Natural Cure Clinic
Cure Your Body Not Disease
09/06/2026
ہر مریض کو ہمیشہ دوائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مرض کے علاج میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ علامات کا علاج کرنے سے پہلے اُن کی نوعیت، شدت اور پس منظر کو سمجھا جائے۔ بعض اوقات مریض کو محسوس ہونے والی علامات سطحی، عارضی یا ذہنی دباؤ، خوف، وہم، تھکن، نیند کی کمی یا طرزِ زندگی کی خرابیوں سے متعلق ہوتی ہیں، جن کے پیچھے کوئی بڑی بیماری یا واضح پیتھالوجی موجود نہیں ہوتی۔ ایسی صورتوں میں صرف دوائی بڑھا دینا ہمیشہ بہترین حل نہیں ہوتا۔
ہولسٹک اپروچ اسی وجہ سے انسان کو ایک مکمل وحدت کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس میں صرف جسمانی علامات ہی نہیں بلکہ مریض کے جذبات، احساسات، ذہنی کیفیت، روزمرہ روٹین، نیند، غذا، جسمانی سرگرمی، خاندانی و سماجی حالات اور مجموعی زندگی کے توازن کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ بیماری کے اظہار کے پیچھے موجود اصل عوامل کو سمجھا جائے اور انسان کی مجموعی صحت کو بہتر بنایا جائے۔
بےدریغ دواؤں کے استعمال کا مسئلہ
آج کل ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض مریض مختلف معالجین، ادویات یا خود علاج کے ذریعے اتنی زیادہ دوائیں استعمال کر لیتے ہیں کہ ان کی اصل بیماری کی تصویر دھندلی ہو جاتی ہے۔ علامات آپس میں غلط ملط ہو جاتی ہیں، نئی علامات دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں، اور مریض کو سمجھ نہیں آتا کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔
ایسے مریضوں میں بعض اوقات مزید دوائیں شامل کرتے رہنا فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ضروری ہوتا ہے کہ دواؤں کا جائزہ لیا جائے، غیر ضروری ادویات کم کی جائیں، ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس کو پہچانا جائے، اور جسم کو بحالی کا موقع دیا جائے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر علامت کو نظر انداز کیا جائے
یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ ہر علامت کو وہم قرار دینا درست نہیں۔ اگر علامات شدید ہوں، مسلسل بڑھ رہی ہوں، روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہوں، یا خطرے کی نشاندہی کرتی ہوں تو مناسب طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ لازمی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
1. بخار، وزن میں غیر معمولی کمی، یا مسلسل کمزوری
اگر بخار، وزن میں غیر معمولی کمی، یا مسلسل کمزوری موجود ہو تو اس کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔
2. سانس میں دشواری یا سینے میں درد
سانس میں دشواری یا سینے میں درد جیسی علامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
3. پیشاب یا پاخانے میں خون
پیشاب یا پاخانے میں خون نظر آئے تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔
4. شدید یا مسلسل سر درد
شدید یا مسلسل سر درد جو پہلے سے مختلف ہو، معائنہ چاہتا ہے۔
5. اچانک کمزوری، بے ہوشی، یا فالج جیسی علامات
اچانک کمزوری، بے ہوشی، یا فالج جیسی علامات فوری طبی توجہ کا تقاضا کرتی ہیں۔
اہم
بعض علامات فوری طبی توجہ چاہتی ہیں
