Voice of Oppressed
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Voice of Oppressed, Health/Beauty, London.
21/01/2026
*مظفرآباد( )سی ایم ایچCMHمظفرآباد میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں گاؤں سنگڑھ، دھیرکوٹ کے رہائشی نکیر مشتاق کے نومولود بیٹے کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق واقعہ آج صبح تقریباً نو بجے کے قریب پیش آیا، جب ایک درمیانے قد، گندمی رنگ کی خاتون، جو مقامی زبان بول رہی تھی، نے نومولود بچے کی نانی کو چائے لانے کے بہانے وارڈ سے باہر بھیجا اور اسی دوران موقع پا کر بچے کو لے کر فرار ہو گئی۔ مذکورہ خاتون مبینہ طور پر رات بھر اسی وارڈ میں کسی دوسرے مریض کے ساتھ لیٹی رہی تھی۔واقعے کے بعد بچے کی والدہ شدید صدمے اور ذہنی اذیت سے دوچار ہیں جبکہ اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔لواحقین مظفرآباد کے تمام ذمہ دار اور باشعور شہریوں سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اگر ان کے آس پاس کسی مشکوک حالات میں موجود، بے اولاد یا غیر مانوس خاتون پر نظر پڑے، یا اس حوالے سے کوئی بھی قابلِ ذکر معلومات یا شواہد میسر ہوں تو فوراً تھانہ سٹی پولیس مظفرآباد کو مطلع کریں تاکہ بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔لواحقین اور شہری حلقے سی ایم ایچ انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین اور انسانیت سوز واقعے میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرنے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، نیز ہسپتالوں میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔*
25/12/2025
25/12/2025
غیر قانونی ؛غیر رجسٹرڈ میڈیکل ڈپلومہ سنٹرز کے خلاف فوری کاروائی کا حکم.
رِٹ پٹیشن نمبر 1851/2023 — فیصلہ
یہ پٹیشن جزوی طور پر منظور کی گئی۔
عدالت نے سرکاری فریقین کو ہدایت کی کہ
28.03.2019 کی پالیسی کو لفظاً و روحاً نافذ کیا جائے؛
آزاد کشمیر میں کام کرنے والے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے معیار قانون کے مطابق طے کیے جائیں؛
جو ادارے قانون کے برخلاف چل رہے ہیں، ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
غیر رجسٹرڈ غیر قانونی اداروں کے خلاف کارروائی
ڈی ایچ او مظفرآباد کا 03.05.2023 کا خط، جس میں
ورٹیکس انسٹیٹیوٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (مدینہ مارکیٹ، مظفرآباد) کے خلاف کارروائی کی سفارش تھی۔
کی جانے والی کاروائی کو قانون کے مطابق قرار دیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات میں قانونی کارروائی روکی نہیں جا سکتی۔
رِٹ پٹیشن نمبر 951/2019 (فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف سائنسز اینڈ تیکنالوجی )
اسی نوعیت کا معاملہ تھا، جو 14.02.2023 کو خارج ہو چکا ہے۔
اس سے موجودہ کیس میں بھی درخواست گزار پٹیشنرزکو ریلیف نہیں مل سکتا۔
مذکورہ دلائل کے نتیجے میں رٹ درخواست نمبر 1851/2023 جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے اور سرکاری جواب دہندگان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 28.03.2019 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق پالیسی کو حرف بحرف اور روح کے مطابق نافذ کریں اور آزاد جموں و کشمیر میں عوامی/خصوصی شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے معیار کا تعین کریں اور قانون کے مطابق عمل کریں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں بھی ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ قانون کے خلاف چلنے والے اداروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کریں۔
جبکہ رٹ درخواست نمبر 1886/2023، جس میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے، کو مسترد کیا جاتا ہے اور اسے ریکارڈ میں درج کیا جاتا ہے۔
عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو فیصلہ بھیجا جائے گا۔ عمل درآمد کے بعد، متعلقہ ادارے اپنی کارروائی کی رپورٹ بھیجیں گے۔
معزز عدالت گرامی نے اس حکم نامے میں *تین ماہ* کی مدت کا ذکر ہے، جس کے اندر تعمیل رپورٹ رجسٹرار ہائی کورٹ کو پیش کرنا ہوگی۔ یہ مدت *23.12.2025* سے شروع ہوگی، یعنی رپورٹ *23.03.2026* تک پیش کرنی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ایک اہم اور ضروری وضاحت یہ ہے کہ صحت سہولت (ٹریٹمنٹ) کارڈ آزاد کشمیر میں بحال نہیں ہو رہا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ صحت کارڈ دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے، جو کہ حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ماضی میں آزاد جموں و کشمیر میں جاری صحت سہولت کارڈ کی سہولیات (ہیلتھ انشورنس) کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔ اب اس کے متبادل کے طور پر ریاستی حکومت اپنے مختص شدہ بجٹ اور نئے طریقۂ کار کے تحت ایک ریاستی ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کر رہی ہے۔
