JKLf

JKLf

Partager

Kashmir Community Italy

06/04/2026
Photos from JKLf's post 26/01/2026

آج تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے، کشمیر کی آزادی کا وہ نڈر سپاہی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے جس نے اپنی پوری جوانی ہماری اور آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے قربان کر دی۔

یاسین ملک صاحب کی بگڑتی ہوئی صحت اور ان کی زندگی کو لاحق شدید خطرات ہم سب کے لیے ایک امتحان ہیں۔ وہ شخص جو کبھی جھکا نہیں، آج اس حال میں بھی اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹا ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اے خطہ آزاد کشمیر کے باسیو! کیا ہم انہیں یونہی تنہا چھوڑ دیں گے؟

خاموشی توڑنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اگر آج ہم اپنے لیڈر کی زندگی کے تحفظ اور رہائی کے لیے سڑکوں پر نہ نکلے، سوشل میڈیا پر طوفان نہ اٹھایا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

یہ صرف ایک شخص کی آزادی کا سوال نہیں، یہ ہماری شناخت اور ہماری غیرت کا سوال ہے۔
اٹھو! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ اپنی آواز دنیا کے ہر ایوان تک پہنچاؤ۔ یاسین ملک کو بچانا کشمیر کی تحریک کو بچانا ہے!
مطالبہ: یاسین ملک کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

22/11/2025

🚩قائد کشمیر مقبول بٹ صاحب کی نظم 🚩کےاے کسان کے بیٹے ۔زعفرانی کھیتوں کے جیتے صبح ازادی کی تلاش میں ۔تا عمر چلنے والے سمراجی زنجیروں کو گہری ضرب لگائی تم نے ۔انقلاب کے نعروں سے دیوار ز۔ندہ ہلائی تم نے ۔ازادیوں کے سفر میں تم جنوں کی مانند رہے ۔دور بلندیوں پہ اڑتے پنچھی تیرے ہمنوا رہے۔ یخ موسم کے جزیروں پہ تم جنگل جنگل چلتے رہے ۔ازادیوں کے خواب تمہاری انکھوں میں چمکتے رہے ۔ظلمت کے دیوتاؤں نے حکم صادر کیا تھا ۔کہ برفیلی چوٹیوں کا چہتا یہ جنت عرضی کا بیٹا سحر کے خواب دیکھنے لگا ہے۔پھانسی پہ لٹکا دو سے سولی پہ چڑھا دو: یہ حاکم وقت کو للکارنے لگا ہے اس سے مٹا دو ۔۔وقت کے خداؤں کے اگے سر کبھی نہ جھکایا تم نے ۔نئی سحر کی خاطر تخت دار کو گلے لگایا تم نے اپنی مٹی سے اپنے جھرنوں سے اپنی جیلوں سے اور پہاڑوں سے بلا کا عشق تھا تمہیں۔انہی کی اغوش میں سونا تھا تو میں ۔ پر روشنیوں کے قاتل روشنیوں کے قاتل ڈر گئے تھے اس قدر تم سے ۔کہ زندہ کوئی تیرا مدفن بنا ڈالا ۔جنت عرضی کو ویراں کر ڈالا ان جفاؤں سےان سزاؤں سے ۔تیری ماؤں کے چہرے سرسوں کہ پھولوں کی مانند زرد پڑ گئی ۔تیرے دیس کے بچوں کی انکھوں سے خوف مٹ گیا تھا ؟ان معصوم سے انکھوں میں پھر خون اتر ایا تھا ۔تیری وادیوں کی نیلی جیلوں میں تیرنے لگی تھی لہو کی سرخی تیری زبان سے نکلا وہ اخری جملہ میرے وطن تو ضرور ازاد ہوگا ۔میرے وطن تو ضرور ازاد ہوگا ہاں یہ جملہ ہر ایک زباں پر ہے ۔کلیاں یہ سن کر جی اٹھتی ہیں پنچھی اب یہی گاتے ہیں ۔میرے وطن تو ضرور ازاد ہوگا ۔دست قاتل سے پوچھے کوئی کتنے سر کاٹو گے تم ۔کتنوں کو پھانسی پہ لٹکاؤ گے اس دھرتی کی فضاؤں میں ہر انسان کی اداؤں میں ۔مقبول ہمارا زندہ ہے ۔🚩

22/11/2025

01/09/2025

آزاد کشمیر میں بارش کے بعد سڑکوں کا میک اپ اترنا شروع ہو گیا-جب اتنا ناقص میٹیریل استعمال ہوگا تو یہی ہوگا

01/09/2025

#

Vous voulez que votre entreprise soit Salon De Beauté la plus cotée à Democratic Republic of the ?
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Site Web

Adresse


Democratic Republic Of The