Farhan Speaks
پیج کا مقصد اپنی تحاریر سے اپنی کمیونٹی کو محظوظ کرنا ھے۔
کائنات کی ساری طاقتیں ہمارے ساتھ ہوں،
مگر خدا ہمارے ساتھ نہ ہو تو ہم ذلیل ہو کر رہیں گے اور کائنات کی ہر طاقت ہمارے خلاف ہو، مگر خدا سے ہمارا تعلق صحیح ہو تو بھری دنیا ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکتی. . .!!
سید علی خامنہ ای ❤️
14/10/2023
Great Players together.Waqar Yunas,Sachin Tendulkar🌹🌹🌹.
Love and Respect for the Commentators and all 22 Playing in the field.
🔥
جس پر اس وقت وزیر قانون اور وزیر داخلہ نے بڑی بڑی پریس کانفرنسز کی تھیں
بلوچستان ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کر دی وارنٹ گرفتاری آرڈر بھی منسوخ۔۔۔
الحمدللہ ❤️
نظام بدلنا ھوگا
ھمارے وطنِ عزیز کو ریورس لگانے والے دونوں چیپ لوگ قابلِ نفرت ھیں
گذشتہ سے پیوستہ
ارسلان کی والدہ یہی جواب دیتیں کہ جس رب نے کثیر الاولاد بنایا وہی انکی پرورش کے اسباب بھی پیدا کرے گا ان شاءاللہ۔
سب سے بڑا بیٹا حکمت اللہ ماشاءاللہ سے جو ۱۹۷۱ کی جنگ کے حالات میں پیدا ھوا تھا اور اس دوران تھانیدار صاحب کو بنگال بھیجنے کیلئے کراچی روانہ کردیا گیا تھا تاکہ امنِ عامہ کی صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے تاھم بنگال کی فلائٹ نہ لے سکے تھے اور واپسی تونسہ راستہ میں تھے تو خبر آئ تھی کہ حکمت اللہ پیدا ھوچکے۔حکمت اللہ سے بہت پیار تھا تاھم حکمت اللہ کی پیدائش سے ٹھیک دو سال بعد ناھید اور پھر نگہت اور پھر یکے بعد دیگرے نسیم اور جاسم اور کاشان و ارسلان پیدا ھوگئے مطلب ۱۹۷۱ سے ۱۹۸۱ تک سات بچے اس دنیا میں آ چُکے تھے۔
اللہ کریم نے انسان کو شعور دیا ھے اور پھر باقاعدہ ہر زمانے میں انبیاء و رسل کو انسانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے بھیجا اور بالاآخر یہ سلسلہ خاتم المرسل نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک آکر مکمل ھوگیا تو علمِ وحی جو کہ بصورت قرآن موجود ھے اور محفوظ بھی ھے دعوتِ فکر دیتا ھے اور دعوتِ تدبر دیتا ھے۔۔۔۔:
جاری ھے
خرگوشیاں
ارسلان ایک نہائیت ھی متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا تاھم اسکے والدین نے پڑھائ لکھائ کے معاملہ میں بالکل کوتاھی نہ برتی تھی لہٰزا سرائیکی وسیب کے متوسط ترین گھرانے میں شمار کے باوجود اسکے والدین نے نہ صرف تونسہ کے بہترین سرکاری سکول میں اس کو داخلہ دلوایا بلکہ ٹیوشن بھی رکھوا کر دے دی۔
ارسلان کے والد اپنے زمانہ کے بہترین تھانیدار راہ چُکے تھے اور والدہ پرائمری سکول میں استانی جی تھیں۔ارسلان سے بڑے چار بھائ اور دو بہنیں تھیں تو ۱۹۸۰ کی گرمیاں اختتام پذیر ھونے کو تھیں تو ارسلان بھی اس جہانِ رنگ و بُو میں آبَسا۔
بس ارسلان کے اس دنیا میں پہنچنے کی دیر تھی کہ ارسلان کے والد صاحب سے ایک خطرنک حوالاتی(قیدی) فرار ھوگیا اور سزا کے طور پر قبل از وقت ان کو ریٹائر کردیا گیا تو حالات ِ معیشت مزید اس گھرانہ کے ابتر ھوگئے اور اوپر سے پانچ سال بعد ھی ارسلان کی ایک چھوٹی بہن کی بھی پیدائش ھوگئی تو یہ متوسط گھرانہ جو ۱۰ نفوس پر مشتمل تھا کا گُزر بسر بہت مشکل سے ھونے لگا۔
ارسلان نے جب ھوش سنبھالا تو غربت و افلاس نے استقبال کیا اور قدم قدم پر مشکلات کو منتظر پایا۔
ابھی اپنے محلہ کے پرائمری سکول میں تھا تو زندگی نے بتلانا شروع کردیا کہ اِک آگ کا دریا ھے اور ڈوب کے جانا ھے۔
جب کبھی بارش آتی تو ارسلان کے ھم عمر محلہ دار بچے اور بچیاں خوش ھوتے لیکن ارسلان متفکر ھوجاتا کہ اس کو معلوم تھا کہ رات جاگتے گزدے گی کہ انواع و اقسام کے کیڑے مکوڑے ان کے گھر جوکہ دو کمروں پر مشتمل تھا اُمڈ آئینگے اور گھر کی کچی چھتیں ٹپکنا شروع ھوجائینگی اور پھر اس سے بڑھکر یہ کہ گھر کا صحن کسی نہر کا سا ساماں دکھے گا اور پھر کاغذ کی کشتیاں بنائ اور ڈبوی جائنگی تاھم بالاآخر اس صحن کے پانی کو باہر نکالنا پڑیگا جسمیں سب کو شامل ھونا پڑتا تھا اور ارسلان کے والد سے لیکر ارسلان تک سب اس تھکا دینے والی ایکسر سائز کا حصہ ھوتے کیونکہ گھر باقی محلہ کی نسبت قریب چار فٹ نیچے تھے۔
جب ارسلان اپنی والدہ کی اپنی بہنوں کیساتھ سرگوشیاں سُنتا کہ بھائ جان نے کیا سوچ کر اپنا کُنبہ اتنا بڑھا دیا کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا حکمت ھے اور حکومت بھی تو زور دے رھی ھے کہ کم بچے خوشحال گھرانہ۔۔۔۔
(جاری ھے)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Al Khuraytiyat
00000
