Noori Shifa Khana

Noori Shifa Khana

Share

Unani / Ayurvedic medicine are available

12/05/2026

*💫نرم مزاجی اچھے اخلاق اور میٹھی مسکراہٹ ایمان کی علامت ھے💫*
*معزز قارئین*
*السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ*

الفاظ خرچ ہوتے ہیں عمل جمع ہوتا ہے آپ چیخ کر کہیں میں ایماندار ہوں کوئی نہیں مانے گا آپ خاموشی سے امانت لوٹا دیں زمانہ آپ کو یاد رکھے گا۔۔۔ پھول نہیں کہتا میں خوشبو دار ہوں ہوا خود بتا دیتی ھے چراغ نہیں کہتا میں روشن ہوں اندھیرا خود گواہ بن جاتا ھے آپ مت کہیں میں اچھا ہوں دنیا خود کہے گی یہ اچھا ھے

کیونکہ لوگ آپ کی باتیں بھول جاتے ہیں مگر آپ کا رویہّ یاد رکھتے ہیں۔۔ آپ کی تقدیر ہوا میں گم ہو جائے گی مگر آپ کا سلوک دلوں میں گھر کر جائے گا۔۔ سچائی بولنے میں نہیں جینے میں ھے عزت مانگنے سے نہیں کمانے سے ملتی ھے اور پہچان بنانے سے نہیں بننے سے ملتی ھے اپنے آپ کو بہتر بنائیں پھر کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ ہمارا عمل ہی ہمارا تعارف ھے

انسان کی قیمت اس کے عمل سے بنتی ھے دنیا ہمیشہ اس شخص کی عزت کرتی ھے جو سچائی ذمہ داری اور شرافت پر قائم رہے آپ کا لباس آپ کی جیب آپ کی گاڑی یہ سب وقتی ہیں اصل دولت آپ کا کردار ہے اگر کردار مضبوط ہو تو حالات خود بدل جاتے ہیں اگر اندر کمزوری ہو تو دولت بھی عزت نہیں دلوا پاتی اپنے آپ کو ہر لحاظ سے عمدہ بنائیں، باقی سب کُچھ خود عمدہ ہوتا چلا جائے گا۔۔۔ ان شاء اللہ

اے اللّٰہ نرم مزاجی اچھے اخلاق اور میٹھی مسکراہٹ ایمان کی علامت ھے۔ اگر یہ فطری ہو تو تیرا کرم ھے اور اگر کوشش سے حاصل ہو تو تیرا انعام ھے۔۔۔اے اللّٰہ اس انعام سے ہمیں سرفراز فرما۔۔ہمیں سچائی ایمانداری بلند اخلاق و کردار کا نمونہ بنا دے۔۔۔ دنیا ہماری گواہی دے اور تیری رضا اور خوشنودی حاصل ہو ایسی فطرت ہم میں پیدا فرما ۔ اے اللّٰہ مجرم ہیں۔تو شہنشاہ ہے۔ تجھے تیری شانِ رحیمی و کریمی کا واسطہ ہم سب پر اپنا خصوصی کرم فرما۔کیونکہ ہم کسی امتحان اور آزمائش کے قا بل نہیں ہیں
آمین یا رب العالمین
والسلام
نورالدین احمد
آل انڈیا علماء بورڈ

30/03/2026

*💫 شادیہ نور حسن کو دسویں بورڈ کے امتحانات میں شاندار کامیابی اور اپنے ضلع میں نمایاں مقام حاصل کرنے پر دلی مبارکباد💫*
*معزز قارئین*
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

تعلیم و کامیابی کی اس خوشگوار ساعت میں، دل خوشی و مسرت سے معمور ہے کہ ہماری بیٹی شادیہ نور حسن نے اپنی محنت، لگن اور استقامت کے ذریعے نہ صرف امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی بلکہ اپنے ضلع میں نمایاں مقام بھی حاصل کیا۔ یہ کامیابی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی عزت، محنت اور دعاؤں کا ثمر ہے۔ آپ کو اور آپ کے معزز اہلِ خانہ کو اس عظیم کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں

بلاشبہ، کامیابی اُنہی کے قدم چومتی ہے جو عزمِ مصمم، حوصلۂ بلند اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر کامیاب انسان کے پسِ پردہ انتھک محنت، صبر و استقلال اور بے لوث قربانیوں کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ محنت محض کتابوں کے اوراق پلٹنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے جڑی وہ لگن ہے جو انسان کو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے

تعلیم دراصل ایک خاموش انقلاب کی بنیاد ہے۔ جب ایک محدود وسائل رکھنے والا بچہ خاموشی سے علم کی شمع روشن کرتا ہے، تو وہ صرف اپنا نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کا مقدر سنوار رہا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسا سازگار ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو جِلا بخش سکیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں

زندگی کی راہوں میں مشکلات آتی ہیں، مگر ہمت و حوصلہ رکھنے والے ان رکاوٹوں کو عبور کر کے اپنی منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ جیسے ایک ننھی سی چیونٹی راستہ بدل کر بھی اپنی منزل کی طرف رواں رہتی ہے، ویسے ہی انسان کو بھی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ چھوٹے چھوٹے قدم، مسلسل کوشش اور پختہ ارادہ انسان کو عظیم مقاصد تک پہنچا دیتے ہیں

یاد رکھیں! محنت کا پھل ہمیشہ شیریں ہوتا ہے۔ آج کی جدوجہد کل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہر دن کو محنت، ہر لمحے کو کوشش اور ہر حال میں حوصلے کے ساتھ گزاریں، کیونکہ یہی کامیابی کا اصل راز ہے

بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے: اے اللہ! ہمارے بچوں کے دلوں میں علم کا شوق، محنت کا جذبہ اور کامیابی کا عزم پیدا فرما۔ انہیں علمِ نافع عطا فرما، ان کے راستوں کو آسان فرما، اور انہیں دین و دنیا دونوں میں سرخرو فرما۔ یا رب! ان کے مستقبل کو روشن کر، انہیں قوم و ملت کا فخر بنا، اور انہیں ایسے بلند مقامات عطا فرما جہاں سے وہ انسانیت کی خدمت کر سکیں۔
آمین یا رب العالمین۔
والسلام
✍️نورالدین احمد
ترجمان ممبئی
آل انڈیا علماء بورڈ

04/03/2026
04/03/2026

*💫آج فضا میں ایک خاموشی ہے… ایسی خاموشی جو چیخ چیخ کر غم سنا رہی ہے💫*
*(معزز قارئین!)*
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

آج ایک قوم سوگوار ہے۔لاکھوں آنکھیں اشکبار ہیں۔کئی دل غم کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔ہمیں اس لمحے کسی شیعہ یا سنی سے غرض نہیں آج وہ شخص،رخصت ہوا ہے جو خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتا تھاجو حضرت محمد ﷺ کوآخری نبی,مانتاتھااختلافات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، سیاسی آراء جدا ہو سکتی ہیں، نظریات مختلف ہو سکتے ہیں مگر موت کے دروازے پر انسان کا ایمان ہی اس کی اصل پہچان ہوتا ہے۔

اختلاف کرنا ہر شخص کا حق ہے، مگر کسی کی موت پر نفرت کے چراغ جلانا… دلوں کی دراڑوں کو اور گہرا کرنا… یہ نہ دین کی تعلیم ہے، نہ انسانیت کا شیوہ۔
آج سوال یہ نہیں کہ کون کس مسلک سے تھا۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ہمارا دشمن ہمارے ناموں سے نہیں پہچانتا، وہ ہماری تقسیم سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب تک ہم اس جملے میں سکون تلاش کرتے رہیں گے کہ “فلاں کی باری آگئی”، تب تک یہ پہیہ چلتا رہے گا—آج ایک، کل دوسرا، پرسوں تیسرا۔تاریخ کے اوراق خاموش نہیں۔

اندلس اسی طرح ہاتھ سے نکلا تھا۔بغداد اسی طرح جل کر راکھ ہوا تھا۔خلافتِ عثمانیہ بھی اندرونی کمزوریوں کے بعد بکھر گئی تھی۔تاریخ صرف نام بدلتی ہے، سبق نہیں بدلتی۔آج ایک ایک کر کے چراغ گل ہو رہے ہیں۔کچھ ہم اپنی سانسوں سے بجھا رہے ہیں، کچھ ہواؤں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنی صفوں کو درست نہ کیا، اگر ہم نے اختلاف کے باوجود احترام کا ہنر نہ سیکھا، تو آنے والی نسلیں صرف فہرستیں پڑھیں گی قیادت نہیں دیکھیں گی۔وقت کی باری چل رہی ہے۔پہیہ رکتا نہیں کرتا۔

