Mix pashto poetry
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mix pashto poetry, Beauty, cosmetic & personal care, Islamabad.
08/03/2022
خٹک قبیلے کا ایک قدیم رواج "چیغہ"
چیغہ ھنگامی صورت حال کے دوران روانہ ھونے والے لشکر کو کہتے ھیں ۔ چیغے کا لشکر معاملے کے لحاظ سے کسی ایک گاوں , کسی ایک قصبے یا کسی علاقے یا پھر پوری قوم کے جوانوں پر مشتمل ھوتا ھے ۔ مسلح افراد کے ساتھ ساتھ کچھ افراد اپنی کلہاڑی بھی رکھتے تھے ۔ چیغہ عام طور پر مندرجہ ذیل موقعوں پر روانہ ھوتا تھا جس کیلیے ڈھنڈورچی سے ڈھنڈورہ بھی کیا جاتا تھا ۔ تاکہ سب لوگوں کو واقعے کے بارے میں معلوم بھی ھو جایے اور وہ اپنے گھروں سے تیار ھو کر مقررہ وقت پر مقررہ جگہ پر جمع ھو جاییں ۔
اگر کسی جگہ سے اغوا کار کسی کو تاوان کیلیے اغوا کرتے تھے ۔ تو ان اغوا کاروں کا پیچھا کرنا ۔ ان کا راستہ روکنا ۔ ان کا گھیراو کرنا اور مغویوں کو ان کے چنگل سے ازاد کرانا ۔
اگر کسی جنگل یا پہاڑ پر کویی چور ڈاکو چرواھے سے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ زبردستی چھین کر فرار ھوتے تھے تو ان کے پیچھے بھی چیغہ روانہ کیا جاتا تھا ۔
اگر کویی ادمی پہاڑ پر یا جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا تھا اور وہ شام تک گھر واپس نہیں پہنچتا تھا تو اسکی تلاش کیلیے بھی چیغہ روانہ کیا جاتا تھا ۔
اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ زمین یا پہاڑ کی ملکیت پر تنازعہ ھوتو تھا اور اس ملکیت کے مسلے پر اس قوم کے ساتھ مزاکرات اور جرگے یا ثالثی ناکام ھو جاتی تھی ۔ تو پھر اپنی اس زمین یا پہاڑ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کیلیے بھی مسلح لشکر یا یہ روایتی چیغہ روانہ کیا جاتا تھا ۔
1930 کے لگ بھگ کی اس ایک پرانی پکچر میں اپ دیکھ سکتے ھیں کہ خٹک ریاست کے کیپیٹل ٹیری سے روانہ ھونے والا لشکر یا چیغہ بڑے منظم انداذ میں اپنے ھدف کے تعاقب میں رواں دواں ھے “چیغہ”(chigas) انگریزی میں معنی patrols ہے ۔
خٹک چیغہ کے کارنامے کےلیۓ ٹیری کے نزدیک چھوٹے سے گاؤں “کوٹ بانڈہ” کے رہائشی بدنامِ زمانہ بدمعاش “اصیل”اور “میر آحمد” کا واقعہ انگریز کی لکھی ہوئی کتاب “ دی پٹھان بارڈر لینڈ” میں صفحہ 99-100 پر ضرور پڑھیں ۔
THE PATHAN BORDERLAND
by
C.M. ENRIQUEZ
1921.
۔
شکریہ امجد علی اُتمانخیل. ..
بحوالہ محمد شعیب اف ٹیری
Wow is a fun in school race
01/03/2022
بہرام کی بارہ داری اٹک خورد،اٹک
خوشحال خا ن خٹک کے اولاد میں بہرام کا نام بھی ہیں جو 1643 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوۓ جو کہ چوتھے نمبر پر تھا جن کا محل نما گھر جوکہ 1681 میں اپنی سرداری میں بنایا تھا جو کہ پنجاب میں جی ٹی روڈ کے کنارے اٹک خورد میں واقع ہیں
مغلوں کے قید سے ازاد ہونے کے بعد جب خوشحال خان خٹک نے مغلوں کے خلاف جنگ شروع کی تھی انکی اولاد میں بھی اس حوالے سے اختلافات پیدا ہو گٸے جس میںں بہرام خان بھی شامل تھا جس کےوجہ خوشحال خان خٹک اور انکے بیٹے بہرام خان کےدرمیاں کافی جنگیں جن میں زیادہ تر خوشحال خان خٹک کامیاب ہوۓ
اخر کار بہرام خان اللہ داد خویشگی کے مدد سے اپنے بھاٸی اشرف خان کو گرفتار کر لیا جس کےوجہ خوشحال خان خٹک کے خاندان میں نٸ صورتحال پیدا ہوگٸ ۔حالات کو سنبھالنے کے لیے خوشحال خان خٹک نے شیح رحمکار کے مزار پر ایک جرگہ ایک بلایا جو کہ کاکا صاحب کے نام سے مشہور ہیں
اس سلسلے میں افضل خان لکھتے ہیں کہ " خان اعظم نظامپور مہں تھے اور عاند کو ساتھ کے چلنے کا کہا جس کے پیچھے خوشحال خان خٹک بھی چلے اۓ جہاں اظہار خیال کیا کہ اشرف خان کو کیسے مغلوں کے قید سے ازاد کیا جاۓ گا جس میں سردای بہرام خان کو دی جاۓ تاہم ان شراٸط پر عمل نہ ہوا جو کہ چودہ سال اشرف خان قید میں رہے جو کہ 1694 میں انتقال کر گٸے
جس کے بعد خوشحال خان خٹک اپنے بیٹے بہرام خان سے سخت نا خوش تھے جبکہ دوسری خوشحال خٹک اور اس کے محسنوں پر کافی مرتبہ حملہ کیا گیا جس میں بہرام خان نے اپنے بیٹے مکرم خان کو اپنے دادا کو بیڑیوں میں باندھ کر اپنے سامنے لانے کا حکم دیا لیکن خوشحال خان خٹک کے بیٹوں اپنے والد کو اکیلا نہیں چھوڑا جس کے وجہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ سکے
افضل خان لکھتے ہیں کہ 1713 میں بہرام خان نوشہرہ اۓ تھے جبکہ میں نظامپور میں تھا کہ شادی پور میں محل تاری بولک کے اباد کاری کے لیے جا رہا تھا کہ بہرام خان کے فوت ہونے کی خبر اٸی جہاں سے اس کو اٹھا کی چشمٸ لے گۓ اس غرض سے کونی نماز جنازہ نہ پڑھ سکے اس کی وجہ یہ کہ خوشحال خان خٹک نے فوت ہوتے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ جہاں بھی بہرام خان نظر اۓ انکے دو ٹکرے کرنا،ان میں میرے ایک سر کے پاس اور دوسرے پاوں کے طرف جلانا تب میری روح کو سکون ملے گا۔
بہرام خان کے تاریخ نہیں ملتی لیکن جتنی ملی ہیں وہ خوشحال خان خٹک کے شاعری سے ملی ہیں جبکہ یہ بھی خیال جاتا ہیں افضل خان بہرام خان سے تعصب رکھتا تھا جس کے وجہ اس کے کردار کو منفی پیش کیا۔۔
28/02/2022
ﻓﻘﯿﺮﺟﻤﯿﻞ ﺑﯿﮓ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺟﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ۔ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺟﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺩﺳﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﮯ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺒﺮ ﭘﺨﺘﻮﻧﺨﻮﺍ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺧﺎﻥ ﺧﭩﮏ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﺧﭩﮏ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻭﻓﺎﺕ 1116 ھجری ﮨﮯ ۔ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ خان ﻭ ﺟﻤﺎﻝ خان ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻡ ﻭ ﺑﺰﻡ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺟﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ۔ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ حضرت کستیر گل خٹک ﮐﺎﮐﺎ ﺻﺎﺣب علیہﺍﻟﺮﺣﻤۃ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ کے ﻧﯿﭽﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺪ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ،، ؟ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﺎﮐﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﻤﯿﻞ ﺑﯿﮓ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﻠﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮐﺎﮐﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﯿﻞ ﺑﯿﮓ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﺎﮐﺎﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺟﻤﯿﻞ ﺑﯿﮓ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ۔ ﺟﺐ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﺤﺎﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﮐﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﯿﺎ ﺧﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺸﯽ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﺎﮐﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺗﻢ ﻓﻘﯿﺮ ،، ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ ۔ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ،، ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﺎﺋﯽ۔ﺧﺎﻭﺭﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﮔﺌﯽ ﺳﮯ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﭼﺸﻤﺌﯽ ﺳﮯ ﺟﻨﻮﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻨﮕﺎﮌﻭُ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺰﺍﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ ۔ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﻧﺎﻣﯽ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻋﻠﻤﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮔﺰﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﺧﯿﺒﺮ ﭘﺨﺘﻮﻧﺨﻮﺍ ﮐﮯ ﻃﻮﻝ ﻭ ﻋﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﭼﺸﻤﺌﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﺷﺎﮦ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ ﻧﺼﺐ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭘﺸﺘﻮﻥ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺸﻨﺪﮦ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﺧﭩﮏ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﺸﺘﻮﻥ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ۔ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﺮﺻﻊ ۔ ﺍﻓﻀﻞ ﺧﺎﻥ ﺧټﮏ ﭘښﺘﺎﻧﻪ ﺩ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﻪ ﺭﻧړﺍ ﮐښﻲ ۔ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﮐﺎﮐﺎﺧﯿﻞ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﺧټﮏ ۔ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﮐﺎﻣﻞ ﭘﺸﺘﻮﻥ ﮐﻮﻥ ؟ ۔ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ خٹک ﭘﺸﺘﻮ ﺍﺩﺏ ۔ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﻟﻠﮧ ﺭیشتین پښتانهﺷﻌﺮﺍ ۔ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺩ ﺟﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ۔ ﻣﯿﺎﮞ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎﮐﺎ ﺧﯿﻞ ۔ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﻭﺗﺤﻘﯿﻖ میاں فردوس شاہ فقیر خیل ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﭘﺸﺘﻮ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﺧﭩﮏ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻔﺎﺻﯿﻞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﭘﺸﺘﻮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﺗﺰﮐﺮۃﺍﻻﻭﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﻠﻤﯽ ﻧﺴﺨﮯ ﭘﺸﺘﻮ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﭘﺸﺎﻭﺭ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﮐﮯ ﻻﺋﯿﺒﺮﯾﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﺗذﮐﺮۃﺍﻻﻭﻟﯿﺎ ﮐﺎ ﭘﺸﺘﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮬﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺸﺘﻮ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﭘﺸﺎﻭﺭ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻧﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﻣﯿﺎﮞ ﺣﻀﺮﺍﻥ ﺷﺎﮦ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﺳﮯ طبع ﮬﻮئی ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺷﯿﺦ ﺭﺣﻤﮑﺎﺭ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎﺑﻞ ﮐﮯ ﺍﺭﺷﯿﻒ ﻣﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﻗﻠﻤﯽ ﻧﺴﺨﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﺪﺍﻟﻠﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﮐﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﯽ ﮔﯿﯽ ﮨﮯ مجمع اﻟﺒﺮﮐﺎﺕ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻗﻠﻤﯽ ﻧﺴﺨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﻋﻠﻤﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﭽﮫ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯿﮟ ( 1 ) ﺷﻤﺲ ﺍﻟﻌﺎﺭﻓﯿﻦ ( 2 ) ﻗﺪﻭۃﺍﻟﻌﺎﺭﻓﯿﻦ ( 3 ) ﺯﺑﺪۃﺍﻟﺴﺎﻟﮑﯿﻦ ( 4 ) ﺳﺮﺍﺝ ﺍﻟﻌﺎﺷﻘﯿﻦ ( 5 ) ﺧﻼﺻۃﺍﻟﻄﺎﻟﺒﯿﻦ ( 6 ) ﺗﺨﻔۃﺍﻟﻤﻘﺮﺑﯿﻦ . ﺟﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ( ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ) ﮐﺎ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﺪﯾﻖ ﺑﮭﯽ ﭘﺸﺘﻮ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﺩ ﺻﺪﯾﻖ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺸﺘﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﻭ ﺍﺩﺏ ﮐﮯ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﺩﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻘﻖ ﻣﯿﺎﮞ ﻭﮐﯿﻞ ﺷﺎﮦ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ( ﺳﺎﻭﻝ ﮈھیر ﻣﺮﺩﺍﻥ ) ﻧﮯ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﻭ ﺗﺪﻭﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﻐﺖ ﻧﺎﻣﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺍﻧﺶ ﺧﭙﺮﻧﺪﻭﯾﮧ ﭨﻮﻟﻨﮧ ﮐﺎﺑﻞ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﻭ ﺭﻓﺖ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻟﻨﮕﺮ ،ﮐﻤﺮﻭﮞ ،ﭘﺎﻧﯽ ﻭ ﺑﺠﻠﯽ ، ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺧﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﻮﺿﻊ ﺟﻠﺒﺌﯽ ﮐﮯ ﺯﺭﺩﺍﻥ ﺷﺎﮦ ﺑﺎﭼﺎ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺭﺑﻊ ﺻﺪﯼ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺋﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﭼﻠﮧ ﮐﺎﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ ﺁﺝ ﮐﻞ ﻣﻠﯽ ﺧﯿﻞ ﭘﺎﯾﺎﮞ ﮐﺎ ﻧﯿﺎﺯﺑﯿﻦ ﺧﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﻝ ﭘﻮﺭﮦ۔ اکوڑہ خٹک کٹی مینہ۔مردان ساولڈھیر۔جمال گڑھی جلبئ۔ زیدہ ۔تورڈھیر۔ سڑہ چینہ ۔مانکئ (صوابی ). نوشھرہ۔رشکئ۔ غلہ ڈھیر۔ شیر پاو ۔شبقدر (چارسدہ) چترال. کمی کوٹ (کوہستان )ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ اور اکثریت گاوں چشمئ اکوڑہ خٹک میں آباد ہیں ﺻﺮﻑ ﺍﻓﺴﺮ ﺟﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻤﯿﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﭼﻨﺪ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﮑﻮﻧﺖ ﮨﮯ ۔ ﻣﺮﻭﺭ ﺍﯾﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺾ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻓﻄﺮﯼ ﺍﻣﺮ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﺁﻣﺪﻭﺭﻓﺖ ﮐﻢ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎ ﺑﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﯽ ﻓﻀﺎﺀ ، ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺛﺮ ﮨﻮ ﺟﻤﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﯾﺎ ﭼﮭﭩﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻞ ﺩﮬﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺻﻔﺮ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﺎ ﺳﺎﻻﻧﮧ عرس و ﻣﯿﻠﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﻠﮯ و عرس ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﮐﻮ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﻘﯿﺪﺗﻤﻨﺪ ﺟﻮﻕ ﺩﺭﺟﻮﻕ ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺵ ﻭﺟﺬﺑﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﺤﺮﯾﺮ
ﻣﯿﺎ ﻭﮐﯿﻞ ﺷﺎﮦ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﺳﺎﻭﻝ ﮈﮬﯿﺮ ﻣﺮﺩﺍﻥ۔
فقیر جمیل بیگ کی چار بیویاں اور تیرہ بیٹے تھے،