اس نئے ریاستی ہیلتھ انشورنس نظام کے تحت آزاد کشمیر کے عوام کو ان ادارہ جات میں، جن کے ساتھ انشورنس کمپنیوں کے ذریعے معاہدے (پینلنگ) کی جائے گی، انشورنس کلیم کی بنیاد پر بلاامتیاز طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مریضوں کو ہسپتال میں داخلے کی صورت میں مفت علاج معالجے کی سہولت حاصل ہو گی۔
ابتدائی مرحلے میں ریاست کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو پینل پر شامل کیا جائے گا۔ یہ ایک باقاعدہ، شفاف اور مرحلہ وار عمل ہے جسے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔ ہسپتالوں کی پینلنگ کا مرحلہ عموماً آخری مراحل میں مکمل کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل اس عمل کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، یا قبل از وقت قیاس آرائیاں اور پروپیگنڈا کرنا، ریاستی عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے اور ایسی روش عوامی مفاد کے منافی ہے۔
11/12/2025
شاردہ۔
ایک شہری مہمان انتقال کر گیا ہے۔ مہمان آج شام تاؤ بٹ سے واپس آیا تھا۔ واپسی پر، وہ واش روم گیا اور کافی دیر تک باہر نہ آنے کے بعد، وہ بے ہوش ہو گیا۔
اسے فوری طور پر ایمبولینس سروس کے ذریعے 6NLI لایا گیا۔ معلوم ہوا کہ اس کی موت ہو چکی ہے، جس کی تصدیق *کیپٹن ڈاکٹر رمضان صاحب* (RMO 6 NLI) نے کی۔
وہ بشیر پرنٹنگ فیکٹری سرگودھا روڈ فیصل آباد میں کیشیئر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
*تفصیلات درج ذیل ہیں*
نام *فتح خان اعوان ولد م حیات*
رہائشی مکان نمبر 14 گلی نمبر 7 رشید نگر تحصیل و ضلع فیصل آباد
شناختی کارڈ نمبر 33100-749096-1
تاریخ پیدائش 1946
موبائل نمبر 03066096252
موت کی وجہ بلڈ پریشر.
02/09/2025
عدالت العالیہ آزادکشمیر نے ایڈمن کیڈر محکمہ صحت عامہ کی گریڈ بیس کی دو خالی آسامیوں پر ڈاکٹر سردار ادریس اور ڈاکٹر فاروق اعوان کی ترقیابی کا فیصلہ پہلے ہی دے رکھا ہے۔ محکمہ صحت کے سینیئر آفیسران ڈاکٹر سردار آفتاب؛ ڈاکٹر سردار ادریس اور ڈاکٹر فاروق اعوان میں سے کسی ایک سینیئر آفیسر کو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بنائے جانے کا امکان
ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ آزاد کشمیر کی تعیناتی کے حوالے سے فیک جعلی خبروں پر PMA؛YDAکا ردعمل
وزیراعظم آزاد کشمیر کبھی بھی میرٹ کی پامالی نہیں کرین گے انصاف کا بول بالا ہو گا کسی جونیئر ترین امیدوار کو تعینات کرنا محکمہ صحت عامہ کو تباہ کرنے کے مترادف ہو گا عدالتوں کے فیصلہ جات موجود ہیں اور عدالتوں سے دو دن میں ایسا نوٹیفکیشن منسوخ کروایا جائے گا
YDA PMA مشترکہ اعلامیہ
یہ معاملہ بظاہر ایک ذاتی جھگڑے یا عام تنازعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ نوعیت کی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتقامی کارروائی کا کیس ہے۔ خضر حیات عباسی نے جہلم ویلی ہیلتھ پیکج میں کی جانے والی بوگس اور غیر قانونی تقرریوں کو عدالت میں چیلنج کیا، جو کہ ایک آئینی اور قانونی حق ہے۔ کسی شہری کا عدالت سے رجوع کرنا اس کی ذمہ داری اور شہری شعور کی علامت ہے۔
لیکن اس قانونی جدوجہد کے جواب میں ڈی ایچ او جہلم ویلی نے جو رویہ اختیار کیا، وہ نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہے بلکہ قانون کے بھی سراسر خلاف ہے۔
لالچ اور رشوت کی پیشکش
سب سے پہلے خضر حیات عباسی کو عدالت سے کیس واپس لینے کے عوض مستقل نوکری اور دیگر مراعات کی پیشکش کی گئی۔ یہ عمل خود اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ معاملہ صاف اور شفاف نہیں ہے، ورنہ ایک ذمہ دار افسر کو عدالت میں صفائی پیش کرنے کے سوا کسی غیر قانونی ہتھکنڈے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
دھمکیاں اور بلیک میلنگ
جب لالچ سے کام نہ بنا تو سیدھی دھمکی دی گئی کہ "تمہارا جینا حرام کر دوں گا"۔ یہ طرزِ عمل سرکاری عہدے کے تقدس کی توہین ہے اور ایک سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ عوامی عہدے پر بیٹھ کر کسی شہری کو دھمکانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
جعلی مقدمہ بنانے کی کوشش
