Online News Pakistan

Online News Pakistan

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online News Pakistan, Ghotki.

16/05/2026

15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

ذوالفقار قادری

سیٹھ سلیمان داؤد کا خاندان اصل میں موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر 'بانٹوا' (عبدالستار ایدھی کا آبائی گاؤں) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت کراچی میں بانٹوا میمن برادری کا کاروبار پر بڑا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے سن 1900 میں اپنی کاروباری زندگی کا آغاز ایک چھوٹی دکان سے کیا۔

انہوں نے اپنے بیٹوں احمد داؤد، صدیق داؤد اور میر محمد داؤد کی ایسی تربیت کی کہ وہ آگے چل کر ہندوستان کے بڑے تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے داؤد خاندان نے ٹیکسٹائل تجارت میں بہت نام کمایا تھا۔

سیٹھ سلیمان داؤد کے بیٹوں میں سیٹھ احمد داؤد سب سے زیادہ بااثر شخصیت تھے۔ انہیں پاکستان میں 'صنعتکاری کا باپ' بھی کہا جاتا تھا۔ 1947 میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر سیٹھ احمد داؤد نے اپنا سارا کاروبار ہندوستان سے ختم کرکے پاکستان (کراچی) منتقل کردیا۔

داؤد خاندان نے کراچی میں پہلی کپڑے کی مل 'داؤد کاٹن ملز' قائم کی، جو اس وقت پاکستان کی بڑی ملوں میں شمار ہوتی تھی۔ داؤد گروپ کا کاروبار تیزی سے ترقی کرتا گیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی:

1۔ داؤد ہرکیولس (Dawood Hercules):
امریکی کمپنی ہرکیولس کے ساتھ مل کر پاکستان کی پہلی بڑی کیمیائی کھاد (Fertilizer) کمپنی قائم کی۔

2۔ کاغذ کی صنعت:
مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں کرنافلی پیپر ملز قائم کی۔

3۔ پیٹرولیم:
پاکستان گم (Pakistan Gum) اور پیٹرولیم کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی۔

4۔ بینکاری اور انشورنس:
سینٹرل انشورنس کمپنی اور بینکاری کے شعبے میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا۔

سیٹھ احمد داؤد کچھ عرصہ ملک سے باہر رہے، پھر واپس آکر کاروبار کو دوبارہ منظم کیا۔ اس خاندان نے 'داؤد فاؤنڈیشن' کے نام سے سماجی و فلاحی ادارہ قائم کیا۔ داؤد خاندان نے صرف دولت ہی نہیں کمائی بلکہ خیرات اور تعلیمی کاموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

داؤد فاؤنڈیشن، جو 1960 میں قائم ہوئی، نے پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں کراچی کو 'داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی' کا بڑا تحفہ دیا، جو بعد میں 'داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی' کے نام سے مشہور ہوا۔

داؤد گروپ کے نام سے کئی اسکول، اسپتال اور لائبریریاں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ بعد میں احمد داؤد کے بیٹے حسین داؤد نے اینگرو (Engro) کے ساتھ الحاق کرکے 'داؤد گروپ آف کمپنیز' کو مزید وسعت دی۔

آج یہ خاندان پاکستان کے طاقتور ترین کاروباری گروپوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے کئی صنعتی ادارے اور کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں چند یہ ہیں:

1۔ داؤد انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ
2۔ داؤد تکافل
3۔ داؤد ہرکولیس کیمیکلز
4۔ داؤد جوٹ ملز
5۔ داؤد شپنگ کمپنی
6۔ داؤد پیٹرولیم لمیٹڈ
7۔ بورے والا ٹیکسٹائل ملز
8۔ داؤد سینٹرل انشورنس کمپنی
9۔ داؤد یاماہا لمیٹڈ
10۔ اسلام آباد آٹو موٹو کمپنی لمیٹڈ
11۔ بلوچستان انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
12۔ الفا انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
13۔ گیئر ہابنگ لمیٹڈ
14۔ ڈائی کاسٹنگ لمیٹڈ
15۔ اومیگا فارگنگ لمیٹڈ
16۔ کریسنٹ پاک انڈسٹریز
17۔ طٰہٰ گارمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ
18۔ طٰہٰ ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ
19۔ اِن باکس بزنس پرائیویٹ لمیٹڈ
20۔ ڈاولینس پاکستان لمیٹڈ
21۔ ڈیسکان پاکستان
22۔ حبکو پاور پلانٹ
23۔ اینگرو کارپوریشن

سیٹھ سلیمان داؤد کی محنت اور احمد داؤد کے وژن نے ایک ایسی سلطنت قائم کی جو آج بھی 'داؤد گروپ' اور 'اینگرو' کی صورت میں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

15 مئی 1987 کو سیٹھ احمد داؤد کے چھوٹے بھائی سیٹھ احمد سلیمان داؤد ضلع ٹنڈو محمد خان میں اپنے زرعی فارموں سے مرسڈیز کار میں واپس کراچی آرہے تھے کہ بلڑی شاہ کریم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرلیا۔

پاکستان کی بااثر ارب پتی فیملی کے فرد سیٹھ احمد سلیمان داؤد کے اغوا کی خبر ملتے ہی جنرل ضیا الحق کی پوری انتظامی مشینری حرکت میں آگئی۔ داؤد فیملی کے تعلقات نہ صرف جنرل ضیا سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام سے تھے بلکہ عرب حکمرانوں سے بھی ان کی جان پہچان تھی، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومت ان کی بازیابی کے لیے سرگرم ہوگئی۔

بڑی کوششوں کے بعد کراچی سے آنکھوں کے معروف ڈاکٹر رضوی کو حکومتی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا۔ اسی ڈاکٹر کے ذریعے ضلع جامشورو کے کوہستان کے بااثر ملک خاندان کے چند افراد کو بھی ریاستی اداروں نے حراست میں لیا، جن کے ذریعے سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو اغوا کرنے والے ڈاکوؤں سے رابطہ قائم ہوا۔

داؤد فیملی اپنے فرد کی زندہ بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار تھی۔ آخرکار جامشورو کوہستان کے ملک سرداروں اور کراچی سے گرفتار کیے گئے مشہور ماہرِ چشم ڈاکٹر رضوی کے ذریعے ڈاکوؤں کو تاوان دے کر سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو 20 دن بعد بازیاب کرا لیا گیا۔

سیٹھ احمد سلیمان داؤد کی بازیابی کے بعد پولیس نے اس اغوا میں ڈاکٹر رضوی، کوہستان کے ملکوں کے علاوہ جن ڈاکوؤں کو ملوث ظاہر کیا ان میں سندھ کے بدنام مجرم مٹھو قصائی، غلام نبی سہاگ، لالا علی مراد اور دیگر شامل تھے۔

12/05/2026

11 مئی 1991
جب دادو کے قریب ڈاکووں نے تین چینی انجینئروں کو اغوا کر لیا

آن لائن نیوز پاکستان

یہ آج سے پینتیس سال پہلے کے ان دنوں کا قصہ ہے، جب جام صادق علی سندھ کے طاقتور وزیر اعلیٰ تھے اور صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت سندھ کے بااختیار وزیر داخلہ تھے۔ انہی دنوں 11 مئی 1991 کو صبح ساڑھے نو بجے ضلع دادو میں انڈس ہائی وے پر بھان سید آباد اور مناہیوں روڈ کے درمیان ڈاکووں کے ایک گروہ نے، جس کی قیادت بدنام ڈاکو لطیف چانڈیو اور اسحاق منگنہار کر رہے تھے، پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے جامشورو سے گڈو اور کوٹ ادو ملتان تک واپڈا کی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر کام کرنے والے تین چینی انجینئروں، لی چنگ، ژو زنگ اور ڈائی شی یو کو اس وقت مقامی ڈرائیور سمیت اغوا کر لیا، جب وہ پجیرو گاڑی میں جامشورو سے دادو کی طرف جا رہے تھے۔