ایسے میں ہمیں اپنے دلوں کے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں نفرت کے بیجوں کو کاٹنا ہوگا، ورنہ یہ درخت سایہ نہیں دے گا—صرف زخم دے گا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ مسلکی دیواریں جب حد سے اونچی ہو جائیں تو امت کا آسمان چھوٹا ہو جاتا ہے۔آئیے اس لمحے کو نفرت کا ایندھن نہ بنائیں، بلکہ اتحاد کی شمع جلائیں۔ کسی کی موت کو طنز کا موضوع نہ بنائیں، بلکہ دعا کا وسیلہ بنائیں۔

اے رب العالمین!
ہمیں فرقہ پرستی اور مسلکی تعصبات سے اوپر اٹھنے کی بصیرت عطا فرما۔ہمارے وطن کو سلامتی عطا فرما۔ اسے امن اور اطمینان کا گہوارہ بنا دے۔ہمیں ہر ظاہر و باطن کے فتنے سےمحفوظ رکھ۔خوف کے اندھیروں کو دور کر دے اور ایسا امن لکھ دے جو کبھی ختم نہ ہو۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین

نورالدین احمد
ترجمان ممبئی
آل انڈیا علماء بورڈ

04/03/2026

*💫“اگر مسلمانوں کے دشمن مسلمان نہ ہوتے تو آج مسلمان ساری دنیا کو فتح کر لیتے” — صلاح الدین ایوبی💫*
*(معزز قارئین)*
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو صرف سلطنتیں نہیں گرتیں، دل بھی ٹوٹتے ہیں۔ باری باری بجھتے چراغ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زوال اچانک نہیں آتا، وہ اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جب ہم تاریخ کو ایک ہی دائرے میں گھومتے دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم نے سبق کم اور تماشہ زیادہ دیکھا ہے۔

ہم آج بھی انہی حصاروں میں کھڑے ہیں جہاں سوچ مسلکوں، گروہوں اور وقتی سیاسی خوشیوں تک محدود ہو چکی ہے۔ فلاں گرا تو سکون ملا، فلاں مارا گیا تو دل ٹھنڈا ہوا — گویا امت کا درد نہیں، صرف اپنے حلقے کی جیت اہم ہو۔ حالانکہ تاریخ کوئی اسٹیج نہیں جہاں ہم تالی بجائیں؛ یہ شطرنج کی وہ بساط ہے جہاں مہرے بھی ہم ہیں اور نقصان بھی ہمارا ہی ہوتا ہے۔

جب صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو کچھ حلقوں میں خاموش خوشی تھی۔ جب علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تو دوسری سمت سے سرگوشیاں اٹھیں۔ کیا ہم نے اپنے مرنے والوں کو بھی مسلکوں میں تقسیم کر دیا ہے؟ اگر کسی کا کفر کے سامنے کھڑا ہونا ہمیں پسند ہے تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ دشمن کی نظر میں سب کی شناخت ایک ہی ہوتی ہے۔

فلسطین کی سرزمین پر احمد یاسین اور اسماعیل ہنیہ مزاحمت کی علامت بنے، اور اسی خطے میں قاسم سلیمانی اپنے تصورِ دفاع کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہمارے درمیان عقائد کا اختلاف اپنی جگہ واضح اور موجود ہے، اور وہ اپنی علمی و دینی بنیادوں پر برقرار ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظر میں جب کوئی مسلمان ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی پہچان صرف “مسلمان” ہوتی ہے، مسلک نہیں۔

ہمیں اپنے نظریاتی اختلاف کو نفرت کی آگ نہیں بنانا، بلکہ فہم اور حکمت کے ساتھ سنبھالنا ہے۔ اختلاف اگر دشمنی بن جائے تو امت کمزور ہوتی ہے، اور اگر شعور بن جائے تو امت مضبوط ہوتی ہےہمارے اور انکے عقائد میں بہت واضح فرق ہے اور نہ ہم شیعاؤں کو اچھا سمجھتے ہیں ہم صرف اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ موجودہ ممالک جو اسلامی کہلاتے ہیں ان میں پہلا حکمران تھا جو امریکہ اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو گیا باقی سب امریکہ کو ہی آقا خدا سب کچھ مانتے ہیں۔۔۔۔!!رمضان المبارک کا بابرکت زمانہ ہے، مغفرت کی گھڑیاں ہیں ایسے میں جنگوں کی خبریں، تباہی کی تصویریں اور امت کی بے بسی دل کو مزید بوجھل کر دیتی ہے۔