اگر علامات شدید ہوں، مسلسل بڑھ رہی ہوں، یا روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہوں تو خود تشخیص کے بجائے معالج سے رابطہ ضروری ہے۔
متوازن طبی سوچ
بہترین طبی رویہ یہ ہے کہ نہ تو ہر معمولی علامت پر غیر ضروری دوائیں دی جائیں، اور نہ ہی اہم علامات کو نظر انداز کیا جائے۔ سمجھدار علاج وہ ہے جس میں:
1. اصل وجہ تلاش کی جائے۔
2. مریض کو مجموعی طور پر سمجھا جائے۔
3. ضرورت کے مطابق دوائی دی جائے۔
4. غیر ضروری ادویات سے بچا جائے۔
5. طرزِ زندگی، ذہنی سکون، نیند، غذا اور جسمانی توازن پر توجہ دی جائے۔
صحت صرف بیماری کی غیر موجودگی کا نام نہیں، بلکہ جسم، ذہن اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متوازن ہونے کا نام ہے۔ اسی لیے بعض مریضوں کو دوائی کی ضرورت ہوتی ہے، بعض کو رہنمائی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کی، اور بعض کو دونوں کی۔ اصل کام مریض کے لیے صحیح وقت پر صحیح طریقہ علاج کا انتخاب ہے۔
15/05/2026
ہمارے معاشرے میں PCOS والی لڑکی اپنے درد کا مذاق بنتے دیکھتی ہے اپنی تکلیف کا راز چھپاتی ہے ڈرتی ہے کہ لوگ کہیں گے یہ بچہ پیدا نہیں کر سکے گی
حالانکہ 70–80% خواتین صحیح علاج سے قدرتی طور پر ماں بن سکتی ہیں۔
مسئلہ بیماری نہیں، مسئلہ خاموشی ہے۔
بات کریں، سیکھیں، علاج کرائیں کیوں کہ PCOS شرمندگی نہیں، ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کا مکمل حل موجود ہے۔
نیچرل کیور کلینک عوامی روڈ گھڑی پنہ نواں شہر
Contact : 03422067074
🌸 بچوں کا رویّہ اور ہومیوپیتھک علاج 🌸
بچے ہمارے گھروں کی رونق ہوتے ہیں۔ ان کی معصوم شرارتیں، باتیں اور حرکات والدین کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہیں، لیکن بعض اوقات بچوں کا رویّہ والدین کے لیے پریشانی کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ ضد، غصہ، چڑچڑاپن، نافرمانی، خوف، اعتماد کی کمی، یا پڑھائی میں دل نہ لگنا — یہ سب علامات کسی جسمانی یا ذہنی عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہیں۔
👶 بچوں کے رویّے میں تبدیلی کی وجوہات:
والدین کی توجہ کی کمی یا زیادہ سختی
اسکول میں دباؤ یا ذہنی تھکن
کسی خوف یا صدمے کا اثر
جسمانی کمزوری، نیند کی کمی یا غذائی قلت
ایسے میں اکثر والدین دواؤں یا ڈانٹ ڈپٹ کا سہارا لیتے ہیں، لیکن ہومیوپیتھک علاج بچوں کے مزاج اور طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی سے اثر کرتا ہے۔ یہ علاج بچے کے جسمانی و ذہنی توازن کو بحال کرتا ہے، بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے۔
💊 کچھ اہم ہومیوپیتھک ادویات جو بچوں کے رویّے میں بہت مفید ہیں:
Chamomilla — اگر بچہ ضدی، غصیلا اور ہر وقت روتا رہے۔ خاص طور پر دانت نکلنے کے دوران۔
Cina — اگر بچہ بات بات پر چڑ جائے، دوسروں سے لڑے، یا ہر چیز پر قبضہ کرنا چاہے۔ اکثر کیڑوں (worms) والے بچوں میں مفید۔
Calcarea Carbonica — اگر بچہ سست، نڈر ہو، پڑھائی میں دل نہ لگے، یا جسمانی کمزوری دکھائے۔
Pulsatilla — اگر بچہ حساس ہو، جلدی رونے لگے، ماں کے بغیر نہ رہے، اور توجہ چاہتا ہو۔
Tuberculinum — اگر بچہ بہت ضدی، بے چین اور ہر وقت نئی چیز چاہنے والا ہو۔
✨ ہومیوپیتھک علاج کی خاص بات:
یہ علاج "بچے کے پورے مزاج" کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، صرف ایک علامت پر نہیں۔ اس لیے ایک ماہر ہومیوپیتھ سے مشورہ لینا ضروری ہے تاکہ صحیح دوا کا انتخاب کیا جا سکے۔
