیسے کمر میں درد اور زچگی کے بعد ٹانگوں میں درد کا علاج بھی مچھلی کھانے سے ممکن ہے۔مچھلی ایک ایسی غذا ہے،جو غذائی حرارے(کیلوریز)کم کر دیتی ہے۔
بعض مچھلیوں میں گوشت سے زیادہ غذائی حرارے ہوتے ہیں،لیکن عموماً زیادہ تر اقسام کی مچھلیاں جو گھروں میں پکائی جاتی ہیں،عمدہ غذائیت سے مالا مال،لیکن حراروں میں معتدل ہوتی ہیں۔اس کے برعکس گائے اور بھینس کے گوشت میں مضرتیں عام ہوتی ہیں اور ان سے فربہی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔مچھلی چربی سے بھی عموماً پاک ہوتی ہے۔مچھلی گوشت سے زیادہ لذیذ،زود ہضم اور پکانے میں بھی آسان ہے۔
مچھلی ایک لذیذ غذا ہے،بشرطے کہ اسے دھیمی آنچ پر اور کم وقت تک پکایا جائے یا تلا(فرائی)جائے۔مچھلی کا تازہ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔مچھلی کھانے والوں کی جلد عموماً صحت مند ہوتی ہے اور اس میں خشکی اور کھردرا پن نہیں ہوتا۔مچھلی سے نزلہ،زکام اور کھانسی کے خطرے کا ازالہ ہوتا رہتا ہے۔مچھلی کھانے سے ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں،کیونکہ اس میں حیاتین کے ساتھ ساتھ قدرتی کیلسیئم کی معقول مقدار بھی شامل ہوتی ہے۔
مچھلی میں سوڈیئم کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔یہ بات سمندری اور دریائی دونوں قسم کی مچھلیوں کے لئے درست ہے۔مچھلی میں فولاد،تانبا اور آیوڈین بھی مناسب مقدار میں ہوتی ہے۔ان اجزاء سے خون کے سرخ خلیات کا ایک اہم حصہ،یعنی ہیمو گلوبن (Haemoglobin) تشکیل پاتا ہے۔مچھلی سمندروں میں بہ کثرت موجود ہوتی ہے،اسے ہر روز خاصی مقدار میں پکڑا جاتا ہے اور اس کی بعض اقسام سے بہت مفید تیل نکالا جاتا ہے۔
یہ تیل ہڈیوں،پھیپھڑوں اور شریانی نظام کے لئے مفید اور موٴثر قرار دیا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہفتے میں دو تین بار مچھلی کھانے سے حملہ قلب سے بچا جا سکتا ہے۔مچھلی میں شامل اجزاء جسم کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس میں شامل تیل جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے،جس سے بیماریوں کے خلاف مزاحمت میں آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
جو لوگ مچھلی کو اپنی روزانہ کی غذاؤں میں شامل کرتے ہیں،ان میں دل کے امراض کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔ مچھلی میں اومیگا۔3 فیٹی ایسڈ موجود ہوتا ہے،جو دل کے دورے کا خطرہ کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جن خواتین میں زیادہ مچھلی کھانے کے باعث اومیگا۔3 ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے،ان میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کا خدشہ انتہائی کم ہو جاتا ہے۔
مچھلی کسی بھی طریقے سے پکائیں،اس کی غذائیت میں فرق نہیں آتا۔عموماً یہ بات سنی جاتی ہے کہ مچھلی کھانے کے فوراً بعد دودھ نہیں پینا چاہیے اور زیادہ مچھلی کھانے یا اس کے بعد زیادہ دودھ پینے سے پیٹ خراب ہو جاتا ہے۔بات یہ ہے کہ دودھ یا مچھلی میں سے کوئی بھی چیز اگر باسی ہے تو وہ پیٹ میں ضرور تکلیف کا سبب بنے گی،اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ مچھلی کے بعد دودھ پینے سے کوئی تکلیف لاحق ہو جاتی ہے۔
اصل میں تکلیف زیادہ مقدار کھا لینے،کسی چیز کے باسی ہونے یا پھر اس سے الرجک ہونے سے پیدا ہوتی ہے،نہ کہ مچھلی کے اوپر دودھ پی لینے سے۔
مچھلی خریدنے اور صاف کرنے کے بعد کھلی جگہ میں رکھنے کے بجائے اسے ہمیشہ فریج میں رکھنا چاہیے۔اس سے مچھلی تازہ رہتی ہے۔بعض لوگ مچھلی خریدنے کے بعد اسے بہت دیر تک کھلا رکھ دیتے ہیں،جس سے اس میں جراثیم نشوونما پانا شروع کر دیتے ہیں اور مچھلی کا رنگ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔
مچھلیوں کی مختلف اقسام میں سے بعض اقسام کی مچھلیوں سے بہت مفید تیل نکالا جاتا ہے،جو ہماری صحت کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے،خصوصاً سامن مچھلی کے تیل کے بے شمار فوائد ہیں۔ویسے تو تمام اقسام کی مچھلیوں میں ایک خاص قسم کی چکنائی اومیگا۔3 پائی جاتی ہے،مگر سامن مچھلی میں یہ دیگر مچھلیوں کے مقابلے میں دگنی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔اومیگا۔
3 دل کے امراض اور خاص طور پر جوڑوں اور پٹھوں میں کھچاؤ کی بیماری میں مبتلا افراد کے لئے ایک معجزاتی دوا ہے۔سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے کہ کاڈ مچھلی کے جگر کا تیل جوڑوں کے لئے مفید ہے اور اس تیل کے ضمیمے کھانے سے جوڑوں کے درد اور ایسی دیگر بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔جوڑوں کے مریض باقاعدگی سے یہ تیل استعمال کریں تو انھیں جوڑ تبدیل نہیں کرانا پڑیں گے۔
28/10/2020
ایک محتاط اندازے کے مطابق دُنیا بھر میں تیس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اندھے پن کے مرض میں مبتلا ہیں، جب کہ صحت کے ایک جریدے''LANCET GLOBAL HEALTH'' میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر بینائی سے متعلق طبی مسائل میں اضافے کی یہ رفتاررہی تو 2050ء تک دنیا بھر میں اندھے پن کے شکار افراد کی تعداد ایک ارب پندرہ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
امراض چشم کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے،جہاں دو کروڑ افراد بینائی کے مختلف عوارض کا شکار ہیں،جن میں تیس لاکھ بچے بھی شامل ہیں،جب کہ ان مریضوں میں سے 80فیصد مریض موتیا کے مرض میں مبتلاہیں۔
یوں تو آنکھوں کی بے شمار بیماریاں ہیں،مگر ہمارے یہاں نظر کی کمزوری ،سفید اور کالاموتیا زیادہ عام ہیں ۔
سفید موتیا ایک ایسا عارضہ ہے،جس میں آنکھ کا عدسہ بتدریج دھند لا ہو کر بینائی تک ضائع ہونے کا سبب بن جاتاہے۔اصل میں عمر کے ساتھ آنکھ کے عد سے میں ٹوٹ پھوٹ سے گد لا پن تو آتاہے،لیکن بعض اوقات یہ اس حد تک بڑھ جاتاہے کہ آنکھ کے اندر مکمل طور پر روشنی ہی نہیں پہنچ پاتی،جس کے باعث افراد اور چیزیں غیر واضح نظر آنے لگتی ہیں،یہاں تک کہ روز مرہ امور انجام دینا دشوار ہو جاتاہے، تاہم سفید موتیے کی ایک قسم ایسی بھی ہے،جس میں مریض کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہوتے۔
کالا موتیا اس کے بالکل برعکس ہے۔کالا موتیا جسے طبی اصطلاح میں”گلوکوما“(GLAUCOMA) کہتے ہیں۔چشم کے مہلک امراض میں شمار ہوتاہے۔اگر اس کے سبب ایک بار بینائی ضائع ہوجائے تو پھر کسی صورت بحال نہیں ہوتی ،تاہم بر وقت تشخیص اور علاج سے بینائی مکمل طور پر ضائع ہونے سے بچائی جا سکتی ہے۔ہمارے یہاں یہ تصور عام ہے کہ سفید موتیا دائمی ہو جائے تو کالے موتیے میں بدل جاتاہے،جو قطعاً درست نہیں۔
موتیے کا عارضہ عمر کے کسی بھی حصے،خصوصاً بڑی عمر میں لاحق ہوتاہے۔ بعض کیسوں میں یہ موروثی بھی ہوتاہے۔
سفید موتیے کے علاج کے لیے بذریعہ آپریشن آنکھ کی جھلی نکال کر اس کی جگہ مصنوعی لینز لگا دیا جاتاہے ،تاکہ زندگی معمول کے مطابق بسر کی جاسکے،جب کہ کالے موتیے کا علاج بر وقت تشخیص ہی سے ممکن ہے،لہٰذا جب عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جائے تو خواہ کوئی تکلیف ہو یا نہ ہو،آنکھوں کا سالانہ طبی معائنہ لازماً کروایا جائے اور اگر کالا موتیا فیملی ہسٹری میں شامل ہوتو پھر خاندان کے تمام افراد ہر سال اپنی آنکھوں کا معائنہ کروائیں ۔
کالے موتیا کا علاج اس کی نوعیت کے مطاق ادویہ،آنکھوں کے قطرے، لیزر شعاعوں اور سر جری کے ذریعے کیا جاتاہے۔