اے اللہ! ہم کمزور ہیں اور تیری آزمائشیں سخت۔ ہم تیرے در کے سوالی ہیں۔اے ربِّ کریم! جو بوجھ ہم نہیں اٹھا سکتے وہ ہم پر نہ ڈال۔ہمارے دلوں سے کینہ نکال دے، ہمیں حکمت دے، بصیرت دے، اتحاد کی روح عطا فرما۔مسلمانوں کے حال پر رحم فرما، ان کے لئے آسانیاں پیدا فرما، اور ہمیں اپنی رضا نصیب فرما۔ہم تیرے بندے ہیں، تجھ ہی سے مانگتے ہیں، اور تیری رحمت کے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں۔ہم سے منہ نہ موڑ، بس ہم سے راضی ہو جا۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

✍️ نورالدین احمد
ترجمان ممبئی
آل انڈیا علماء بورڈ

01/03/2026

*💫مدرسہ ایک ایسا ادارہ ھے جو قوم کے معمار تیار کرتا ھے💫*
*(معزز قارئین)*

*السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ*

“مدرسہ “ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ھے جہاں طلبہ کو دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ھے۔ یہ تعلیم کا ایک روایتی نظام ھے جو صدیوں سے مسلم معاشرے میں علم کے فروغ کا ذریعہ رہا ھے۔ مدارس میں قرآن و حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی تاریخ کی تعلیم دی جاتی ھے، جبکہ جدید مدارس میں سائنسی و عصری مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔

مدارس علم کے وہ چراغ ہیں جو جہالت کے اندھیروں کو مٹاتے ہیں۔ یہ نہ صرف دینی تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو اچھا انسان اور باکردار شہری بھی بناتے ہیں۔ اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی مدارس کا ایک بنیادی مقصد ہوتا ھے ۔۔ آج کے دور میں مدارس کا دائرہ وسیع ہو چکا ھے۔ کئی مدارس میں جدید مضامین جیسے ریاضی، سائنس، انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ھے

تاکہ طلبہ دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی چیلنجز کا بھی سامنا کر سکیں۔ کچھ مدارس جدید یونیورسٹیوں کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں اور طلبہ کو مزید تعلیمی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔مدرسہ ایک ایسا ادارہ ھے جو قوم کے معمار تیار کرتا ھے۔ یہ دینی اور دنیاوی علوم کو یکجا کر کے طلبہ کی تربیت کرتا ھے تاکہ وہ ایک متوازن اور باشعور زندگی گزار سکیں۔ مدارس کے نظام میں مزید بہتری لا کر ہم انہیں ترقی یافتہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔۔۔۔

اپنے دینی اداروں کو شیطانوں کے شر سے ان کو غلط نظر سے دیکھنے والوں سے بچا ئیں اپنے اداروں کو مزید ترقی کامیابی کامرانی سے ہمکنار کریں۔۔

اے اللّٰہ ہمارے مدارس علم کے وہ چراغ ہیں جو جہالت کے اندھیروں کو مٹاتے ہیں ان کی حفاظت اور مزید حوصلہ افزائی فرما۔۔ اے اللّٰہ ہمارے گھرانوں میں دینی تعلیم کا بول بالا فرما۔۔ ہمارے بچوں کو مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کا جوش جزبہ پیدا فرما۔۔ اے اللّٰہ ہم سب کی اور دین اسلام کی مدد فرما ، دین اسلام کو غالب فرما اور ہمارے معاشرے میں دین کے داعی شیدائی پیدا فرما۔۔
آمین یا رب العالمین

طالب دعا
نورالدین احمد

01/03/2026

*نمازِ تراویح میں تکمیلِ قرآنِ کریم کے بابرکت موقع پر*
الحمدللہ مدرسہ صدائے اسلام ایجوکیشن ٹرسٹ (گیٹ نمبر 6، مالونی، ملاڈ ویسٹ ممبئی) میں ایک روح پرور اور ایمان افروز نشست منعقد ہوئی۔
اس موقع پر خصوصی خطاب فرماتے ہوئے
حضرت مولانا شاہد ناصری الحنفی نے نمازِ تراویح کی عظمت و فضیلت نہایت دلنشین اور مؤثر انداز میں بیان کی۔ آپ نے قرآنِ کریم سے شغف، قیام اللیل کی برکات، اور رمضان المبارک میں عبادت کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جس سے سامعین کے دل ایمان کی حرارت سے منور ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ اس بابرکت مجلس کو قبول فرمائے، مدرسہ، اساتذہ، طلبہ اور تمام منتظمین کی کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ہمیں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

نورالدین احمد

01/03/2026

*💫کتنی جلدی رمضان کا پہلا عشرہ گزر گیا جیسے پیاس لگی ہی نہیں افطار گزر گیا💫*
*(معزز قارئین)*
*السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ*

جس رمضان کا انتظار تھا.... وہ کتنی تیزی سے گذر رہا ہے ۔ رحمت کا عشرہ گزر بھی چکا ، دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کیا ہم اللہ کی رحمتوں سے سرفراز ہو سکے ہیں ؟؟؟ اگر روزہ رکھ کر بھوک پیاس کے علاؤہ اپنے ذاتی معاملات میں خاص تبدیلی محسوس نہ ہو رہی ہو.....اور وہ ہی صبح و شام ہو.... اور وہ ہی رنگ ڈھنگ ہوں..... اور وہی برے اخلاق ہوں ؟ تو سمجھ لیں یہ روزہ نہیں بھوک ہڑتال ہے۔

روزے آپ کو جسمانی وزن کم کرنے کے لئے نہیں بلکہ گناہوں کا وزن کم کرنے کے لئے رکھنا ہوتا ہے ۔۔اگر آپ اس رمضان میں اپنا گناہوں کا وزن کم نہ کر سکے۔ اپنی اخلاقی اقدار اور اطوار کو بہتر نہ بنا سکے ؟ ۔ خود میں بہتری اور تبدیلی نہ لا سکے تو پھر رمضان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔ عبادت کا اثر اگر مسجد سے باہر کے معاملات میں نظر نہ آئے تو وہ عبادت نہیں عادت ہے۔۔

اب بھی وقت ہے سُستی چھوڑ دیں اپنے اندر تبدیلی لائیں اپنے معاملات درست کریں۔۔ کسی سے بول چال بند ہے قطع تعلق کر چکے ہیں بھلے آپ کی غلطی نہیں بھی ہے تو اس سے معافی مانگ لیں یاد رکھیں قطع تعلق کرنے والا اس رمضان میں بھی بخشا نہیں جائے گا۔۔۔ رمضان المبارک جیسا مہینہ زندگی میں پھر ملے نہ ملے ۔ اسی رمضان کو اپنی عمر کا آخری جان کر ہی اللہ سے مضبوط تعلق قائم کریں ۔۔۔۔ !!

کتنی جلدی رمضان کا پہلا عشرہ گزر گیا، جیسے پیاس لگی ہی نہیں اور افطار گزر گیا۔ہم سب کو اس بابرکت مہینے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں جھوٹ، غیبت، قطع تعلقی اور تمام بری عادتوں سے بچنا ہے۔شب بیداری میں صرف اور صرف اللہ سے لو لگانی ہے۔تقویٰ اختیار کرنے کے لیے اللہ ہی سے مدد مانگنی ہے۔چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے بچنے کی سعی کرنی ہے۔روزے کو اللہ کی رضا کا، اور شب بیداری کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بنانا ہے۔

اے اللہ اس ماہِ مبارک کی رحمتیں، برکتیں اور مغفرتیں ہمیں عطا فرما۔اے ہمارے مولا ہم گنہگار ہیں ہماری مغفرت فرما اور ہماری عبادت میں جو کمی رہ گئی اسے اپنی رحمت سے پورا فرما ہماری عبادتوں اور دعاؤں کو قبول و مقبول فرما۔
آمین، ثم آمین، یا رب العالمین

✍️ نورالدین احمد
ترجمان ممبئی
آل انڈیا علماء بورڈ

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Mumbai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Makrani Pada Malad East Mumbai
Mumbai
400097