🌼 نتیجہ:
بچوں کے رویّے میں بہتری لانے کے لیے صرف دوا نہیں، بلکہ والدین کا پیار، سمجھ بوجھ اور صبر بھی ضروری ہے۔ ہومیوپیتھی اس سفر میں ایک محفوظ، قدرتی اور مؤثر ساتھ فراہم کرتی ہے۔
📞 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کے رویّے میں مثبت تبدیلی آئے، تو آج ہی ڈاکٹر ساجد حسین ربانی سے مشورہ ضرور کریں۔
Dr Sahid hussain Rabbani
Consultant homeopathic physician and Islamic counselor
Natural Cure Clinic Awami Road Gharipna Nawanshehr Abbottabad
Cell: 03422067074
21/09/2025
بچوں کے رویوں اور ہومیوپیتھی کا کردار: غصے اور مزاج کی بہتری میں ایک نرم مددگار
ہر والدین جانتے ہیں کہ بچپن صرف جسمانی نشوونما کا وقت نہیں بلکہ جذباتی نشوونما کا بھی مرحلہ ہے۔ ضد، غصہ یا اچانک رویوں کی شدت اکثر اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ بچہ اپنے جذبات کو صحیح انداز میں بیان کرنے میں مشکل محسوس کر رہا ہے۔ یہ رویے ایک حد تک فطری ہیں، مگر جب یہ زیادہ یا بار بار سامنے آئیں تو یہ نہ صرف گھر کے ماحول بلکہ بچے کی تعلیم اور سماجی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
روایتی طریقے جیسے کہ کونسلنگ، مثبت تربیت، اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں یقیناً بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن آج کل بہت سے والدین اپنے بچوں کے جذباتی توازن کے لیے ہومیوپیتھی کو بھی ایک معاون ذریعہ کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔
بچوں کے جذباتی ردِعمل کو سمجھنا
جب بچے سنے نہ جائیں، دباؤ میں ہوں یا ماحول سے پریشان ہوں تو وہ چڑچڑاہٹ، ضد یا جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نیند کی کمی، تعلیمی دباؤ، گھر میں تبدیلیاں یا بہن بھائیوں کے درمیان مقابلہ بھی اس رویے کو بڑھا سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ عادات وقت کے ساتھ مزید جڑ پکڑ سکتی ہیں۔
ہومیوپیتھی کا کردار
ہومیوپیتھی ایک ہمہ گیر نظامِ علاج ہے جو صرف علامات پر نہیں بلکہ بچے کی مجموعی شخصیت، رویوں اور محرکات کو سامنے رکھ کر علاج تجویز کرتا ہے۔ اس کا مقصد بچے کو وقتی سکون دینا نہیں بلکہ جذباتی لچک کو بڑھانا ہے۔
کچھ عام طور پر استعمال ہونے والی ادویات:
کیامومیلا (Chamomilla) – ان بچوں کے لیے جو بے حد حساس ہوں، چھوٹی بات پر روٹھ جائیں اور کسی صورت نہ مانیں۔
نکس وامیکا (Nux Vomica) – ایسے بچوں کے لیے جو تیز مزاج ہوں، جلدی غصے میں آ جائیں اور آرام کرنے میں دشواری محسوس کریں۔
اسٹرامونیم (Stramonium) – جب بچے کو ڈر اور غصہ ساتھ ساتھ ہو، مثلاً ڈراؤنے خواب یا اچانک جارحیت۔
ہومیوپیتھی جذبات کو دبانے کے بجائے بچے کو نرمی سے ان کو سنبھالنے اور سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
جامع حکمتِ عملی
ہومیوپیتھی سب سے بہتر تب کام کرتی ہے جب اسے عملی حکمتِ عملیوں کے ساتھ ملایا جائے:
جذباتی رہنمائی: بچے کو اپنے احساسات پہچاننے اور بیان کرنے کی تربیت دینا۔
صحت مند معمولات: متوازن خوراک، اچھی نیند اور جسمانی سرگرمی۔
والدین کی موجودگی: سکون کا نمونہ بننا اور مسلسل حدود طے کرنا۔
آخری بات
ہر بچہ منفرد ہے اور اس کے جذباتی مسائل بھی۔ ایک ماہر ہومیوپیتھ کی رہنمائی میں ہومیوپیتھی محفوظ اور نرم انداز میں غصے، چڑچڑاہٹ اور رویے کی دیگر مشکلات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ علاج جسمانی اور جذباتی دونوں پہلوؤں کو مدِنظر رکھ کر ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر بچے بہتر رشتے اور روشن مستقبل قائم کر سکیں۔
Visit Natural Cure Clinic for consultation
گردے مثانے کی پتھری، پروسٹیٹ گلینڈ کا بڑھ جانا، چھاتی کی گلٹیاں ، پولی سسٹک اوورین سینڈروم، گلہڑ کا علاج ہومیوپیتھک ادویات کے ساتھ۔ جوڑوں کے امراض، جلد اور خوبصورتی کے مسائل، بانجھ پن کا تسلی بخش علاج۔
نیچرل کیور کلینک عوامی روڈ گھڑی پنہ ایبٹ آباد
03422067074
پی سی او ایس یعنی پولی سسٹک اووری سنڈروم آج کل خواتین میں تیزی سے بڑھنے والا ایک ہارمونی مسئلہ ہے۔ یہ عموماً تولیدی عمر کی خواتین کو متاثر کرتا ہے اور اس کی بڑی وجہ ہارمونی عدم توازن ہے۔ بیضہ دانی میں چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کا بن جانا، انسولین کی مزاحمت اور ہارمونی تبدیلیاں اس کی بنیادی علامات ہیں۔
پی سی او ایس کی علامات میں سب سے زیادہ عام مسئلہ ماہواری کا بے قاعدہ ہونا ہے۔ کچھ خواتین کو کئی ماہ تک حیض نہیں آتا جبکہ کچھ میں بہت زیادہ یا بہت کم آتا ہے۔ اس کے علاوہ وزن میں اضافہ، چہرے اور جسم پر غیر ضروری بالوں کا آنا، چہرے پر دانے (پِمپلز)، بالوں کا جھڑنا اور حمل میں مشکلات بھی اس بیماری کا حصہ ہیں۔
اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی جائے تو وقت کے ساتھ یہ کئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ جیسے کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافہ، دل کی بیماریوں کا خدشہ، اینڈومیٹریئم کینسر کا امکان اور بانجھ پن کی مشکلات۔ اس لیے ضروری ہے کہ بروقت علاج کیا جائے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج پی سی او ایس کے مریضوں کے لیے ایک محفوظ، مؤثر اور قدرتی حل فراہم کرتا ہے۔ یہ علاج صرف علامات کو کم نہیں کرتا بلکہ بیماری کی جڑ یعنی ہارمونی نظام میں موجود بگاڑ کو درست کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہومیوپیتھک دوائیں جسم کے مدافعتی اور ہارمونی توازن کو بہتر بناتی ہیں، جس سے ماہواری معمول پر آتی ہے، وزن کنٹرول ہوتا ہے اور جلد کے مسائل بھی کم ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ پی سی او ایس سے پریشان ہیں یا اس کی علامات محسوس کر رہی ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ ہومیوپیتھک علاج کے ذریعے آپ ایک صحت مند اور پُر اعتماد زندگی گزار سکتی ہیں۔ علاج دستیاب ہے اور بہت سی خواتین اس سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔
Natural Cure Clinic
عوامی روڈ گھڑی پنہ نواں شہر۔
ڈاکٹر ساجد حسین
کنسلٹنٹ ہومیوپیتھک فزیشن اینڈ اسلامک سکالر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Awami Road Gharipana Near Bhu Nawanshehr
Abbottabad
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 16:00 |
| Tuesday | 09:00 - 16:00 |
| Wednesday | 09:00 - 16:00 |
| Thursday | 09:00 - 16:00 |
| Saturday | 09:00 - 16:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |
