Zaira Sadaf writes
Among the most beloved of people in Allah are those who have the best attitudes.
03/12/2022
میں اپنی زیست کبھی کی گزار بیٹھی ہوں
یہ چل رہی ہیں جو سانسیں ،کسی کا حصہ ہیں
03/12/2022
کچھ دنوں کے لیے منظر سے اگر ہٹ جاؤ
زندگی بھر کی شناسائی چلی جاتی ہے
03/12/2022
"غم کتنا ہی سنگین ہو ,نیند سے پہلے تک ہے"
03/12/2022
”مجھے کتاب پڑھنے والے لوگ اچھے لگتے ہیں اور وہ تمام لوگ اچھے لگتے ہیں جن کے ہاتھ میں ہمیشہ کتاب ہوتی ہے۔ مجھے ہمیشہ اُس شخص نے متاثر کیا ہے جو تیز بارش سے کتاب کو بچانے کے لیے اُسے اپنے کوٹ میں چھپا لیتا ہے اور اپنے کوٹ کو بارش میں بھیگنے دیتا ہے۔‘‘
میں کتاب ہوں، جسے تم پڑھ رہے ہو
میں تمہاری دوست رہوں گی،
تمہارے ساتھ رہوں گی
تم سے اختلاف ہوگا، تمہیں ہنساؤں گی
یا کبھی گرمیوں کی دُھوپ بھری صبح میں
تمہاری آنکھوں میں آنسو بن جاؤں گی۔ ۔ ۔
03/12/2022
سب سے بڑی بات یہ ہے
آسان ترین طریقہ ہے بزدل آدمی کا اپنے آپ کو بچا لینے کا کہ اپنی غلطیوں کو جمع کر کے دوسروں کے دامن میں ڈال آئے
حوصلہ یہ ہے کہ انسان کہے !!
مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں اس کو ٹھیک کر لوں گا۔
03/12/2022
انگلیاں، تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر، تاریخوں سے بھرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں
ہونٹوں کو، دعائیں بڑبڑانے کی عادت پڑ جاتی ہے
انتظار، ہیرے جیسی آنکھوں سے نمک کا پانی تاوان لیتا ہے
لیکن کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے
Missing u Nighat Maha,Ghazal mueed🙂🙃
03/12/2022
کبھی کبھی جگہیں اور چیزیں دیکھ کر ہی بچھڑنے والے یاد نہیں آتے بلکہ کچھ آیات اور سورتیں پڑھتے ہوۓ بھی وہ لوگ یاد آجاتے ہیں نم آنکھوں سے ، جن کے لیے ہم نے وہ آیات اور سورتیں ان کی زندگی کی دعا کے لیے ہزارہا بار پڑھی ہوتی ہیں 😪
03/12/2022
پتہ ہے
یاد ایسے ہی نہیں آ جاتی
ایک یاد سے بہت کچھ جڑا ہوتا ہے
کبھی کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا کسی کی یاد دلا دیتا ہے،
تو کبھی بارش کی اک بوند...