ڈاکو آگے جا کر ڈرائیور کو ایس ایس پی دادو اختر جانوری کے نام ایک خط دے کر روانہ کر گئے، جس میں ڈی آئی جی حیدرآباد رینج سلیم اختر صدیقی اور ایس ایس پی دادو اختر جانوری کو چیلنج دیا گیا تھا کہ ہم دن دہاڑے چینی انجینئروں کو اغوا کر کے خیری دیری کے جنگل کی طرف جا رہے ہیں، اگر تم میں ہمت ہے تو آ کر ہمارا مقابلہ کرو۔

ڈاکو لطیف چانڈیو اور اسحاق منگنہار کے گروہ نے بعد میں چینی انجینئروں کو بدنام ڈاکو لائق چانڈیو کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس واقعے پر چینی حکومت نے پاکستان حکومت کے سامنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں جاری اپنے منصوبے بند کرنے کی دھمکی دی۔ اس صورتحال نے اسلام آباد میں بیٹھے پاکستانی حکمرانوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا، اور صدر غلام اسحاق خان نے سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی سے رابطہ کر کے ہر صورت اغوا شدہ تینوں چینی انجینئروں کی زندہ اور محفوظ بازیابی پر زور دیا۔

اس کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی اور وزیر داخلہ عرفان اللہ مروت سرگرم ہو گئے۔ ڈی آئی جی حیدرآباد رینج سلیم اختر صدیقی اور دیگر اداروں کو ڈاکووں کے ٹھکانے کی خبر مل چکی تھی کہ ڈاکو مغوی چینی انجینئروں سمیت خیری دیری کے جنگل سے کیٹی جتوئی کی طرف چلے گئے ہیں، لیکن مغوی انجینئروں کی جان کو لاحق خطرات کے باعث آپریشن سے گریز کیا گیا۔

ڈاکووں نے ابتدا میں بھاری بھتہ طلب کیا۔ بعد میں انہوں نے کروڑوں روپے تاوان کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ 30 ستمبر واقعہ کیس کے قیدیوں، ڈاکٹر قادر مگسی، قاضی ہمایوں، ڈاکو جانو آرائیں، حسن چانڈیو، عالمون چولیانی اور دیگر کے ساتھ سندھ کی مختلف جیلوں میں الذوالفقار تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کے ایک دوست مجیب لغاری کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کیا جائے اور انہیں دس کروڑ روپے تاوان بھی دیا جائے۔

ساتھ ہی مئی کی شدید گرمی کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ کہیں چینی انجینئر مر نہ جائیں، اس لیے ان کی بازیابی تک انہیں آرام دہ ماحول میں رکھنے کا مناسب انتظام کیا جائے۔ ڈاکووں کے ان مطالبات اور چینی حکومت کی دھمکی کے بعد جام صادق علی اور وزیر داخلہ عرفان اللہ مروت مزید متحرک ہو گئے۔

کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے پیارو گوٹھ شوگر مل دادو سے ہیوی جنریٹر، ایئرکنڈیشنر، ڈش ٹی وی وغیرہ کیٹی جتوئی پہنچائے گئے اور وہاں ایک ریسٹ ہاؤس میں ڈاکووں کو یہ تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔ پولیس کو تو پہلے ہی دن ڈاکووں کے ٹھکانے کا پتا چل گیا تھا، مگر سندھ حکومت نے مغویوں کی بازیابی کے لیے پہلے سائیں جی ایم سید کے فرزند سید امیر حیدر شاہ، چانڈیو قبیلے کے سردار نواب احمد سلطان چانڈیو، ڈاکو لائق چانڈیو کے مرشد پیر سید روشن علی شاہ آف رانی پور، سید ستابو شاہ اور نبن خان لنڈ سے رابطہ کیا اور ان سے چینی انجینئروں کی محفوظ بازیابی میں مدد طلب کی۔

سید امیر حیدر شاہ نے اس معاملے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ جب لائق چانڈیو کے مرشد پیر سید روشن شاہ آف رانی پور جنگل میں جا کر اس سے ملے تو لائق چانڈیو نے اپنے مرشد سے صرف اتنا کہا:

‘آپ ہمارے مرشد ہیں، آپ کی عزت ہے۔ آپ کی خاطر وعدہ ہے کہ مغوی چینی انجینئروں کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، لیکن انہیں تاوان کے بغیر آزاد نہیں کیا جائے گا۔’

ڈاکووں کا یہ جواب سن کر پیر سید روشن علی شاہ خالی ہاتھ واپس آ گئے۔

دوسرے مرحلے میں جام صادق علی حکومت نے چانڈیو قبیلے کے سردار نواب احمد سلطان چانڈیو کو راضی کیا کہ وہ جا کر ڈاکووں سے بات کریں۔ سندھ حکومت نے نواب احمد سلطان چانڈیو کو ایک ‘شوفر’ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈاکووں کے پاس بھیجا۔ ان کے ہیلی کاپٹر کے لیے جنگل میں ہیلی پیڈ بنایا گیا، اور وہ آخرکار کیٹی جتوئی پہنچ گئے۔

نواب احمد سلطان چانڈیو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائق چانڈیو اور اس کے ساتھی کیٹی جتوئی میں واقع ایک بہترین ایئرکنڈیشنڈ ریسٹ ہاؤس میں مغوی چینی انجینئروں سمیت بڑی شان و شوکت سے مزے میں بیٹھے تھے۔ ہیوی جنریٹروں پر ایئرکنڈیشنر اور سیٹلائٹ ٹی وی چل رہے تھے۔ ڈاکو لائق چانڈیو اور اس کے ساتھیوں نے نواب احمد سلطان چانڈیو کا بھرپور استقبال کیا۔

نواب احمد سلطان چانڈیو نے چار دن تک کیٹی جتوئی میں ڈاکووں سے مذاکرات کیے۔ آخرکار لائق چانڈیو نے ان سے کہا:

‘آپ ہمارے بزرگ ہیں، ہم آپ کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجیں گے۔ تین مغویوں میں سے ایک مغوی آپ کو دے دیتے ہیں، باقی دو تاوان کے بغیر آزاد نہیں ہوں گے۔’

یہ جواب سن کر نواب احمد سلطان چانڈیو غصے میں خالی ہاتھ ہیلی کاپٹر پر کراچی واپس چلے گئے، اور وہاں پہنچ کر ایک پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی حیدرآباد سلیم اختر صدیقی اور دادو پولیس پر شدید تنقید کی، اور واضح کہا کہ ڈاکو جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر جنگل میں عیش کر رہے ہیں۔

نوابوں، پیروں اور مرشدوں کے علاوہ ایک خفیہ ادارے کے افسران بھی ڈاکووں سے رابطے میں تھے۔ اس کے بعد رئیس نبن خان لنڈ، چند سیدوں، پولیس افسروں، مقامی وڈیروں اور اداروں کے نمائندوں کے ذریعے ڈاکووں سے مذاکرات کیے گئے۔

ڈاکووں کی تین شرائط مان لی گئیں:

1۔ تاوان ادا کیا جائے گا۔
2۔ ان کے ساتھی مجیب لغاری کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کیا جائے گا۔
3۔ جنگل میں مغوی چینی انجینئروں کی بازیابی کے بعد کوئی آپریشن نہیں کیا جائے گا اور ڈاکووں کو محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

البتہ 30 ستمبر کیس اور الذوالفقار کے الزام میں قید افراد کو رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ عدالتی معاملہ تھا۔

دوسری طرف جام صادق علی نے اسلام آباد میں حکمرانوں کو بتایا کہ ڈاکو دس کروڑ روپے مانگ رہے ہیں۔ چین سے متاثر ہونے والے تعلقات کی خاطر انہیں کہا گیا کہ جتنے بھی پیسے دینے پڑیں، دے دو، مگر اغوا شدہ چینی انجینئر زندہ بازیاب ہونے چاہئیں۔

کہا جاتا ہے کہ مرحوم جام صادق علی اور عرفان اللہ مروت نے اس رقم میں سے آدھا حصہ خود رکھ لیا، جبکہ باقی پانچ کروڑ مذاکرات کرنے والوں کو دیے گئے۔ ان پانچ کروڑ میں سے بھی رئیس نبن خان لنڈ، دیگر درمیانی وڈیروں اور پولیس والوں نے اپنی کمیشن کاٹ لی، اور صرف دو کروڑ روپے ڈاکو لائق چانڈیو کے گروہ کو دیے گئے، جن میں سے بھی آدھے سے زیادہ نوٹ جعلی نکلے۔نبن لنڈ نے یہ جعلی نوٹ ڈاکوؤں کو دی جانے والی رقم میں رکھے تھے۔

ڈاکووں کے مطالبے پر نوجوان مجیب لغاری کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھی بنایا گیا، جو کئی سال پولیس میں رہا، پھر طبعی موت مر گیا۔ مصنف کے مطابق مرحوم مجیب لغاری ان کے دوست تھے اور ان کے ساتھ کئی نشستیں رہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکووں سے مذاکرات میں ملک کے ایک خفیہ ادارے کے افسران بھی شامل تھے۔ آخر پچیس دن کے طویل ڈرامے کے بعد 4 جون 1991 کو نبن خان لنڈ اور پیر پگارا کے خاص نمائندے خان محمد مہر، کیٹی جتوئی سے تینوں مغوی چینی انجینئروں کو زندہ سلامت لے آئے اور انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔

مغویوں کی رہائی کے بعد جب ڈاکووں کو جعلی نوٹوں کا پتا چلا تو وہ نبن خان لنڈ پر ناراض ہوئے، مگر نبن خان ملک سے باہر چلا گیا۔ بعد میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کے ڈاکووں اور دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران لائق چانڈیو ایک کارروائی میں مارا گیا۔

لائق چانڈیو کے مارے جانے کے بعد نبن خان لنڈ واپس گاؤں آ گیا۔ نبن خان لنڈ 1988 کے انتخابات میں پی ایس 61 دادو سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 19551 ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوا تھا۔ مصنف کے مطابق ان کی ملاقات نبن خان لنڈ سے مرحوم امیر علی نے کروائی تھی، جب وہ ابھی ایم پی اے بھی نہیں بنا تھا۔

اس کا تکیہ کلام ‘ون ڌک کریس’ چینی انجینئروں کے اغوا کے واقعے کے بعد ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں مشہور ہوا۔ زندگی کے آخری دنوں میں نبن خان لنڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسے اپنے ہی بیٹوں سے جان کا خطرہ ہے اور انہوں نے اس کی جائیداد پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایسے خاندانی جھگڑوں اور بیماریوں سے لڑتے ہوئے آخرکار 23 جون 2021 کو نبن خان لنڈ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔

12/04/2026

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھوپ میں جل کر مر چکے تھے۔

اس نے اپنے اردگرد پھیلے اس سنسان، بے جان منظر کو دیکھا اور ایک ایسا عہد کیا جس نے ایک دن 1,360 ایکڑ زمین کو زندگی سے بھر دینا تھا۔

اس کا نام جادھو پائینگ تھا۔

یہ جگہ تھی مجولی جزیرہ، آسام، بھارت۔ وہ ریتلا ٹکڑا صرف ریت اور گاد پر مشتمل تھا۔ نہ کوئی پودا، نہ سایہ، نہ زندگی۔ یہ سانپ سیلاب کے دوران وہاں پھنس گئے تھے۔ جب پانی اتر گیا تو ان کے پاس تیز دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ نہ تھی۔ اس لیے وہ سب مر گئے۔

جادھو مقامی محکمہ جنگلات کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ اس ریتلے علاقے میں درخت لگائے جائیں۔

وہ ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا، “یہاں کچھ نہیں اگے گا۔ یہ صرف ریت ہے۔ ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔”

تب جادھو نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کام خود کرے گا۔

وہ صرف سولہ سال کا تھا۔ اس کے پاس نہ پیسہ تھا، نہ رسمی تعلیم، نہ جنگلات یا نباتات کی تربیت۔ وہ میسنگ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، ایک مقامی برادری جسے اکثر مرکزی سماج سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

لیکن وہ ایک بات سمجھتا تھا جو ان ماہرین نے نہیں سمجھی، اگر آپ درخت لگائیں اور ان کی دیکھ بھال کریں، تو وہ اگتے ہیں۔ حتیٰ کہ ریت میں بھی۔

اس نے ابتدا بانس سے کی، کیونکہ بانس مضبوط ہوتا ہے، تیزی سے پھیلتا ہے، اور زمین کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ اس نے ایک چھوٹے سے حصے میں 20 پودے لگائے۔

ہر روز وہ واپس آتا، ان کو پانی دیتا، دریا سے برتن بھر بھر کر پانی لاتا، شدید گرمی میں گھنٹوں چلتا رہتا۔

آہستہ آہستہ بانس نے جڑ پکڑ لی۔

حوصلہ پا کر اس نے اپنا کام بڑھا دیا۔ اس نے آس پاس کے جنگلات سے بیج جمع کیے، مثلاً کاٹن کے درخت، برگد، ارجن، موج اور دوسرے پودے۔ وہ ان کو لگاتا، پانی دیتا، جانوروں سے بچاتا۔

سال بہ سال، دہائی بہ دہائی۔

اس کے گھر والوں کو لگتا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ وہ اپنی زندگی ایک بے کار ریتلے ٹاپو پر کیوں ضائع کر رہا ہے۔ وہ کھیتی باڑی کر سکتا تھا، پیسہ کما سکتا تھا، ایک عام زندگی گزار سکتا تھا۔

لیکن اس نے درخت لگانے کا راستہ چنا۔ اکیلا، ہر دن۔

لوگ پوچھتے، “اس کا کیا فائدہ؟ یہ تو صرف ریت ہے۔ یہاں کبھی کچھ نہیں ہوگا۔”

جادھو نے بحث نہیں کی۔ وہ بس درخت لگاتا رہا۔

بانس پھیلنے لگا۔ درخت بلند ہونے لگے۔ ان کی جڑوں نے مٹی کو تھاما۔ گرتے پتوں نے نامیاتی مادہ پیدا کیا۔ ریت آہستہ آہستہ زرخیز زمین میں بدلنے لگی۔

پانچ سال بعد پہلے جانور نمودار ہوئے۔ پرندوں نے شاخوں پر گھونسلے بنائے۔ کیڑے مکوڑے آئے۔ چھوٹے جانوروں کو پناہ ملنے لگی۔

دس سال بعد وہاں ایک چھوٹا جنگل واضح نظر آنے لگا۔ پورا نظام زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا، پودے، جانور، کیڑے، سب اپنی اپنی جگہ بناتے جا رہے تھے۔

جادھو درخت لگاتا رہا۔

اس کے ذہن میں کوئی عظیم منصوبہ نہیں تھا۔ وہ یہ خواب نہیں دیکھ رہا تھا کہ ایک دن وہ دنیا کا سب سے بڑا انسان کے ہاتھوں بنایا گیا جنگل کھڑا کر دے گا۔ وہ صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں سانپ دھوپ میں مرنے پر مجبور نہ ہوں۔

وہ اپنی گایوں کا دودھ بیچ کر گزر بسر کرتا تھا۔ سادہ زندگی گزارتا تھا۔ کبھی جنگل کے اندر اپنی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں سوتا، کبھی اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں میں۔

ہر صبح وہ اپنے درختوں کے پاس واپس آتا۔ لگانا، سنبھالنا، حفاظت کرنا۔

دہائیاں گزر گئیں۔ جنگل بڑھتا گیا۔ اور جادھو پائینگ اسی جنگل میں گم ہو گیا، ان درختوں کے درمیان جنہیں اس نے اپنے ہاتھوں سے اگایا تھا، ایک تنہا انسان، جسے دنیا جانتی بھی نہ تھی۔

پھر 2000 کی دہائی میں ایک غیر معمولی بات ہوئی۔

جنگلی ہاتھیوں نے اس جنگل کو ڈھونڈ لیا۔

100 سے زیادہ ہاتھیوں کا ایک ریوڑ، ایسے ہاتھی جن کے روایتی مسکن تباہ ہو رہے تھے، جادھو کے جنگل تک پہنچا اور وہیں رک گیا۔ اس جنگل نے انہیں خوراک، پانی اور پناہ دی۔

پھر ہرن آئے۔ پھر گینڈے۔ پھر بنگال کے شیر۔

جو جگہ کبھی ویران ریت تھی، وہاں اب ایک مکمل، زندہ ماحولیاتی نظام قائم ہو چکا تھا۔ شکاری بھی، شکار بھی۔ پرندے بھی، کیڑے بھی۔ ایک ایسا گھنا جنگل جو بڑے جانوروں کو بھی سنبھال سکتا تھا۔

اور اس سب کے مرکز میں جادھو پائینگ تھا، وہ انسان جس نے ہر درخت اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔

2008 میں ایک فوٹو جرنلسٹ اس جنگل تک پہنچا۔ وہ دراصل ایک غیر معمولی مقام پر ہاتھیوں کی موجودگی کی خبر کی تحقیق کر رہا تھا۔ جب اس نے یہ جنگل دیکھا تو حیران رہ گیا۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ یہ جنگل تقریباً 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، یعنی نیویارک کے سینٹرل پارک سے بھی بڑا، اور یہ سب ایک ہی انسان نے تیس برس میں بنایا تھا۔

پھر یہ کہانی دنیا تک پہنچی۔ میڈیا آیا۔ وہ “پاگل” آدمی جسے گاؤں والے برسوں تک نظر انداز کرتے رہے تھے، اچانک ایک ماحولیاتی ہیرو کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

سائنس دانوں نے اس جنگل کا مطالعہ کیا۔ تحفظ ماحول کے کارکنوں نے اس کا جشن منایا۔ وہ سرکاری افسران جنہوں نے کبھی اس کی بات نہ سنی تھی، اب اسے اعزاز دینا چاہتے تھے۔

2015 میں اسے پدم شری دیا گیا، جو بھارت کے بڑے سول اعزازات میں سے ایک ہے۔ دنیا اسے “دی فاریسٹ مین آف انڈیا” کے نام سے جاننے لگی۔

لیکن اس شہرت نے جادھو کو نہیں بدلا۔ وہ آج بھی جنگل میں رہتا ہے۔ آج بھی اپنے درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آج بھی نئے پودے لگاتا ہے۔

جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے یہ سب کیوں کیا، تو اس کا جواب بہت سادہ ہوتا ہے:
“سانپ اس لیے مر گئے تھے کیونکہ وہاں درخت نہیں تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور مخلوق بھی اسی طرح مرے۔”

آج مولائی جنگل، جو اس کے عرفی نام پر رکھا گیا، 100 سے زیادہ ہاتھیوں، کئی بنگال ٹائیگرز، بھارتی گینڈوں، ہرنوں، جنگلی سوروں، سینکڑوں پرندوں اور بے شمار چھوٹی مخلوقات کا گھر بن چکا ہے۔ ایک مکمل، پھلتا پھولتا ماحولیاتی نظام، وہاں جہاں کبھی صرف ریت تھی۔

ایک شخص۔ نہ پیسہ۔ نہ ادارہ جاتی مدد۔ نہ رسمی تربیت۔

صرف عزم۔ صرف ہر روز واپس آنے کی عادت۔ صرف یہ انکار کہ ایک ویران ریتلا ٹاپو ہمیشہ ویران ہی رہے گا۔

محکمہ جنگلات کے ماہرین نے کہا تھا یہ ناممکن ہے۔ فطرت نے جادھو کی مدد سے انہیں غلط ثابت کر دیا۔

تیس برس تک اس نے یہ جنگل اکیلے بنایا، بغیر کسی پہچان، بغیر فنڈنگ، بغیر مدد کے۔ وہ حکومت، جسے مسکن بچانے اور درخت لگانے چاہییں تھے، کچھ نہ کر سکی۔

ایک غریب آدمی، ایک محروم برادری سے تعلق رکھنے والا شخص، اکیلا وہ کام کر گیا جو پورا محکمہ جنگلات نہ کر سکا۔

اور جب ہاتھی “بہت زیادہ” ہونے لگے، کیونکہ اس نے ان کے لیے اتنا اچھا مسکن بنا دیا تھا، تو حکام نے انہیں وہاں سے ہٹانے کا ارادہ کیا، جس سے وہ پورا نظام تباہ ہو سکتا تھا جسے اس نے اپنی زندگی دے کر بنایا تھا۔

جادھو ڈٹ گیا۔ اس نے کہا:
“یہ میرے خاندان کی طرح ہیں۔ انہیں ہٹانا ہے تو پہلے مجھے گولی مارنی ہوگی۔”

ہاتھی وہیں رہے۔

آج جادھو اپنی ساٹھ کی دہائی میں ہے۔ وہ آج بھی درخت لگاتا ہے۔ آج بھی جنگل سنبھالتا ہے۔ آج بھی جانوروں کے درمیان سادہ زندگی گزارتا ہے۔

اس کے پاس تقریباً کچھ بھی نہیں۔ یہ جنگل قانونی طور پر اس کی ملکیت بھی نہیں، کیونکہ یہ سرکاری زمین پر ہے۔ اس نے کبھی اس سے منافع نہیں کمایا۔

وہ تو صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں سانپ دھوپ میں نہ مریں، جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں زندگی پھل پھول سکے۔

اور آج 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک گھنا جنگل، جو ہزار سے زیادہ فٹبال میدانوں کے برابر ہے، صرف اس لیے موجود ہے کہ ایک سولہ سالہ لڑکے نے مردہ سانپ دیکھے اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے کہ ایک انسان فرق نہیں ڈال سکتا، تو جادھو پائینگ کو یاد کیجیے۔

جب کوئی کہے کہ مسئلہ بہت بڑا ہے، کام بہت مشکل ہے، دنیا بہت خراب ہو چکی ہے، تو اس کہانی کو یاد رکھیے۔

جادھو پائینگ نے ہر روز درخت لگائے۔ چالیس سال تک۔

اور آج وہ ایسے جنگل میں رہتا ہے جہاں ہاتھی اور شیر بستے ہیں، وہاں جہاں سائنس دانوں نے کہا تھا کہ کبھی کچھ نہیں ہو سکتا۔

ایک شخص۔ ایک پودا ایک وقت میں۔ چالیس سال۔

اسی طرح پہاڑ ہلتے ہیں۔ اسی طرح ریت سے جنگل بنتے ہیں۔ اسی طرح “ناممکن” ثابت ہوتا ہے کہ دراصل اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی نے پوری کوشش نہیں کی۔

جادھو پائینگ نے حکومت کا انتظار نہیں کیا۔ فنڈنگ کا انتظار نہیں کیا۔ اجازت، منظوری یا تعریف کا انتظار نہیں کیا۔

اس نے ایک مسئلہ دیکھا، اور اپنی زندگی کے چار عشرے اسے حل کرنے میں لگا دیے۔

بھارت کا فاریسٹ مین، جس نے ایک ناممکن جنگل پیدا کر دیا کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکا کہ سانپ دھوپ میں مرتے رہیں۔

اور آج وہ 1,360 ایکڑ اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ایک پختہ ارادے والا انسان واقعی زمین کا منظر بدل سکتا ہے۔

Photos from Online News Pakistan's post 08/03/2026

دریائے راوی پار کر کے دائیں ہاتھ کچی پکی سڑک پر پانچ کلومیٹر دور جائیں تو پناہ دا کُھوہ سے ذرا آگے احمد خان کھرل کا مقبرہ ہے

سنگِ مرمر کی وہ تختی راہداریوں میں چھپی تھی جس کی تصویر مجھے لاہور سے اوکاڑہ کے راستے راوی دریا کے جنوبی کنارے کے قریب واقع گوگیرہ کے اس سکول کھینچ لائی تھی۔

ایک عمر رسیدہ مالی کی مدد سے ملی اس تختی پر کندہ یہ الفاظ مٹ رہے تھے: ’جنگ آزادی کے مجاہد رائے احمد خان کھرل کی یاد میں احمد خان کھرل ڈسٹرکٹ کونسل ہائی سکول گوگیرہ کا نام ساہیوال کے پہلے تاریخی ڈپٹی کمشنر جناب مظفر قادر سی ایس پی نے منظور فرمایا۔‘

نیچے اردو رسم الخط میں اس واقعے کی تاریخ درج تھی: 14 مئی 1967، یعنی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے خلاف 1857 کی مزاحمت کے لگ بھگ 110 سال بعد۔

اس سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی پنجاب کو سکھوں سے جیت کر سات ڈویژن اور 27 ضلعوں میں تقسیم کر چکی تھی۔ گوگیرہ سنہ 1852 میں ملتان ڈویژن کا ایک ضلع بنا۔ اس ڈویژن کے دیگر ضلعے ملتان اور جھنگ تھے۔ اب یہ ضلع اوکاڑہ کا حصہ ہے۔

سنہ 1855 کی مردم شماری کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ضلع گوگیرہ کی آبادی تین لاکھ آٹھ ہزار 20 اور ملتان ڈویژن کی نو لاکھ 71 ہزار 175 تھی۔ ضلع گوگیرہ کی حدود مشرق میں فیروز پور اور لاہور، شمال میں گوجرانوالا اور جھنگ، مغرب میں ملتان اور جنوب میں دریائے ستلج تک پھیلی ہوئی تھیں۔

مزاحمت کی ابتدا
یہاں کمپنی افسروں کو میرٹھ اور دلی میں مقامی سپاہیوں کی انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی خبر 13 مئی 1857 کو ملی۔ گوگیرہ کے اسسٹنٹ کمشنر (قائم مقام ڈپٹی کمشنر) این ڈبلیو ایلفنسٹن کو بتایا گیا کہ چونکہ میرٹھ اوردلی میں انگریز سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا ہے اس لیے لاہور کی میاں میر چھاؤنی میں مقامی سپاہیوں سے اسلحہ لے لیا گیا ہے۔

ایلفنسٹن نے خزانے کے محافظ کے طور پر یہاں تعینات مقامی سپاہیوں کو غیر مسلح کر کے لاہور بھیج دیا۔ کیپٹن ٹرونسن کے سپاہیوں نے ان کی جگہ لے لی۔ سکھ جاگیرداروں بابا کھیم سنگھ اور سمپورن سنگھ کے ملازمین کو جیل میں تعینات کر دیا گیا۔

بغاوت (میوٹنی) کے متعلق انگریز انتظامیہ کی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ پنجاب کے لوگوں تک مزاحمت کی یہ خبر نہ پہنچنے دینے کے لیے ڈاک کے ڈبے برطانوی افسروں کی موجودگی میں کھولے جاتے، خطوط کا احتیاط سے جائزہ لیا جاتا اور جن میں شورش کا حوالہ بھی ہوتا، انھیں تقسیم نہ کیا جاتا۔

پھر بھی یہ خبر کھرل قبیلے کے عمررسیدہ سربراہ احمد خان تک پہنچ ہی گئی۔

میوٹنی رپورٹس کے مطابق احمد خان کھرل دلی اور ہانسی میں مزاحمت کاروں اور دلی میں مغل بادشاہ سے مستقل رابطے میں تھے۔ مزاحمت پھیلنے پر کچھ قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اے ڈی اعجاز کے ڈھولوں (پنجابی لوک شاعری کی صنف) کے مجموعے ’کال بلیندی‘ سے علم ہوتا ہے کہ ملتان اور گوگیرہ ضلعوں سے تعلق رکھنے والے ان قیدیوں میں ایک شامو دھیرے کھرل تھے۔

یہ آگرہ جیل سے فرار ہو کر احمد خان کے گاؤں جھامرہ پہنچے اور ان سے ملاقات میں انگریزوں کی کمزور حالت کی خبر دی جس سے یہاں کے لوگوں نے حوصلہ پایا۔

جون 1857 کی ایک صبح گوگیرہ کے ایڈشنل اسسٹنٹ کمشنر لیو پولڈ فٹز جیرالڈ برکلے نے علاقے کے معتبر سرداروں کو طلب کیا۔ نابر کہانی میں سعید بھٹا لکھتے ہیں کہ ’راوی کے اس پار سے احمد خان کھرل اور سارنگ خان آئے۔ انگریز افسر نے ’بغاوت‘ سے نمٹنے کے لیے گھوڑے اور جوان مانگتے ہوئے کہا کہ وہ بدلے میں ان کے لیے اہم سرکاری اعزاز کی سفارش کریں گے۔ احمد خان نے جواب دیا: ’ہم اپنا گھوڑا، عورت اور زمین کسی کے حوالے نہیں کرتے۔‘

اسی ماہ گوگیرہ کے نزدیک چیچہ وطنی اور کمالیہ کے 11 سپاہیوں کو بغاوت کے شبہ میں ملتان میں توپ سے اڑا دیا گیا تھا۔

آٹھ جولائی 1857 کو گوگیرہ کی تحصیل پاک پتن کے ستلج کنارے ایک گاؤں لکھوکے میں جوئیہ قبیلے کے لوگوں نے لگان دینے سے انکار کر دیا اور مال افسروں کو گاؤں سے نکال دیا۔

میوٹنی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایلفنسٹن کے حکم پر نمبرداروں اور دیگر اہم افراد کو خواتین اور بچوں سمیت گرفتار کر کے گوگیرہ جیل میں قید کر دیا گیا۔

’کال بلیندی‘ سے پتا چلتا ہے کہ احمد خان کے جوئیہ قبیلے کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ ان کی ڈی سی سے ملاقات کے بعد کچھ لوگوں کو رہا کر دیا گیا جنھوں نے احمد خان کو بتایا کہ اب بھی بہت سے لوگ قید ہیں۔

احمد خان نے جیل داروغہ کی مدد سے خفیہ طور پر جیل کا دورہ کیا۔ مقامی روایت ہے کہ یہاں انھوں نے نتھو پیروکا، تھوبا رجوکا، سردار بھوجوانا اور چاوا وٹو کے ساتھ جیل توڑنے کا منصوبہ بنایا۔

میوٹنی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایلفنسٹن اور برکلے نے 20 جولائی کو جیل کا دورہ کیا تو انھیں قیدیوں کی چارپایوں کے نیچے مٹھائی، تمباکو وغیرہ ملے۔ تفتیش پر داروغہ نے اعتراف کیا کہ احمد خان ان کے خاندان کے سرپرست ہیں اور انھوں نے یہ اشیا قیدیوں تک پہنچانے کے لیے کہا تھا۔ اس پر انھیں فوراً نوکری سے نکال دیا گیا۔

26 جولائی کی رات تھوبا رجوکا اور چاوا وٹو نے قیدیوں کو فرار کروانے کی کوشش کی مگر ایلفنسٹن اور برکلے نے جیل عملے اور پولیس کی مدد سے اسے ناکام بنا دیا۔

سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو رہا تھا کہ ایک خاتون قیدی، جس کا ایک بچہ تھا نے بھی بھاگنے پر اصرار کیا۔ وٹو نے خاتون اور بچے کو فرارکروانے کے لیے اٹھایا تو بچہ رونے لگ گیا۔ اس سے جیل کا عملہ چوکنا ہو گیا اور اس نے گولی چلانی شروع کر دی جس سے خاتون اوراس کا بچہ ہلاک ہو گئے۔

برطانوی ریکارڈ کے مطابق اس کارروائی میں 17 قیدی ہلاک اور 33 زخمی ہوئے جبکہ 18 قیدی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر ’کال بلیندی‘ سے پتا چلتا ہے کہ 145 قیدی ہلاک ہوئے اور ان کی لاشوں کو جیل کے قریب ایک پرانے کنویں میں پھینک دیا گیا تھا۔ اوریہ بھی کہ جیل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت سو سے زائد برطانوی اور مقامی سپاہی بھی مارے گئے تھے۔

اس کے بعد میجر ایف سی مارسڈن کو ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ میوٹنی رپورٹس کے مطابق میجر مارسڈن نے اطلاع دی تھی کہ ’جب میں گوگیرہ پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس پر طاقتور کھرل قبیلے نے اپنے دولت مند، بوڑھے سردار احمد خان کے ماتحت حملہ کیا ہے۔‘

’ایلفنسٹن کی 1857 کی بغاوت میں خدمات کے اعتراف میں‘ کے عنوان سے جنوری 1867 میں ایک کتابچہ چھاپا گیا۔ اس کتابچے میں ملتان کے کمشنر جی ڈبلیو ہیملٹن کا 1860 کا ایک بیان یوں تھا: ’اس شورش کے اصل منصوبہ ساز بلاشبہ غارت گر قبائل کے سردار تھے، جنھوں نے بعد میں بغاوت کی۔ تمام امکان ہے کہ اس شورش کا مقصد بغاوت کا آغاز تھا۔ نہ جانے کیسے ہیملٹن نے جیل واقعہ کی تاریخ 26 اگست لکھی ہے۔‘

احمد خان کھرل کو جیل فرار کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ مگر میوٹنی رپورٹس کے مطابق ان کے خلاف ثبوت نہ ملنے پر رہا تو کر دیا گیا مگر دریائے راوی اور ستلج کے علاقے کے قبیلوں کے دیگر سرداروں کی طرح بغیر اجازت ضلعی صدر مقام چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی۔

پھانسیوں کا حکم
کتابچے کے مطابق چیف کمشنر سر جان لارنس نے ایلفنسٹن کو اپنے 18 ستمبر کے خط میں لکھا کہ ’آپ چند سرغنوں پر مقدمہ چلائیں اور انھیں موت کی سزا دیں۔ بہت زیادہ لوگوں کو پھانسی نہ دیں، میں تو کہوں گا کہ 10 فیصد سے زیادہ نہیں، بلکہ اس سے کم، اگر یہ کافی ہو۔۔۔ ملک کو بدمعاشوں سے پاک کر دیں۔‘

بعدازاں انگریزوں نے چاوا وٹو کو پھانسی دے دی اور نتھو پیروکا اور تھوبا رجوکا کو کوڑوں کی سزا دی۔

مزاحمت کے اہم علاقوں لکھوکے، پنڈی شیخ موسیٰ، محمد پور، ہڑپہ، چیچہ وطنی، جلھی فتیانہ اور جھامرہ میں خفیہ تیاریاں اوراجلاس اگست میں جاری رہے۔ ستمبرمیں ہڑپہ کے نزدیک ایک قصبے مرادکے کاٹھیا میں احمد خان نے لوگوں کو نقشے کی مدد سے انگریزوں کے خلاف جنگ کے منصوبے کے بارے میں بتایا۔

گوگیرہ کے ایک بااثر سردار کھیم سنگھ بیدی کے ایک ساتھی ڈانگی سنگھ بھی وہیں موجود تھے۔ ’کال بلیندی‘ کے مطابق ڈانگی سنگھ کی جانب سے جاسوسی کا علم ہونے پر مسکین شاہ نے انھیں قتل کر دیا۔

احمد خان اور مراد فتیانہ بہاول پور سے سات بندوقیں اور گولہ بارود لائے تھے اور بعد میں ترہانہ قبیلے کے سربراہ صلابت ترہانہ بھی ان سے آن ملے۔

انگریزوں نے ’جاٹ بغاوت‘ کا نام دیا
ضلع گوگیرہ میں لڑائی 17 ستمبر کو شروع ہوئی۔ کتابچے میں ’گوگیرہ ضلع میں 1857 کی جاٹ بغاوت کے دوران آپریشنز کی مختصر داستان‘ کے عنوان سے چھپے اپنے بیان میں ایلفنسٹن نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ارادوں کی اطلاع احمد خان کے ایک حریف سرفراز کھرل نے 16 ستمبر کی رات گیارہ بجے انھیں دی تھی۔

ایلفنسٹن نے ہڑپہ کے تحصیل دار اور ملتان کے کمشنر کو خبر بھجوانے کے لیے دو ہرکارے بھیجے لیکن دونوں کو مردانہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے محمدپور کے قریب روک لیا۔

ملتان سے لاہور تک رابطے ٹوٹ گئے
ضلع جھنگ کے گزیٹیئر 1883 سے پتا چلتا ہے کہ ’17 ستمبر کو، بار قبائل اٹھ کھڑے ہوئے اور جھنگ اور لاہور کا رابطہ منقطع ہو گیا۔‘

ملتان کے کمشنر کو اس شورش کا علم لاہور سے آنے والی ڈاک کے رکنے سے ہوا۔ یہ ولی داد کی سربراہی میں مردانوں کا کام تھا۔ اور ڈاک 15 دن تک بند رہی۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ڈیلی ٹریبون‘ میں ایک مضمون میں کارل مارکس نے اس پر اظہار خیال کیا تھا۔ یہ مضمون جب شائع ہوا اس وقت احمد خان اور ان کے ساتھیوں نے اس راستہ کی نئی نئی ناکہ بندی کی تھی۔

اس پر مارکس نے لکھا تھا کہ ’پنجاب میں (انگریزوں کے لیے) ایک اور خطرہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ پچھلے آٹھ دنوں سے ملتان سے لاہور تک آمد ورفت کا راستہ بند ہو گیا ہے۔‘

کمشنر نے ڈاک کھلوانے کے لیے 70 سپاہیوں کو اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن فریزر کے ساتھ بھیجا۔ 18 ستمبر کو کمک بھیجی گئی جو 21 ستمبر کو تلمبہ کے مقام پر ملی۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے، تحصیل سرائے سدھو کی سمت، جنگجوؤں نے پیش قدمی شروع کر دی۔ کیپٹن فریزر نے 35 سپاہیوں کے دستے کو دفاع کے لیے بھیجا۔

ایلفنسٹن نے برکلے کو 20 سواروں کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ احمد خان کو ان کے گاؤں جھامرہ کے سامنے دریائے راوی پار کرنے سے پہلے گرفتار کریں۔ برکلے انھیں راوی پار کرنے سے پہلے پکڑنے میں ناکام رہے کیوںکہ وہاں کشتیوں کے نگران نے احمد خان کے حکم کے تحت انگریزوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

کچھ دیر بعد احمد خان خود سامنے آئے اور انھوں نے کہا کہ وہ برطانوی حکومت کے نہیں مغل شہنشاہ کے وفادار ہیں۔ ایلفنسٹن نے لیفٹنٹ مچل کی قیادت میں کٹر مکھی بٹالین کے 60 اور لیویز کے سپاہیوں کو برکلے کی مدد کو بھیجا اور بعد میں خود بھی وہاں پہنچ گئے۔

برطانوی افواج نے راوی پار کر کے جھامرہ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ تب تک جنگجو منتشر ہو گئے تھے۔ میوٹنی رپورٹس میں درج ہے کہ ’یہ لوگ ڈھول پیٹتے ہوئے حملہ آور ہوتے ہیں اور بڑی بہادری کے ساتھ انگریزی کمک پہنچنے سے پہلے انگریز فوجوں سے ہتھیار چھین کر غائب ہو جاتے ہیں۔‘

میوٹنی رپورٹس کے مطابق برکلے نے 15 گھڑ سواروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا، جھامرہ گاؤں کو آگ لگائی اور 20 قیدیوں اور 700 مویشیوں کے ساتھ گوگیرہ کو واپس لوٹے۔

18 ستمبر کو ملتان کے ساتھ ڈاک کی بحالی کے لیے گھڑ سوار اور پیدل پولیس کا ایک دستہ کوڑے شاہ کی جانب بھیجا گیا۔ جب یہ اہلکار ایک گاؤں اکبر پہنچے تو انھیں علم ہوا کہ وٹو قبیلے کے افراد رات کے وقت اس گاؤں کو لوٹنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے نمبردار جیوے خان آرائیں کو انگریزوں کے ساتھ وفاداری کی سزا دینا چاہتے ہیں۔

یہ دستہ اگلے دن تک کوڑے شاہ کے بجائے گاؤں کی حفاظت کو بھیج دیا گیا۔ میوٹنی رپورٹس کے مطابق 20 ستمبر کو لیفٹیننٹ چچیسٹر اور لیفٹیننٹ مچل کی قیادت میں برطانوی فوج نے پنڈی شیخ موسیٰ تک کے علاقہ کی تلاشی کے لیے دریا پار کیا اورقصبے کو آگ لگا دی۔

