Ameyz Your Life

Ameyz Your Life

Share

Ameyz your mental, spiritual and physical life.

26/11/2023

*بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ہوتی کہ ہمیں گن کر درود پاک نہیں پڑهنا چائیے بلکہ لا تعداد درود پاک پڑهنا چائیے. اللہ کے نیک بندے جنکا کوئی سانس کوئی پل۔زکر۔و۔درود۔سے خالی نہی ھوتا انکے لیے تو ٹھیک ۔۔۔ورنہ تو یہ شیطان کا سب سے سخت وسوسہ ہے دیکهیں اسے ہماری روحانیت کا پتہ ہے.اسےمعلوم ہے.کہ یہ شخص اتنا نیک نہیں ہے.کہ سارا دن ذکر اللہ کرتا رہے گااسے معلوم ہے اگر یہ بغیر گنے درود پاک پڑهے گاتو تهوڑی دیر درود پاک پڑهے گا.پهر کسی کام میں مصروف ہو جائے گاکسی کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو جائے گا.اس کا درود پاک کم پڑها جائے گا.اسے معلوم ہے اگر اس نے گن کر درود پاک پڑهاتب تو یہ تعداد فکس کر لے گا.تو اب تب تک یہ چین سے نہیں بیٹهے گا.جب تک اپنا فکس کی ہوئی تعداد پوری نہ کر لے.تب تک سوئے گا نہیں جب تک اپنا دن بهر کا وظیفہ نہ پورا کرلےاور گن کر پڑهناہمارے پیارےآقانبی پاکﷺ کی سنت مبارکہ ہےاحیا العلوم جلد اول صفحہ نمبر 900 پر حضرت امام محمد بن غزالی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےیہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کی سرکار گن کر وظائف پڑها کرتے تهے.اور ہمارے بہت سارے بزرگان رحمتہ اللہ علیہ کا طریقہ چلا آیا ہے کہ وہ گن کر ذکر و ازکار پڑها کرتے تهے.*

عشق النبی الصلوةالسلام

25/11/2023

40چالیس احادیث مبارکہ شان حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا

20 جمادی الثانی ولادت باسعادت بی بی پاک سیدۃ النساء العالمین سلام اللہ علیہا کا بہترین تحفہ!
چالیس احادیث

1-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذا كانَ يَوْمُ القيامَةِ نادي مُنادٍ: يا أَهْلَ الجَمْعِ غُضُّوا أَبْصارَكُمْ حَتي تَمُرَّ فاطِمَةالزھرا سلام اللہ علیھا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ:
"روز قیامت ایک منادی نداء دے گا کہ: اے اہل قیامت اپنی آنکھوں کو بند کر لو،کیونکہ اب یہاں سے سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کاگزر ہونے والا ہے۔"
كنز العمّال ج 13 ص

91 و 93
منتخب كنز العمّال بهامش المسند ج 5 ص 96
الصواعق المحرقة ص 190
أسد الغابة ج 5 ص 523
تذكرة الخواص ص 279
ذخائر العقبي ص 48
مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 356
نور الأبصار ص 51 و 52
ينابيع المودّة ج 2 باب 56 ص 136.

2-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كُنْتُ إذا اشْتَقْتُ إِلي رائِحَةِ الجنَّةِ شَمَمْتُ رَقَبَةَ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خُدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: میں جب بھی جنت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں توسیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا سے اس خوشبو کو سونگھتا ہوں۔
منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97
نور الأبصار ص 51
مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 360.

3-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَسْبُك مِنْ نساءِ العالَميَن أَرْيمَ وَآسيَة وَخَديجَة وَفاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: تمام جہانوں میں فقط چار عورتیں بہترین ہیں، مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ (سلام اللہ علیھا )۔
مستدرك الصحيحين ج 3 باب مناقب فاطِمَة ص 171
سير أعلام النبلاء ج 2 ص 126
البداية والنهاية ج 2 ص 59
مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 363.

4-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يا عَلِي (علیہ السلام ) هذا جبريلُ (علیہ السلام ) يُخْبِرنِي أَنَّ اللّه (عزوجل )َ زَوَّجَك فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے علی علیہ السلام ابھی مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ خداوند تعالٰی نے سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کی شادی تم سے کر دی ہے۔
مناقب الإمام علي من الرياض النضرة: ص 141.

5-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما رَضِيْتُ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )حَتّي رَضِيَتْ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کبھی بھی کسی سے راضی نہیں ہوا، مگر یہ کہ سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا اس سے راضی ہو جائے۔
مناقب الإمام علي لابن المغازلي: ص 342.

6-قال رسول اللّه (صلى الله علیہ وآلہ وسلم يا عَلِيّ (علیہ السلام )إِنَّ اللّهَ عزوجل أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَكَ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے علی (علیہ السلام ) خداوند تعالٰی مجھے حکم دیا ہے کہ میں سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کی شادی تم سے کر دوں۔
الصواعق المحرقة باب 11 ص 142
ذخائر العقبي ص 30 و 31
تذكرة الخواص ص 276
مناقب الإمام علي من الرياض النضرة ص141
نور الأبصار ص53.

7-قال رسول اللّه (صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنّ اللّهَ زَوَّجَ عَليّاً (علیہ السلام )مِنْ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: خداوند عالم نے علی (علیہ السلام )کی شادی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے کی ہے۔
الصواعق المحرقة ص 173.

8-قال رسول اللّه (صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم أَحَبُّ أَهْلِي إِليَّ فاطِمَة۔سلام اللہ علیھا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب، فاطمہ ہے۔سلام اللہ علیھا
الجامع الصغير ج 1 ح 203 ص 37
الصواعق المحرقة ص 191
ينابيع المودّة ج 2 باب 59 ص 479
كنز العمّال ج 13 ص93.

9-قال رسول اللّه (صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم خَيْرُ نِساءِ العالَمين أَرْبَع: مَرْيَم وَآسية وَخَدِيجَة وَفاطِمَة۔سلام اللہ علیھم
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا ہے کہ: جہان کی تمام عورتوں کی سردار چار خواتین ہیں، مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ،سلام اللہ علیہم
الجامع الصغير ج 1 ح 4112 ص 469
الإصابة في تمييز الصحابة ج 4 ص 378
البداية والنهاية ج 2 ص 60
ذخائر العقبي ص 44.

10-قال رسول اللّه (صلى الله علیہ سيّدَةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنَّةِ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جنت کی تمام عورتوں کی سرور و سردار سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا ہیں۔
كنز العمّال ج13 ص94
صحيح البخاري، كتاب الفضائل، باب مناقب فاطمة
البداية والنهاية ج 2 ص61.

11-قال رسول اللّه (صلى الله علیہ وآلہ وسلم أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الجَنَّةَ: عَليٌّ وَفاطِمَة
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جنت میں سب سے پہلے علی علیہ السلام اور سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا داخل ہوں گے۔
نور الأبصار ص 52/ شبيه به آن در كنز العمّال ج 13 ص 95.

12-قال رسول اللّه(صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم ): أُنْزِلَتْ آيَةُ التطْهِيرِ فِيْ خَمْسَةٍ فِيَّ، وَفِيْ عَليٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفاطِمَة۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: آیت تطہیر پنجتن پاک علیھم السلام (میرے، علی، حسن، حسین اور فاطمہ ) سلام اللہ علیہم کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
إسعاف الراغبين ص 116
صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة.

13-قال رسول اللّه(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): أَفْضَلُ نِساءِ أَهْل الجَنَّةِ: مَرْيَمُ وَآسيةُ وَخَديجَةُ وَفاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اہل جنت کی عورتوں میں سے سب سے افضل مریم، آسیہ، خدیجہ اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں۔
سير أعلام النبلاء: ج 2 ص 126
ذخائر العقبي: ص 44.

14-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): أَوَّلُ مَنْ دَخَلَ الجَنَّةَ فاطِمَة۔الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: سب سے پہلے جنت میں سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا ہوں گی۔
ينابيع المودّة ج2 ص322 باب56.

15-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): المَهْدِيِ مِنْ عِتْرَتي مِنْ وُلدِ فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: امام مہدی علیہ السلام میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ہے کہ جو فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے ہیں۔
الصواعق المحرقة ص237.

16-قال رســـول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): إنّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فَطـــَمَ ابْنَتِي فاطِمَـــة وَوُلدَهـــا وَمَنْ أَحَبًّهُمْ مِنَ النّارِ فَلِذلِكَ سُمّيَتْ فاطِمَة۔سلام اللہ علیھا
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:خداوند نے جہنم کی آگ کو میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا انکی اولاد اور جو بھی ان سے محبت کرتا ہو گا، دور کیا ہے، پس اسی وجہ سے میری بیٹی کا نام فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا رکھا گیا ہے۔
كنز العمال ج6 ص219.

17- قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): یا فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا انت أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتي لُحُوقاً بِي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا میرے وصال کے بعد میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ کر ملو گی۔
حلية الأولياء ج 2 ص 40
صحيح البخاري كتاب الفضائل
كنز العمّال ج 13 ص 93
منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97.

18-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا بَضْعَةٌ مِنّي يَسُرُّنِي ما يَسُرُّها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بھی اسکو خوش کرے گا، اس نے مجھے خوش کیا ہے۔
الصواعق المحرقة ص 180 و 232
مستدرك الحاكم
معرفة ما يجب لآل البيت النبوي من الحق علي من عداهم ص 73 ينابيع المودّة ج 2 باب 59 ص 468.

19-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا سِيِّدةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنِّة۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: میری بیٹی سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا جنت کی عورتوں کی سید و سردار ہے۔
صحيح البخاري ج 3 كتاب الفضائل باب مناقب فاطِمَة ص 1374
مستدرك الصحيحين ج 3 باب مناقب فاطِمَة ص 164
سنن الترمذي ج 3 ص 226
كنز العمّال ج 13 ص 93
منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97
الجامع الصغير ج 2 ص 654 ح 5760
سير أعلام النبلاء ج 2 ص 123
الصواعق المحرقة ص 187 و 191
خصائص الإمام عليّ للنسائي ص 118
ينابيع المودّة ج 2 ص 79
الجوهرة في نسب عليّ وآله ص 17
البداية والنهاية ج 2 ص 60.

20-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا بَضْعَةُ مِنّي فَمَنْ أَغْضَبَها أَغْضَبَنِي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا میرے تن کا ٹکڑا ہے، جو بھی اسکو ناراض کرے گا، اس نے مجھے ناراض کیا ہے۔
صحيح البخاري ج 3 كتاب الفضائل باب مناقب فاطِمَة ص 1374
خصائص الإمام عليّ للنسائي ص 122
الجامع الصغير ج 2 ص 653 ح 5858
كنز العمّال ج 3 ص 93 ـ 97
منتخب بهامش المسند ج 5 ص 96
مصابيح السنّة ج 4 ص 185
إسعاف الراغبين ص 188
ذخائر العقبي ص 37
ينابيع المودّة ج 2 ص 52 ـ 79.

21- قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا خُلِقَتْ حورِيَّةٌ فِيْ صورة إنسيّة۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا انسان کی شکل میں خلق کی گئی، جنت کی حور ہیں۔
مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 296.
22-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا حَوْراءُ آدَميّةَ لَم تَحضْ وَلَمْ تَطْمِث۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا انسان کی شکل میں جنت کی حور ہیں، کہ جو خون حیض اور نفاس سے دوچار نہیں ہوتیں۔
الصواعق المحرقة ص 160
إسعاف الراغبين ص 188
كنز العمّال ج 13 ص 94
منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97

قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) : فاطِمَة الزھراء سلام اللہ علیہا أَحَبُّ إِليَّ مِنْكَ يا عَلِيّ وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے علی علیہ السلام سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میرے لیے آپ سے زیادہ محبوب ہے، اور اے علی علیہ السلام آپ میرے لیے اس سے زیادہ عزیز ہو۔
مجمع الزوائد ج 9 ص 202
الجامع الصغير ج 2 ص 654 ح 5761
منتخب كنز العمّال ج 5 ص 97
أسد الغابة ج 5 ص 522
ينابيع المودّة ج 2 باب 56 ص 79
الصواعق المحرقة الفصل الثالث ص 191.
24-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیھا بَضْعَةٌ مِنّي وَهِيَ قَلْبِيْ وَهِيَ روُحِي التي بَيْنَ جَنْبِيّ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور وہ میرا دل ہے اور وہ میرے بدن میں موجود میری روح ہے۔
نور الأبصار ص 52.
25-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا سيِّدَةُ نِساءِ أُمَّتِي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میری امت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں۔
سير أعلام النبلاء ج 2 ص 127
صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب فاطمة
مجمع الزوائد ج 2 ص 201
إسعاف الراغبين ص 187.
26-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا بَضْعَةٌ مِنّي يُؤلِمُها ما يُؤْلِمُنِي وَيَسَرُّنِي ما يَسُرُّها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو بھی اسکو تکلیف دے گا، اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور جو بھی اسکو خوش حال کرے گا، اس نے مجھے خوشحال کیا ہے۔
مناقب الخوارزمي ص 353.
27-قال رسول اللّه (صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم :سیدہ (فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیھا بَضْعَةٌ مِنّي مَنْ آْذاهَا فَقَدْ آذانِي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میرے جگر کا حصہ ہے، جو بھی اس کو اذیت پہنچائے گا، اس نے بے شک مجھ کو اذیت پہنچائی ہے۔
السنن الكبري ج 10 باب من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده ص 201
كنز العمّال ج 13 ص 96
نور الأبصار ص52
ينابيع المودّة ج 2 ص 322.
28-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا بَهْجَةُ قَلْبِي وَابْناها ثَمْرَةُ فُؤادِي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میرے دل کا آرام و قرار ہے اور اسکے دو بیٹے میرے دل کے پیارے ہیں۔
ينابيع الموّدة ج 1 باب 15 ص 243.
29- قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا لَيْسَتْ كَنِساءِ الآدَميّين۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا عام عورتوں کی طرح ایک عورت نہیں ہے۔
مجمع الزوائد ج 9 ص 202.
30-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا إِنّ اللّهَ يَغْضِبُ لِغَضَبَكِ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا خداوند تیرے غضبناک ہونے کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے۔
الصواعق المحرقة ص 175
مستدرك الحاكم، باب مناقب فاطمة
مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 351.
31-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):سیدہ فاطِمَةالزھراء سلام اللہ علیہا إِنّ اللّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلا أَحَدٍ مِنْ وُلْدِكِ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:اے سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا
بے شک خداوند تجھے اور تیری اولاد پاک میں سے کسی ایک کو بھی عذاب نہیں کرے گا۔
كنز العمّال ج13 ص96
منتخب كنز العمّال بهامش مسند أحمد ج5 ص97
إسعاف الراغبين بهامش نور الأبصار ص118.
32-قال رسول اللّه (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): كَمُلَ مِنَ الرِّجال كَثِيرُ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النساءِ إِلاّ أَرْبَع: مَرْيـــم وَآسِيَة وَخَديجـــَة وَفاطِمـــَة۔سلام اللہ علیہم
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: مردوں میں سے بہت کی عقل کامل ہوئی ہے، لیکن عورتوں میں سے فقط چار عورتوں کی عقل کامل ہوئی ہے اور وہ سیدہ مریم، سیدہ آسیہ،سیدہ خدیجہ الکبری اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں۔
نور الأبصار ص 51.
33-قال رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): ليلة عرج بي إلي السماء رأيت علي باب الجنّة مكتوبا: لا إله إلا الله، محمّد رسول الله، عليّ حبيب الله، الحسن والحسين صفوة الله، فاطمة خيرة الله، علي مبغضيهم لعنة الله۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا ہے کہ: جس رات کو مجھے معراج پر لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ: لا إلہ إلا الله ، محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، علی ولی الله علیہ السلام ، حسن و حسین علیہما السلام اورسیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا خداوند کے برگذیدہ انسان ہیں۔ جو بھی ان سے بغض رکھنے والا ہو گا، اس پر خداوند کی لعنت ہو گی۔
تاريخ بغداد :ج 1ص259
تاريخ دمشق :ج 14ص170
لسان الميزان :ج 5ص70
34-قال رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): لو كان الحسن شخصا لكان فاطمة ، بل هي أعظم ، إن فاطمة ابنتي خير أهل الأرض عنصرا وشرفا وكرما۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اگر حسن و خوبصورتی ایک انسان کی شکل میں ہوتے، تو وہ سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا شکل میں ہوتے، بلکہ وہ ان سے بھی بالا تر ہوتی۔ بے شک میری بیٹی فاطمہ عنصر (ذات) ، شرف اور کرم کے لحاظ سے تمام اہل زمین سے افضل ہے۔
مقتل الحسين :ج 1ص60.
35- خرج رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ):وهو آخذ بيد فاطمة (سلام الله عليها) فقال : (من عرف هذا فقد عرفها ومن لم يعرفها فهي فاطمة بنت محمّد وهي قلبي وروحي التي بين جنبي۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر نکلے، اس حالت میں کہ آپ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپ نے فرمایا کہ: جو بھی اسکو پہچانتا ہے، وہ تو پہچانتا ہی ہے، اور جو نہیں پہچانتاتو وہ اسکو جان لے کہ یہ سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہے، وہ میری دل و جان اور میرے بدن میں موجود میری روح ہے۔
الفصول المهمّة : ص146
نور الأبصار :ص 53
36-قال رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): إنّما سمّيت فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا لأنّ الله عزّوجلّ فطم من أحبّها من النّار۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کا نام سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا اسلیے رکھا گیا ہے کہ:خداوند نے اس سے محبت کرنے والوں کو جہنم کی آگ سے دور کیا ہے۔
مجمع الزوائد :ج 9ص201
37- قال رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): أتاني جبرئيل قال : يا محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إنّ ربّك يحبّ فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا فاسجد , فسجدت , ثمّ قال : إنّ الله يحبّ الحسن والحسين فسجدت , ثمّ قال : إنّ الله يحبّ من يحبّهما۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ: اے محمد، مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند تعالٰی سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا سے محبت کرتا ہے، پس تم سجدہ کرو، پس میں نے بھی سجدہ کیا، پھر اس نے کہا کہ: بے شک خداوند حسن اور حسین علیہما السلام سے بھی محبت کرتا ہے، پس میں نے دوبارہ سجدہ کیا، پھر اس نے کہا کہ: جو بھی ان دونوں سے محبت کرتا ہے، تو خداوند ان سب سے بھی محبت کرتا ہے۔
لسان الميزان :ج 3ص275
38-قال رسول الله(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): إن سیدہ فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا شعرة مني فمن آذي شعرة مني فقد آذاني ، ومن آذاني فقد آذي الله ، ومن آذي الله لعنه ملء السماوات والأرض۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا میرے جسم کا ایک بال ہے، پس جس نے میرے بدن کے بال کو اذیت کی تو اس نے مجھے، اذیت کی ہے اور جس نے مجھے اذیت کی تو اس نے خداوند کو اذیت کی ہے اور جو خداوند کو اذیت کرے گاتو خداوند اسکو زمین اور آسمان کے برابر لعنت کرے گا۔
حلية الأولياء :ج 2ص40
39-قال رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (يا سلمان ,رضی اللہ عنہ حبّ فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا ينفع في مئة من المواطن , أيسر تلك المواطن : الموت , والقبر , والميزان , والمحشر , والصراط , والمحاسبة , فمن رضيت عنه ابنتي فاطمة , رضيت عنه , ومن رضيت عنه رضي الله عنه , ومن غضبت عليه ابنتي فاطمة , غضبت عليه , ومن غضبت عليه غضب الله عليه , يا سلمان ويل لمن يظلمها ويظلم بعلها أمير المؤمنين عليا , وويل لمن يظلم ذرّيتها وشيعتها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اے سلمان رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کی محبت انسان کو 100 مقامات پر فائدہ دیتی ہے، کہ ان مقامات میں سے کم ترین اور آسان ترین مقام، مرتے وقت، قبر میں، میزان پر، محشر میں، پل صراط پر، اعمال کے حساب کتاب کے وقت،
