Hakeem Saqib idrees khan

Hakeem Saqib idrees khan

Share

Service to humanity in treatment۔

Photos from Hakeem Saqib idrees khan's post 14/08/2022

؟

ما شاءاللہ ارکان اسمبلی کا ڈائمنڈ جوبلی کنوینشن ۔بچوں کے نام کیا گیا۔
بہت اچھی بات ھے ۔
اس سے بچوں میں خود اعتمادی اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور حوصلہ افزائی بھی ھوتی ھے ۔
لیکن میرے ذھن میں سوال ہیں کہ

؟؟؟

صرف سکولز کے بچے ھی کیوں ؟

؟

کیا آپ انکو احساس کم تری کا شکار کرنا چاہتے ہیں ؟
یا وہ کوئ اور مخلوق ھے جو آپکو مسلمان کرنے یا بخشوانے کیلئے پیدا کی گئی ہے ۔

ایک بچے سے بس تلاوت کروا کہ آپنے اس بچے کو یا اس میرے دیس کے معصوم بچوں کا سبق دیا ہے کہ ان سے بس مسلمان ھونا ھے اور انکی معاشرے میں کوئ عزت تکریم نہیں ؟؟؟

اللہ کیلئے یہ تفریق نکال دیجئے ۔

سچے پاکستانی ھونے کا

آزاد مملکت کے غیور باسی ھونے کا ثبوت دیجئے ۔

یہ ذات پات کی
امیری غریبی کی
علاقے اور رواج کی

تفریق کو اللہ کیلئے دفن کر دیجئے

اللہ کیلئے دفن کر دیجئے ۔

Hakeem Saqib khan.

31/03/2021

*

*

حجامہ بہت سی بیماریوں کا کم وقت میں مفید ترین علاج ھے۔

بالخصوص امراض قلب ، دوران خون ، خارش ، پھنسیاں دانے ، قبض ، سینے کی جلن ، غصہ کی زیادتی ، نیند کی کمی ، بھوک کی کمی وغیرہ میں بہت مفید ہے۔

حکیم ثاقب ادریس خان

طب اسلامی حجامہ سنٹر نگار چوک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ
03206062162

15/02/2021

*دیسی گھی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

دیسی گھی دیہاتوں اور گاؤں میں استعمال ہونے والی ایک عام سی چیز ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے انسان نے ترقی کی تو جانوروں کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ رواج بھی اب ختم ہونے کو ہے کیونکہ انسان نے قدرتی چیزوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مصنوعی چیزیں تیار کرلیں جو ناصرف کم وقت میں تیار ہوتی ہیں بلکہ کم لاگت میں زیادہ فائدہ بھی دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج بکرے ،گائے اور دیسی مرغی کی جگہ برائلر مرغی نے لے لی ہے اسی طرح دیسی گھی مہنگا ہونے کی وجہ سے آج تقریباً ہر گھر میں مصنوعی بناسپتی گھی ہی استعمال کیا جاتا ہے

اس تحریر میں ہم دیسی گھی سے متعلق بات کریں گئے اور جانے گئے کہ یہ ہمارا لئے کتنا مفید ہے یا پھر ایسے لینے سے کسی قسم کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے تو چلئے شروع کرتے ہیں

گھی کا لفظ سنسکرت زبان کے لفظ "گرو " سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے جگمگانا اور اسی سے "گرتھ "لفظ کا مطلب ہوتا ہے ایسی چیز جو جگمگاتی ہے یا پھر کوئی ایسی چیز جیسے لگانے سے جگمگاہٹ آ جاتی ہے ۔

خالص دیسی گھی کسی بھی جانور کے دودھ سے بنایا جا سکتا ہے لیکن وہ دیسی گھی جو گائے کے دودھ سے بنایا جاتا ہے اسے سب سے بہترین مانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گائے کا جو دودھ ہوتا ہے اس میں ان تمام پیڑ پودوں کا اثر ہوتا ہے جو اس مخصوص علاقے میں ہوتے ہیں جہاں وہ گائے چرتی ہے کیونکہ گائے تقریباً وہ تمام پیڑ پودے کھاتی ہے جو اس مخصوص علاقے میں اگتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گائے کے دودھ میں اور اس دودھ سے بنائے ہوئے گھی میں وہ تمام پیڑ پودوں کا اثر موجود ہوتا ہے ۔

*سائنسی پہلو*
اب دیسی گھی کے سائنسی پہلو کی بات کی جائے تو سب سے پہلے یہ چیز سمجھ لیں کہ خالص دیسی گھی میں ہوتا کیا کیا ہے ۔
دیسی گھی Short Chain Fatty Acid کی وجہ سے جانا جاتا ہے کیونکہ دیسی گھی اس کا بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے اس کے علاوہ دیسی گھی
Conjugated linoleic acid
Butyric acid
Omega 3
Omega 6
Omega 9
کا بہت ہی اچھا سورس مانا جاتا ہے اس کے علاوہ دیسی گھی
Vitamin A
Vitamin D
Vitamin E
Vitamin K
کا بھی بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے ۔

چلئے یہ بات بھی سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرتا ہے شروعات دماغ سے کرتے ہیں ۔

*دماغ۔*
دیکھئے انسان کا 60٪ دماغ فیٹس سے مل کے بنتا ہے اور جس طرح کے فیٹس سے انسانی دماغ بنتا ہے وہ فیٹس انسانی جسم خود سے نہیں بنا سکتا بلکہ انسان خوراک سے حاصل کرتا ہے ۔اس بات کو بھی سمجھ لیں کے جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اس کے دماغ کے فیٹ سیلز بھی کم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔اب کیونکہ دیسی گھی اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ، ایس سی اف اے اور بیوٹیرک ایسڈ کا بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے اس لئے دیسی گھی انسان کے دماغ کے لئے بہت ہی زیادہ فائدے مند رہتا ہے ۔
اس کے علاوہ دیسی گھی آپ کے دماغ کو آپ کے نروز کو اور آپ کے نیوروٹرانسمیٹرز کو اچھے سے کام کرنے کے لئے ایک بہت ہی اچھا ماحول فراہم کرتا ہے ۔
اس لئے آپ نے اپنی نانی یا دادی کو کئی بار یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ دیسی گھی کھایا کرو دماغ میں تراوٹ آئے گی ۔

*آنکھیں۔*
اب بات کرتے ہیں آنکھوں کی ۔ دیسی گھی vitamin A کا بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آپ کی آنکھوں کے لئے بہت ہی زیادہ فائدے مند رہتا ہے ۔
اس چیز کو ذرا سا سمجھ بھی لیجئے کہ لمبے عرصے تک موبائل سکرین دیکھتے رہنے کی وجہ سے یا کمپیوٹر سکرین دیکھتے رہنے کی وجہ سے ہوتا یہ ہے کہ ہمارے لیکریمل گلینڈز جہاں آنسو بنتے ہیں وہ صحیح طرح سے کام کرنا بند کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھوں میں روکھا پن سوکھا پن اور جلن اور دیکھنے جیسی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ اب اگر آپ ان چار میں سے کوئی بیماری ہے یا آپ اپنا زیادہ تر وقت موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر بیتاتے ہیں تو آپ کو اپنی ڈائٹ میں دیسی گھی کو ضرور شامل کرنا چاہیے ۔
اس بات کو بھی سمجھ لیجئے کہ جب وٹامن اے کی بات کی جاتی ہے تو جو وٹامن اے دیسی گھی سے حاصل ہوتا ہے وہ گاجر سے نہ صرف زیادہ ہوتا ہے بلکہ زیادہ اثر دار بھی ہوتا ہے ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ دیسی گھی میں جو وٹامن ہوتا ہے یہ دو فارم میں ہوتا ہے جس میں سے ایک Ester ہے جبکہ دوسری catroten ۔ اس لئے جب آپ دیسی گھی کھاتے ہو تو یہ نا صرف آپ کے جسم کو بہت زیادہ مقدار میں وٹامن اے دیتا ہے بلکہ یہ اسے اچھی طرح سے جذب بھی کرواتا ہے ۔

*وٹامن D*
تو دیسی گھی میں جو دوسرا وٹامن ہوتا ہے وہ وٹامن ڈی ہوتا ہے اور وٹامن ڈی کی سب سے بڑی حثیت یہ ہوتی ہے کہ یہ آپ کے جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کو جذب کرواتا ہے ۔ اس لئے دیسی گھی بڑھتے بچوں ، حاملہ عورتوں اور کثرت کرنے والے افراد کے لئے بہت زیادہ مفید چیز ہوتی ہے

یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جسم خوبخود وٹامن ڈی سمپھاتھئز کر لے یا پیدا کر لے تو آپ کو چاہیے کہ صبح صبح باریک کپڑے پہن کے کچھ دیر دھوپ میں تہلیے ۔

*وٹامن E*
اب آ جائیے وٹامن ای پر تو وٹامن ای کا سب سے بڑا فایدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی بہترین آنٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے یہ نا صرف آپ کی قوت مدافعت بڑھا دیتا ہے بلکہ آپ کے جسم میں جو ٹاکسنز پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی نکال کر باہر پھینکتا ہے
لیکن یہ وٹامن ای کا اصلی فایدہ نہیں ہے وٹامن ای کا اصلی فایدہ یہ ہے کہ وٹامن ای کو مناسب مقدار میں لینے سے آپ کی جلد چکنی ،لچیلی اور چمکدار ہوتی چلی جاتی ہے اس لئے اگر آپ کی عمر تیس سال سے زیادہ ہے تو آپ کو دیسی گھی کھانا بھی چاہیے اور لگانا بھی چاہیے ۔

کچھ مرد جو 6 پیک بنانے کے چکر میں اور کچھ خواتین سلم ٹریم رہنے کے چکر میں دیسی گھی کا استعمال نہیں کرتیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ دیسی گھی کھانے سے ان کے جسم کی ساخت خراب کو جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ ایسا کرنے سے ان کی بیماروں کے خلاف قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور آپ نے کئی ایسے 6 پیک والے لڑکے اور سلم سمارٹ لڑکیاں دیکھیں ہوں گی جن کا حال موسم بدلتے ہیں بے حال ہو جاتا ہے اور نزلہ زکام ،کانسی بخار انھیں آ گھیرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا تو آپ ان سے یہ پوچھ کے دیکھ لیجئے گا سال بھر ان کے جسم میں کہیں نہ کہیں درد ضرور ہو رہا ہوتا ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ایسے مسائل نہ ہوں تو آپ کو دیسی گھی ضرور استعمال کرنا چاہیے

*وٹامن کے* :
وٹامن کے ناصرف ہڈیوں کے لئے بہت فائدے مند ہوتا ہے بلکہ یہ کسی بھی قسم کی چوٹ کو ٹھیک کرنے میں بہت مفید ہوتا ہے ۔اس لئے کٹنے پر جلنے پر اور چھپنے پر سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہاں پر دیسی گھی لگا دیا جائے
__________________
*کائڈیو ویسکولر سسٹم* :
کیونکہ دیسی گھی میں ایس -سی -ایف -اے اور بیوٹیرک ایسڈ ہوتا ہے اس لئے اگر آپ دیسی گھی لیتے ہیں تو دیسی گھی آپ کے جسم اور خون کی نالیوں میں جمی چربی کو باہر نکال دیتا ہے اس لئے اگر آپ اچھی مقدار میں دیسی گھی لیتے ہیں تو آپ موٹاپے سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور یہی the ketogenic diet کا بنیادی اصول ہوتا ہے ۔ اب اس کا کیا مطلب ہوا ؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں تو آپ کو دیسی گھی ضرور کھانا چاہیے ۔
دیسی گھی لینے کا دوسرا فایدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کی وینز اور آرٹیز کی السٹیسٹی یا لچک بڑھا دیتا ہے اس لئے دیسی گھی ان لوگوں کے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہے جن کی فیملی ہسٹری دل کی بیماریوں کی ہے یا جو لوگ سگریٹ پیتے ہیں اور جو لوگ کسی ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ پلیویشن ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ کیونکہ دیسی گھی میں بہت ہی اچھی مقدار میں انٹی آکسیڈنٹ کانجوگیٹڈ لینولیک ایسڈ اور فیٹ سالوبل وٹامنز ہوتے ہیں اس لئے یہ قد بڑھانے کے لئے ایک بہت ہی مفید غذا سمجھی جاتی ہے ۔
________
*ڈئجسٹو سسٹم* :
اگر آپ کا کچھ ٹلا ہوا کھانے کو دل کر رہا ہے تو آپ ایسے دیسی گھی میں ہلکی آنچ پر ٹلیے اور کھائے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ۔ایسا کیسے ہوتا ہے ؟
دیسی گھی کا جو سمکو پوائنٹ کسی بھی طرح کے گھی سے اور کسی بھی طرح کے تیل سے زیادہ ہوتا ہے

*اب سمکو پوائنٹ کیا ہوتا ہے* ؟
سمکو پوائنٹ smoke point کسی خاص چیز کے لئے اس خاص ٹمپریچر کو کہا جاتا ہے جس پوائنٹ پر وہ چیز گرم ہونے پر فری ریڈیکلز چھوڑنا شروع ہو جاتی ہے یعنی ایکسیڈائز ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔
فری زیڈیکلز سے کیا نقصان ہوتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر جسم میں فری ریڈیکلز تھوڑے زیادہ بڑھ جائیں تو طرح طرح کی کائیڈیو ویسکولر ڈیزز ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اگر زیادہ بڑھ جائیں تو کینسر تک ہو سکتا ہے ۔
لیکن دیسی گھی میں جو بیوٹیرک ایسڈ ہوتا ہے یہ ہماری انٹیسٹائینز میں جا کر کیلرلٹی سیلز کی پیداوار بڑھا دیتا ہے اور یہ جو کیلرٹی سیلز ہوتے ہیں وہ ہمارے جسم میں باہر سے آنے والے تمام ہر طرح کے الرجنس اور ٹاکسنز کو ختم کر دیتے ہیں

کیونکہ دیسی گھی میں بہت اچھی مقدار میں کانجوگیٹڈ لینولیک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ بہت ہی بہترین anticarcinogen مانا جاتا ہے اس لئے دیسی گھی ان لوگوں کے لئے بہت مفید ہے جن کی فیملی ہسٹری کینسر کی ہے یا وہ لوگ جو کینسر سے ابر چکے ہیں ۔

ڈئجسٹو سسٹم میں دیسی گھی کا دوسرا فایدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کھانے کے کسی بھی ایٹم کا glycemic index کم کر دیتا ہے

*گلاسیمک انڈیکس کیا ہوتا ہے* ؟
گلاسیمک انڈیکس کسی بھی فوڈ ایٹم کی اس ولیو کو کہا جاتا ہے جس کی مدد سے ہم یہ سمجھ پاتے ہیں کہ یہ خوراک ہمارے خون میں کسی تیزی کے ساتھ بلڈ شوگر لیول کو بڑھا دے گا ۔
اور اسی لئے دیسی گھی ان لوگوں کے لئے بہت فایدہ مند ہے جنھیں شوگر کی بیماری ہے ۔
ویسے تو شوگر کے مریض کو ایسا کھانا نہیں کھانا چاہیے جس کا کلاسمک انڈیکس زیادہ ہو لیکن اگر کھانا ہی پڑے تو اسے چاہیے کہ اس میں دیسی گھی ڈال لے ۔

تیسری چیز دیسی گھی ایسینشل فیٹی ایسڈز کا بہت اچھا سورس ہوتا ہے اس لئے دیسی گھی ناصرف آپ کی intestinal walls کو پروٹیکٹ کرتا ہے بلکہ یہ السریٹو کولایٹس ،منہ کے چھالے اور پیٹ کے السر سے بھی آپ کو بچاتا ہے اور اگر یہ بیماریاں آپ کو پہلے سے ہی ہیں تو یہ ان کو ٹھیک کرنے کے لئے سب سے کارآمد اور قدرتی طریقہ ہے ۔
*ایک دن میں کتنا دیسی گھی کھانا چاہیے*
فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف دی نیشنل ریسرچ کے مطابق ایک صحت مند جوان کی کل خوراک کا 20 ٪ حصہ فیٹس سے لیا جانا چاہیے اس سے آپ ایک دن میں بڑے آرام سے 20 سے 30 گرام دیسی گھی کھا سکتے ہیں ۔یہاں اس بات کو بھی سمجھ لیں کیونکہ فیٹ انٹیک یعنی چکنائی لینے کی اپر لیمٹ 35٪ ہے اس لئے ہم زیادہ دیسی گھی بھی کھا سکتے ہیں لیکن ہم دن بھر میں جو خوراک لیتے ہیں اس میں بھی کہیں نہ کہیں چکنائی ضرور ہوتی ہے اس لئے 30 گرام سے زیادہ دیسی گھی نہیں کھانا چاہیے ۔

اگر آپ چاہیے ہیں کہ آپ جو دیسی گھی کھا رہے ہیں اس کا آپ کو پورا پورا فایدہ ملے تو آپ روزانہ پیدل چلنے کا معمول بنا لیجئے ۔

اور یہاں سب سے ضروری بات کرنا چاہوں گا کہ جو بچپن کے دن ہوتے ہیں یا جوانی کے دن یہ گروتھ ایئرز کہلاتے ہیں اور ان سالوں میں دیسی گھی بنا موٹاپے اور پیٹ بڑھنے کی پروا کیے ضرور لینا چاہے اور ضروری ہے کہ جب بچے بڑھ رہے ہوں ان کی خوراک میں دیسی گھی کو ضرور شامل کیا جائے جس سے نہ صرف وہ لمبے بلکہ چوڑی جسامت بھی حاصل کرتے ہیں بلکہ ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ .

08/02/2021

👈 مرد کا ڈی این اے (DNA)*

مرد کا ڈی این اے (DNA) عورت کے جسم میں 4 ماہ 10 دن تک موجود رہتا ھے

مسلم عورتوں کی عدت اور ڈی این اے (DNA) کی سائنسی تحقیق
DNA...
(Deoxyribo Nucleic Acid)

فلوریڈا کا ایک ڈاکٹر جیمز انسانی جسم کے ڈی این اے پر 1968ء میں ایک لیبارٹری میں کام کر رھا تھا
وہ ایک کرسچن تھا اس کی بیوی سیاہ فام تھی اور ان کے تین بچے تھے
اس کے پڑوس میں ایک مسلم فیملی رہتی تھی ڈاکٹر جیمز کی بیوی کا مسلم گھرانے میں آنا جانا رہتا تھا
مسلمان عورت کا مرد اسی دوران فوت ہو جاتا ھے اس لئے وہ عورت شوہر کے انتقال کے بعد عدت میں بیٹھ جاتی ھے۔
ڈاکٹر جیمز کی بیوی اپنے شوہر سے مسلمان عورت کی عدت کا ذکر اکثر گھر میں کرتی رہتی تھی کہ یہ کیسا مذہب ھے جو عورت کو 4 ماہ 10 دن تک گھر میں قید کر رکھے۔۔۔
ڈاکٹر جیمز کو سائنسی تحقیق کا شوق ہوا اور اس نے مسلم عورتوں کی عدت کے دورانیے کی تحقیق اسلامی مطالعہ پر کی اور اس دوران ان کے جسم میں ڈی این اے پر ریسرچ شروع کئے
جوں جوں وہ تحقیق کرتا گیا اللہ پاک اس ڈاکٹر کے عقل کے پردے کھولتا گیا
وہ اس نتیجے پر پہنچا
کہ مسلم عورتیں دوسرے مذاہب کی عورتوں سے عدت کی وجہ سے بھی پاکباز رہتی ھیں۔
وجہ ۔ ۔
یہ کہ ایک مرد کا ڈی این اے عورت کے جسم میں 4 ماہ 10 دن تک موجود رہتا ھے
جب عورت کا شوہر فوت ہو جائے یا عورت کو طلاق ہو جائے تو اسلام نے عورت پر 4 ماہ 10 دن عدت اس لئے لازمی قرار دیا ھے
تاکہ
جب بیوہ یا مطلقہ عورت دوسری شادی کرے تو اس کے جسم میں پہلے شوہر کے ڈی این اے کا وجود باقی نہ رہے،،،
جو مطلقہ یا بیوہ عورت 4 ماہ 10 دن کی عدت کے اندر دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ھے وہ پاکباز نہیں ھوتی، کیونکہ اس کے جسم میں پہلے شوہر کا ڈی این اے موجود ہوتا ھے
جو کہ عدت کے اندر شادی کرنے والی مطلقہ یا بیوہ عورت کے دوسرے شوہر سے پیدا ہونے والی اولاد میں ٹرانسفر ھو جاتا ھے جس کی اسلام میں انتہائی ممانعت بیان کی گئی ھے۔ یہ ریسرچ کرتے کرتے ڈاکٹر جیمز نے اپنی بیوی اور تینوں بچوں کے ڈی این اے سیمپل اپنی لیب میں چیک کیے تو اسکی بیوی کے جسم میں 4 مختلف لوگوں کے سیمپل پائے گئے
اور ان کے بچوں میں سے سوائے ایک بیٹا کے باقی دو بچوں میں ڈاکٹر جیمز کے علاوہ دو اور لوگوں کے ڈی این اے سیمپل نکل آئے۔۔۔
ڈاکٹر جیمز نے اپنے ایک بیٹا جس میں فقط ڈاکٹر اور اسکی بیوی کا ڈی این پایا گیا تھا اسکو اپنے پاس رکھا اور بیوی کے ساتھ دو بچوں کو چھوڑ کر مسلمان ھو گیا۔
اور کینیڈا جا کر ایک مسلم عورت سے شادی کر لی۔ ڈاکٹر جیمز عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گیا اور اپنا نام ڈاکٹر جون رکھ لیا
اس نے اپنی اس ریسرچ کو کینیڈا کے ایک اخبار میں اپنی رپورٹوں کے ساتھ شائع کروایا تو ڈاکٹر جون کے حلقہ احباب میں سے کافی سارے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔
یورپ میں ڈی این اے پر سائنسی تحقیق 1960ء کے عشرے میں شروع کی گئی تھی جبکہ
مذہب اسلام میں صدیوں پہلے عدت کی بنا پر انسانی ڈی این اے کی طرف اشارہ دیا گیا ھے.

05/02/2021

شہد کا جمنا
Honey crystallization / Honey granulation

شہد کے جمنے سے کیا مراد ہے؟

شہد کا جمنا شہد کی وہ حالت ہے جس میں شہد دیسی گھی کی طرح پورا یا کچھ مقدار میں جم جاتا ہے..

شہد کیوں جمتا ہے؟

شہد میں قدرتی طور پر Glucose اور Fructose ہوتا ہے. شہد میں قدرتی طور پر پانی بہت کم ہوتا ہے. جب گلوکوز کے مالیکیول ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں تو وہ دانے دار شکل اختیار کر لیتے ہیں.

شہد کب جمتا ہے؟

جب بھی شہد کو 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت ملے تو وہ جمنا شروع ہو جاتا ہے. کچھ شہد 40 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی جم جاتا ہے.

شہد کتنے وقت میں جمتا ہے؟

اس کا انحصار شہد کے قسم پر ہے کہ وہ کس قسم کے پھولوں سے لیا گیا ہے. اگر اس شہد میں گلوکوز اور فرکٹوز کی مقدار زیادہ ہو تو وہ اتنی ہی جلدی جم جاتا ہے. عموماً شہد کو جب چھتے سے نکالا جائے تو وہ 2 ماہ سے لے کر 2 سال کے دوران جم جاتا ہے. سرسوں کے پھولوں کا شہد 40 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی اکثر ایک مہینے کے اندر جم جاتا ہے.

میں نے ایک علاقے سے شہد منگوایا ہے جس کو کافی عرصہ ہوا ہے اور وہ ابھی تک اسی حالت میں ہے، ایسا کیوں ہے؟

جیسا کے اوپر کہا گیا ہے کہ اس کا انحصار پھولوں پر اور گلوکوز اور فرکٹوز کی مقدار پر ہے. آپ کے شہد میں یہ دونوں اجزاء کم مقدار میں ہیں اس وجہ سے.

میں نے مقامی بندے یا ایک برانڈ کا شہد لیا ہے جس کو بہت وقت ہوا پر وہ ابھی تک اسی حالت میں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

جمنا شہد کی تقدیر ہے چاہے آپ جس سے بھی لیں اور جہاں سے بھی لیں. اگر وہ شہد نہیں جم رہا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شہد ابالا گیا ہے. اکثر برانڈز والے ایک کیمیائی محلول بنا کر شہد کے نام اور قیمت پر فروخت کرتے ہیں. ایسے کیمیکل یا کیمیکل ملا شہد بھی نہیں جمتے.

ابالے گئے شہد سے کیا مراد ہے؟

اکثر ڈیلرز اور برانڈز والے شہد کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے بہت ابال لیتے ہیں جس سے اس شہد کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے اور پھر وہ جلدی نہیں جمتا .
بہت سے ڈیلرز شہد کو ابال ابال کر جلا دیتے ہیں جس سے اس شہد کا رنگ بھی بدل جاتا ہے اور اسکی اندر موجود غذائیت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے. وہ شہد بھی نہیں جمتا پھر.

ابالنے سے شہد کو کیا نقصان ہوتا ہے؟

ابالنے سے شہد اپنی آدھی سے زیادہ غذائیت کھو دیتے ہیں. اگرچہ وہ خالص ہی ہوگا مگر اسکی غذائیت کم ہوگی.

کونسا شہد بہت جلدی جم جاتا ہے؟

جمنے کے معاملے میں مالٹے کے پھولوں یعنی Orange blossom اور سرسوں کا شہد سر فہرست ہے. یہ بہت جلدی جمتے ہیں.

شہد کو جمنے سے کیسے بچایا جائے؟

شہد کو کسی بھی موسم میں فریج میں مت رکھیں. سردی میں اس جگہ رکھیں جہاں سورج کی روشی ہو یا جہاں درجہ حرارت زیادہ ہو.

کیا جمنے سے شہد کی. غذائیت پر اثر پڑے گا؟

بالکل نہیں. اس کی غذائیت برقرار رہتی ہے. بس رنگ اور بو میں بہت معمولی فرق آجائے گا.

اگر شہد جم جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

اگر پورا شہد دیسی گھی کی طرح جم گیا ہو تو شہد بوتل سے نکال کر ایک برتن میں ہلکی آنچ پر گرم کریں. جب شہد پگھل جائے تو واپس برتن میں ڈالیں.یا شہد والا بوتل گرم پانی میں رکھیں جبتک شہد پگھل نہ جائے.

کیا شہد میں چینی ملائی جا سکتی ہے؟

شہد اتارنے کے بعد اس میں کوئی بھی چیز ملائیں گے تو وہ شہد خراب ہو جائے گا. شہد میں ملاوٹ مکھیوں کے ذریعے ہی جا سکتی ہے جبکہ مکھیوں کو مختلف رنگ اور میٹھی کیمیکل ملا شربت دیا جائے.

شہد کتنے وقت میں خراب ہوتا ہے؟

اگر شہد کو نمی اور ہوا سے بچایا جائے تو سینکڑوں سال میں بھی خراب نہیں ہوتا.

01/02/2021

ان شاء الله تىن روز یہ کیمپ ھو گا۔نبض سے تشخیص کریں گے اور غذا بھی تجویز کریں گے۔ صاف ستھرا ماحول ڈسپوزیبل سامان سارا استعمال کیا جاتا ہے۔

ّٰہ_علیہ_وآلہ_واصحابہ_وسلم_کا_فرمان_ہے.

جو شخص تم میں سے(قمری/اسلامی) مہینے کی 17-19-21 تاریخ کو حجامہ لگواتا ھے تو اسے ھر قسم کی بیماری سے شفاء ملے گی۔
سنن ابی داؤد۔

تو آج مغرب سے مہینے کی 19 تاریخ شروع ھو رھی ھے جو کل مغرب تک رھے گی ۔

ایسے ھی 21تاریخ بدھ 4 فروری 2021 کی شام کو شروع ھو کر جمعرات مغرب تک ھو گی۔

۔

۔*
03206062162-03116462162

19/01/2021

۔

عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی کا علاج کیا اور وہ اس کے علاج کو جانتا ھی نہیں تو وہ شخص نقصان کا ذمہ دار ھو گا۔

زاد المعاد۔ طب نبوی۔ امام ابن قیم

17/01/2021
11/01/2021

ہلدی کے فوائد kukaman haldi ہلدی کرکمان
Curcuma longa Turmeric
haldi ki fawaid
ہلدی کے حیرت انگیز اور ناقابل یقین فوائد، ہلدی سے علاج