بی بی بصری - وہ محمد خیل سے تھیں اور ان کے تین بیٹے تھے۔
محمد حسن
محمد شائق
محمد صادق
بی بی رابعہ اسماعیل خیل سے تھیں اور ان کے پانچ بیٹے تھے۔
محمد ابراہیم شاہ
محمد اسحاق
فقیر محمد صادق
محمد اسحاق
محمد صالح
بی بی کلثوم - وہ اکور خیل سے تھیں اور ان کے دو بیٹے تھے:
محمد غنی
محمد ظفر
بی بی عرفہ کے تین بیٹے تھے۔
عبدالرحمن جو بابا جی کے نام سے جانتے ہیں۔
عبدالکریم
عبد اللہ
ﻣﺎﺧﺬ ات
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﺮﺻﻊ ﺍﺯ ﺍﻓﻀﻞ ﺧﺎﻥ ﺧﭩﮏ
ﺷﺠﺮﮦ ﻧﺴﺐ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ ﺍﺯ ﻣﯿﺎ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﺷﺎﮦ ﻓﻘﯿﺮ ﺧﯿﻞ
ﮐﻠﯿﺎﺕ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺧﺎﻥ ﺧﭩﮏ
ﺩ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﭘﻪ رڼا کښې ﻣﻴﺎ ﻭﮐﻴﻞ ﺷﺎﻩ ﻓﻘﻴﺮ ﺧﻴﻞ
مجمع البرکات فارسی قلمي نسخه از عبدالله شاه ۱۲۸۵ھ ق
دصديق ديوان سريزه ترتيب فرهنګ ميا وکيل شاه فقير خېل
مناقب فقير جميل بيګ از شمس الدين کاکا خېل مرتب او سريزه ميا فردوس شاه فقير خېل ۱۹۷۹ع
#پشتو
فقير جميل بيګ (جمال خان)
فقير جمیل بیگ، جميل خان (جمال خان) د ستر نوموړي شاعر عالم فرهنګيال ننګيال توريال خوشحال بابا سکه ورور وو خوشحال بابا د خپل ورور جميل خان په حقله وايي
يو مې سکه ورور دې چې يې لار د حق نيولي
دوه ورورڼه مې نور دي يو په نم دوهم بې نم
د خوشحال بابا درې ورورڼه وو فقير جميل بيګ يې خپل سکه ورور وو دوي دواړه د يوې مور نه وو مور ددوي ځلوزۍ وه بل ورور يې شمشير خان وو مور يې اميره وه بل مير باز خان مور يې مهمندزۍ دنوښار د ملک باز لور وه
فقير جميل بيګ چې په جمال خان هم ياديږي د بيګ چې معنا يې سردار. د لښکر مشر سپه سالار ده دا لقب دوي ته مغلو ورکړی وو د خپل ورور خوشال خان په څير د خپل ټبر (قبيلې) مشر او سردار وو، خو کله چې له شيخ کستير گل خټک نه، چې په کاکا صاحب رح سره يې شهرت درلود، د ولايت پوړۍ (درجه) تر لاسه کړه، نو کاکا صاحب ورته د فقير نوم غوره کړ او تر دې وروسته په همدې نامه سره مشهور شو کاکا صاحب عليه رحمت دې خپل خليفه او خزانچي کړو د کاکا صاحب مريدانو به دې په خواجه جمال الدين تصوفي نوم سره هم بللو کله چې کاکا صاحب علي رحمت په ۱۰۶۳ هچري کښې وفات شو خوشحال بابا او فقير جميل قبر ته کوز کړو په دغه د فقير جميل بيګ په تاسف سره دا مصرعه وويله
په بوي دې ټول عالم ځوشبو شول
اصلي چندڼه په تا پريوتل ګردونه
اولاد ته يې فقير خيل مياګان وايي چې د ملک په لرو پرتو علاقو کښې ميشته دي
فقير جميل بيګ جمال خان (فقير بابا) يو ډير ستر عالم، ولي الله صوفي، د چشتيه او سهرورديه طريقو له لارويانو او پيروانو څخه وو شاعر. عالم او ليکوال هم وو په عربۍ پارسۍ او هندۍ ژبو او علومو ورته برې حاصل وو. د پارسي دوه د علمي کتابونو قلمي نسخې يې دل تذکرة الاوليا چې د پنځو سوو مخونو يو دروند کتاب دې او نورمحمديه چې څلور نيم سوه مخونه لري د پېښور يونورسټۍ د پښتو اکيډيمۍ په کتابتون کښې خوندي دي او بله قلمي نسخه يې د کابل په ملي ارشيف کې خوندي ده چې تذکره شيخ رحمکار نومېږي او په کابل کښې د اسدالله شعور په مقدمه سره پارسۍ کښې چاپ شوي او نور ډير کتابونه يې چې د (۱) شمس العارفين (۲) قدوةالعارفين( ۳) زبدةالسالکين( ۴) سراج العاشقين (۵) خلاصةالطالبين (۶) تخفةالمقربين په نومونو سره ياديږي خو دا نسخې يې تر اوسه نه دي ترلاسه شوي په دې کښې دل تذکرةالاوليا د فارسۍ نه پښتو ژبه کښې پښتو اکيډمۍ پيېور يونورستۍ ترجمه کړي او د محترم ميا حضران شاه فقير خيل په مالي لګښت يې چاپ کړي ياده دې وي چې دده بل نمسي ارواښاد ميا فردوس شاه فقير خيل د ققير جميل بيګ مناقب منظوم د ميا شمس الدين کاکاخيل ليکلی کتاب او شچره نسب فقير خيل په نوم چاپ کړي. دده څلور بيبيانې وی او ديارلس يې زامن وو چې د بيبيانو او زامنو نومونه يې دا رنګه دي
(۱) بي بی بصري د خيل نه محمد خيله وه زامن يې محمد حسن. محمد صادق.محمد شائق
(۲) بي بي رابعه په خيل اسماعل خيله وه زامن محمد ابراهيم چې شاعر وو.محمد اسحاق.محمد صديق چې صاحب ديوان شاعر وو.محمد عتاق.محمدصالح
(۳) بي بي کلثوم په خيل اکوړ خيله وه زامن يې محمد غني. محمد ظفر .
(۴) بي بي عارفه زامن يې عبدالرحمان. عبدالکريم. عبدالله
په دې کښې محمد صديق زوي د سلوک عرفان په دغه لار کې د خپل پلار ګدي نشين وو لوی شاعر او عالم هم وو ديوان لري چې د دې محمد صديق د اولاد په سلسله کښې ميا وکيل شاه فقير خيل د ساولډهير مردان يې د صديق ديوان په خپله تحقيقي مقدمه او لغت نامه سره مرتب کړی او دانش خپرندويه ټولنه کابل چاپ کړی چې ديوان يې د حسن وجمال. عشق ومحبت. پندو نصيحت سره سره خواږ صوفيانه اشعار لري ددې صديق د اولاد په سلسله کښې نوموړې سايکارټسټ ډاکتر اورنګ شاه د مانکۍ صوابۍ چې په امريکه کښې په ۱۹۱۶ ع کښې د هارډورډ يونورسټۍ نه ميډيکل تعليم حاصل کړی وو د کيليفورنيا رياست په سيکرامنتو ښار کښې د خپلې کورنۍ سره وسيدو په امريکه کښې د آزاد پښتونستان انجمن بنياد يې ايښودې وو او هم ددغه انجمن رئيس هم وو په ۲۵ اګست ۱۹۶۶ ع کښې د انګريزانو په سازش لواټو نومې انګريز په خپل کلينيک کې شهيد کړو او د خپل وصيت مطابق کابل افغانستان ته يې مړی راوړې شو او د ظاهر شاه باچا د حکم مطابق په کابل کښې د تپه مرنجان په شاهي مقبره کښې خاورو ته وسپارلی شو په ګور يې نور شه امين فقير جميل بيګ بې شميره مريدان لرل چې پکښې نوموړي ولي الله د اټک شيخ يحيی حضرت جي بابا ترې نه هم په چشتيه سلسله کښې بيعت کړی او مريد يې وو فقير جميل بيګ په ۱۱۱۴ هجري بمطابق ۱۷۰۵ ع کښې وفات شوی او مزار يې د جهانګيري نه قطب طرف ته د خټکو د درګۍ کلي سره خوا کښې په تنګاړو نومې کلي کښې د سرسبزه ښکلي غرونو په منځ کښې دی هر کال پرې د صفر د مياشت په اخري چارشنبه (د شورو په ورځ) عرس کيږي او د ملک د لرې لرې ځايونو نه ورته خلق د فيض حاصلولو دپاره راځي په ګور يې نور شه
ماخذات=
تاريخ مرصع د افضل خان خټک
دل تذکرةالاوليا د فقير جميل بيګ پښتو اکيډمي چاپ
د تحقيق په رڼا کښې د ميا وکيل شاه فقير خېل
مناقب د فقير جميل بيګ د شمس الدين کاکا خېل ترتيب او مقدمه ميا فردوس شاه فقير خېل چاپ انجمن اتحاد فقير خېل چشمۍ اکوړه خټک
شجره نسب فقير خېل مرتب ميا فردوس شاه فقير خېل
د صديق ډيوان مقدمه لغت نامه مرتب ميا وکيل شاه فقير خېل
مجمع البرکات د عبدالله شاه قلمي نسخه
ليک د
(ميا وکيل شاه فقيرخېل)
27/02/2022
دریائے سندھ پر اٹک پل، 1930 کی دہائی
جبکہ تصویر خیراباد شہر گنتی کے چند گھروں ہر مشتمل تھا
19/02/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Islamabad