ایلفنسٹن کو خفیہ رپورٹ ملی کہ کھرل قبیلے کے کچھ افراد نے احمد خان کی قیادت میں رات کے وقت دریا پار کیا ہے اور راوی کے بائیں کنارے وٹو قبیلے کے بہت سے افراد ان سے آن ملے ہیں۔

احمد خان کھرل کا سر قلم کر کے جیل میں رکھا گیا
21 ستمبر کو احمد خان اور کچھ دیگر کھرل عمائدین اکبر گاؤں سے پانچ میل دور گشکوری کے قریب جنگل میں چلے گئے۔ وٹو قبیلے کے افراد ان سے وہیں آن ملے۔ جنگل گھنا تھا اس لیے انگریزوں کو شدید لڑائی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے 14 سے 15 سواروں کے مرنے سے برطانوی کیمپ میں سراسیمگی پھیل گئی۔ لیکن پھر انھیں بڑی کامیابی مل ہی گئی اور انھوں نے احمد خان، ان کے رشتے دار مراد، بیگے کے کھرل قبیلے کے سربراہ سارنگ اور بہت سے دیگر جنگجوؤں کی جان لے لی۔

مقامی روایت کے مطابق احمد خان کو جب مارا گیا تو وہ اس وقت نورے دی ڈل میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ڈھارا سنگھ نے انھیں شناخت کیا اور گلاب سنگھ بیدی نے ان پر گولی چلا کر مار دیا۔

برکلے نے احمد خان کا سر قلم کروا کر نیزے پر رکھا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

ایلفنسٹن نے رپورٹ کیا کہ ’یہ مہم ہمارے لیے شدید نقصان لیکن باغیوں کے لیے ناقابل تلافی تباہی پر ختم ہوئی۔ احمد خان تحریک کے مرکزی اکسانے والے تھے۔ سابقہ بغاوتوں میں کامیابی کے لیے ان کی کافی شہرت تھی، اور راوی کے قبائل پر ان کا اثر و رسوخ بے حد تھا۔‘

احمد خان کھرل کے بعد تحریک کی سربراہی کے خلا پر جان لارنس کا کہنا تھا کہ ’اگر ایک بھی باصلاحیت رہنما انھیں میسر آ جاتا تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا۔‘

احمد خان کا ’باغی سر‘ کاٹ کر گوگیرہ جیل میں رکھا گیا۔ روایت ہے کہ پہرے داروں میں ایک سپاہی جھامرے کا تھا۔ ایک رات اسے خواب میں احمد خان ملے اور کہنے لگے ’میرا سر اس مٹی کی امانت ہے مگر انگریز اسے ولایت لے جانا چاہ رہے ہیں۔‘

پہرے کی باری آئی تو سپاہی نے سر اتار کر گھڑے میں رکھا اور جھامرے لے آیا، رات کے اندھیرے میں احمد خان کی قبر ڈھونڈی اور کسی کو بتائے بغیر سر دفنا کر لوٹ گیا۔

برکلے کا سر بھی دھڑ سے جدا کر دیا گیا
اگلے روز برکلے نے جنگل میں پیش قدمی کی اور مزاحمت کاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ مراد فتیانہ نے نیزے سے پہلی ضرب لگائی۔ سوجا بھدرو نے ڈانگ سے کام تمام کر دیا۔

برکلے نے مرنے سے پہلے چھ لوگوں کی جان لی۔ برکلے کے 50 سے زیادہ سپاہی اس لڑائی میں جان سے گئے۔ اے ڈی اعجاز کی کتاب میں ایک ڈھولے کا مفہوم ہے کہ مراد نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ تو جو ہماری قسمت میں ہے ہو کر رہے گا مگر تم کبھی گوگیرہ میں عدالت نہیں لگا سکو گے۔‘

جلا ترہانہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ لارڈ برکلے کا سر کاٹ کر اپنے گاؤں جلھی لے گئے۔

برکلے، جنھیں مقامی افراد برکلی کہتے ہیں، بنگلہ گوگیرہ سے بخشو جندراکا جاتی سڑک پر واقع ایک خراب حالت قبرستان میں دو بے نام قبروں میں سے ایک میں دفن ہیں۔

مزاحمت پھیلتی گئی مگر رہنما نہ ملا
یہ لڑائی کمالیہ، پنڈی شیخ موسیٰ، سیدوالا، ہڑپہ، چیچہ وطنی، تلمبہ، سرائے سدھو، شور کوٹ، جملیرہ، ساھوکا، قبولہ اور پاک پتن کے علاقوں پر محیط تھی۔ انگریزوں کو جھنگ، لیہ اور گوجرانوالا اور لاہور سے کئی بار کمک ملی۔ مگر مزاحمت کاروں نے حوصلہ نہیں ہارا اور وہ دلی کے سقوط سے بھی دل برداشتہ نہیں ہوئے۔

دو بار یہ کمالیہ پر قبضہ کرنے میں عارضی طور پر کام یاب رہے۔ فنانشل کمشنر تھابرن کے بقول احمد خان کھرل اور ان کے ساتھی ایک ماہ تک کوٹ کمالیہ پر قابض رہے۔

میجر کرافرڈ چیمبرلین اور میجر مرڈسن نے بغاوت کو مقبول قرار دیا۔ چیف کمشنر پنجاب کے سیکریٹری برانڈرتھ نے لکھا ہے کہ ’چالیس سے پچاس میل کے علاقے میں 20 سے 30 ہزار باغی پھیلے ہوئے تھے۔‘ رچرڈ ٹمپل نے لکھا ہے کہ ’لاہور سے ملتان تک سوا لاکھ باغی سرگرم عمل تھے۔‘

ہیملٹن کا کہنا تھا ’گوگیرہ بغاوت کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ قبائل لوٹ مار کے عادی ہیں۔ سکھوں کی حکومت کے دوران وہ حقیقت میں کبھی تابع نہیں تھے۔ انگریزوں کی حکمرانی ان کے لیے ناگوار تھی، اور وہ بے تابی سے انتشار کے دور کی واپسی کے خواہاں تھے تاکہ وہ غارت گری کو لوٹ سکیں۔‘

مگر سرگانہ لکھتے ہیں کہ گوگیرہ تحریک کا مقصد اس کے رہنماؤں کی جانب سے لکھے خطوط سے ظاہر ہے۔

کیو براؤن کے مطابق فرسٹ ارریگولر کویلری کے وورڈی میجر میر برکت علی کو لکھے خط میں بہاول فتیانہ، صلابت ترہانہ اور سارنگ ویہنی وال نے ان سے انگریزوں کو چھوڑ کر ان کی مدد کی درخواست کی اور انھیں تحریک کی رہنمائی اور ان کے فوجیوں اور گھوڑوں کا خرچ اٹھانے کی پیش کش کی۔

اسی طرح نواب آف بہاول پور کو بھی خط لکھا گیا جس میں انھیں مزاحمت کاروں کے رہنما بننے کی درخواست کی گئی۔

خط کا متن کچھ یوں تھا ’جب خفیہ اطلاع ملی کہ دلی کا بادشاہ حکم الٰہی میں مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کی خاطر انگریزی حکومت سے جنگ کر رہا ہے، یہ خوشخبری سنتے ہی اس ملک کے تمام زمیندار ملتان ڈویژن کے انگریز حکام کے خلاف جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

’ہم آج تک ان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اگر آپ دین اسلام پر ثابت قدم ہیں تو ہمارے پاس 18 ہزار کے قریب سپاہی ہیں جو جہاں آپ چاہیں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ خدا اور اس کے رسول کی خاطر، ہماری مدد کریں اور جزائے خیر پائیں۔‘

انگریزوں نے مددگاروں کو جاگیریں اور انعام دیے
سرگانہ کی تحقیق ہے کہ اس لڑائی میں کھیم سنگھ بیدی، سمپورن سنگھ بیدی، گوگیرہ کے ڈھارا سنگھ نکئی، سید رضا شاہ، اکبر کےجیوے خان آرائیں، کھنڈا کے سردار شاہ، چیچا وطنی کے بہاول اور ماچھیا لنگڑیال، کنہیا رام اروڑا، قصور کے خیرالدین، ٹبی کے گلاب علی چشتی، دیپال پور کے جماعت سنگھ کھتری، دولا بالا کے مراد شاہ، ملتان کے شاہ محمود قریشی، مصطفیٰ خان خاکوانی، صادق محمد خان بدوزئی، خانیوال کے زیادت خان ڈاہا اور ان کے بیٹے اور کمالیہ کے سرفراز خان کھرل نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔

محکمہ مال کی دستاویزات کے مطابق سرفراز کھرل کو سکھوں کے خلاف جنگ میں بھی کمپنی کے حلیف ہونے کے انعام میں تاحیات 500 روپے سالانہ پنشن اور کمالیہ کے محصولات میں سے 275 روپے سالانہ مل رہے تھے۔

لپل گرفن کے مطابق نئی خدمت کے صلے میں انھیں خان بہادر کا خطاب، 500 روپے کی خلعت اور تاحیات 525 روپے کی جاگیر ملی۔

اسی طرح دیگر مددگاروں اور ان کی اولاد کو انگریز حکمرانوں کی جانب سے زمینیں، مراعات اور مقامی حکومتوں میں عہدے دیے گئے۔

انگریزوں کا ہرجانہ
تراب الحسن سرگانہ اپنی کتاب ’پنجاب اینڈ دی وار آف انڈیپینڈنس‘ میں لکھتے ہیں کہ احمد خان کھرل، ان کے بیٹے محمد خان، بیگے کے کھرل کے رائے سارنگ، بہاول اور مراد فتیانہ، ولی داد مردانہ، بہلک وٹو، محمد کاٹھیا، صلابت ترہانا، موکھا ویہنی وال اور نادر شاہ قریشی انگریزوں کے خلاف لڑے۔ پنجاب کے لوگ اب بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔‘

’انگریزوں نے پنجاب کے لوگوں کو پر امن رہنے پر مجبور کرنے کو ان سے اناج اور ان کے مویشی قبضے میں لے لیے تھے۔گوگیرہ میں مزاحمت کرنے والوں کے ہزاروں بیل اور بھینسیں تحویل میں لے لیے گئے۔‘

انگریز انتظامیہ کی دستاویزات میں لکھا ہے کہ گوگیرہ کے قبیلوں سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے یا 55 ہزار پاونڈ جرمانہ وصول کیا گیا۔

گوگیرہ کے مزاحمت کاروں کا پیچھا کرتے ہوئے سہوکا گاؤں میں تمام مردوں کو تہِ تیغ کرنے کے بعد فصلیں اور اناج نذرِ آتش کر دیا گیا۔ پھر بورے والا کے نزدیک جملیرہ، لکھوکے اور بڑا بیلا قصبوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا۔

مزاحمت کاروں کے پاس، نیزے بھالے، تلواریں اور چند سو بندوقیں تھیں۔ حنیف رامے نے لکھا ہے کہ ’اس وسیع و عریض علاقے میں انگریزی فوج کی تین ہزار لاشیں اٹھائی گئی تھیں۔‘

پھانسیاں، توپیں اور سزائے کالا پانی
مقامی روایات کے مطابق سینکڑوں لوگوں کو پھانسی دی گئی، توپوں کا نشانہ بنایا گیا اور کالا پانی (جزائر انڈیمان) بطور سزا بھیج دیا گیا۔ کالا پانی بھیجے جانے والوں میں ولی داد مردانا، موکھا ویہنی وال، نادر شاہ قریشی، ماجھی بشیرا کھرل، غازی کاٹھیا کے بیٹے لال کاٹھیا، جلا کے بیٹے محمد کاٹھیا، محمد یار مردانا، رحمت خان، قادر مردانا (کادا)، بہاول فتیانہ، مراد فتیانہ شامل ہیں۔
یہ بتاتے ہوئے سرگانہ ایک ڈھولے کاحوالہ دیتے ہیں کہ ویہنی وال نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور واپس آکر دریائی علاقے میں چھپے رہے۔

ناول نگار زاہد حسن کہتے ہیں کہ اس جدوجہد کا احوال، بعض اوقات ماورائے فطرت بھی، وار، ڈھولے اور دیگر اصناف شاعری میں محفوظ ہے اور اسے گانے اور سنانے والے آج بھی مل جاتے ہیں۔

مزاحمت کار اب دو اور تین کے گروہوں میں سمٹ کر رہ گئے تھے اور بالآخر 1858 کے ابتدائی مہینوں میں ان کے آخری گروہ کو گرفتار کر کے اس مزاحمت کو کچل دیا گیا۔ ریل چلنے پر انگریز سرکار اس علاقہ میں اپنا صدر مقام سمیٹ کر منٹگمری کے نام سے بسائے نئے شہر لے گئی۔

اس عمارت میں جہاں برکلے عدالت لگاتے اور شاید رہتے بھی تھے، 1865 میں سکول بنا دیا گیا۔ مقامی لوگ اسے گورا صاحب کی کوٹھی کہتے تھے۔

اسی وجہ سے جب یہاں سکول بنا تو اسے کوٹھی سکول پکارا جانے لگا۔

میرے ہمراہ امجد علی نے بتایا کہ 1865 میں پرائمری اور 1959 میں ہائی سکول کا درجہ پانے والی یہ درسگاہ احمد خان کھرل کے نام سے 1985 تک موسوم رہی۔

اب تقریباً 70 کنال پر پھیلے اس سکول کا نام گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز صدر گوگیرہ ہے۔

ضلع اوکاڑہ کی ٹاؤن کمیٹی صدر گوگیرہ کے شمال میں واقع یہ سکول اب نئی عمارت میں قائم ہے۔ اس سے ملحقہ وہ عمارت جس میں سو سال سے زائد عرصے تک طلبا تعلیم پاتے رہے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

محمد حسن معراج لکھتے ہیں کہ ’کئی دہائیوں بعد ملک آزاد ہو چکا تھا۔ احمد علی خان کو دادا احمد خان کی قبر پکی کروانے کی سوجھی۔ قبر کے ارد گرد بنیادیں کھو دی جا رہی تھیں کہ ایک کدال گھڑے کو لگی۔ مزدوروں نے گھڑا توڑا تو اندر سر تھا۔ ایک سو دس سال پرانی وجاہت میں ذرا فرق نہیں پڑا تھا۔ داڑھی کے بال ویسے ہی باریک تھے اور آنکھیں ویسی ہی سالم تھیں۔ احمد علی خان نے دوبارہ جنازہ پڑھایا۔ سر جسم کے ساتھ دفن ہو گیا۔‘

گوگیرہ سے فیصل آباد جاتی سڑک پر تاندلیانوالہ کے قریب جھامرہ ہے۔ دریائے راوی پار کر کے دائیں ہاتھ کچی پکی سڑک پر پانچ کلومیٹر دور جائیں تو پناہ دا کُھوہ سے ذرا آگے احمد خان کھرل کا مقبرہ ہے۔ یہاں پہنچنے کے لیے دشوار گزار رستے سے گزرنا پڑتا ہے۔

سیالکوٹ سے آئے عبدالسلام نے کہا کہ ان کا گوگیرہ فیصل آباد روڈ سے یہاں تک کا 14 سے 15 کلومیٹر کا سفر دو گھنٹے میں طے ہوا، سو یہاں پہنچنا آسان بنانا چاہیے۔ انھی کے ساتھ جنوبی افریقا سے آئے محمد زبیر نے بتایا کہ وہ دسیوں جگہ پوچھ کر یہاں پہنچے۔ صرف ایک جگہ نشاندہی کی گئی ہے۔

یہیں دعا کرتے صدر خان طور کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ ان کا رتبہ بلند ہے کیونکہ انھوں نے وطن کے لیے جنگ کی۔ ان کی یاد حکومتی سطح پر منانے کی ضرورت ہے۔

امجد، جو میرے ساتھ اس مشکل سفر سے گزرے تھے، ناراضی سے بولے کہ ’یاد تو کیا منائیں گے، سکول کا نام بھی احمد خان کھرل کے نام پر نہ رہنے دیا۔‘

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Ghotki?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Ghotki