ایک فوت شدہ بچی کی موت کو بنیاد بنا کر خضر عباسی کو قتل کے مقدمے میں پھنسایا جانا محض بلیک میلنگ نہیں بلکہ قانون کی توہین ہے۔ لیکن بچی کے والد نے صاف انکار کر کے اس سازش کو بے نقاب کر دیا۔
میڈیکل سٹور پر چھاپہ اور چوری
بغیر نوٹس چھاپہ مارا گیا، زبردستی گالم گلوچ کی گئی، دھکے دیے گئے اور چار لاکھ روپے غائب کر دیے گئے۔ پھر ایکسپاٸر ادویات خود لا کر سٹور کے اندر پھینکی گئیں تاکہ ثبوت تیار کر کے کیس بنایا جا سکے۔ یہ سب واضح طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے حربے ہیں۔
اصل سوال
اگر ڈی ایچ او پر لگنے والے الزامات جھوٹے ہیں تو پھر عدالت میں صفائی دینا مشکل کیوں ہے؟ انتقامی کارروائیوں اور بلیک میلنگ کے حربے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ "دال میں کچھ کالا ہے"، اور یہی خوف انہیں غیر قانونی راستوں پر دھکیل رہا ہے۔
یہ سارا معاملہ ایک عام شہری کے ساتھ طاقت کے ناجائز استعمال اور اداروں کے غلط استعمال کی واضح مثال ہے۔ خضر حیات عباسی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ:
کیس واپس نہیں لیا جائے گا۔
فیصلہ عدالت کرے گی۔
اگر ڈی ایچ او بے قصور ہے تو اسے عدالت کا سامنا کرنا چاہیے۔
یہ واقعہ صرف ایک شخص کی لڑائی نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک آئینہ ہے کہ کس طرح طاقتور لوگ عوام کو دبانے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرے اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں اور حق کو دبنے نہ دیں۔
18/08/2025
سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے محکمہ صحت میں بھرتیوں کے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایچ او حویلی جواد افضل کیانی کو جعلسازی کرنے اور پبلک ڈاکومنٹس متاثر فریق کو نہ دینے پر عہدے سے ہٹا کر پانچ سال تک ڈی ایچ او تعینات نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ باقی انکوائری کیلئے چیف سیکرٹری کو ہدایات جاری
فیصلہ اوپن میرٹ کے حق میں سنا دیا گیا۔ آئندہ تمام اسامیوں کی مشتہرگی اوپن میرٹ ہو گی
عدالت العالیہ نے ضلعی کوٹہ ختم کرتے ہوئے آئندہ آسامیاں اوپن میرٹ پر مشتہر کرنے کے احکامات دے دئیے ہیں۔. . . . . . . . . . . . . . .
مظفرآباد(پی آئی ڈی) 18 اگست 2025
محکمہ صحت میں بھرتیوں کے معاملہ پر سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا سخت نوٹس، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حویلی جواد افضل کیانی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو فوری طور پر بطور ڈی ایچ او پوسٹ سے ہٹانے اور پانچ سال تک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی پوسٹ پر تعینات نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ جواد افصل کیانی اور دیگر اہلکاران جنہوں نے ڈرائیور کی تعیناتی میں ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر کی میرٹ لسٹ میں درو بدل کر کے ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس نہ کرنے والے امیدوار ٹمپرنگ کر کے کامیاب ظاہر کر کے تعینات کر دیا۔ عدالتی حکم پر ایس ایس پی حویلی عامر نوابی اور ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر نے ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ تعینات کردہ ڈرائیور ڈرائیونگ ٹیسٹ میں پاس نہ ہواتھااور ڈرائیونگ ٹیسٹ رپورٹ میں ڈی ایچ او کے آفس میں ردو بدل کی گئی ہے۔علاوہ ازیں ڈی ایچ او نے ایڈھاک تعینات شدہ ملازمین کی جانب سے میرٹ لسٹ کی مصدقہ نقولات کی درخواست پران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کا حکم دے رکھا تھا۔ فیصلہ قائمقام چیف جسٹس خواجہ محمد نسیم اور جسٹس رضا علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا۔ جسٹس رضا علی خان نے فیصلہ تحریر کیا جس میں چیف سیکرٹری کو اس معاملہ کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرانے کا حکم بھی دیا۔علاوہ ازیں پبلک ڈاکومنٹس کی مصدقہ نقوالات کی فراہمی جو ہر شہری کا حق ہے کی نسبت واضح پالیسی اور طریقہ کار وضع کرنے کا بھی حکم دیا۔
https://www.facebook.com/share/v/1GatH4Ck94/
سرکار انوار کی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ۔۔
موجودہ حکومت کے وزیر موصوف کی اہلیہ کی جانب سے قاضی طاہر شریف ٹیکنالوجسٹ محکمہ صحت عامہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پٹہکہ کو گالم۔ گلوچ دھمکیاں ۔۔
سرکاری ملازم۔ کوبہراساں۔ کرنے کی دھمکیاں۔ مظفرآباد پراپر پولیس اسٹیٹ بن چوکی ہے ۔۔ملاحظہ فرمائیں نام۔ نہیں۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہسپتال کو بھی گالم گلوچ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
London