ہلدی کا رنگ زرد اور ذائقہ پھیکا اور تلخ ہوتا ہے۔ ہلدی کا شجرہ نسب (خاندان) ادرک ہے۔اس کی سرخی مائل زرد نباتاتی جڑیں بطور مصالہ اور دوا کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں ۔ یہ عام

طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔ ایشیائی ممالک میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔یہ سدا بہار پودا جنوبی ہند کے ان علاقوں میں خوب پرورش پاتا ہے جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہے۔یا

زمینیں سایہ دار ہوتی ہیں۔

ہلدی کو مرچوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہلدی کو عربی میں عروق الصفر، فارسی میں زرد چوب اور انگریزی میں Turmeric اور سندھی میں ہیڈ کہا جاتا ہے۔اس کا پودا ایک میٹر

بلند ہوتا ہے اور اس کے پتے پچاس سے ایک سوبیس ملی میٹر لمبے اور اڑتیس سے پنتالیس ملی میٹر چوڑے اور بیضوی ہوتے ہیں۔اور ان کا اگلا سرا نوکیلا ہوتا ہے۔
ہلدی کی کاشت

ہلدی کی کاشت ایسے علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں سالانہ بارشیں زیادہ ہوتی ہیں۔پاکستان کے ضلع قصور اور ہندوستان کی ریاست آندرپردیش میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ہلدی کی کاشت

عموماً اپریل ، مئی کے مہینے میں کی جاتی ہے۔ اور نومبر ،دسمبر میں جب اس کے پتے سوکھنے لگتے ہیں تو فصل کو اکھاڑنے سے تین چار دن پہلےہلدی کے کھیت کو ہلکا پانی لگا دیا جاتا

ہے۔ اور نمی کی حالت میں پتے کاٹ کر علیحدہ کرکے ہلدی کی گنڈیوں کو اچھی طرح صاف کر کے پانی میں ایک گھنٹہ تک ابالا جاتا ہے۔

ہلدی کی گنڈیوں کو پانی میں ابالنے کے بعد ایک ہفتے تک دھوپ میں سوکھایا جاتا ہے تا کہ گنڈیاں خشک ہو جائیں۔اس کے بعد گنڈیوں کو صاف کر کے سرسوں کا تیل لگا کر دانے بھوننے والی

بھٹیوں میں دس سے پندرہ منٹ تک بھونا جاتا ہے۔ اس طرح یہ گنڈیاں دو چاردنوں میں خشک ہو جاتی ہیں۔

اگلے مرحلے میں ہلدی کو پالش کیا جاتا ہے۔ پالش کر نے کیلئے خشک کی ہوئی گنڈیوں کو ایسے ڈرم میں ڈالا جاتا ہے۔ جس میں چھوٹی چھوٹی چھریاں لگی ہوتی ہیں۔ اور گھمایا جاتا ہے ۔ اس

سے گنڈیوں کا اوپر وا لا چھلکا اتر جا تا ہے اور ہلدی پالش ہو کر چمکدار اور خوبصورت دکھا ئی دیتی ہے۔ اس کے بعد اس کو بو ریوں میں بندکرکے صاف ستھرے اورہوادار کمر ے میں

پہنچا دیا جاتا ہے۔ تا کہ ہلدی خراب نہ ہو۔
ہلدی کا استعمال

ہلدی کا استعمال صرف کھانوں اور دواؤں میں ہی نہیں ہوتا بلکہ کیک ، مٹھائیوں اور پھلوں کے جوس اور دیگر کئی اشیا ء تیاری میں بھی کیا جاتا ہے ۔کیمیائی تجزیہ کے مطابق ہلدی میں پوٹاشیم،

کیشیم، فاسفورس ، فولاد، ،سوڈیم کے علاوہ وٹامن "A” ، "B” اور "C” بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

ہلدی کا استعمال بطور دوا توبعد میں شروع ہوا ، ابتدا میں اسے رنگ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا تھا ۔ اور بعض مقامات پر اسے زعفران کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔جبکہ

اب یہ ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو بن گئی ہے اور اسے کھانے کو خوش رنگ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
ہلدی کی خصوصیات

ہلدی کا باقاعدہ استعمال سے حیرت انگیز فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہلدی اپنے اندر جادوائی خواص رکھتی ہے۔ امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق اس میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی

بیکٹیریل ،اینٹی وائرل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں کے لیے بھی مفید ہے۔

ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے اس میں شامل پوٹاشیم دل اور بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہےاور اس میں شامل آئرن خون کے سر خ خلیوں کو بڑھاتا ہے۔خون کی کمی دور

کرنے کے علاوہ یہ خون کو صاف بھی کرتی ہے۔ ہلدی میں وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں معدنیات اور فولاد پائی جاتی ہے لیکن ان سب کے باوجود اس میں سرکومن نامی اینٹی آکسیڈنٹس عنصر جادوئی اثر رکھتا ہے۔ ان تمام خصوصیات کی وجہ سے اسے کئی

طبی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نمک ہلدی اور سرسوں کا تیل ملاکر اس سے روزانہ دانت صاف کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔

ہلدی کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔تیزابیت کے ازالہ کی مخصوص دوا ہے۔ یہ گلے کی سوزش ، جوڑوں کی سوزش کے لئے فائدہ مند ہے۔ یہ جسم سے ایسے عناصر کو مٹا دیتی ہے جس

سے گٹھیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ محافظ جگر ادویہ میں اسے ممتاز مقام حاصل ہے ، جگر کی سوزش (ہیپاٹائٹس) اور یرقان میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔

ہلدی جسم میں سے زائد چربی ختم کر کے وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔سرجری سےکچھ دن پہلے ہلدی کا استعمال سرجری کے دوران دل کے دورے کے خدشے کوساٹھ فیصدتک کم

کردیتا ہے۔ہلدی جگر کو صاف کرتی ہے۔ اس میں سے فضلہ کو خارج کرتی ہے۔ جس سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔
چوٹ یا زخم کا علاج

یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے۔ اس میں اینٹی وائرل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اس لئے متعدی امراض میں فائدہ مند ہے اور اسی وجہ سے چوٹ ، درد اور اندرونی سوزش (

انفیکشن) میں ہلدی کا بیرونی اور اندرونی استعمال کیا جاتا ہے ۔زخم کیسا بھی ہو ہلدی کا پیسٹ لگانے سے ہفتہ دس دن میں خشک ہوکر بھر جاتا ہے۔ جوڑوں کےدرد، آپریشن کے بعد اور عام

درد میں بھی یہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ جسم کے اندر سوزش اور جلن کوبھی ختم کرتی ہے۔ لہسن اگر سونے کے بہاؤ بھی ملے تو استعمال کریں، کیوں جانیے

اینٹی سیپٹک جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس کی چوٹ پر اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے

سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ اس سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے۔ باؤلے کتے کے کا ٹنے پر مریض کو ایک تولہ ہلدی پانی کے ساتھ دن میں دو بار کھلا نا مفید ہوتاہے اور کاٹی ہو ئی

جگہ پر ہلدی کا لیپ لگا دیں، مریض کا زخم جلدی بھر جائے گا۔
کینسرسے بچاؤ

تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہلدی عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر بھگانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آنتوں، چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کے علاوہ خون

کے سرطان(لیوکیمیا)کے علاج اور اس سے بچاؤ کے لیے بھی مفید ہے۔سائنسدانوں کے مطابق ہلدی میں قدرتی طور پر پایا جانیوالا کیمیائی مادہ’’کرکیومن‘‘کینسر زدہ خلیات کی افزائش

کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کولیسٹرول لیول کم کرنا

تحقیقات کے مطابق اگر ہلدی محض کھانوں میں مسالحے کے طور پر ہی استعمال کرلی جائے تو اس سے کولیسٹرول لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ہلدی شریانوں کی بندش روکنے اور کولیسٹرول

گھٹانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس میں شامل پوٹاشیم بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔جسم میں کولیسٹرول کا تناسب سہی رکھنا جسم کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ

رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
یاداشت کی بہتری کےلئے

سائنسی تحقیق کے مطابق ہلدی یاداشت کی کمزوری کے عارضہ الزائمر سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔یہ دماغ کی آکسیجن کے حصول کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے ۔جس کی وجہ سے دماغی افعال

میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ ہلدی میں قدرتی طورپر موجود اہم جزو کرکومین دماغی انحطاط کے باعث لاحق ہونے والےمرض الزائمر جوعموماً معمر افراد کو لاحق ہوتا ہے ، کے علاج میں کافی

فائدہ مند ہے ۔ لال مرچ کے فوائد و نقصانات

اس مرض کی ابتدا میں یاداشت کمزور ہوتی ہے پھر وقت گزرنے کے ساتھ مریض اپنے قریبی عزیزوں کی پہچان تک کھو بیٹھتا ہے اور اپنے روزمرہ کے معمولات ادا کرنے کے قابل بھی نہیں

رہتا۔اس بیماری کی وجہ دماغی خلیوں میں پروٹین کا انجماد ہے، جس سے خلیوں کے درمیان برقی رابطوں میں تعطل پیدا ہونے لگتا ہے۔

جب کہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض میں دماغ کے متاثرہ خلیے اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہناہے کہ ہلدی، دماغ میں نئے اعصابی ریشوں کے بننے کا عمل تیز کردیتی ہے

، جس سے دماغی انحطاط کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اس طرح یہ دماغی کمزوری دور ہوکریاداشت بہتر ہوجاتی ہے۔
ذیابیطس سے بچاؤ

ہلدی ذیابیطس میں بھی مفید ہے یہ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ اینٹی ذیابیطس اور اینٹی اوکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔جگر میں گلوکوز کی پیداوار کو کم کرکے خون میں گلوکوز کی

سطح کوکم کرتی ہے ۔ اور انسولین مقدار کو اعتدال پر لاتی ہے۔ذیابیطس میں استعمال ہونے والی ادویات کے اثر کو بڑھا دیتی ہے ۔ گوشت کا نعم البدل

اس مقصد کے لئے گرم دودھ میں کچی ہلدی ابال کر یا اس کا سفوف ایک چمچ ملا کر پینے سے فائدہ ملتا ہے۔ البتہ اگر تیز ادویات کے ساتھ اس کا استعمال کیا جائے تو خون میں شوگر کا لیول

ضرورت سے زیادہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذیابطیس کے مریض کو معالج کے مشورے سے ہلدی کا استعمال کرنا چاہیے۔
جلدی امراض سے بچاؤ

خوبصورتی کے لئے قدیم زمانے سے ہلدی کے استعمال کو بہترین مانا جاتا ہے ہلدی نہایت سستی بیوٹی پروڈکٹ ہے ہلدی دانت صاف کرتی ہے اور جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے ہزاروں

سال سے استعمال ہورہی ہے۔ یہ جلد کو دھوپ کی مضرصحت الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھ کر اسے جھلسنے اور مزید تباہی سے دور رکھتی ہے۔ اس کا استعمال مختلف بیماریوں سے

محفوظ رکھتا ہے جسے بھولنے کی بیماری، مختلف اقسام کی الرجی جوڑوں کے درد وغیرہ میں فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔
داغ دھبوں سے نجات

چہرے پر داغ دھبوں کی صورت میں ہلدی کا پاؤڈر اور صندل کی لکڑی کا پاؤڈر ہم وزن لیں۔ اور اس میں لیموں کا رس ملا کے پیسٹ بنا لیں۔ پندرہ منٹ تک چہرے پر لگارہنے دیں۔ اور پھر نیم

گرم پانی سے دھو لیں ۔ہفتے میں دو باراستعمال کرنے سے چہرے سے داغ دھبے ختم ہو جائیں گے۔
خشک اورچکنی جلد کے لئے

خشک جلد کے لئے انڈے کی سفیدی، دو قطرے زیتون کا تیل، چند قطرے تازہ لیموں کا رس اور ایک چٹکی ہلدی کو اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اورمتاثرہ حصوں پر لگائیں اور مکمل

طور پر خشک ہونے کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں۔ چکنی جلد کے لئے ہلدی کا ماسک بہت فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔ چکنی جلد کے لئے اس کا پیسٹ بنانے کے لئےایک چمچ صندل پاؤڈر میں

ایک چٹکی ہلدی کے ساتھ تین چمچ اورنج جوس ملا کے پیسٹ بنا لیں اور جلد پر استعمال کریں۔ ۔
جھریوں کا خاتمہ

چہرے پر جھریوں کےخاتمے کے لئے ہلدی پاؤڈر، چاول کا آٹا، خشک دودھ اور ٹماٹر کے جوس میں اچھی طرح ملا کے پیسٹ بنا لیں تیس منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں اسکے بعد ٹھنڈے پانی

سے دھو لیں ۔اس سے نہ صرف جھریوں کا خاتمہ ہو گا بلکہ چہرے کی رنگت بھی نکھر جائے گی۔
آنکھوں کے گردسیاہ حلقے

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو ختم کرنے کے لئے دو چمچ بٹر ملک میں ایک چٹکی ہلدی ملا کے آنکھوں کے گرد بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اسکے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ہفتے میں دو بار

استعمال سے آنکھوں کے گرد موجود سیاہ حلقے ختم ہو جائیں گے۔
بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنا

بڑھتی عمر کے جلد پر ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لئے بیسن اور ہلدی کو ہم وزن لے کر پانی ملائیں اور پیسٹ بنا لیں اس پیسٹ میں بہترین نتائج کے لئے خشک دودھ یا دہی بھی استعمال

کر سکتے ہیں پیسٹ کو چہرے پر لگائیں اور خشک ہونے کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں اس پیسٹ کو پورے جسم پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
ذہنی ڈپریشن، ذہنی تناؤ کا علاج

ہلدی ڈپریشن ،ذہنی تناؤ اور اداسی کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 500 ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر

ہوتا ہے جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔اس طرح موثر طریقے سے اس کے استعمال سے ذہنی ڈپریشن، تناؤ سے بچا جا سکتا ہے۔
نفسیاتی خوف سے نجات

ہلدی میں نہ صرف بے خوابی کا عمدہ علاج ہےبلکہ یہ خوف اور دیگرکئی نفسیاتی بیماریوں میں بھی مؤثر ہے۔ ماہرین نفسیات کی ایک تحقیق کے مطابق یہ نہ صرف دماغ میں موجود کسی بھی

قسم کےنفسیاتی خوف کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ بلکہ یہ ذہن میں پیدا ہونے والے نئے خوف کو بھی روکتی ہے۔

جو لوگ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر اور دیگر نفسیاتی عدم توازن کا شکار ہوکر خوف میں مبتلا ہوں تو ایسے افراد کے لیے ہلدی سے تیارکردہ غذائیں انتہائی مفید ہیں۔علاوہ ازیں ہلدی میں یہ

خاصیت موجود ہے کہ یہ آپ کے دماغ سے برے واقعات کو بھلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
چینونٹیوں سے نجات

چیونٹیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس جگہ پر جہاں چیونٹیاں بہت زیادہ ہوں وہاں پر تھوڑی سے ہلدی ڈال دیں، ساری چیونٹیاں بھاگ جائیں گی اور دوبارہ وہاں پر نہیں آئیں گی۔
ہلدی کی چائے

ہلدی کے حیرت انگیز فوائد حاصل کرنے کےلئے ہلدی کی چائے بنا کر بھی پی جا سکتی ہے۔ایک کپ ناریل کا دودھ ، ایک کپ پانی ، ایک چمچ دیسی گھی ، ایک چمچ شہد اور ایک چمچ ہلدی کا

سفوف لیں۔سب سے پہلے کوکونٹ ملک اور پانی کو 2 منٹ تک ابالیں پھر اس میں شہد ، دیسی گھی اور ہلدی ڈال کر مزید دو منٹ ابالنے کے بعد چولہے سے اتار لیں۔کوکونٹ ملک(ناریل کا

دودھ) نہ ملے تو عام دودھ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

ضروری نوٹ:ہلدی سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔تاہم ان ترکیبوں ،طریقوں اور ٹوٹکوں پر عمل کرنے سےپہلے اپنے معالج (طبیب،ڈاکٹر) سے

مشورہ ضرور کریں۔اور دوران عمل اپنے معالج سے رابطہ میں رہیں۔

04/01/2021

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!

حجامہ ایسا علاج ھے جسکو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنایا بلکہ فرشتوں نے معراج کی رات تلقین کی اور کہا:یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ! حجامہ کروایا کریں اور اپنی امت کو بھی حجامہ سے علاج کی تلقین کریں۔

الحمدللہ


میں ان شاءاللہ ھر انگریزی ماہ کے پہلے پیر منگل بدھ کو 50% ڈسکاؤنٹ پر کیمپ ھوا کرے گا ۔

حجامہ کیلئے تشریف آوری سے پہلے رابطہ ضرور کر لیں۔

حکیم محمد ثاقب ادریس خان
طب اسلامی نگار چوک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ
03206062162

27/12/2020

ان شاءاللہ2-4-6 جنوری شام 4 سے 8 بجے تک

50%ڈسکاؤنٹ پر
بمقام نگار چوک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ
Contact For appointment
حکیم محمد ثاقب ادریس خان
حجامہ سپیشلسٹ
فائر کپنگ
وڈن تھراپی
لیچ تھراپی
03206062162

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Gujranwala?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Nigar Chok G. T Rode Gujranwala
Gujranwala

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Saturday 16:00 - 20:00
Sunday 16:00 - 20:00