Dr.Mushtaq

Dr.Mushtaq

Share

Curing the incurables for the last 18 years

30/11/2025

اک پل کو بھی سکون نہ حاصل ہوا وہاں
شہروں سے اچھا گاؤں کا چھپر لگا مجھے

30/11/2025

The secret of happiness is to admire without desiring

29/11/2025

Finding peace in nature

Photos from Dr.Mushtaq's post 29/11/2025

Alhamdulliah a case of psorisis cured successfully by the help of Almighty Allah.

12/07/2025

A blessing scene after the sunset

30/05/2025

ایک وقت آئیگا کہ ہر گھر سے ایک ناچنے والی نکلے گی۔ ۔ ۔
یہ ہم لڑکپن میں بزرگوں سے سنتے تھے تو انکی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا تھا۔

ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟
ناچنے والی تو بہت واہیات ہوتی ہے۔ ۔
انڈین فلمیں دیکھی ہیں ؟ ، ، ، اس میں ایک ہیلن ہوتی تھی ۔ ۔
بس پوری فلم میں وہی ایک عورت نما ہیجڑا ہوتی تھی ۔ ۔
جو برے کردار کے مردوں سے پیسے لیتے ہوئے ناچتی تھی۔
ایسی عورت ہر گھر میں کیسے ہو سکتی ہے؟
ہم حیرانی سے سوچا کرتے تھے ۔

پھر وقت بدلتا گیا ۔ ۔
دوپٹے سروں سے سینوں پر آ گئے۔ ۔
شلواریں ٹخنوں سے اوپر جانے لگیں ۔ ۔
کوئی بزرگ روکتا ۔ ۔ تو ہم ہی راستے میں آ جاتے ۔ ۔۔
کیا ہوگیا ہے، اتنی حساسیت کیوں ۔ ۔ لڑکی ہے تو جان لو گے کیا ؟؟
جینے دو اس کو ۔ ۔ زرا سی ٹانگ ننگی ہو گئی تو کیا قیامت آ جائیگی۔ ۔
کچھ نہین ہوتا، فیشن ہے ۔ ۔ بس ۔ ۔ کالج میں زرا ماڈرن لک دینی ہوتی ہے۔ بچیوں کو ۔ ۔ اور کیا ۔ ۔ مائیں بھی بیک فٹ پر چلی جاتیں ۔ ۔
دوپٹے سینوں سے کاندھے پر چلے آئے۔ ۔ اور پھر غائب ہونے لگے۔ ۔
فیشن ہے ۔ ۔ فیشن ہے ۔ ۔

یہ جو فیشن ہوتا ہے نا ؟؟ یہ ایکسپٹنس کا لیکچر ہوتا ہے ۔ ۔
بلکہ لیکچر سے زیادہ اسٹرونگ کوئی چیز ۔ ۔ ۔ جیسے سن کر دینے والی کوئی دوا ۔ ۔

انسانی معاشرے میں حیا آہستہ آہستہ ختم کرو تو ہو جاتی ہے۔ یکدم کرو تو انسانی فطرت احتجاج کرتی ہے۔ ۔
تو فیشن بڑھتے گئے ۔ ۔ کپڑے گھٹتے گئے ۔ ۔

مقصد عورت سے اسکی فطری حیا چھین کر اس کو نچانا تھا۔ ۔
معلوم ہے برا لگے گا ۔ ۔ کہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے ۔ ۔
پھر ڈیجیٹل دنیا آئی ۔ ۔ اسمارٹ فون نے اسمارٹ ٹی وی ہر ایک ایک ہاتھ میں دیدیا۔

سوچیے اگر حیا کو پہلے سے نہ ختم کر دیا گیا ہوتا ۔ ۔ تو ہزار ڈیجیٹل ٹک ٹوک آ جاتے ۔ ۔ کیا لڑکی اسکی اسکرین پر ناچتی ؟

جن کی حیا زرا سی سسک رہی تھی، وہ باقیوں کو ناچتے دیکھ کر ختم ہو گئی۔
جو پھر بھی ثابت قدم رہیں، ان کے لیے ناچنے والیوں کے انٹرویوز آ گئے ۔

ایک کروڑ، دو ، آٹھ، دس، پچاس کروڑ کمانے والے انٹریوز نے رہی سہی کسر نکال دی۔ ۔
فاقے کرنے والی کی بات چھوڑ دیں، ۔ ۔ وہ تو جسم بیچنے کو جائے تو اللہ کا اسکا معاملہ ۔ ۔ یہاں مڈل کلاس اور سفید پوش طبقے کی لڑکی جب دیکھتی ہے کہ کروڑوں کمانے والی کا حسب نسب کوئی نہیں پوچھتا ۔ ۔ تو اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ ۔

پھر معاشرے میں ڈراموں سے لے کر مغربی فیمنزم کی آڑ میں محض عورت کو رنڈی بنانے کا کام بھی جاری رہا ۔ ۔
چائینہ نے ایک ایپ دی ٹک ٹوک ۔ ۔ پھر اسٹریمنگ کی ایپس کا طوفان آ گیا ۔ ۔
مگر چائنہ نے اپنے ملک میں ایسی بے حیائی کو روک دیا، اور محض اپنے لیے مفید کانٹینٹ کی اجازت دی ۔ ۔
جبکہ ہمارے یہاں ٹک ٹوک، اور دیگر اسٹریمنگ ایپس پر عورت ناچنے لگی ۔ ۔
آج ان ایپس پر نوے فیصد ناچنے والی ویڈیوز کا بیک گراؤنڈ ایک گھر کا بیڈ روم یا لیونگ روم ہوتا ہے۔ ۔ اور ناچنے والی ایک گھریلو عورت ۔ ۔

ہر گھر سے ناچنے والی نکلے گی ۔ ۔ بات سچ ہو گئی ہے۔

29/05/2025

معاشرہ !
ستر کی دھائی میں حکیم عبدالرحیم خان مرحوم کے پاس ایک مریض کو چارپائی پہ لایا گیا اور بتایا گیا کہ بیرون ممالک سے بھی دوا منگوائی اور پاکستان میں بھی کافی علاج کیا مگر مریض کی حالت تاحال نہ سنبھل سکی !
حکیم صاحب نے نبض چیک کی آنکھوں کا بغور معائنہ کیا اور بات سمجھ گئے کہ وقت گزر چکا ھے !
حکیم صاحب نے رعب اور سخت لہجے میں کہا کہ کیوں گھر والوں کو پریشان کر رہے ھو اٹھ کے بیٹھو میری بات سنو تم اتنے بڑے مریض نہیں ھو جتنے بن کے پڑے ھو !
لفظوں میں شاید ایسی طاقت تھی کہ مریض کو سہارا دیا گیا اور وہ اٹھ کے بیٹھ گیا ۔
حکیم صاحب سے بولے بس آپ میرا علاج کریں تاکہ میں تھیک ھو جاؤں تب حکیم صاحب نے کہا کہ ہاں میں دوا دونگا مگر ایک شرط پہ دونگا
مریض جھٹ سے بولا جناب پیسے دونگا بھینس مانگو گے دونگا آپ حکم کریں
مگر حکیم صاحب نے کہا کہ میری شرط یہ ھے کہ اگلی بار آنا تو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم رکھ کے آنا اور نماز کی پابندی کرنا !
مریض نے حامی بھر لی اور حکیم صاحب نے زوردار آواز دی اور اپنے اسسٹنٹ سے کہا جاؤ چودہ پڑیاں شفائی لے آو۔۔۔
چودہ پڑیاں شفائی مطلب کریہہ کی جڑ کی خاک رکھی ھوتی تھی تو جو لاعلاج مریض کو صرف سنت کے طور پہ دی جاتی تھی !
مریض سے کہا کہ سوا دو روپے دوا کے دے دیں اور پھر مریض دوا لے کر روانہ ھو گیا تو حکیم صاحب بے سوا دو روپے کا گوشت منگوا کر اس مریض کا صدقہ ادا کر دیا !
کچھ عرصہ بعد ایک باریش بزرگ حاضر ھوتے ہیں اور حکیم صاحب سے کہتے ہیں جناب مجھے پہچانا میں چارپائی پہ آپکے پاس آیا تھا ۔۔۔
حکیم صاحب اسکو زندہ سلامت اور صحت مند دیکھ کر حیران ھو گئے اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا “ بے شک میرا رب بڑی حکمت والا ھے “
دراصل حکیم صاحب چاہتے تھے کہ وقت قریب ھے اور سنت رسول رکھ لے ، نماز پڑھے شاید سختی ٹل جائے اور ساتھ صدقہ دیا !
احباب یہ تھی حکمت اور یہ تھا معاشرہ مگر اب جب زیر نظر تصویر میں موجود لوگوں کو میڈل دیئے جائیں گے تو خدمت خلق کا جذبہ میرے جیسے انسان میں کہاں سے آئے گا ؟
یقین کریں کبھی کبھار دل بھر جاتا ھے اور ذہن میں خیال آتا ھے کہ دنیاداری اپنائیں اور پیسہ کمائیں مگر پھر ضمیر اجازت نہیں دیتا خاندانی عزت کے تضاد ھے ہم کیا کریں !
جن لوگوں کی گفتگو آپ فیملی میں بیٹھ کر نہیں سن سکتے انہیں اگر اعزاز سے نوازا جائے گا تو پھر ہم جیسے درویش سے گلہ سوچ سمجھ کر کریں اور طب پہ تنقید سے پہلے اپنے معاشرتی اقدار پہ نظر ثانی کریں ! 😏😏

14/05/2025

اس کا نام زری والا تھا۔ شروع شروع میں جب بمبئی آیا تھا تو ایک معمولی مزدور تھا زردوزی کا کام کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کے کام میں برکت ہوتی گئی۔ اور وہ ایک مزدور سے کارخانہ دار بن گیا ۔ اب وہ زری والا سیٹھ کہلاتا تھا ۔ جب دولت آئی تو اس کے ساتھ بہت ساری الجھنیں بھی آئیں اور وہ اعصابی مریض بن گیا ۔ اس کا بلڈ پریشر چڑھ جاتا تھا اور ہر وقت جان جانے کا خوف طاری رہتا تھا ۔ اس کو یہ خیال رہتا تھا کہ گویا کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے ۔ گھر کے دروازے پر بھی دستک ہوتی اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ۔ غرض یہ کہ وہ مستقل طور پر ذہنی مریضوں بن چکا تھا ۔ بڑے بڑے ڈاکٹروں سے علاج کروایا تھا ڈاکٹروں کے مطابق وہ دل کا مریض تھا اور اسے بیشمار دوائیں کھانی پڑ رہی تھیں ۔ لیکن دواؤں اور پرہیز کرنے کے باوجود اس کی ذہنی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوئی تھی ۔ اسی دوران اسے حج کا خیال آیا اور وہ اس کے لیے روانہ ہوا۔ ساتھ میں بہت ساری دوائیں اور ڈاکٹروں کے نسخے بھی رکھ لئے ۔ پابندی سے دوائیں کھاتا رہا اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر برابر عمل کرتا رہا ۔ مگر اس کے باوجود دل کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی اس کے خوف نے وہاں بھی اس کا پیچھا کیا۔ ایک روز دوران حج اتفاق سے اس کی دواؤں کا ڈبہ کہیں کھو گیا ۔ اب یہ اور بھی زیادہ افسردہ نظر آنے لگا اس پر ایک دوسرے حاجی نے دلاسہ دیا اور کہا کہ وہ ناحق پریشان ہے۔ کیونکہ جس جگہ پر وہ ہے وہاں کا تو ہر ذرہ دوا ہے اور خدا کی رحمت شفا بن کر ہر جگہ موجود ہے لہذا اسے اسی ذات بر حق کا سہارا ڈھونڈنا چاہیے ۔ ان باتوں کا خاطر خواہ اثر ہوا اس کے اندر بھی جذبہ ایمانی پیدا ہوا اور پھر اس نے اپنے آپ پ میں ایک مختلف شخص کو پایا۔ رفتہ رفتہ وہ بالکل ٹکڑے ہو گیا ۔ واپسی پر وہ بہت خوش تھا ۔ گھر پہنچنے پر بھی اس کو کوئی شکائت نہ ہوئی ۔ ایک دن اس نے یوں ہی سوچا کہ اپنے ڈاکٹر پاس جائے اور چیک اپ کروائے ۔ اس کا ڈاکٹر ایک بڑا نامی گرامی ڈاکٹر تھا اس کو جب معلوم ہوا کہ اس نے دوائیں کھانی چھوڑ دی ہیں تو بڑا ناراض ہوا اور کہنے لگا کہ وہ تو دل کا مریض ہے اگر دوا نہیں کھائے گا تو مر جائے گا ۔ ڈاکٹر کے یہ جملے سن کر زری والا سیٹھ کا دل ڈوبنے لگا اور وہ دوبارہ بیمار پڑ گیا ۔ اب وہ پابندی کے ساتھ دوائیں کھاتا تھا مگر پہلے سے زیادہ بیمار ہو گیا تھا ۔
سچ ہے ایسے بڑے ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے جو پہلے مریض کا حوصلہ پست کر دیتے ہیں اور پھر اس کا علاج کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں مریضوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ شفا وہ شے نہیں ہے کہ جسے پیسے کی طاقت سے خریدا جا سکے بلکہ یہ تو وہ نعمت ہے جو براہ راست اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے ۔

10/05/2025

*بھارت کی فضائیہ کیوں گراؤنڈ ہو چکی ہے اور وہ دوبارہ اڑنے سے کیوں خوفزدہ ہے؟*

صبح 4 بجے، ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا — میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ سفارتی پس منظر میں۔ اطلاعات کے مطابق چین کے سفیر نے پاکستان میں راولپنڈی کو ایک ہنگامی فون کال کی۔ چند گھنٹوں میں، ایک طویل عرصے سے تیار کردہ ہنگامی منصوبہ فعال ہو گیا۔

جو کچھ اس کے بعد ہوا وہ صرف ایک فضائی جھڑپ نہیں تھی — بلکہ ایک انکشاف تھا، جس نے بھارت کی فضائی برتری کا وہ فسانہ توڑ ڈالا، جو برسوں سے پھیلایا گیا تھا اور اس کے ساتھ مغربی طاقتوں کا یقین بھی ٹوٹ گیا۔

بھارتی فضائیہ کئی دنوں سے تیاری میں مصروف تھی۔ تقریباً 180 طیارے مغربی محاذ پر مرکوز تھے۔ مقصد واضح تھا: بالاکوٹ کو دہرانا، پاکستانی دفاع کو توڑنا، اور اپنی اسٹریٹجک برتری کو بحال کرنا۔
لیکن آسمان اب پہلے جیسے نہ تھے۔

بھارتی فضائیہ کبھی بھی مقررہ حد پار نہ کر سکی۔ انہیں معلوم تھا کہ اس کے پار کیا موجود ہے:
پاکستانی J-10C لڑاکا طیارے، چینی ساختہ اور خاموش قاتل میزائل PL-15 ، جو 300 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے، آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز
Erieye ریڈارز، جو ہر نشانہ باز کو ایک مہلک نیٹ ورک میں جوڑ رہے تھے

بھارت نے صرف پاکستانی پائلٹس نہیں دیکھے انہوں نے چین کا مکمل فضائی جنگی نظریہ دیکھا، جو سکردو سے پسنی تک پھیلا ہوا تھا۔

اور رافیل؟ وہ تو سمجھ ہی نہ پائے کہ کیا ہو گیا۔
ایک رافیل جس کی مالیت 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی اطلاعات کے مطابق فضاء میں ہی مار گرایا گیا۔ دوسرا بمشکل واپس پہنچ سکا۔ وہ Spectra EW نظام، جو اسے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا، مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ PL-15 میزائل میں روایتی ریڈار نہ تھا بلکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی خاموشی تھی۔
یہ کوئی ڈاگ فائٹ (طیاروں کی فضائی لڑائی) نہ تھی۔ یہ ایک گھات تھی۔

پاکستانی فضائیہ، چینی سیٹلائٹز اور AWACS کے تعاون سے، ایک "سینسر فیوژن مجموعہ" میں کامیاب رہی۔ رافیل کبھی بھی نشانے کو لاک نہ۔کرسکے، نہ ہی اپنے دشمن کو دیکھ پایا۔ جب میزائل نشانے پر لگے، تب سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔

اسی لیے بھارتی فضائی بیڑا گراؤنڈ کر دیا گیا۔
اسی لیے وہ سرحد سے 300 کلومیٹر پیچھے رہتے ہیں۔
وجہ یہ نہیں کہ وہ بہادر نہیں — بلکہ وجہ یہ ہے کہ اب ان کے پاس یقین نہیں رہا۔

*اسٹریٹجک شرمندگی*
اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔ بھارت کا فخریہ ہتھیار، رافیل، ایک چینی میزائل کے ہاتھوں پاکستانی طیارے سے مارا گیا۔ یہ صرف عسکری ناکامی نہیں یہ ایک سیاسی پیغام تھا۔
یہاں تک کہ بلومبرگ نے بھی لکھا: یہ چینی پاکستانی مربوط جنگی حکمت عملی کا عملی مظاہرہ ہے۔
مغربی تجزیہ کار حیران رہ گئے۔ فرانسیسی دفاعی معاہدے غیر یقینی کا شکار ہو گئے۔ اور
چین، خاموشی سے، مسکرا رہا ہے۔

*کھیل بدل چکا ہے*
یہ 2019 نہیں۔ یہ بالاکوٹ نہیں۔
اب بھارت جانتا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخلہ، موت کے جال میں قدم رکھنے کے مترادف ہے — جو J-10Cs، PL-15s، اور پاکستانی عزم سے ترتیب دیا گیا ہے۔
اس لیے وہ پیچھے رہتے ہیں۔
خوف سے گراؤنڈ۔
ریڈار کی آنکھ سے اندھے۔
اور خاموشی سے رسوا۔
بھارتی پائلٹ نے مہارت کی کمی سے ناکامی نہیں کھائی۔
وہ ایک ایسے میدانِ جنگ میں ہارا جسے وہ دیکھ ہی نہ سکا جو سیٹلائٹس نے بنایا، سینسرز نے جوڑا، اور مشینوں نے چلایا۔"

مئی 2025 میں، کھیل بدل گیا۔ بھارت کا فضائی برتری کا خواب 36 رافیل طیاروں کی خریداری، Spectra EW ، اور فرانسیسی انجینئرنگ پر مبنی نظام کشمیر کی فضا میں چکنا چور ہو گیا۔
یہ کوئی عام فضائی لڑائی نہ تھی۔
یہ ایک نظریاتی انہدام تھا، جسے دنیا بھر کے عسکری ماہرین نے براہِ راست دیکھا۔
رافیل کو "ناقابلِ تسخیر" سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ٹیکنالوجی، جدید ترین لڑکا طیارے F-35 سے بہتر تصور کی جاتی تھی۔ لیکن اس دن، وہ ایک ایسے جال میں داخل ہوا جسے وہ نہ دیکھ سکا، نہ بچ سکا۔

*مہلک کِلر چین*
چین نے خاموشی سے، مگر طاقتور انداز میں مداخلت کی ویسے نہیں جیسے مغربی تجزیہ کاروں نے سوچا تھا۔
نہ J-20 طیارے آئے، نہ جنگ کا اعلان ہوا۔
بس ایک نیٹ ورک تھا۔ ایک خاموش زنجیر جو دشمن کی ہر حرکت دیکھ رہی تھی:

* Saab Erieye AWACS
طیارے خاموشی سے گشت پر J-10C لڑاکا طیارے، غیر فعال ریڈار موڈ پر میزائل
* PL-15E 300 کلومیٹر مار اور Mach 5 رفتار کے ساتھ — نشانہ بنا کر فائر کیے گئے

رافیل کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ وہ نشانے پر ہے جب تک میزائل 50 کلومیٹر کے فاصلے پر نہ آ گیا۔
اس رفتار پر، بھارتی پائلٹ کے پاس صرف 9 سیکنڈ تھے۔
نہ بچنے کا وقت تھا، نہ بچاؤ کا کوئی موقع۔

*کیوں بھارتی فضائیہ گراؤنڈ ہو چکی ہے*
آپ اب کشمیر میں بھارتی لڑاکا طیارے نہیں دیکھتے۔
کیوں؟
کیونکہ ہر بار جب طیارہ اڑتا ہے، پاکستانی ریڈار اسے دیکھ لیتے ہیں۔
کیونکہ Erieye وہ دیکھتا ہے جو بھارتی ریڈار نہیں دیکھ سکتے۔
کیونکہ PL-15 میزائل رافیل کی حد سے باہر سے داغا جاتا ہے۔
کیونکہ رافیل — بھارت کا "چاندی کا گولا" اب صرف ایک 250 ملین ڈالر کا بیٹھا ہوا نشانہ بن چکا ہے۔
بھارتی فضائیہ اب اپنی ہی سرحد سے 300 کلومیٹر پیچھے پرواز کرتی ہے۔
بالاکوٹ 2.0؟ اب ممکن نہیں — کم از کم اس آسمان میں۔

