Gull Ahmed Karyana
"Your one-stop shop for premium dry fruits, wholesome beans, herbal remedies, and beauty essentials!
14/05/2026
Ap kon sa bheej khana ziada pasand karta hain??
Just trying to be better with camera
13/05/2026
Just some memories from last Ramza. Share your best Ramzan Memories of 2026.
13/05/2026
Pansar new ingredients are arrived.
Feel free to order your products.
See how easy it is to order it from whatsapp.
03/04/2026
Kabhi aisa hota hai… dimaag thak jata hai, dil bechain rehta hai, neend bhi poori nahi hoti.
Ek customer roz aata tha—kehta tha, “sir bas halka sa sukoon chahiye.”
Usay ka Khamira Gaozban Sada diya…
Kuch din baad wapas aaya—iss dafa muskurahat ke saath.
Yeh un logon ke liye hai jo:
✔ Stress aur anxiety feel karte hain
✔ Dil ki dhadkan tez mehsoos hoti hai
✔ Dimaghi thakan aur kamzori se guzarte hain
Natural herbal support jo aapko andar se halka aur fresh mehsoos karata hai.
رمضان المبارک آ گیا ہے… اور اب تیاری ہو آسان۔ 🌙✨
یہ ویڈیو ہمارے رمضان اسپیشل کریانہ شاپ سے آرڈر کرنے کا آسان طریقہ بتاتی ہے۔ سحری ہو یا افطار، آپ کی ضرورت کی ہر چیز اب صرف ایک میسج کی دوری پر ہے۔
وقت بچائیں، سکون پائیں، اور اس بابرکت مہینے میں عبادت اور گھر والوں پر توجہ دیں۔ 🤲🛒
05/02/2026
☕ ذرا بتائیں… آپ کے گھر چائے کون سی بنتی ہے؟
ٹپال؟ لیپٹن؟ یا کوئی اور؟ 👀👇
پاکستان میں چائے صرف مشروب نہیں،
یہ عادت ہے، سکون ہے، اور اکثر دن کی شروعات بھی۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
رمضان میں تقریباً 90٪ پاکستانی روز چائے پیتے ہیں —
سحری میں، افطاری کے بعد،
اور تراویح کے بعد کی “بس ایک کپ” والی چائے ☕
ہمارے گھروں میں برسوں سے
ٹپال دانیدار اور ٹپال فیملی مکسچر
ایک عام سا نام نہیں،
بلکہ روزمرہ کا حصہ رہے ہیں۔
مہمان آئے تو چائے،
تھکن ہو تو چائے،
اور رمضان کی افطاری کے بعد تو چائے لازم ☺️
[آپ کی کریانہ شاپ کا نام] پر
ہم وہی چائے رکھتے ہیں
جو واقعی گھروں میں پی جاتی ہے —
کیونکہ اصل برانڈ وہ ہوتا ہے
جسے لوگ خود چنیں، نہ کہ اشتہار۔
👇 اب آپ کی باری
کمنٹ میں بتائیں:
آپ کے گھر چائے کون سی بنتی ہے اور کیوں؟
05/02/2026
📆 ۵ فروری — یومِ یکجہتیٔ کشمیر 🇵🇰
آج ہمارا ملک کشمیری بھائیوں-بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے — نہ صرف لفظوں میں، بلکہ پورے جذبے کے ساتھ۔ آج پاکستان بھر میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی صبح 10 بجے، اُن شہیدوں کی یاد میں جنہوں نے اپنی جانیں دیں۔
دکان کھولی، گاہک آئے،
لیکن دل کہیں اندر سے بول رہا تھا…
“ہم سب ایک خاندان ہیں،
اور درد وہی سمجھتا ہے جو دل سے محسوس کرے۔”
آج ہر جگہ زبان پر ایک ہی بات…
“ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں — اُن کے حق کے ساتھ، اُن کی امید کے ساتھ۔”
دن بھر مختلف شہروں میں ریلیاں، اجتماعات اور محبت بھرے پیغامات یہ بتا رہے ہیں کہ یاد صرف ایک دن کا نہیں، دل کا حصہ ہے۔
اور یہی پیغام ہم [آپ کی کریانہ شاپ کا نام] سے بھی بھیجنا چاہتے ہیں —
چھوٹی سی دکان، مگر بڑ ے دل کے ساتھ:
ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں — آج، کل اور ہمیشہ۔ ❤️
Chattha
26/01/2026
“ہم سنت پر کیوں عمل نہیں کر پاتے؟
مسئلہ نیت نہیں… نظام کا ہے۔”
ہم دینا چاہتے ہیں۔
ہم سنت کے مطابق دینا چاہتے ہیں۔
لیکن پھر ایک حقیقت سامنے آتی ہے:
❌ وہی چہرے
❌ وہی کہانیاں
❌ بار بار آنے والے پیشہ ور مانگنے والے
اور آہستہ آہستہ ہمارا دل سخت ہو جاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ غریب نہیں ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ حقیقی ضرورت مند اور جعلی مانگنے والے میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
نتیجہ؟
لوگ دینا چھوڑ دیتے ہیں
یا
بغیر ترتیب اور تحقیق کے دے دیتے ہیں
اور سنت عملی شکل نہیں لے پاتی۔
سنت ہمیں کہتی ہے:
✔ جان پہچان سے دو
✔ اعتماد کے ساتھ دو
✔ خود تقسیم کرو یا قابلِ اعتماد نظام کے ذریعے دو
سوال یہ نہیں کہ دینا ہے یا نہیں؟
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم صحیح طریقے سے دے رہے ہیں؟
یہی وہ جگہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ الجھ جاتے ہیں — اور یہی وہ مسئلہ ہے جس پر ہمیں بات کرنی چاہیے، حل بیچنے سے پہلے۔
💬 آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا جعلی مانگنے والوں نے آپ کو بھی صدقہ دینے سے روک دیا ہے؟
---
اگر چاہیں تو اگلا پوسٹ ہم “حل کی طرف پہلا قدم” پر رکھ سکتے ہیں — ابھی صرف سوچ بدلنا مقصد ہے، بیچنا نہیں۔
24/01/2026
“سنت ناکام نہیں ہوئی… ہم بس ترتیب بھول گئے ہیں۔”
ہر سال ہم دیتے ہیں۔
ہم دل سے دیتے ہیں۔ ہم صدقہ کرتے ہیں۔
پھر بھی بھوک، ضرورت اور غربت برقرار ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ دینا صرف پیسے یا جذبات کا کھیل نہیں — بلکہ ترتیب اور طریقے کا کھیل ہے۔
حضرت ﷺ نے ہمیں سکھایا:
1️⃣ سب سے پہلے اپنے خاندان کو دیں — خاص طور پر وہ جو آپ پر انحصار کرتے ہیں۔
2️⃣ پھر اپنے پڑوسیوں کو۔
3️⃣ پھر دیگر ضرورت مندوں کو۔
رشتہ داروں کی مدد صرف صدقہ نہیں — یہ دوگنا اجر ہے: صدقہ + رشتے کی مضبوطی۔
اس رمضان سے پہلے خود سے پوچھیں:
“کیا میں سنت کے مطابق دے رہا ہوں؟”
صحیح ترتیب آپ کے صدقے کو حقیقی اثر دیتی ہے۔
💬
23/01/2026
Is it Ramzan near???
h
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Main Adda Verpal Chattha
Gujranwala
52080
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |
