Quran & Hadis
save your time money memory life etc..
26/05/2026
منٰی کی وادی میں اس بار سعودی حکومت کی طرف سے حاجیوں کے لیے واقعی قابلِ تعریف انتظامات کیے گئے ہیں۔
صوفا کم بیڈ،
باقاعدہ نمبرنگ،
خیمہ نمبر،
بیڈ نمبر،
ہر چیز اس ترتیب سے رکھی گئی ہے کہ لاکھوں انسانوں کا یہ عظیم اجتماع بھی نظم و ضبط کی خوبصورت مثال محسوس ہوتا ہے۔
شدید گرمی، ہجوم اور تھکن کے باوجود کہیں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، کہیں بہترین کولنگ سسٹم،
اور کہیں آرام کے یہ مختصر سے بستر انسان کو احساس دلاتے ہیں
کہ
مہمان اگر اللہ کے ہوں تو ان کی خدمت کے لیے کتنی کوششیں کی جاتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ انہی صوفوں پر بیٹھے بیٹھے قبر کی بات بھی چھڑ جاتی ہے کہ آخرکار انسان کو دنیا میں بھی چند فٹ جگہ ملتی ہے اور آخر میں قبر میں بھی۔
فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اے سی نہیں ہوگا، نہ سہولتیں ہوں گی، صرف اعمال ساتھ ہوں گے۔
منٰی کا یہ مختصر قیام جیسے انسان کو خاموشی سے زندگی کی حقیقت بھی سمجھا دیتا ہے۔
اللہ پاک سعودی حکومت، خدمت کرنے والے تمام لوگوں اور ہر حاجی کے لیے آسانیاں فرمائے،
حج قبول فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت دونوں کی بہترین منزلیں عطا فرمائے۔ آمین۔
صبر انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے
کتنی حیرت کی بات ہے کہ پچھلے زمانوں میں جب نہ سکول تھے نہ کالج یونیورسٹیاں تھیں تب کے لوگ جیومیٹری ، حساب، سائینس،فزکس، انجیرنگ کو اتنی باریکی سے سمجھتے تھے کہ آج بھی ان کی تعمیرات کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ جو ذیل میں تصویر آپ دیکھ رہے ہیں یہ چاند بوری کی ہے۔چاند بوری ایک لاتعداد سیڑھیوں پر مبنی کنواں ہے جو ہندوستان کی ریاست راجستھان کے گاؤں ابھانری میں واقع ہے ۔ یہ زمین میں تقریباً 30 میٹر (100 فٹ) تک پھیلا ہوا ہے، جو اسے ہندوستان کے سب سے گہرے اور سب سے بڑے سیڑھیوں والے کنوؤں میں سے ایک بناتا ہے۔ اس کا نام نکمب خاندان کے ایک مقامی حکمران راجہ چندا کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کی تعمیر 8ویں-9ویں صدی کی ہے۔ یعنی یہ ایک ہزار سال سے زائد پرانا ہے اس میں 3500 سیڑھیاں ہیں جو 13 منزلوں کی گہرائی میں نچلے حصے میں ایک بڑے ٹینک میں جاتی ہیں اور اسے الٹا اہرام کے انداز میں بنایا گیا ہے۔
بوری ایک گہرا چار رخا کنواں ہے جس کے پیچھے ایک بڑا مندر ہے۔ یادگار کنویں کے بنیادی تعمیراتی پہلو سیڑھیوں کی ایک لمبی راہداری پر مشتمل ہیں جو زمین کی سطح سے نیچے پانچ یا چھ منزلوں تک جاتی ہے جسے اس جگہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ریاست راجستھان انتہائی خشک ہے ، اور چاند بوری کے ڈیزائن اور حتمی ڈھانچے کا مقصد زیادہ سے زیادہ پانی کو محفوظ کرنا تھا۔
قدیم ہندوستانی صحیفوں میں کنوؤں، نہروں، ٹینکوں اور ڈیموں کی تعمیر اور ان کے موثر آپریشن اور دیکھ بھال کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سائٹ نے مقامی پانی تک آسان رسائی کی اجازت دینے کے لیے ان میں سے بہت سے آپریشنز کو یکجا کیا۔ کنویں کے نچلے حصے میں، ہوا سطح کی نسبت 5-6 ° C ٹھنڈی رہتی ہے، اور چاند بوری کو شدید گرمی کے دوران مقامی لوگوں کے لیے اجتماعی جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ کنویں کے ایک طرف حویلی کا برآمدہ اور شاہی خاندانوں کے لیے آرام گاہ ہے۔
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ
09/05/2026
بنی اسرائیل کا عابد
اور کھجور کی گٹھلی (ایک سبق آموز قصہ)
پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک
شخص تھا جس نے ایک جزیرے پر برسوں اللہ کی عبادت کی۔ اس جزیرے پر اللہ نے اس کے لیے میٹھے پانی کا ایک چشمہ اور انار کا ایک درخت پیدا کر دیا تھا، جس سے وہ اپنا گزارہ کرتا تھا۔
ایک بار اس علاقے میں سخت قحط پڑا۔ ایک بھوکا مسافر اس جزیرے پر پہنچا، وہ نڈھال تھا۔ عابد نے اپنے حصے کے انار اسے دے دیے اور خود بھوکا رہا۔ جب وہ مسافر جانے لگا تو اس نے عابد کو ایک کھجور کی گٹھلی دی اور کہا: "یہ اللہ کا تحفہ ہے، اسے زمین میں بو دینا۔"
عابد نے سوچا: "یہاں تو پہلے ہی انار کا درخت ہے، مجھے اس کی کیا ضرورت؟" لیکن پھر بھی اس نے وہ گٹھلی بو دی۔ کچھ ہی عرصے میں وہ ایک عظیم الشان کھجور کا درخت بن گیا جس کے پھل اتنے میٹھے تھے کہ اس نے پہلے کبھی نہ چکھے تھے۔
کچھ عرصہ گزرا، عابد کے دل میں خیال آیا: "میں کتنا نیک ہوں کہ اللہ نے میرے لیے غیب سے کھجور کا انتظام کر دیا۔" جیسے ہی یہ تکبر اس کے دل میں آیا، چشمہ سوکھ گیا اور درخت مرجھانے لگا۔
عابد پریشان ہو کر رونے لگا۔ تب اسے غیب سے آواز آئی: "اے بندے! تو سمجھتا ہے کہ یہ سب تیری عبادت کا نتیجہ ہے؟ وہ انار کا درخت اور یہ میٹھا پانی ہماری رحمت تھی، اور یہ کھجور کا درخت اس ایک 'خلوص' کا بدلہ تھا جو تو نے اس مسافر کی مدد کر کے دکھایا تھا۔ جب تک تو ہماری عطا سمجھ کر شکر کر رہا تھا، سب ہرا بھرا تھا، جیسے ہی تو نے اسے اپنی محنت سمجھا، ہم نے اپنی برکت اٹھا لی۔"
عابد سجدے میں گر گیا اور سمجھ گیا کہ انسان کی بساط ہی کیا ہے، جو کچھ ہے اللہ کا کرم ہے۔
✨اسلامی حوالہ (قرآن و سنت)
قرآنِ پاک کا ارشاد:
"تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔" (سورہ النحل: 53)
حدیثِ مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی بھی شخص صرف اپنے عمل کے زور پر جنت میں نہیں جائے گا (جب تک اللہ کی رحمت شامل نہ ہو)۔" (صحیح بخاری
مسجد نبوی
اللہ سب کو حج کی سعادت نصیب فرمائے۔
شکر الحمدللہ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
اللَّهُ الصَّمَدُ
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Burewala