پس جس سے بھی میری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا راضی ہو گی، تو میں بھی اس سے راضی ہوں گا اور جس سے میں راضی ہوں گا تو خداوند بھی اس سے راضی ہو گا، اور جس پر بھی میری بیٹی فاطمہ غضبناک ہو گی تو میں بھی اس پر غضبناک ہوں گا اور جس پر بھی میں غضبناک ہوں گا تو خداوند بھی اس پر غضبناک ہو گا۔
اے سلمان، رضی اللہ تعالی عنہ وہ بدبخت اور اسکا برا حال ہو گا، جو اس (فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیہا ) اور اسکے شوہر امیر المؤمنین علی علیہ السلام پر ظلم و ستم کرے گا،اور وہ بھی بدبخت اور اسکا برا حال ہو گا، جو انکی نسل اور انکے محبوں پر ظلم و ستم کرے گا۔
فرائد السمطين : 2 باب 11 ح 219
كشف الغمہ :ج 1ص467
40- قرأ رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ): هذا الآية : (في بيوت أذن الله أن ترفع ويذكر فيها اسمه) فقام إليه رجل فقال : أي بيوت هذه يا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ قال : بيوت الأنبياء , فقام إليه أبوبكر فقال : يا رسول الله أهذا البيت منها ؟ -مشيرا إلي بيت علي وفاطمة عليهما السلام-قال :نعم , من أفاضلها۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس آیت کی تلاوت کی : ان گھروں میں کہ خداوند نے خود اجازت دی ہے کہ انکا مقام بلند ہو اور ان گھروں میں خدا کا ذکر کیا جائے،
تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کونسے گھر ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ: ان سے مراد انبیاء کے گھر ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کرسیدتنا علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے گھر کی طرف اشارہ کر کے سوال کیا کہ:یا رسول اللہ، کیا یہ گھر بھی ان گھروں میں شامل ہے ؟ رسول خدا نے فرمایا کہ: ہاں، بلکہ یہ گھر ان گھروں سے افضل ہے۔
الدر المنثور :ج 6ص203
تفسير آية النور , روح المعاني :ج 18ص174
تفسير الثعلبي :ج 7ص107
الكشف والتبيان للمسفوي :صفحہ 72۔۔۔۔

10/10/2023

‏آپ کے بچے بھلے آپ سے پوچھیں یا نہ پوچھیں، آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے کہ

ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ

01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔

02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔

03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔

04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔

05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔

06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔

07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔

08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔

09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔

10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔

11: ولادت کے بعد جب عورت اپنی جسمانی کمزوری کی انتہاء پر ہوتی ہے ایسی حالت میں بی بی مریم کا کھجور کے تنے کو ہلا دینا بھی ایک معجزہ الٰہی ہے۔

12: قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر واپس تشریف اسی شہر کے مقام سفید مینار کے پاس ہوگا۔

13: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے۔

14: فلسطین ہی ارض محشر ہے۔

15: اسی شہر سے ہی یاجوج و ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہوگا۔

16: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔

17: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔

18: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔

19: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔

20: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔

21: وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔

22: اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔

23: دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔

24: بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچانے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔

25: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین" انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون" زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔
26: اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے۔

27: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر 500 گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔

🇵🇸♥️✌🏻

28/12/2022
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in London?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


London