*نظریاتی جھٹکا*
دنیا اس کے اثرات دیکھ رہی ہے۔
فرانسیسی طیاروں کے حصص کی قیمت گر رہی ہے۔
چینی دفاعی اداروں کے حصص — AVIC، ALD Chengdu — تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
کیونکہ میدانِ جنگ کا فیصلہ "ڈاگ فائٹ" سے نہیں ہوا
بلکہ C4ISR کی بالادستی سے ہوا۔
پاکستان نے بھارت کو طاقت سے نہیں ہرایا
بلکہ نیٹ ورکنگ سے مات دی۔
اور بھارت، حیرت زدہ ہو کر، اپنے طیارے زمین پر اتارنے پر مجبور ہو گیا۔

*بھارت کا دکھ، پاکستان کا پیغام*
بھارت نے پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کی۔ پاکستان نے "مکمل نظام" میں۔
مودی کا نظریہ تھا: "برتری خرید لو"
حقیقت نے ثابت کیا: "برتری بنانی پڑتی ہے"
کوئی Spectra نظام اس میزائل کو نہیں روک سکتا جو نظر ہی نہ آئے
کوئی EW نظام اس میزائل کو دھوکہ نہیں دے سکتا جو سیٹلائٹ ڈیٹا سے چل رہا ہو
کوئی لڑاکا طیارہ اس موت سے نہیں بچ سکتا جسے وہ دیکھ ہی نہ سکے

آسمان بدل چکا ہے۔
یہ فضائی جنگ کا اختتام نہیں
یہ ایک نئی، خاموش، نادیدہ، اور ناقابلِ جواب فضائی برتری کی شروعات ہے۔

22/04/2025

ایک عورت اپنے شوہر کے تنگ حالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچھا:

"تم کیا چاہتی ہو؟"

عورت نے کہا: "میں تمہارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں۔"

خادم نے پوچھا: "تم کون ہو؟"

عورت نے کہا: "اسے بتاؤ کہ میں اس کی بہن ہوں۔"

خادم جانتا تھا کہ اس کے مالک کی کوئی بہن نہیں ہے، تو وہ اندر گیا اور اپنے مالک سے کہا:

"دروازے پر ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"

مالک نے کہا: "اسے اندر لے آؤ۔"

عورت اندر آئی، مالک نے اسے خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا: "تم میرے کس بھائی کی بہن ہو؟ اللہ تم پر رحم کرے۔"

عورت نے کہا: "میں آدم کی بیٹی ہوں۔"

خوشحال آدمی نے اپنے دل میں سوچا: "یہ عورت واقعی بے یارو مددگار ہے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی مدد کرے گا۔"

عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے تیسری بار کہا، پھر خوشحال آدمی نے چوتھی بار کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے سمجھا ہے، اور دوبارہ کہنا میرے لیے ذلت ہے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "اللہ کی قسم، مجھے تمہاری بات کی خوبصورتی پسند آئی۔ اگر تم ہزار بار بھی دہراتی تو میں ہر بار کے بدلے تمہیں ہزار درہم دیتا۔"

پھر اس نے اپنے خادموں سے کہا: "اسے دس اونٹ، دس اونٹنیاں، جتنی چاہے بھیڑیں، اور جتنا چاہے مال و دولت دے دو تاکہ ہم قیامت کے دن کے لیے کچھ کام کریں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

غریبوں کو مت بھولو، کیونکہ اللہ غنی ہے اور ہم فقیر ہیں۔

20/04/2025

چائے تو سارے ہی پیتے ہیں لیکن بکری کے دودھ کی چائے نصیب والوں کو ہی ملتی ہے🌹🌹🌹😊😊😊

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Islamabad

Opening Hours

Monday 11:00 - 17:00
Tuesday 11:00 - 17:00
Wednesday 11:00 - 17:00
Thursday 11:00 - 17:00
Saturday 11:00 - 17:00