کبھی coffee کی کڑواہٹ میں کسی کی کوئی تلخ بات یاد آ جاتی ہے
تو کبھی چائے کے مگ سے اُڑتی بھاپ کسی کی کمی کا احساس دلاتی ہے...💔
آپ کو کیا پتہ ایک یاد سے بہت کچھ جڑا ہوتا
جہاں اچھی یادیں چہرے پہ مسکراہت لاتی ہیں
وہیں آنکھیں نم بھی کر جاتی ہیں 😪
03/12/2022
اُداسی کے بھی سو چہرے ہیں اور اُن میں سے سب سے زیادہ اُداس چہرہ ایک ایسی جدائی کا ھے جس میں کبھی دوبارہ ملاقات کا امکان کم ہو 😪
03/11/2022
میرے حضور ﷺ کی تو کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضور کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آپ کو لوریاں دیتی تھیں اس کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔
شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں ،تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی سے زمانے میں زیادہ خوب صورت کوئی نہیں ۔کہتے ہیں خوب صورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے تو جس کے بھائی کا رنگ حسین ہوتا تو وہ کہتی رنگ نہیں تو کچھ بھی نہیں اور جس بہن کے بھائی کے نقوش اور خد و خال خوب صورت ہوتے وہ کہتی رنگ کیا ہے اصل خوبصورتی تو نقوش اور خد و خال کی ہے جس بہن کے بھائی کی آنکھیں خوبصورت ہوتیں وہ کہتی میرے ویر کی جھیل جیسی آنکھیں تو دیکھو ۔
اب بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں
اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور کہتیں نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں آپ سے مقابلے کی بات تو نہیں کر رہے اور پھر جب کسی بہن کے بھائی کو سب متفقہ طور پر کہتیں کہ تیرا بھائی خوبصورت ہے تو اس کا فخر بھی تو دیدنی ہوگا اور اس کا ذوق آسمان کو چھونے لگتا
ابن ہشام سیرت کی سب سے پہلی کتاب ہے اسی میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دئے ہیں جن کا ترجمہ ہے
اے ہمارے رب میرے بھائی محمد کو سلامت رکھنا آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ہے کل وہ لمبے ہوئے جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔
ہوتے ہوتے وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئی جن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ شریف چلے گئے ۔
جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ آ گیا اللہ رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دئے گئے تو یہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے اور قبیلے کے سردار ایک ایک گھر سے رقم جمع کر رہے ہیں ۔
چلتے چلتے یہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاص حصہ گزار چکی تھیں اس سے کہنے لگے کہ اتنا حصہ آپکا بھی آتا ہے ۔
سیدہ شیمؓا نے کہا
کس لئے ؟
سردار اور ساتھ والے لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی آ گیا تو سیدہ شیؓما سن کر کہنے لگی اچھا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں کہا ہاں
سیدہ شیمؓا نے کہا کہ تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لےچلو ۔
سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟
سیدہ شیؓما کہنے لگیں ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ہے ۔
قوم کے سرداروں کے ساتھ سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے نوری خیموں کی طرف جا رہی ہیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے ہیں ،یہ مکی دور تو تھا نہیں مدنی دور تھا ۔
اور سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے آگے جب بڑھنے لگیں تو صحابہ ؓ نے تلواريں سونتیں اور پکارا
او دیہاتی عورت رک جا دیکھتی نہیں آگے کوچہء ِ رسول ﷺ ہے آگے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو
تو سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ہے ۔
میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن لگتی ہوں ۔
تلواریں جھک گئیں آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہء ِ نوری میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فورا اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟
کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں ان کو چھڑانے آئی ہوں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا کیوں کی ۔پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی ۔
پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیں کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو بہنوں کو نہیں مڑا کرتے ۔
حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی
فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دئے
آپ جو چاہیں کریں صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی ارشاد تو فرمائیں فرمایا میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ وَ صَلِّ عَلٰی الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ(💖)
03/11/2022
#نماز. 🕌♥️
ہم نماز پڑھتے ہیں وہی رٹے رٹائے جملے زبان بولی جا رہی ہے اور دماغ کو معلوم ہی نہیں کہ زبان کیا بول رہی ہے، دماغ کد ھر ہے گھر کے آفس کے دکان کے کاموں میں۔
آئیں نماز کو آسان کرتےہیں اتنی آسان کے بچے بھی شوق سے نماز ادا کریں ان کو بھی سمجھ آئے کہ ہم اللہ سے کیا بات کر رہے ہیں۔
نوٹ:
ترجمہ کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
تکبیرِ اولی
اللہٌ اَکۡبَر
(اللہ تو سب سے بڑا ہے)
اس کے لئے جب ہم ہاتھ کانوں تک لے کر جاتے ہی تو انسان کہتا ہے اللہ میں نے دنیا کی ہر چیز سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اللہ تو نے مجھے بہت بلایا اپنی طرف، مسجدوں میں اعلان کروائے میرے لئے آج میں آ گیا ہوں میں تیرا مجرم ہوں آج گرفتاری دے دی تجھے ہاتھ اٹھا کر۔
اب اللہ اور بندے کی گفتگو شروع ہو گئی۔
اللہ نے کہا تو جس کے پاس آیا ہے تو جانتا ہے کہ کون ہوں میں؟
اَلۡحَمۡدٌللہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ٠ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ٠
(تو تمام عالمین کا رب ہے۔ تو رحمان ہے رحیم ہے۔)
تجھے میری طاقت کا اندازہ ہے؟
مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ٠
(تو قیامت کے دن کا مالک ہے)
اچھا چل آگیا ہے میری بارگاہ میں بات بھی شروع ہو ہی گئی ہے تو بتا چاہتا کیا ہے؟
اِیّاکَ نَعۡبٌدٌ وَ اِیّاکَ نَسۡتَعِیۡنٌ٠
(تیری عبادت کرنا چاہتا ہو اور تو میری مدد فرما)
کیوں؟
اِھۡدِ نَاالصِّرَاطَ الۡمٌسۡتَقِیۡمَ٠
(سیدھے رستے پر چلنا چاہتا ہوں)
تجھے پتا ہے وہ کن کا رستہ ہے؟
صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِم٠
(ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام کیا)
اگر میں تجھے سیدھے رستے پر لے جاؤں تو تو اٌدھر واپس تو نہیں جائے گا؟
غَیۡرِالۡمَغۡضٌوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّالِیۡنَ٠
(تو مجھے اس رستے سے بچا جن پر تو نے اپنا غضب کیا)
اللہ کہتا ہے کہ واہ باتیں تو بڑی اچھی کر رہا ہے، چل تھوڑی اور باتیں کرتے ہیں۔
اور باتیں ہوئیں تھوڑی تو اللہ نے کہا ٹھیک ہے جو باتیں تو نے کی سب ٹھیک باتیں کی ہیں۔
تو جھک کر کہا:
سٌبۡحَانَ رَبِّیَ الۡعَظِیۡمِ٠
چل کہ جو دیا کہ معاف کر دیا ہے اب نہ جانا چھوڑ کر،
سجدے میں جھک گیا اور کہا
سٌبۡحَانَ رَبِّیَ الۡاَ عۡلیٰ٠
اب پھر تو نہیں کیہں جاۓ گا؟
دوبارہ سجدے میں جھک گیا
سٌبۡحَانَ رَبِّیَ الۡاَ عۡلیٰ٠
دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہو اور مجھ سے یہی باتیں دوبارہ کر مجھے تیری یہ باتیں کرنا پسند آیا ہے میں چاہتا ہوں یہی باتیں دوبارہ کر مجھ سے۔
پھر سب باتیں ہوئیں۔
اللہ نے کہا چل اب تھک گیا ہے بیٹھ جا اب ، اور مجھے بتا تیرا عقیدہ کیا ہے؟
اَشۡھَدٌ اَنۡ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
(تو اللہ ہے اور ایک ہے)
تٌو تو مجھ سے کبھی ملا ہی نہیں مجھے کبھی دیکھا ہی نہیں تو تجھے کیسے معلوم ہوا؟
وَاَشۡھَدٌ اَنَّ مٌحَمَّدً عَبدٌہٗ وَرَسٌولَہ
(مجھے رسولؐ نے بتایا ہے کہ تو ہے۔)
چل تو نے میرے محبوبؐ کا نام لیا ہے تو ان پر درود بھیج دے اب۔
درود پاک پڑھا۔
چل اب مجھ سے مانگ کیا مانگتا ہے؟
(اللہ مجھے نماز کا پابند بنا دے اور میری اولاد کو بھی میری دعا قبول کر اور حساب کے دن میرے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کو بخش دینا)
چل اب سلامتی بھیج دائیں بائیں سب پر۔
اَسّلَامٌ عَلَیۡکٌمۡ وَرَحۡمَةٌ اللہ۔
چل اب جا اور دنیا کہ کام بھی کچھ کر لے اور ہاں جب دوبارہ بلاؤں تو اِسی طرح آنا اور مجھ سے باتیں کرنا مجھے بہت اچھا لگا ہے اور سن دنیا کے کاموں میں بھول نا جانا مجھے دوبارہ۔
03/11/2022
*’’بیٹیاں، جنت میں لے جانے کا ذریعہ‘‘*
✿ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں :
﴿لِّلَّهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ يَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ الذُّكُوۡرَ﴾.