نظر کی کمزوری دور کی بھی ہوسکتی ہے اور نزدیک کی بھی۔گزشتہ چند دہائیوں سے ہرعمر کے افراد،خاص طور پر بچوں میں نظر کی کمزوری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے،جس کی بنیادی وجہ انٹرنیٹ،کمپیوٹر،لیپ ٹاپ،موبائل اور ٹیبلیٹ وغیرہ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
نظر کی کمزوری سے محفوظ رہنے کے لیے ان الیکٹرانک ڈیوائسز کا کم سے کم استعمال کیا جائے۔پھر موجودہ دور میں چونکہ دفاتر میں بھی کمپیوٹر کا استعمال ضروری ہو گیا ہے،اس لیے ہر پندرہ منٹ بعد کچھ سیکنڈ کے لیے آنکھیں اسکرین سے ضرور ہٹائیں، کیونکہ مستقل نظریں جمائے رکھنے سے جہاں آنکھیں تھکاوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں،وہیں مزاج میں بھی چڑ چڑاپن پیدا ہو جاتاہے۔
نیز ائرکنڈیشنڈ کمرے بھی آنکھوں کے پردے خشک کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک مرض آشوب چشم بھی ہے،جس میں آنکھ کی سامنے والی جھلی متاثر ہو جاتی ہے۔اس کی عام علامات میں آنکھوں سے پانی آنا،آنکھوں کا متورم ہوجانا اور چبھن کا احساس وغیرہ شامل ہیں۔بعض اوقات سوکر اُٹھنے کے بعد پپوٹے آپس میں چپک جاتے ہیں تو ازخود کسی بھی قسم کے آنکھوں کے قطرے وغیرہ استعمال کرنے کے بجائے ماہر معالج سے رجوع کیا جائے۔
علاوہ ازیں بعض امراض بھی آنکھوں پر مضر اثرات مرتب کرتے ہیں،جیسا کہ ذیابیطس،اس کا اندازہ اس طرح لگائیں کہ اندھے پن کے شکار الگ بھگ 50فیصد مریض ذیابیطس کا شکار ہوتے ہیں،جب کہ متاثرہ مریضوں میں سفید یا کالے موتیے کے امکانات بھی عام افراد کی نسبت زیادہ پائے جاتے ہیں۔بہتر ہو گا کہ ذیابیطس سے متاثرہ مریض کم از کم ہر چھے ماہ بعد آنکھوں کا معائنہ ضرور کروائیں۔
پھر ایک لا علاج مرض رتوندھا (NYCTALOPIA)بھی ہے،جسے عرف عام میں”شب کوری“کہا جاتاہے۔اس بیماری میں اندھیرے اور کم روشنی میں کچھ دکھائی نہیں دیتا،جس کی وجہ آنکھ کے اندرونی پردے کی خرابی ہے۔یہ مرض رفتہ رفتہ بڑھتاہے ،لہٰذا جن خاندانوں میں شب کوری کا مرض موروثی ہو،وہاں آپس میں شادیاں نہ کی جائیں تو بہترہے۔
ہمارے یہاں کانٹیکٹ لینز کا استعمال بھی عام ہے،لیکن اس ضمن میں احتیاطی تدابیر اختیار کرناناگزیر ہے،مثلاً ہمیشہ اعلا معیار کے لینز استعمال کیے جائیں،ان کا محلول ہر تین دن بعد تبدیل کریں اور ہمیشہ صاف ستھری جگہ پر رکھیں۔
ختم المعیاد تاریخ کے بعد آنکھوں میں لگانے سے گریز کیا جائے۔لینز اُتارنے اور لگانے سے قبل اچھی طرح ہاتھ دھوئیں،رات کو ہر گز لگا کر نہ سوئیں۔اگر آنکھ میں سرخی یارطوبت ہو یا پانی نکل رہا ہوتو لینز ہر گز استعمال نہ کریں،لگانے سے کوئی چبھن یا تکلیف ہوتو فوراً اُتار دیں۔بصورت دیگر آنکھوں کے سامنے کے حصے میں زخم بن سکتے ہیں اور اگر زخم میں تعدیہ(انفیکشن)ہو جائے تو بینائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی طرح موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ کا استعمال آنکھوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتاہے، کیونکہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ایک تو آنکھوں کو مستقل ہوا لگتی ہے،جس سے وہ خشک ہونے لگتی ہیں، دوم اگر مٹی یاریت وغیرہ کا کوئی ذرہ آنکھ میں چلا جائے تو خطر ناک ثابت ہو سکتاہے۔جو غذائیں جسم کو توانائی فراہم کریں،اُن کا کھانا بینائی کے لیے بھی مفید ثابت ہوتاہے۔بصارت کی کمزوری اور دیگر عوارض چشم سے محفوظ رہنے کے لیے آنکھوں کی حفاظت کی جائے اور اس کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل نا گزیرہے۔
Telephone
Website
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 16:00 |
| Tuesday | 09:00 - 16:00 |
| Wednesday | 09:00 - 16:00 |
| Thursday | 09:00 - 16:00 |
| Friday | 09:00 - 16:00 |
| Saturday | 09:00 - 16:00 |
| Sunday | 09:00 - 16:00 |