’’آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔‘‘
(سورہ شوری : 49)
⇚ اسحاق بن بشر سے مروی ہے کہ :
’’یہ آیت در اصل انبیاء کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس کا حکم عمومی ہے، لوط علیہ السلام کی صرف بیٹیاں تھیں، کوئی بیٹا نہیں تھا، اس کے برعکس ابراہیم علیہ السلام کے صرف بیٹے تھے، بیٹی کوئی نہیں تھی، نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کیے جبکہ یحیی بن زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے۔‘‘
(تفسیر ابن عطیہ: 5/ 43)
⇚ عبید اللہ سعدی بیان کرتے ہیں، انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالی بیٹیوں والے شخص کو پسند کرتے ہیں، لوط علیہ السلام بھی بیٹیوں والے تھے، شعیب علیہ السلام بھی بیٹیوں والے تھے اور نبی کریم ﷺ کی بھی بیٹیاں تھیں۔
(النفقۃ على العيال لابن أبي الدنيا : 95 ورجالہ ثقات)
⇚ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جسے بیٹیاں دے کر کسی آزمائش میں ڈالا گیا تو وہ اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔‘‘
(صحیح بخاری : 1418، صحیح مسلم : 2629)
⇚ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
”جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا پھر دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔’’
(سنن ابی داود : 5147 ، سنن الترمذی : 1916 واللفظ لہ وسندہ حسن)
⇚ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’جس نے دو بیٹیوں کی ان کے بالغ ہو جانے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔‘‘
(صحیح مسلم : 2631)
⇚ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’جس کے پاس تین بیٹیاں ہوں، وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ بیٹیاں اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی۔‘‘
(سنن ابن ماجہ : 2669 وسندہ صحیح)
⇚ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کی دوبیٹیاں جوان ہوجائیں اور وہ ان سے اس وقت تک اچھا سلوک کرتا رہے جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں،یا جب تک وہ ان کے ساتھ رہے،وہ اسے جنت میں ضرور داخل کردیں گی۔‘‘
(سنن ابن ماجہ : 3670 وسندہ حسن)
⇚ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’جسے اللہ تعالی ایک بیٹی عطا کریں اور وہ اس سے حسنِ سلوک کرے تو اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کریں گے، جسے دو بیٹیاں دے کر آزمایا گیا اور وہ ان کی پرورش پر اجر کی امید رکھے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال ہوں گی اور جسے تین بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا تو سلف صالحین تو اس شخص پر جہاد و صدقہ لازمی نہیں سمجھتے تھے۔‘‘
(النفقۃ علی العیال لابن ابی الدنيا : 93 وسندہ صحیح)
⇚ کثیر بن عبید بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رشتہ داروں میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو وہ یہ نہیں پوچھتی تھیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ بلکہ ان کا سوال ہوتا : کیا صحیح سلامت پیدا ہوا ہے؟ کہا جاتا جی ہاں ۔ تو آپ الحمد للہ رب العالمین پڑھتیں۔
(الأدب المفرد : 1256 و سندہ حسن)
⇚ امام احمد رحمہ اللہ کے بیٹے صالح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
’’جب بھی میرے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوتی تو والدِ محترم فرماتے : انبیاء علیہم السلام بھی بیٹیوں والے تھے اور بیٹیوں کے متعلق مروی روایات کو تو تم جانتے ہی ہو ۔‘‘
(سیرة الإمام أحمد لابنہ، ص : 41)
⇚ یعقوب بن بختان بیان کرتے ہیں کہ میری سات بیٹیاں پیدا ہوئیں، جب بھی بیٹی کی پیدائش کے بعد میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس جاتا تو فرماتے : اے ابو یوسف! انبیاء بھی بیٹیوں کے باپ ہوا کرتے تھے۔
(تحفۃ المودود لابن القيم ،ص : 26)
⇚ علامہ شہاب الدین آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’عالی ظرف لوگوں کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ عورتوں کے دل کا خصوصی خیال رکھا جائے کیونکہ یہ نازک مزاج ہوتی ہیں، اسی لیے بندے کے لیے مستحسن ہے کہ جب وہ اپنے بچوں کو کچھ دینا چاہے تو پہلے بیٹیوں کو دے۔‘‘
(تفسیر روح المعانی: 4/ 279)
Click here to claim your Sponsored Listing.
